مضامین و مقالات

اسلام میں سماجی خدمت کی اہمیت ! محمد قمرالزماں ندوی مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

اس وقت *کرونا وایرس* کی وجہ سے پوری دنیا ایک عجیب و غریب دور سے گزر رہی ہے، زندگی کی رفتار تھم سی گئی ہے، تعلیم۔ تجارت ، صنعت و حرفت سیاحت سارے شعبے بند ہیں۔ آمد و رفت کے سارے وسائل بھی بند ہیں، جس کی وجہ سے جو جہاں ہے وہی پھنسا ہوا ہے۔ راقم الحروف بھی مدرسہ میں ایک طرح سے محصور ہے،راستے سب بند ہیں، بڑا لڑکا دادی کے یہاں ہے۔ منجھلا نانی کے یہاں اور میں چھوٹے بچوں اور اہلیہ کے ساتھ مدرسہ میں ہوں۔ لاک ڈاؤن نے شعب ابی طالب کا واقعہ ذھن میں مستحضر کردیا ہے۔ لیکن یہان تو لاک ڈاؤن کے باوجود زندگی کی ساری سہولیات فراہم ہے خورد و نوش کی کی کمی ابھی تک الحمد للہ نہیں ہوی ہے۔ ضرورتیں سب پوری ہورہی ہیں۔ لیکن شعب ابی طالب میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان والے دانے دانے کے محتاج تھے۔ بھوک کی وجہ سے درخت(ببول)کے پتے اور سوکھی ہڈی کھا کر زندگی گزار رہے تھے، بچے بھوک سے روتے اور بلبلاتے تھے ان کے رونے کی آواز دور دور تک جاتی تھی۔ تین سال اس سخت حال میں گزرے۔اس زمانہ میں خفیہ طریقہ سے کچھ ضرویات زندگی ان کے پاس پہنچ جاتی تھی۔ تین سال کا یہ مرحلہ اور سماجی باءیکاٹ کی مدت انہوں کیسے صبر و یقین کے ساتھ گزارے، تاریخ میں اس طرح کے صبر و استقامت کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ہماری آزمائش تو ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں بلکہ صفر ہے۔
خیر اس وقت لاک ڈاؤن کی وجہ سے پوری دنیا🌎 کی معیشت اور اقصادی حالت ابتر ہوگئ ہے۔ قیاس اور اندازہ یہی ہے کہ حالات اور خراب ہوں گے۔ اکانومیک استتھی اور چرمرا جایے گی۔ لوگوں کے کھانے پینے اور دوا 💊 کے لیے مسءلہ کھڑا ہو جائے گا۔ ابھی تک جیسے تیسے کام چل رہا ہے۔ ہندوستان پر اس کا اثر اور زیادہ پڑ رہا ہے۔ حکومت مجبور ہوگئی ہے کہ وہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تیس فیصدی کٹوتی کر دے۔ بار بار لوگوں سے دان اور عطیہ کی اپیل کر رہی ہے، لوگ دامے درمے سخنے ہر طرح سے مدد کر رہے ہیں۔ سماجی اور فلاحی تنظیمیں حکومت کے مقابلے میں زیادہ چست اور پھرت ہیں اور اپنی ذمہ داری ادا کر رہی ہیں اور الحمدللہ مسلمان تو اس میدان میں سب سے زیادہ آگے نظر آرہے ہیں لیکن افسوس کہ یہاں کی گودی میڈیا اور خبر رساں ادارہ اس کا چرچا ہی نہیں کرتا ۔
یقینا ایسے وقت میں خدمت خلق اور سماجی کاموں کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اور اس کام کو بہت منظم انداز سے کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ بعض لوگ ایسے وقت میں ہوشیاری سے زیادہ حاصل کرلیتے ہیں اور اسٹاک اور ذخیرہ کرلیتے ہیں جب کہ بعض لوگ اپنی سادگی اور شرمیلی طبیعت کی وجہ سے سوال نہیں کرپاتے ہیں اور ان کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے سماجی تنطیموں اور انجیوز کو بہت دماغ اور سمجھ بوجھ کر کام کرنا ہوگا۔ اور نظر رکھنا ہوگا کہ کوئی شخص پریشانی میں نہ پڑے۔
اس وقت ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ اسلام میں سماجی خدمت کی کتنی اہمیت ہے اور اسلام اپنے ماننے والوں کو اس کی کتنی ترغیب دیتا ہے۔ اس سلسلہ میں اسلام ہمیں کیا گاءڈ لاءن دیتا ہے اس کا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔
*اللہ تعالٰی* نے حضرت انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور تمام مخلوقات میں اس کو برتری تفوق اور فضلیت سے نوازا ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے چار چیزوں کی بیک وقت قسمیں کھا کر فرمایا تاکہ حضرت انسان کو اپنی بلندی اور برتری کا احساس ہو اور ساتھ ہی اپنے مقام و منصب کا ادراک بھی ہو ۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا : تین کی قسم زیتون کی قسم طور سینا کی قسم اور اس مبارک و پاکیزہ شہر یعنی شہر مکہ کی قسم ہم نے سچ مچ انسان کو سب سے بہترین سانچے میں ڈھالا ۔
