مضامین و مقالات

لاک ڈاؤن میں رمضان کا مقدس مہینہ کیسے گزاریں؟ از قلم: مولانا محمد رضوان حسامی و کاشفی

از قلم: مولانا محمد رضوان حسامی و کاشفی
(ناظم اعلیٰ مرکز تحفظ اسلام ہند)
8951269345, mdrizwanrr85@gmail.com

محترم قارئین! کورونا وائرس کووڈ 19کی وجہ سے پوری دنیا کے اکثر ممالک پریشان ہیں اور اس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کے طور پر لاک ڈاؤن وغیرہ کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح ہمارے ملک بھارت میں بھی کئی دنوں سے لاک ڈاؤن ہے جسکی وجہ سے بطورِ احتیاط ساری مذہبی عبادت گاہیں خصوصاً مسجدیں وغیرہ بند ہیں صرف مسجد کا عملہ امام صاحب، مؤذن صاحب وغیرہ نمازیں ادا کررہے ہیں۔اور اکثر لوگ اکابر علماء و عمائدین کی ہدایات کے مطابق گھروں پر ہی عبادات انجام دے رہے ہیں۔لیکن ہماری بد قسمتی یہ ہیکہ اس سال رمضان المبارک کا آغاز بھی لاک ڈاؤن ہی میں ہو رہا ہے جسکی وجہ سے کئی مسلمان کشمکش میں مبتلا ہیں کہ کیا کریں رمضان کا مقدس مہینہ کیسے گزاریں؟
لیکن ہمیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہمارا مذہب اسلام اتنا پیارا مذہب ہے کہ قدم قدم پر ہماری رہبری و رہنمائی کرتا ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہمیں اعمالِ رمضان کو ہرگز ترک کرنا نہیں ہے یہ جو گھروں میں رہنے کا موقع ہم کو ملا ہے یہ اللہ سے قریب ہونے کے لئے سب سے بہترین موقع ہے شاید کہ ایسا موقع ہم کو زندگی میں کبھی ملا ہو اسلئے کہ ہم دوسرے رمضانوں میں اپنے کاروبار اور دوسری مصروفیات میں لگے رہنے کی وجہ سے اتنی عبادت نہیں کرپاتے تھے لیکن اس رمضان میں ہمارے لئے نیکیاں کمانے اللہ کو راضی کرنیاور خود اپنے ساتھ اپنے گھر کے ماحول کو دیندار بناکر سب کو جنت کا مستحق بنانے کے لئے سب سے زریں موقع ہیلہذا ہم کو ان قیمتی لمحوں کو لا یعنی (بیکار) کاموں اور لغو باتوں میں مشغول ہوکر وقت کو ضائع نہیں کرنا ہے بلکہ مزید ذوق و شوق کے ساتھ گھروں میں ہی رہکر عبادات ادا کرنا ہے۔تاکہ ہماری عبادتوں، ریاضتوں، دعاؤں اور آنکھوں سے نکلنے والے آنسوؤں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کو رحم آجائے اور وہ اس وبائی بیماری کا خاتمہ فرمادے، اور حالات پھر سے خوشگوار بنادے۔ لہٰذا اکابر علماء کرام کی ہدایات اور حکومت کی پالیسیوں کو سامنے رکھتے ہوئے شریعت مطہرہ کی روشنی میں ترتیب وار رمضان المبارک کے خصوصی اعمال مع فضائل ذکر کیے جارہے ہیں ضرور با الضرور ان پر عمل کریں۔
نوٹ: بروز جمعہ 24ی؍ اپریل کو شعبان کی 29؍ ویں تاریخ ہے؛ لہٰذا ہر علاقے کے لوگ اپنے اپنے گھروں پر چاند دیکھنے کا اہتمام کریں،اور اگر کہیں چاند نظر آجائے تو مقامی علماء و مفتیان کرام کے ذریعہ ملک کی مرکزی ہلال کمیٹیوں سے رابطہ کریں۔اور پھر جب چاند کا فیصلہ ہوجائے تو عشاء میں تراویح کا اہتمام کریں۔ چاند کے مسئلے کو لیکر اپنے گھروں سے نہ نکلیں اور پٹاخے وغیرہ نہ پھوڑیں۔
1 ۔روزانہ رات کے آخری حصے میں تہجد کا اہتمام کریں۔اسلیے کہ اللہ کے نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: اپنے اوپر تہجد کی نماز لازم کرلو،تم سے قبل بھی نیک لوگوں کا یہی معمول تھا۔(ترمذی:5/516)
2ََ۔ نماز تہجد کے بعد دعاء و استغفار کا اہتمام کریں۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: رات کے اخیر حصے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوتا ہے کہ ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا کہ میں اسکی مغفرت کروں؟(مسلم: 1/ 537)
3۔ روزہ رکھنے کے لیے سحری کھائیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: سحری کھایا کرو، اس میں بہت برکت ہے۔(بخاری:3/73) نوٹ: سحری وقت پر ختم کردیں یا وقت سے پہلے فارغ ہو جائیں اذان کا انتظار نہ کریں جیسا کہ پہلے سے ہمارے یہاں یہ عادت چلی آرہی ہے ایسا ہرگز نہ کریں۔ورنہ روزے میں خلل آجائے گا۔
