مضامین و مقالات

لاک ڈاؤن کا پالن اور شب برات کی عبادت دونوں اپنے گھروں میں رہ کر انجام دیں! انظر ربانی حنفی

الحمدللہ آج 9/اپریل 14/شعبان ہے ابھی سورج آب و تاب کے ساتھ روزمرہ کے طرح آسامان کا بطن چیر کر ظاہر ہوا ہے یہی سورج انشاءاللہ اپنے گردشوں کا پاس و لحاظ اور حکم خدا کی تکمیل کرتے ہوئے آخری وقت جاپہوچیگا اور غرو ہوجائیگا بس جیسے ہی چھپا شب برأت شروع نجات و چھٹکارے کی رات شروع اور منتظر حضرات جو برسوں سے اس لمحات کے انتظار میں تھے اور اپنی مغفرت کروانے کیلئے اور مستقبل تابناک و روشن کروانے گرگرانے سجدہ بسجود ہو کرخدا کو منانے کیلئے حملہ آور ہوجائیں گے اور اس رات میں ذکرو عبادت اور دعا و استغفار کی بڑی فضیلت ہے اور بھی دیگر اعمال صالحہ ہیں جو امت محمدیہ بڑے شوق و لگن اور اہتمام کے ساتھ اجتماعی طور پر ان اعمال کو عملی جامہ پہناتے ہیں

لیکن آپ اس بات سے الحمداللہ خوب واقف ہیں کہ ابھی ملک گیر سطح پر لاک ڈاؤن کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے جسکا پالن کرنا ہماری ذینی ملی اور ملکی ذمہ داری ہے اس مہاماری کو رفو چکر کرانے کے واسطے آپ بہتر طریقے سے باخبر ہیں کہ سال رواں کا دواں دواں مہینہ اس مہاماری سے بالائے حد متوثر ہے چونکہ یہ ماہ رسول ہے خوشحالی کے بجائے بد حالی بھوک مری میں کہوں کہ قحط سالی سا محسوس کیا جا سکتا ہے تو غلط نہیں ہوگا اور آئندہ آنے والا ماہ مقدس رمضان جیسے مہینہ جس میں لوگ عموما گھروں پر رہ کر عبادت خاصہ اور اسلامی طے شدہ طریقے سے خاص افعال و اراکین کے ذریعے خدا کے حضور پیش کرنے کے ساتھ سکون کی سانس اہل و عیال بال بچوں قرب و جوار کے رشتہ داروں پڑوسیوں کے ساتھ لیتا ہے لیکن یہ مہاماری بیماری جسکو کرونا کہتے ہیں وہ غریب مسکین اور روز و شب محنت کش کسانوں اور دہاڑی پر ایک وقت کی روٹی کمانے والوں کو غم و الم کے مقفل گھروں میں محصور کردیا دیا ہے اور یہ وبائی مرض سے تو نہیں پر دائمی مرض بھوک کے آنسوں بہاتے بہاتے خدا کو جا ملیں گے

خیر ہمارے پاس تو ان کے علاوہ کوئی اور لائحہ عمل مرتب بھی تو نہیں (سرکار) علاوہ ازیں بھی بہت ساری باتیں ہیں لیکن مذکورہ بالا باتوں میں مختصراً شب برات کی فضیلت و اہمیت اور ملک میں موجودہ حالات کے مد نظر لاکھ پریشانیوں کے باوجود ہم شب برات میں ان باتوں کا بھر پور خیال رکھیں گے کہ ہم ہر عبادت اپنے اپنے گھروں میں رہ کر ہی کرینگے اور دعا و استغفار اور نوافل کا بھی اور دیگر مختلف عبادتوں کو بھی اپنے گھروں میں رہ کر انجام دیں گے انشاءاللہ اور رسول کے فرمان کے مطابق کہ اگر کوئی متعدی امراض وبا ء ہو تو جو جہاں ہے وہ وہیں رہیں اور ایک دوسرے. دوسرے کے پاس ہر گز نہیں جائیں اس فرمان پر اور ملک میں لگے احتیاطی تدابیر لاک ڈاؤن میں قطعی کوئی ناگوار قدم نہ اٹھائیں اور نماز و عبادت میں حالات حاضرہ جو بدتر ہے خوب تر ہونے کی اپنی عرضی خدا کے سامنے رکھیں. ———— یہی میری اپیل و درخواست ہے پورے ملک کے اہل اسلام سے

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close