مضامین و مقالات

ہم اور ہمارا سماج ! محمد طاسین ندوی

اللہ تعالی نے حضرت انسان کی تخلیق فرمائی ،ان کے کھانے پینے رہنے بسنے کا سارا انتظام و انصرام فرمایا، مخلتف قبائل و گروہ بنایا تاکہ ایک دوسرے کی پہچان ہوسکے چنانچہ فرمان باری تعالی ہے
"یَـٰۤأَیُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّا خَلَقۡنَـٰكُم مِّن ذَكَرࣲ وَأُنثَىٰ وَجَعَلۡنَـٰكُمۡ شُعُوبࣰا وَقَبَاۤئلَ لِتَعَارَفُوۤا۟ۚ إِنَّ أَكۡرَمَكُمۡ عِندَ ٱللَّهِ أَتۡقَىٰكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِیمٌ خَبِیرࣱ "سورة الحجرات ١٣
اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہارے خاندان اور قومیں جو بنائی ہیں تاکہ تمہیں آپس میں پہچان ہو، بے شک زیادہ عزت والا تم میں سے اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا خبردار ہے
اور اس دستور العمل اور دستورحیات میں اللہ جل جلالہ نے آپسی و باہمی عداوت و منافرت کو ممنوع قراردیا تاکہ بنی نوع انسان چاہے مسلم ہو یا کافر باہم عدم منافرت و عداوت سے اپنی زندگیاں جئے .
لیکن جب ہم اپنا معاشرہ اپنے سماج پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں دیکھنے کو کیا ملتا ہے؟ یہی نا کہ کہیں قبیلہ اور خاندان ایک دوسرے سے دست وگریباں ہیں تو کہیں مسلم اور غیر مسلم کا دنگل چل رہا ہے ہم سبہوں نے انسانیت کہ سارے اسباق و پیغام کو بالکل بھلا دیا ہے اسی وجہ سے آج جہاں جو اقلیت میں ہیں اکثریت ان پر بھاری ہے اور ایسا ہو کیوں نا کیونکہ ہم مسلمان نے بھی فرمودات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سرے سے اپنے دل و دماغ سے نکال کر کہیں دور دراز کھائی میں جا پھینکا ہے ہم مسلمان ہیں اور اللہ تعالی نے فرمایا ہے :اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّـٰهِ الْاِسْلَامُ.سورة آل عمران ٢٠٠
ترجمہ:ےشک دین اللہ کے ہاں فرمانبرداری ہی ہے.
اور یادرکھئے اللہ کی فرمانبرداری ہی عبادت وبندگی ہے چنانچہ باری تعالی کا ارشاد ہے :
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ.سورة الذاريات٥٦
ترجمہ:اور میں نے جن اور انسان کو بنایا ہے تو صرف اپنی بندگی کے لیے.
آج اس آفت ناگہانی سے دوچار عالم میں ہم بحیثیت مسلمان کہ یہ جائزہ لیں کہ ہرچہار جانب اس جان لیوا وبائی بیماری کووڈ ۱۹ کورونا وائرس کا کس قدر ہنگامہ برپا ہے
آج تک بقول اطباء و حکماء و ماہرین کہ اس کی کوئی مناسب دوا دریافت نہ ہوسکی ہے
اس وبا سے بچنےکا واحد حل و علاج سماجی دوری بنا کر رکھنا ہی بتایا جارہا ہے
حکومت ممالک اپنے باشندگان ملک سے باربار یہ گزارش کررہی کہ اپنے آپ کو اس وبا سے محفوظ رکھنے کے لئے سماجی دوری بناکر حکومت کا ہاتھ بٹائیں بھیڑ بھاڑ جلسہ و جلوس سےبالکلیہ اجتناب کریں اگر کوئی اس وبا سے دوچار ہوں تو اسکے بارے میں جلد از جلد حکومت کو آگاہ کریں تاکہ حکومت اس کی جان بچانے میں کامیاب ہوسکے اور بیماری دوسروں تک نہ پہنچے .
عالمی و ملکی حالات سلکے اس تناظر میں ہمیں ایک مھذب شہری کے ناطے حکومت کے اقدامات پر خود بھی عمل کرناچاہئیے اور اعزہ و اقارب ہمسایہ و دوست ہر کس و ناکس کو اس پر عمل کی تلقین کرنی چاہیے کیونکہ حکومت کی باتوں کو سمجھنا ماننا اور اس پر عمل کرنا بھی عبادت کے مترادف ہے.
قارئین کرام! ایسےپرآشوب وقت میں جبکہ حکومت نے اس وبا سے نمٹنے کہ لئے بالکل لاک ڈاؤ کیا ہواور اسکی تاریخ میں مزید توسیع ہوتی چلی جارہی ہے تو ہمیں اپنے گردو نواح میں رہنے بسنے والوں کا جائزہ لینا چاہئیے کہ آیا اس مہماری میں ـ جب کہ سارے لوگ معطل بیٹھے منتظر فردا ہیں کہ کب حالت ساز گار ہو کہ سارے لوگ اپنے اپنے کاموں پر لوٹیں ـ جو بن بڑے اشیاء خوردونوش یا اس کے علاوہ اور کوئی ضروریات زندگی کی اشیاء ان تک پہنچانے کی جتن کریں اور ضرورت مندوں تک راحت رسانی کا کام جاری رکھیں کیوں کہ انسان وہ ہے جو دوسروں کے کام آئے.
اللہ تعالی ہمیں ان باتوں پر عمل کی توفیق اور اس آفت ناگہانی” کرونا وائرس "سے جلد از جلد نجات نصیب فرمائے .آمین
……………….
محمد طاسین ندوی
۱۵ اپریل ۲۰۲۰ ء

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close