مضامین و مقالات

قرآن حکم دیتا ہے کے ہر مذہب کا احترام کیا جائے۔ مختار فرید بھیونڈی

سورۃ البقر میں انسان کی تخلیق کا قصہ بیان فرمایا گیا ہے۔ اللہ نے فریشتوں سے فرمایا۔”پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ "میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں” [سورۃ البقرآیت نمبر۳۰] آگے اللہ فرماتا ہے اور ا س بات کی تصدیق کرتا ہے کہ انسان کو سیدھے راستے پر چلنے کے لئے ہدایات اور رہنمائی بھیجی جائے گی ، تاکہ امن ، انسانیت اور معاشرے کے اصولوں کا احترام برقرار رہے۔
” ہم نے کہا کہ، "تم سب یہاں سے اتر جاؤ پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے، تو جو لوگ میر ی ہدایت کی پیروی کریں گے، ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا”[۲:۳۸] تاریخ سے پتہ چلتا ہے ، ہر دور میں جب بھی خدا کی طرف سے رہنمائی آئی ، حقیقی پیغام ضائع ہو گیا اور ہر پیغام کو موڑ توڑ دیا گیا۔ مثال کی طور پر ہم حضرت ابراھیم علیہ السلام کے قصہ پر غور کریں گے۔ جو تمام رسولوں کے ابا و اجداد مانے جاتے ہیں۔حضرت ابراھیم نے وحدانیت کا پیغام دیا اور بتوں کی عبادت سے قوم کو روکا ، بتوں کو توڑا جس کی پاداشت میں حضرت ابراھیم کو آگ میں جھونکا گیا۔
ہم نے کہا "اے آگ، ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی بن جا ابراہیمؑ پر”[۲۱:۶۹]”
اس کہانی کا بنیادی مقصد بتوں کی پوجا کے خلاف تھا ، لیکن جب حضرت محمد حضرت ابراہیم جو ابراھیم کے 27000 سے 28000 سال بعد پیدا ہوئے تو کعبہ بتوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس طرح ، یہ واضح ہے کہ پیغام کی تمام ابتدائی شکلیں ایک ہی ذریعہ سے آئیں ، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ مسخ ہو گئیں۔
قرآن سورۃ الانعام آیت نمبر ۱۰۸ میں کسی بھی مذہب اور مذہبی رسومات کو بد نام کرنا اور مذاق اُڑانے سے منع فرماتا ہے۔
” اور (اے ایمان لانے والو!) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں ہم نے اسی طرح ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو خوشنما بنا دیا ہے پھر انہیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر آنا ہے، اُس وقت وہ اُنہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں” اسی آیت میں آگے فرمایا گیا ہے۔
"ہم ان کو سمجھا دیں گے” ، لہذا دوسرے کسی کو بھی یہ حق بھی نہیں ہے کہ وہ اُن کے عقائد پر طنز اور مذاق کرے۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ جب کوئی انسان کسی بات کو حق سمجھ کر جو کچھ کرتا ہے ، خواہ اچھا ہو یا برا ، وہ سوچتا ہے کہ اس نے اچھا کیا ہے اور وہ اپنے عمل کا دفاع کرتا ہے۔ اگر وہ ہدایت پر چلتا ہے تو اسے اچھا لگتا ہے۔ اور اگر وہ غلطی میں ہے تو پھر بھی اسے یقین ہے کہ اس کی غلطی اچھی ہے۔کوئی بات جب انسانی ذہن میں ایسی بات بیٹھ جائے جس پر وہ دل و دماغ سے راضی ہو تو، بڑی مشکل سے ہی کوئی اُسے سمجھایا جاسکتا ہے۔