4۔ جب فجر کی اذان ہوجائے تو فجر کی دو رکعت سنتِ مؤکدہ ادا کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا فجر سے پہلے دو رکعت سنت پڑھنا دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بہتر ہے۔(مسلم:1/ 510)
5۔ پھر فجر کی نماز گھر کے افراد کے ساتھ باجماعت ادا کریں۔حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے صبح کی نماز پڑھ لی وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ و حفاظت میں ہے۔(صحیح مسلم)
6۔ بعد نماز فجر اشراق تک مع سور? یٰسین قرآن پاک کی تلاوت اور ذکر میں مشغول رہیں۔نبی کریم ﷺ کا معمول تھا کہ جب فجر کی نماز سے فارغ ہوجاتے تو سورج اچھی طرح روشن ہونے تک اسی جگہ چار زانو بیٹھے رہتے۔(مسلم:1/480)
7۔ دو یا چار رکعت اشراق کی نماز ادا کریں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص فجر کے بعد سورج نکلنے تک ذکر میں مشغول رہے، پھر دو رکعت نفل نماز پڑھ لے تو اسکو ایک کامل حج و عمرہ کا ثواب ملے گا۔(ترمذی:3/ 480)
8۔ بعد نماز اشراق چند گھنٹے آرام فرمالیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: تمہاری ذات کا بھی تم پر حق ہے(کہ اسے آرام پہنچاؤ) (بخاری:3/90)
9۔ گیارہ بجے سے پہلے آرام سے فارغ ہوجائیں تو چاشت کی چار رکعت نماز پڑھ لیں۔ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ چاشت کی چار رکعت پڑھتے اور اللہ تعالیٰ جس قدر زیادہ چاہتا اتنی پڑھ لیتے۔(مسلم:1/497)
10۔ نماز چاشت کے بعد نمازِ ظہر تک جو خالی وقت ہے اسمیں تعلیمی یا کاروباری مشغولیت میں مشغول رہیں جنکی حکومت نے اجازت دی ہے.نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص اپنی محنت کی کمائی سے زیادہ پاکیزہ روزی نہیں کھاتا۔(بخاری:4/303)
11۔ خالی اوقات میں ذکرِ الہی کا اہتمام کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہمیشہ اپنی زبان کو اللہ کے ذکر سے تر و تازہ رکھو۔(ابن ماجہ:2/246)
12۔ مستورات اپنے گھر کے کام کاج اور بچوں کی خدمت و تربیت میں اس نیت سے لگی رہیں کہ مخلوق کی خدمت افضل ترین عبادت ہے۔
13۔ ظہر سے پہلے چار رکعت سنت پڑھنے کا اہتمام کریں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ظہر سے پہلے چار رکعتیں سحر یعنی تہجد کی نماز کے قائم مقام ہو جاتی ہیں۔(مصنف ابن ابی شیبہ،رقم الحدیث: 5991)
14۔ پھر باجماعت ظہر کی نماز کا اہتمام کریں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جماعت کے ساتھ پڑھی گء نماز تنہا پڑھی جانے والی نماز سے ستائیس گنا افضل ہے۔(بخاری:2/131)
15۔ بعد نماز ظہر سنتوں کا اہتمام کریں۔ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام فرما دیں گے۔(ترمذی،ابن ماجہ،حاکم)
16۔ نماز عصر تک اپنی اپنی مصلحت کے حساب سے کام میں مشغولیت یا آرام کریں،عورتیں اگر پاک ہوں تو تلاوتِ قرآن میں مشغول رہیں، ورنہ ذکر اللہ،درودِ شریف وغیرہ پڑھنے میں مصروف رہیں۔
17۔ عصر کی اذان کے بعد چار رکعت سنت پڑھیں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ اپنے اس بندے پر رحم فرمائے جو عصر سے پہلے چار رکعت کا اہتمام کرتا ہے۔(ترمذی:1/438)
18۔ پھر باجماعت نماز عصر کا اہتمام کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے دو ٹھنڈی نمازیں پڑھیں یعنی فجر اور عصر تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔(بخاری و مسلم)
19۔ بعد نماز عصر ہوسکے تو اپنے گھر والوں کے ساتھ مختصر کتابی تعلیم(جیسے فضائل اعمال یا کوئی دوسری مستند دینی کتاب) کا اہتمام کریں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اپنی اولاد کا اکرام کرو اور انکی اچھی تعلیم و تربیت کرو۔(ابن ماجہ:1/214)
20۔ اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر افطاری کا انتظام کریں۔ نبی کریم ﷺ کا معمول تھا کہ خانگی کاموں میں اپنے گھر والوں کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔(بخاری:3/85)
21۔ افطار سے پہلے دعا کا اہتمام کریں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: روزہ دار کی دعا رد نہیں کی جاتی۔(ترمذی:5/539)