*اللہ تعالٰی* نے انسان کو صرف بہترین سانچہ میں ڈھال کر خوبصورت ہی نہیں بنایا بلکہ انسان کو اس کائنات کا تاجدار بنایا اور ہر چیز کو اس کے لئے مسخر بناکر اس کی خدمت میں مصروف کردیا ۔
*اللہ تعالٰی* نے عقل و دانش فہم و فراست اور شعور و ادراک کی وہ بلندی دی کہ اس نے سمندر کی گہرائیوں اور فضا کی بلندیوں کو فتح کرلیا ۔ لیکن انسان کو جس قدر عظیم اور طاقت ور بنایا وہیں اس کو قدم قدم پر محتاج اور ضروت مند بھی بنایا ۔ اسے ہر کام مین ایک دوسرے کا محتاج اور دست نگر بنایا ۔
یہ سچ ہے انسان کو ہر کام میں اپنے جیسے انسانوں کی ضرورت پیش آتی ہے ۔ دو روٹی چند گز کپڑے اور سر چھپانے کی جگہ جو اسے میسر آتی ہے اس میں نہ جانے کتنے ہی لوگوں کی جد و جہد اور کدو کاوش شامل ہوتی ہے ۔ اسی لئے دنیا کے تمام مذاہب میں خدمت خلق کو خاص اہمیت دی گئ ہے ۔ اسلام میں خدمت خلق کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالی کی بندگی اور کسی انسان کی مدد کو ایک درجہ میں رکھا گیا ہے اسی لئے اگر کوئ کبر سنی یا بیماری کی وجہ سے روزہ نہ رکھ پائے تو ایک روزہ کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا مقرر کیا گیا ہے ۔ اسی طرح روزہ کے کفارہ ظہار کے کفارہ اور ایلاء اور قسم کے کفارے میں بھی مسکین کو کھلانے کی شکلیں بھی رکھی گئ ہیں ۔ اگر یہ کہا جائے کہ پورے اسلام کا خلاصہ صرف ایک مختصر سے جملہ میں بیان کر دیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ پورے اسلام کا خلاصہ ہے *خالق کی عبادت اور مخلوق کی خدمت* ۔
*اسلام* اللہ تعالی کا نازل کردہ اور پسندیدہ دین ہے ،اس دین میں سب سے زیادہ کامیاب انسان اسے کہا گیا ہے جو اپنی دینداری کے ساتھ لوگوں کے لئے زیادہ مفید اور کارآمد ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الخلق کلھم عیال اللہ فاحب الخلق الی اللہ انفعھم لعیالہ (المعجم الکبیر ۱۰۰۳۳) یعنی ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے،اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ بندہ وہ ہے جو اس کے عیال کے لئے سب سے زیادہ نافع ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ اللہ فی عون العبد ما کان العبد فی عون اخیہ (مسلم شریف ۲۶۹۹ )یعنی اللہ تعالی اس وقت تک بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائ کی مدد میں لگا رہتا ہے ۔
آپ اندازہ لگائے کہ انسانی خدمت کا اسلام میں کیا مقام ہے؟ نماز کتنی اہم عبادت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا ۔ حج کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ جس طرح اسلام پچھلے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے اسی طرح حج بھی پچھلے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے ۔ حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے ۔ حاجی حج سے لوٹنے کے بعد اگر اس کا حج مقبول ہو جاتا ہے تو اس بچے کی طرح معصوم ہو جاتا ہے جس کو ابھی اس کی ماں نے جنا ہو ۔ روزہ کے بارے میں فرمایا حدیث قدسی ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے روزہ میرے لئے ہے اور روزہ کا بدلہ میں خود دوں گا ۔ لیکن جب صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا سب سے بہتر انسان کون ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازی روزہ دار حاجی اور ہمیشہ تسبیح و اذکار کرنے والے کا نام نہیں لیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہترین انسان وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے *خیر الناس من ینفع الناس* (شعب الایمان للبیھقی )
معلوم یہ ہوا کہ خدمت خلق کو ترجیحی حیثیت حاصل ہے ۔ کیوں کہ اس کا نفع اور فائدہ دوسروں تک متعدی ہوتا ہے ۔
