مضامین و مقالات

امداد و تعاون اک اہم فریضہ اور ضرورت! از ۔۔ محمد عاصم قادری بدایونی

آج کل جو حالات پیش آرہے ہیں ان سے ہر کوئی با خبر ہے ہر طرف آہ و بکا کی صدائیں گونج رہی ہیں دورِ حاضر کی مشکلات سے ہر کوئی دو چار ہے ۔ اگر بات کی جائے ان لوگوں کی جن کی آہ و پکار کوئی سننے کو تیار نہیں وہ لوگ جو اپنی خودداری کے پیشِ نظر خود کو لاچار نہیں دکھلاتے اور نہ جانےایسے ہی کتنے لوگ جو بھوک کی شدت سے تڑپ کر مر جاتے ہیں۔
تو ایسے لوگوں پر ہماری کیا زمہ داری بنتی ہے ذرا غور کریں۔
ہم بے شمار آثار ایسے دیکھتے ہیں کہ غریب و بے بس اپنی لاچاری ظاہر نہ کر سکا اور اس نے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے موت کو گلے لگانا ٹھیک سمجھا۔
کیا اس کا سوال بروزِ قیامت ہم سے نہیں کیا جائے گا کہ اک ہمارا بھائی جو مصائب میں گھرا ہوا تھا جس کو بھوک کی شدت کا احساس کرنا پڑ رہا تھا اور اس کے بچے بھی بھوک سے بلبلا رہے تھے اور ہم اپنے گھروں میں شکم سیر ہو کر چین سے سو جایا کرتے تھے یقین جانیے ہمارا شکم سیر ہونا اور چین سے سو جایا کرنا ہمیں کوئی فائدہ نہ دے گا اور قیامت کے دن ہماری بربادی کا سبب بنے گا۔
ہمارے جذبات اتنے سرد ہو چکے ہیں کہ ہم نے انسانیت کے تمام حقوق کو پامال کر دیا ہے اور خوش ہیں اپنی خوشحالی میں مگر اتنا یاد رکھو کہ وہ رب جو گدا کو سلطان بنانے پر قادر ہے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ پل میں شاہوں کو گدا کردے اپنی مالداری پر مسرت کے نغمات نہ گاؤ یہ سرمایہ پائدار نہیں، سرمایہ وہ پائدار ہے جو جنت کے لیے تیار کیا جائے اور یقین جانو کہ اگر تم اپنے مال سے کسی بھوکے کا پیٹ نہ بھر سکے تو تم بڑے بد بخت ہو اور بہت بڑے خسارے میں ہو اور اپنے لئے مال و دولت کی شکل میں جہنم کا ایندھن جمع کر رہے ہو۔

کیا ہماری یہ خود غرضی اور یہ محض اپنی خواہشات کے لیے جیے جانا جائز ہے اور مجبور و ناتواں کی آہوں کی کوئی قدر و حیثیت نہیں ؟
ارے میاں کب تک خود غرضی کے سمندر میں غوطہ لگاتے رہوگے آخر کب تک اپنے ہی بارے میں سوچتے رہوگے کیا وہ دن یاد نہیں جس دن اس ربِّ قہار کے قہر سے کوئی بچ نہ سکے گا اور یہ دنیا کے شاہ و سلطان اس رب العالمین کے حضور اپنی جھولیاں پھیلا کر آخرت کی کامیابی کے لئے بھیک مانگ رہے ہوں گے اور یقیناً ان کا مال ان کو کوئی فائدہ نہ دے گا جس دن ہر کیے ہوئے کا حساب لیا جائے گا ”اللہ اکبر“ اس دن کی کٹھنائ کا تصور کرو کہ جب رب العالمین تم سے کہے گا کہ اے بندے تجھ کو میں نے دنیا میں مال و دولت سے نوازا تھا تجھ کو میں نے امداد و تعاون کے لائق بنایا تھا مگر تو اتنا بے حس ہو گیا تھا اور جاہ و حشمت کے نشے میں اتنا مخمور ہو گیا تھا کہ تجھ کو اک لاچار کی لاچاری پر ترس نہ آیا تو پھر دیکھ لے کہ یہ مال و دولت کا نشہ آج تجھے جنت کی وادیوں سے محروم کر جہنم کی وادیوں میں لے جاۓ گا۔
ذرا اس کے عذاب کے بارے میں سوچو کہ جس کو یہ بلند قامت پہاڑ بھی برداشت نہ کر سکیں گے تو پھر تم کیسے برداشت کر پاؤ گے۔

یک بار اس منظر کو یاد کرو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان کیا تھا کہ آج دین کو مال کی ضرورت ہے تو مسلمانوں نے اپنے گھر کا سارا ساز و سامان رسول کے قدموں میں لاکر ڈال دیا تھا۔
اور آج ہم اپنا مواخذہ کریں کہ آخر ہم خود کو اتنا برا کیوں بنا بیٹھے ہیں کہ اپنے تعاون سے کسی بھوکے کو دو روٹی نہیں دے سکتے کیا ہم اس لائق بھی نہیں کہ فردِ واحد کا پیٹ بھر سکیں۔
بالکل بھر سکتے ہیں اور اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو کوئی اس سر زمین پر بھوک سے تڑپ کر نہیں مرے گا۔۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close