مضامین و مقالات

شب برأت اللہ کی توجہ عنایت اور مغفرت والی رات ہے ! قاری عطاء الرحمن ندوی

لاک ڈاؤن کے پیش نظر اپنے گھروں ہی میں کریں عبادت، پوری دنیا کی عافیت کیلئے خصوصی دعاؤں کا بھی اہتمام کریں،

فتح پور بارہ بنکی ( ایس این بی )

شب برأت خیر و برکت مغفرت و رحمت اور نجات و سعادت والی رات ہے، اس رات اللہ کی رحمت خاصہ کا نزول ہوتا ہے جس سے لاتعداد انسان جہنم سے نجات حاصل کرتے ہیں، بڑا خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس رات کی قدر کرے اور اللہ کو راضی کرلے ہمیں چاہیے کہ ہم ایک ایک لمحہ غنیمت سمجھ کر عبادت میں مشغول رہیں اور توبہ و استغفار کا اہتمام کریں اسکے ساتھ وبائی مرض سے بچنے اور پورے عالم میں امن کے قیام کیلئے خصوصی دعا کا اہتمام کریں

مذکورہ خیالات کا اظہار قاری عطاء الرحمن ندوی بلھروی نے شب برأت کے پیش نظر پریس کو جاری اپنے ایک پیغام میں کیا،
انھوں نے مزید کہا کہ لاک ڈاؤن کے پیش نظر اپنے گھروں میں ہی رہ کر عبادت میں مشغول رہیں،تمام بدعات و رسومات سے اجتناب کرتے ہوئے اس رات کی پرنور و بابرکت گھڑیوں سے فائدہ اٹھائیں یہ رات اللہ کی توجہ عنایت اور مغفرت والی رات ہے

قاری عطاء الرحمن نے حدیث کے حوالے سے کہا کہ آج کے دن بھی کچھ ایسے لوگ ہیں جنکی مغفرت نہی ہوتی جنمیں شرک کرنے والے ، کینہ رکھنے والے،قطع رحمی کرنے والے،ازار ٹخنوں سے نیچے رکھنے والے، والدین کے نافرمان،اور شراب کے عادی لوگ شامل ہیں اسلئے ان گناہوں سے کلی طور پر اجتناب کرنا چاہیے،

قاری عطاء الرحمن ندوی نے کہا کہ حکومتی قوانین کی پابندی ہماری اخلاقی و شرعی ذمہ داری ہے اسلئے ہمیں چاہیے کہ لاک ڈاؤن کی مکمل پابندی کریں، بلا ضرورت گھر سے نہ نکلیں، حکومت اور محکمہ صحت کے ذریعے بتائی گئی احتیاطی تدابیر اپنائیں وہیں دوسری جانب حکومت اور انتظامیہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ اگر کوئی ضرورت سے باہر نکل رہا ہے تو اسکی مدد کریں بلاوجہ سختی سے گریز کریں

انہوں نے مزید کہا کہ شب برات دراصل اللہ سے عزم وعہد کی رات ہے جب مومن بندہ اللہ سے مغفرت طلب کرکے گناہوں کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دینے کا عزم و عہد کرتا ہے تو اللہ اس کو اپنا محبوب بنا لیتے ہیں ایسے موقع پر ہمیں چاہیے کہ ہم تمام بدعات و خرافات اور رسومات سے خود بھی بچیں اور اپنے دوست حلقہ احباب کو حقائق سے آگاہ کریں اور خرافات سے روکیں، اور اپنے پڑوسیوں کو خاص طور پر خیال رکھیں انکی ہر ممکن مدد کریں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close