مضامین و مقالات

جو اگنے لگی میرے گاؤں کے کھیتوں میں بھوک! مضمون نگار :سید جمیل الدین نقشبندی

(بھارت میں ناگہانی لاک ڈاؤن اور دیہاتیوں کی کسمپرسی کے تناظر میں )

مضمون نگار :سید جمیل الدین نقشبندی ساکن اتکور تعلقہ دھرم آباد ضلع ناندیڑ مہاراشٹرا
تاريخ :6اپریل 2020
رابطہ نمبر :9182232006

گاؤں ایک ایسا لفظ ہے جس کو سنتے ہی بہت سارے لوگوں کو اپنا ماضی یاد آجاتا ہے. بھولی ہوئی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں . بچپنے کے کھیل کود ، سڑکوں پر دوڑتی بیل بنڈی، جنگلات میں چرتی پھرتی بھینس بیل گاے بکریاں ، کھیتوں کی سرسبز وشادابی، تالاب، جھیل، نہریں اور کنوؤں کے میٹھے پانی، درختوں سے لگے پھل پھول نگاہوں کے سامنے آجاتے ہیں. رات دیر گئے تک گھروں کے سامنے پلنگ دال کر بڑے بزرگوں سے کہانیاں سننا، صبح مؤذن صاحب کی آواز سے قبل بیدار ہوجانا، نماز عصر کے بعد کبڈی گلی ڈنڈا کھیلنا دیہاتی بچوں کا معمول ہوتا ہے. کسی شاعر نے کیا خوب ترجمانی کی ہے.
وہ گاؤں کے بچے، وہ بچوں کی ٹولی
وہ بھولی، وہ معصوم چاہت کی بولی
وہ گُلی وہ ڈنڈا وہ لڑنا جھگڑنا
مگر ہاتھ پھر دوستی سے پکڑنا
وہ منظر ہر اک یاد پھر آ رہا ہے
میرا گاؤں جانے کہاں کھو گیا ہے.

دیہات کے لوگ عموماً معصوم ، بھولے، صاف دل، صاحب دل، اخلاص کے حامل ہو تے ہیں. آپسی رواداری محبت و بھائی چارگی، ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شریک ہو نا، شادی بیاہ میں جاکر پورا کام کرنا، عیدوں کے موقع بردران وطن کو اپنے گھر بلاکر اسپیشل ڈیشس کھلانا، دوسروں کے غم کو اپنا غم سمجھنا، یہاں صرف کتابوں میں نہیں بلکہ عملی طور پر بھی نظر آ تا ہے. لوگ قطع نظر ذات وپات کے ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہیں اسی لئے منور رانا نے کہا ہے کہ

*تمہارے شہر میں میت کو سب کاندھا نہیں دیتے
ہمارے گاؤں میں چھپّر بھی سب مل کر اٹھاتے ہیں.*

شہروں سے دور یہ علاقے عموما خراب تعلیمی نظام، معاشی عدم استحکام، کا شکار ہو تے ہیں. جہاں پر سرکاری سہولیات ذرائع حمل و نقل ، ہاسپٹلس، کلینک، شفا خانے حتی کہ ابتدائی طبی امداد بھی ندارد ہو تی ہیں.
البتہ بعض گھروں میں زرعی پیداوار وافر مقدار میں دستیاب رہتی ہیں. کسانوں کی محنت کی وجہ سے ہی شہروں میں بسنے والے افراد غذائی اجناس سے استفادہ کر تے ہیں. کڑاکے کی سردی، آگ اگلتے گرما کے موسم میں بھی وہ اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہیں. کسان گھر کی پوری پونجی زمیں دوز کرکے رب العزت کی بارگاہ سے امید لگائے بیٹھتے ہیں.
عربی زبان میں گاؤں کو قرية کہا جاتا ہے، اس کی جمع قرى آتی ہے. مکہ مکرمہ کو ام القری یعنی گاؤوں کی اصل اور جڑ کہا جاتا ہے .اس طرح گاؤں کو مکہ مکرمہ (ام القری ) سے ایک قسم کی اشتقاقی نسبت حاصل ہوگئی. قرآن مجید میں لفظ قریہ جمع ومفرد کی شکل میں تقریباً چھپن 56 مرتبہ آیا ہے ، البتہ بعض جگہ گاؤں بولکر شہر مراد لیا گیا اور شہر کہکر گاؤں مراد لیا گیا جیسے سورہ کھف میں حضرت موسی علیہ السلام وخضر علیہ السلام کے واقعہ کے آیات میں فرمایا گیا:حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ ﴾(الكهف:77).

