مضامین و مقالات

ماہ رمضان چند عملی تدابیر ۔مولانا محمد جاوید توثیق القاسمی

انسانی تخلیق کا اصل مقصد اپنے رب کی عبادت اور ان کے احکام پر عمل اوری ہے لیکن بسا اوقات ایک انسان دنیاوی مشاغل اور کاموں کی کثرت اور غفلت کی بنا پر اپنے مقصد اصلی سے غافل ہوجاتا ہے حق سبحانہ و تعالی نے اسی دینی غفلت اور دنیاوی انہماک کو دورکرنے کے لئے ماہ رمضان جیسا مبارک مہینہ عطا کیا تاکہ ایک بندہ مومن عبادت و ریاضت تلاوت وانابت کے ذریعہ اپنے رب کا قرب حاصل کر سکے ۔حق سبحانہ و تعالی کی طرف سے وہ تمام اسباب وذرائع پیدا کردئیے گئے جسکے باعث انسانی قلب کے اندر عبادت کا شوق وذوق پیدا ہو سکتا ہے ۔ان مخصوص ایام میں غیر معمولی فضائل وبرکات کا عطا کیا جانا ایک فرض کا ثواب ستر فرض کے برابر دیا جانا کسی غیر فرض کا ثواب فرض کے مساوی ہو جانا یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ کہیں اس ماہ مبارک کو بھی غفلت میں گزاردے اسلیئے قرآن وحدیث میں اس ماہ مبارک کے بےشمار فضائل بیان کئے گئے ہیں ارشاد باری تعالی ہے یاایھاالذین امنوا کتب علیکم الصیام کماکتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون)بقرہ ۱۸۳(اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے ۔علامہ آ لوسی نے روح المعانی کے اندر فرمایا کے کماکتب علی الذین من قبلکم کاذکر جہاں اللہ کی صفت رحمانیت کی مکمل عکاسی کرتا ہے وہیں بندہ کیلیے ایک تسلی بخش پیغام بھی ہے کہ معدودچند ایام کے روزے رکھنے سے تم کو ئ مصیبت میں گرفتار نہ ہو جاؤ گے اسلیئے کے یہ روزہ کوئ نیا عمل نہیں ہے بلکہ تم سے پہلے لوگوں نےبھی یہ عمل کیا ہے حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا کہ جب رمضان کا مہینہ آ تا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور شیاطین قید کر دئیے جاتے ہیں (بخاری )ترمذی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا کہ جب رمضان کا مہینہ آ تا ہے تو ایک پکارنے والا فرشتہ پکارتا ہے اے بھلائ کا طالب آ گے آ اور اے برائ کا ارادہ کرنے والا رک جا بہت سے لوگ اس ماہ میں اللہ کیلیے آ آ زاد کئے جاتے ہیں اور یہ سلسلہ ختم رمضان تک ہر رات میں ہوتا ہے یہ تمام روایات و آثار اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ کہیں انسان اور ماہ کی طرح اس ماہ کو بہی غفلت میں نہ گزاردے اسلیئے ہمیں اس ماہ مبارک کے ایک ایک لمحات اور ہر ساعات کی قدر کرنی چاہیے اور ان چند باتوں کا خاص خیال رکھنا پہلی چیز نماز میں خشوع و خضوع کا اہتمام کرنا چاہئے اسلئے کہ نماز قرب خداوندی کا اہم ذریعہ ہے سجدہ جتنا طویل ہوگا ایک بندہ مومن کا رشتہ اپنے رب سے اتنا ہی مضبوط ومستحکم ہوگا دوسری چیز تلاوت قرآن کی کثرت کا اہتمام کیا جائے اسلیئے کے یہ نزول قرآن کا مہینہ ہے اور اس ماہ کی عظمت و رفعت کا ایک اہم سبب قرآن مجید کا نازل ہونا ہے یہی وجہ ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس ماہ میں قرآن مجید کا دور کرنا ثابت ہے اسی طرح سے اس ماہ کے اندر زیادہ سے زیادہ نوافل کا اہتمام کرنا چاہئے مثلا تہجد کا خاص خیال رکھنا چاہئے اور یہ کوئی مشکل نہیں ہے سحر میں تھوڑی دیر پہلے بیدار ہو نے سے آسانی کے ساتھ عمل کیا جا سکتا ہے ۔صدقات وزکوات میں بھی زیادتی کرنی چاہیے اسلیئے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باوجود کہ پورے سال ہی جود وسخا کھولے رہتے لیکن ماہ رمضان میں یہ دریا دلی اور بھی زیادہ ہوجاتی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ فرماتے کہ یہ زکوات کا مہینہ ہے عبادت کے ساتھ ساتھ اپنے اعضاء وجوارح کوبرائ سے محفوظ رکھنا بھی نہایت ضروری ہے خاص طور پر بدنظری سے انسان روزہ کے فوائد وبرکات سے محروم ہو جاتاہے اسی طرح سے غلط تصورات وخیالات سے بھی خود کو بچانے کی کوشش کر یں عموما روزہ کی حالت میں ایک دوسرے کی غیبت ہو جاتی جس خاص طور پر بچنا ضروری ہے خلاصہ یہ کہ روزہ صرف بھوک پیاس کی شدت کو برداشت کر نے کا نام نہیں ہے بلکہ خود کو احکام خداوندی کے تابع کر دینے اور ہر طرح کی ظاہری باطنی برائیوں سے بچنے کا نام ہی حقیقی روزہ ہے اور یہی لعلکم تتقون کی تفسیر ہے ۔۔

مولانا محمد جاوید توثیق القاسمی جنرل سکریٹری کل ہند تحریک اصلاح معاشرہ

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close