قرآن مجید میں اللہ تعالی نے اس امت کو خیر امت کا لقب بھی اسی لئے دیا ہے کہ یہ امت صرف اپنے نفع کے لئے نہیں بلکہ انسانیت کے نفع کے لئے پیدا کی گئ ہے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام کا بہرتین عمل کھانا کھلانا اور سلام کو رواج دینا ہے ۔ (بخاری کتاب الایمان)
آپ صلی اللہ علیہ نے یہ بھی فرمایا کہ جو آسودہ ہوکر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو وہ مسلمان نہیں ہوسکتا ۔ (المستدرک للحاکم)
غرض یہ کہ لوگوں کی نفع رسانی اور خدمت خلق تمام مذاہب میں محمود و پسندیدہ عمل ہے لیکن اسلام نے اس پر سب سے زیادہ زور دیا ہے اور اس کے رہنما اصول اور ضابطے بھی بیان کر دیا ہے ۔ اور اس کی خاص تاکید و ترغیب بھی دی ہے ۔ ہر خاص و عام کی زبان پر بھی یہ جملہ رہتا ہے کہ خدمت سے خدا ملتا ہے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی خالق کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں گزری ۔ خاص طور پر منصب نبوت پر فائز ہونے سے پہلے چالیس سال تک تو مخلوق خدا کی خدمت کو اپنا مشن بنائے رکھا تاکہ آگے دعوت کی راہ ہموار ہو سکے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اس کا بہترین نمونہ ہے اور ساری انسانیت کے لئے آپ اس میدان میں بھی سب سے اعلی نمونہ اور آئڈیل ہیں ۔

*اسلامی* تعلیمات کا خلاصہ خالق کی کی بندگی اور مخلوق کی خدمت ہے اللہ تعالٰی کی عبادت انسان اپنی کامیابی اور نجات و فلاح کے لئے کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالی بندوں کی عبادت کا محتاج نہیں، کیونکہ وہ ذات تو غنی و بے نیاز ہے لیکن انسان ایک دوسرے کے تعاون کا ضرورت مند اور محتاج ہے ۔ اس جہت سے حقوق العباد کی اسلام میں خصوصی اہمیت ہے اور اس کی بہت زیادہ فضیلت ہے ۔
اسلام نے خدمت خلق کو بڑی اہمیت دی اور بہت سے گناہوں کے لئے روزہ رکھنے یا مسکینوں کو کھانا کھلانے کو کفارہ قرار دیا گیا ہے ۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام کی نظر میں خدمت خلق اور اللہ کی بندگی کا قریب قریب ایک ہی درجہ ہے ۔ اور خدمت خلق میں گناہوں کا کفارہ بننے کی صلاحیت ہے ۔
خدمت خلق کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گراں بار ذمہ داری سے کچھ گھبراہٹ محسوس کی ،گھر واپس تشریف لائے تو غمگسار شریک حیات ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا نے کیفت سن کر عرض کیا : اللہ تعالی آپ کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا ۔ ( *کلا لا یخزیک اللہ! انک لتصل الرحم و تحمل الکل و تکسب المعدوم و تقری الضیف و تعین علی نوائب الحق* )(بخاری شریف حدیث نمبر ۳) کیوں کہ آپ رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں، بے سہارا لوگوں کی مدد کرتے ہیں، مہمانوں کی خاطر تواضع کرتے ہیں اور آسمانی حوادث میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں ۔
ان پانچوں اوصاف جن کا خصوصیت سے اماں خدیجہ رضی اللہ عنہا نے تذکرہ کیا ان سب کا تعلق خدمت خلق کے مختلف پہلوؤں سے ہے اس میں حسن سلوک بھی ہے اور بدنی و مالی تعاون بھی ہے ۔ اگر اس جہت سے سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کیا جائے تو پوری حیات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا نمونہ نظر آتی ہے ۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانوں کو خدمت خلق اور نفع انسانی کا بلند تصور دیا اور صرف انسانوں کی ہی خدمت نہیں بلکہ پوری خلق اللہ یعنی اللہ کی ساری مخلوق کی خدمت اس میں شامل ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص گزر رہا تھا اور اس کو سخت پیاس لگی ہوئ تھی وہ ایک کنویں میں اترا اور پانی پی کر باہر آیا ،اس نے باہر دیکھا کہ ایک کتا پیاس سے بے قرار ہے ،چنانچہ وہ دوبارہ کنویں میں واپس گیا اپنے موزوں میں پانی بھر کر اس کو دانتوں سے پکڑ کر باہر لایا اور کتے کو پلایا اسی عمل کی وجہ سے اللہ تعالٰی نے اس کی مغفرت فرما دی ۔( مسلم شریف ۸۵۹)

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close