22۔ بر وقت افطاری کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میری امت خیر پر قائم رہیگی جب تک افطار میں تاخیر نہ کرے۔(بخاری:3/85)
23۔ افطاری کے فوراً بعد باجماعت مغرب کی نماز ادا کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میری امت خیر پر قائم رہے گی جب تک وہ نمازِ مغرب میں تاخیر نہ کرے۔(ابوداؤد:1/291)
24۔ بعد نماز مغرب اوابین کا اہتمام کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص مغرب کے بعد فضول بات کیے بغیر چھ رکعت نفل پڑھے گا تو اسکو بارہ سال عبادت کا اجر ملے گا۔(ابن ماجہ:1/437)اور سورۃ الواقعہ کی تلاوت کریں۔عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہتے ہوئے سنا: جس شخص نے ہر رات سورۃ الواقعہ کی تلاوت کی اسے فاقہ کبھی بھی نہیں پہنچے گا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اپنی بیٹیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اسے ہر رات تلاوت کریں۔(شعب الایمان للبیھقی)
25۔ اپنی اپنی سہولت کے حساب سے عشائیہ(رات کا کھانا)کھالیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: رات کا کھانا کھاؤ گرچہ ایک مٹھی ردی کجھور ہی کیوں نہ ہو اس لیے کہ رات کا کھانا چھوڑنا بڑھاپے کا سبب ہے۔(سنن ترمذی،اسنادہ ضعیف جداً)
26۔ عشاء کی اذان کے بعد چار رکعت سنتیں پڑھ کر باجماعت نماز عشاء کی ادائیگی کا اہتمام کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص نماز عشاء باجماعت ادا کرے اسکو نصف شب عبادت کا ثواب ملتا ہے۔(ترمذی:1/260)
27۔ بعد نماز عشاء دو رکعت سنت پڑھ کر 20 رکعت نماز تراویح کا اہتمام کریں، اسلیے کہ یہ رمضان المبارک کی خاص عبادت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص رمضان کی راتوں میں ایمان اور ثواب کی امید کے ساتھ قیام کرے اسکے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔(بخاری:3/100)
28۔ تراویح مکمل ہونے کے بعد تین رکعت واجب الوتر نماز باجماعت ادا کریں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے مسلمانو! وتر پڑھو؛ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ بھی وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)
29۔ تراویح وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد جلد از جلد آرام کرلیں۔ نبی کریم ﷺ عشاء سے پہلے سونے اور عشاء کے بعد بلا ضرورت مجلس جمع کرنے سے منع فرماتے تھے۔(بخاری1/295)
30۔ اور مستورات اپنے گھروں کے خصوصی کمروں میں آخری عشرے کا اعتکاف کریں۔ اور مسجد میں صرف مسجد کے عملے میں سے کوئی ایک فرد اعتکاف کرلے یا مسجد کی انتظامیہ جسکو طئے کردے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے رمضان المبارک کے دس دنوں کا اعتکاف کیا اسکو دو حج اور دو عمروں کا ثواب عطا کیا جائے گا۔(الترغیب والترھیب:2/96)
نوٹ: ان امور کی پابندی کے علاوہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ زکوٰۃ فرض ہے تو اسکی ادائیگی حساب کتاب کے ساتھ کرے، ورنہ نفلی صدقہ و خیرات کرتا رہے، جسکی اب بہت ضرورت ہیلاک ڈاؤن کی وجہ سے کئی غریبوں کوسحری وافطاری کا انتظام کرنے میں پریشانیوں کا سامنا ہے لہٰذا ان پر رحم کریں ان کا خاص خیال رکھیں۔ رشتہ داروں اور غرباء و مساکین کے حقوق ادا کرنے کا اہتمام کریں۔جمعہ کے دن سورۂ کھف، صلوٰۃ التسبیح، اور درود شریف کا کثرت سے اہتمام کریں اور امام کے علاوہ تین یا چار گھر کے افراد ہوں تو جمعہ کی دو رکعت نماز مختصر عربی خطبہ کے ساتھ ادا کریں یا پھر ظہر کی نماز تنہاء تنہاء ادا کرلیں۔ طاق راتوں میں زائد عبادات کے ذریعہ شبِ قدر کو پانے کی کوشش کریں۔فضول کاموں بالخصوص گھروں سے باہر وقت گزارنے سے سختی سے پرہیز کریں، ماں باپ خصوصی طور پر اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت اور اخلاق پر توجہ دیں،زبان، آنکھ،کان اور تمام اعضاء کو گناہوں سے محفوظ رکھے۔اور عیدالفطر کے دن صدقۃالفطر ادا کرنا نہ بھولیں۔اللہ تعالیٰ ہم تمام کو مذکورہ بالا امور کی پابندی کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close