کافروں کے ذریعہ پوجا کیے جانے والے معبودوں کو گالی دینا ان کافروں کو ہدایت کے راستے پر نہیں ڈالے گا۔ اس کے بجائے ، یہ ان کی ضد میں مزید اضافہ کرے گا۔ پھر ، کیوں مومنوں کو اس بیکار چیز میں مشغول ہونا چاہئے ، جب اس کی وجہ سے وہ ایسی باتوں کو سن سکتے ہیں جو وہ پسند نہیں کرتے ہیں ، کیوں کہ کافر خدا سے بدسلوکی کرکے انتقام لینے پر اُتر آیئنگے۔
ضدّی اور ہٹ دھرم اللہ کی آیتوں پر یقین نہیں رکھتے ، وہ اس وقت تک یقین نہیں کرینگےجب تک کہ خدا نہ چاہے ، اور خدا ایسا نہیں کرتا ہے کیونکہ جب وہ خودہدایت پانے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔
یہ حقیقت مختصرا اُن کے دل و دماغ کی کیفیت بیان کرتی ہے ۔ جو لوگ ضد کے ساتھ غلطی کی پیروی کرتے ہیں ، اور ایمان کی کمزوری کا رونا روتے ہیں دراصل یہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اُنھے اللہ نے ہدایت نہیں دی بلکہ وہ محض دل سے بیمار ہیں ، انھوں نے اپنے فطری رد .عمل کو بند کر دیا ہے اور ان کی ضمیر کو دبا دیا ہے۔ ہدایت صرف اُن کے لئے ایک اجر مستحق ہے جو اس کے لئے کوشش کرتے ہیں۔
دوسری حقیقت یہ ہے کہ خدا کی مرضی آخری عنصر ہے جو طے کرتی ہے کہ کون ہدایت کی پیروی کرے گا اور کون گمراہ ہوتا ہے۔ خدا نے انسانوں کو اپنی مرضی سے یہ آذادی دی تاکہ انسانوں کو آزمایا جائے ، اور ہمیں انتخاب کی آزادی کی اجازت دی جاسکے کہ ہم کس راہ پر چلیں گے۔ جو بھی شخص اس آزادی کو بروئے کار لانے کے بعد اس کی پیروی کرنے کی نیت کے ساتھ رہنمائی حاصل کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے ، اگرچہ وہ اس لمحے نہیں جان سکتا ہے کہ وہ کہاں کھڑا ہے ، اسے معلوم ہوگا کہ خدا اپنی مرضی سے اس کی مدد کر رہا ہے اور اسے صحیح راہ دکھا رہا ہے۔ اس کے برعکس ، وہ شخص جو رہنمائی سے منہ موڑنے کے لئے انتخاب کی اس آزادی کو استعمال کرتا ہے، وہ اپنے آپ کو حقیقت سے اور بھی دور پا لے گا۔کیونکہ جو اللہ کی مرضی کے خلاف بجائے خیر کی تلاش میں جد و جہد کرے وہ اللہ کے خلاف جاتا ہے،خدا کی مرضی پرعزم ہےاور ایسے لوگوں کو مزید گمراہی میں مبتلا کرتا ہے اور اندھیرے میں دھکیل دیتا ہے۔ خدا کا ہر حال میں انسانوں پر غلبہ ہے۔ وہی ہے جو آخر میں ہر چیز کا تعین کرتا ہے۔ اس طرح سب کچھ خدا کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ وہی ہے جس نے ان کی رہنمائی نہیں کرنا چاہا ، کیونکہ انہوں نے اس کی رہنمائی کے حصول اور اس کی پیروی کے لئے ضروری اقدامات نہیں کیے۔ اللہ نے آزادی کی اس پیمائش کو ان کے امتحان کا بھی ارادہ کیا ہے۔ وہی ان کی رہنمائی کرتا ہے اگر وہ ہدایت کے لئے کوشش کرتے ہیں اوراُنھے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اگر وہ اس کا انتخاب کرتے ہیں۔ اسلامی تصور کے مطابق ، اس حقیقت کے مابین کوئی تضاد نہیں ہے کہ خدا کی مرضی بالکل آزاد ہے اور اس نے انسانوں کو آزادی کے اس اقدام کو ان کی جانچ کرنے دی ہے۔
ہر معاشرے کو خدا کی رہنمائی حاصل ہوتی ہے ، جیسا کہ قرآن مجید میں سورۃ النحل آیت نمبر ۳۶ اللہ کہتا ہے۔
"ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا، اور اُس کے ذریعہ سے سب کو خبردار کر دیا کہ "اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو” اس کے بعد ان میں سے کسی کو اللہ نے ہدایت بخشی اور کسی پر ضلالت مسلط ہو گئی پھر ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہو چکا ہے-[۱۶:۳۶] اللہ نے اپنے فضل و کرم سے ، جو وہ کثرت سے دیتا ہے ، اپنے بندوں کو صرف ان کی استدلال کی بنا پر انتخاب کرنے کے لئے نہیں چھوڑا ہے۔ اس نے اپنے قوانین میں ہر چیز واضع کر دی ہے ، جو اس کے رسولوں اور پیغمبروں کے ذریعہ بیان کیے گئے ہیں ، لوگوں کے لئے ایک واضح اور مستقل معیار عطا کیا ہے جب بھی انہیں ہدایت کی ضرورت ہوتی ہے اللہ کی ہدایت روشن اور واضع موجود ہے۔ اس معیار کو استعمال کرکے ، جو لوگوں کی خواہشات اور مرضی کے تابع نہیں ہے ، وہ کسی بھی معاملے میں صحیح اور غلط کا تعین کرنے کے اہلیت رکھتے ہیں۔نا ہی اس نے اپنے نبیوں اور پیغمبروں کو بزور طاقت ظالم نہیں بنایا جو لوگوں کو اس پر یقین کرنے پر مجبور کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کریں۔ یہ پیغامبر صرف ان کے پیغامات کو انسانوں تک پہنچانے کے مجاز تھے ، ان کو صرف یہ کام سونپا گیا تھا۔
خدا ، خالق ،اور حکمت والا ہے، وہ چاہتا ہے کہ انسانوں کو یکساں طور پر اس کی ہدایت پر عمل کرنے یا نا کرنے اور گمراہی میں مبتلا ہونےکا بھرپور موقع عطا کرے ، اور انھے ہی یہ انتخاب کرنا ہے کہ کس راہ پر چلنا ہے اس طرح انسان مکمل طور پر آزاد ہیں۔ اس نے انھیں عقل اور دانشمندی بھی دی ہے تاکہ یہ طے کرسکیں کہ وہ کون سا راستہ منتخب کریں۔
خدا نے کسی قوم کو بھی ہدایت کے بغیر نہیں چھوڑا ہے۔صحیح راستے کا انتخاب کرنا دانشمندی پر منحصر ہے۔ اس طرح ، دوسروں کو اپنے اعتقاد رکھنے پر مذاق اُڑانا ‘نہ تو اس کے اپنے اعتقاد کو فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی یہ دوسروں کو اس راہ پر چلنے کے لئے مجبور کرسکتا ہے جسے وہ سچ مانتا ہے۔
قرآن سورۃ یونس میں آیت نمبرسینتا لیس میں اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ہر امت کو رسول بھیجے گئے تھے۔
” ہر امّت کے لیے ایک رسُول ہے پھر جب کسی امّت کے پاس اُس کا رسُول آ جاتا ہے تو اس کا فیصلہ پُورے انصاف کے ساتھ چکا دیا جاتا ہے اور اس پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جاتا”
اس مضمون کا مقصد یہ ہے کہ کسی کو کسی کےبھی اعتقاد کو بدنام کرنے کی غلطی نہ کریں کیونکہ ہر شخص کو خدا کی رہنمائی کے لئے نبی بھیجےہیں ، مگران کے قائدین اور اکابرین ہی انہیں گمراہ کرتے ہیں۔ دوسروں کا مذاق اڑانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اس کی وجہ سے صرف نفرت پیدا ہوسکتی ہے اور وہ نادانستہ نادان انسان حقیقت کو مسترد کردیں گے۔

مختار فرید بھیونڈی
mukfarid@hotmail.com

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close