پھر آگے فرمایا گیا :

﴿ وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ ﴾(الكهف:82).
اسی طرح سورۃ یس میں آیا ہے
وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلاً أَصْحابَ الْقَرْيَةِ إِذْ جاءَهَا الْمُرْسَلُونَ ﴾(يس:13)،
اس کے بعد فرمایا گیا
:﴿ وَجاءَ مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى ﴾(يس:20)

دیہات اور کرونا وائرس:

وطن عزیز بھارت ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کرونا وائرس سے متاثر ہے، پسماندہ ہوکہ ترقی یافتہ ممالک سب اس کے آگے سرنگوں ہیں . محمود وایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے ہیں. ظالم متکبر حکمران بھی اس سے خوفزدہ ہے. اس قدر ترقی کے باوجود بھی اس کے علاج سے قاصر ہے. ہندوستان میں بھی یہ وبا برق رفتاری سے پھیلتی جارہی ہے، یہ وائرس مال داروں اور شہروں تک محدود ہے، الحمد للہ اکثر دیہات اور غریب اس سے محفوظ ہیں .کیا ہی بہتر ہوتاکہ پورا دیش یک جان ہو کر اس کا مقابلہ کرتا لیکن معلوم نہیں کہ خواجہ کی اس نگری کو کسی نظر لگ گئی ہے یا پھر کچھ اور ہو گیا ہے . پوری میڈیا ایک طبقہ کو اس ذمہ دار قرار دے رہا ہے.نفرت کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے. مسلمانوں کے خلاف ایک. نامسعود تحریک شروع ہو جاتی ہے (الحق أن المسلمين أبرياء كبرائة الذئب من دم يوسف) لیکن اللہ تعالٰی سے امید ہے کہ سونے کی اس چڑیا کو زک نہیں پہونچے گی. غریب نواز وبندنواز کا صدقہ بٹے گا.
ہمارے وزیر اعظم کی جانب سے اچانک لاک ڈاؤن اعلان ہوتا ہے.گویا پورا ملک تھم سا جاتا ہے، ملک کی کبھی نا رکنے والی شاہراہیں سنسان ہوجاتی ہے. اس دوران کوئی سفر میں تھا تو کوئی سیر وتفریح سے لطف اندوز ہو رہا تھا، کوئی بوڑھے ماں باپ بیوی بچوں کو دو وقت کی حلال غذا فراہم کرنے شہر چلا گیا تھا، جبکہ اس کا شہر میں کوئی عزیز بھی نہیں تھا، کرایہ کا روم لیکر خود کھانا پکار کھاتا تھا. تو کوئی علم کی پیاس بجھانے کے لئے وطن کو چھوڑ کر دور دراز علاقے کا سفر کیا تھا، سب کو یکلخت حکم ملتا ہے کہ جہاں ہے وہیں پر رک جائیں .لوگ مختلف علاقوں میں پھنس گئے. غریب عوام وائرس سے قبل بھوک مری سے مرنے لگے ہیں، بعض لوگ یومیہ مزدوری کرنے والے ہوتے ہیں، وہ عام دنوں میں ہی پریشان رہتے ہیں، کبھی شہر یا بازار اس لیے نہیں جاتے کہ کہیں بچے کسی کھلونے کا مطالبہ ناکردے.

آج پھر ماں مجھے مارے گی بہت رونے پر
آپھر گاؤں میں آیا ہے کھلونے والا

پھر ملک میں ذخیرہ اندوزی کا بازار گرم ہوتا ہے، اہل ثروت تو کسی طرح اسکا مقابلہ کیے، لیکن معاشی اعتبار سے کمزور افراد زیادہ دیر تک اس کے سامنے ٹک نہیں پائے، انہیں سودی یا بلاسودی قرض لینے پڑ رہے ہیں.
اس دوران سرکاری طور پر راشن کی فراہمی کی تحریک شروع ہو تی ہے، بعض تنظیمیں رضا کارانہ طور پر بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں، اصحابِ خیر کو ثواب کمانے کا زرین موقع ملا ہے. لیکن جو چیز نہایت ہی توجہ کی حامل ہے وہ یہ ہے کہ یہ ساری سرگرمیاں شہروں تک محدود ہے، دیہاتوں کی جانب توجہ نہیں دی جا رہی ہے. جبکہ ہندوستان کی کثیر آبادی دیہات میں بستی ہے، شہریوں سے زیادہ دیہاتی معاشی اعتبار سے کمزور رہتے ہیں. اس لیے ضرورت ہے کہ سرکاری ورضاکارانہ کام کر نے والی تنظیمیں دیہاتوں کا بھی رخ کرین.

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close