مضامین و مقالات

ہندوستانی میڈیا اور ہم مسلمان ! محمد ضیاء الحق ندوی

اس وقت ہمارا پیارا ملک ہندوستان جس نازک دور سے گزر رہاہے وہ اس دیس کی تاریخ میں بہت شدید اورتشویشناک مرحلہ ہے اور آئے دن انتہائی بھیانک ہوتا جارہا ہے ایک طرف وبائی مرض "کورونا وائریس ” جیسے قہر سے پوری دنیا جیسے تھم سی ہوگئ ہے چین، اٹلی اوراسپین کی چولیں ہل گئیں ہیں، سپرپاور امریکہ اور دنیا کو تباہ وبرباد کرنے کی دھمکی دینے والا اسرائیل اس وائریس کے آگے سرنگوں ہیں، کتنے افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ بےشمار افراد اس وبائی مرض سے متأثر ہیں، اس سے نمٹنے کے لئے آج پوری دنیا لاک ڈاؤن ہے، تعلیمی و تعمیری سرگرمیاں معطل ہیں لاکھوں مزدور فاقہ کشی میں مبتلا ہیں سینکڑوں مسافر راستے میں حیران وپریشان ہیں سڑکوں پر پولیس دکھائی دے رہی ہے یا پھر پولیس کے ہاتھوں بےدردی سے پٹ رہے غریب ومسکین لوگ اور بیمار بچے سسک سسک کر ماں کی گود میں دم توڑ رہے ہیں پوری دنیا عذاب الہی کے سامنے عاجز وبے بس ہے یقینا اللہ کی پکڑ بہت سخت ہےارشاد باری ہے "ان بطش ربک لشدید ” (سورہ بروج. 12)بے شک تمہارے رب کی پکڑ سخت ہے۔
ایسے وقت میں ہندوستان کابہروپیا دجالی میڈیا سبق اور عبرت حاصل کرنے، ہوش کے ناخن لینے کے بجائے برسر عام کذب بیانی سے کام لےکر مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کی اندوہناک فضا پیدا کردیا ہے جس سے مسلمان اس وقت جتنی بے چینی تشویش اور پریشان کن مرحلے سے گزررہے ہیں شاید ہی کبھی گزرے ہوں، ملا ومولوی آج ان کے خاص نشانے پرہیں،انہیں دیکھتے ہی نفرت کابازار گرم کرنے لگتے ہیں اور سب کی بیک زبان یہ گویا ہیں کہ یہ وائریس ان مسلمانوں سے ہی پھیل رہا ہے جوکہ سراسر الزام اورجھوٹ ہے اور طاغوتی قوتیں ان باتوں کو خوب ہوا دے رہی ہے تو ایسے وقت میں مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے اپنے اعمال کا محاسبہ کریں کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری کوتاہیوں اور بد اعمالیوں کی وجہ ہم پر یہ مصیبت آرہی ہے. کیایہ سچ نہیں کہ ان کا اصل سبب ہم مسلمانوں کی بداعمالیاں اور کوتاہیاں ہیں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے "وما أصابکم من مصیبةفبما کسبت أیدیکم ویعفو عن کثیر "(سوره شوري. 30)”اور جو پڑے تم پر کوئی سختی سو وہ بدلہ ہے اس کا جو کمایا تمہارے ہاتھوں نے اور معاف کرتا ہے بہت سے گناہ "(تفسیرعثمانی)
آج اس انجام کی وجہ یہی ہے کہ مسلمان مادہ پرست قوموں کے غلام بن کر زندگی گزارنے میں فخر محسوس کرنے لگے ہیں اور اس کی خالص مادہ پرست تہذیب کی تقلید اور خوشہ چینی کو ترقی اور تمدن کی علامت سمجھنے لگے ہیں۔
یاد رکھیے! جب مسلمان احکام شریعت کے پابند ہوجائیں منہیات ومنکرات سے اجتناب کریں اور مرضیات الہی پرعمل پیرا ہوں تو دنیا کی بڑی سی بڑی طاقت ان کو ختم نہیں کرسکتی ہاں صرف نقصان پہونچا سکتی ہے، ایذاوتکلیف دے سکتی ہے زندگی کے کچھ فوائد سے محروم کرسکتی ہے لیکن ان کو مٹا نہیں سکتی ہے ماضی کی یاد تازہ کیجیے چودہ سو سالہ تاریخ میں برابر ان باتوں کا ظہور ہوتا رہا ہے بعض دفعہ دشمنان اسلام امت مسلمہ پر ایسے غالب ہوئے کہ یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ اب اس ذلت ومسکنت سے نہ نکل پائیں گے ایسی حالت میں اللہ کی رحمت جوش میں آئی اور ذلت ومسکنت سے سر خرو ہوکر نکلے بلکہ
پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانوں سے

ان کے دشمن خود سرنگوں ہوکرتابع داربن گئے،اس لئے اس بحرانی صورتحال اور خوفناک مرحلے میں انسانیت کا تقاضہ یہ ہے کہ غمزدہ انسانیت کی زحمت وغم کوبانٹ لیں بھوکے کی خبر گیری کریں فرقہ بندی بھول جائیں اور نفرتوں کو بالائے طاق رکھ کر پیارو محبت بانٹ لیں رات کتنی ہی کالی کیوں نہ ہو صبح روشن ضرور ہونی ہے اس لئے حالات کیسے بھی ہوں مسلمان کو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کو چاہیے ان حالات میں صبرو استقامت کے ساتھ اپنا احتساب کریں اپنا جائزہ لیں اور ان پہلوؤں کو تلاش کریں جن میں خیر مخفی ہوں ان شاءاللہ فتح وکامیابی نصیب ہوگی اور دشمنان اسلام خود سرنگوں ہوکر تابع دار بن جائیں گے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
محمدضیاءالحق ندوی

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close