مضامین و مقالات

وہ دور بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نےلمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی ! از ۔۔ تجمل حسن

اچھے لوگوں کی یہ نشانی ہوتی ہے کہ وہ آپس میں الجھتے نہیں ہیں اور اگر ان کے ما بین کسی بات کو لیکر نزاع پیدا ہو جائے تو وہ اس کو اپنے تک ہی رکھتے ہیں خاص طور سے اس وقت جب کوئی مد مقابل ان کے آپسی اختلافات سے صرف نظر کرتے ہوئے یا ان کے باہمی اختلافات سے عدم آگہی کے سبب ان تمام کو اور ان کے مذہب کو بدنام کرنے کی سعی پلید کرتا ہو تو اس وقت وہ اپنے تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اپنی وحدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مد مقابل کے ناپاک منصوبوں پر پانی پھیرنے میں لگ جاتے ہیں اور ان کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر نہیں ہونے دیتے۔
لیکن افسوس ان عقل کے اندھوں اور فتنہ پروروں پر کہ جن کے ہاں دین اسلام پر انگشت نمائی کوئی معنی نہیں رکھتی وہ آج بھی مسلکی و مشربی غلو کو سامنے رکھ کر مد مقابل کو یہ باور کرانے میں لگے ہیں کہ ان مرکز والوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ لوگ فسادی اور ارہابی ہوتے ہیں۔
ذرا سوچو! کہیں آپ کا یہ غلو مد مقابل کو یہ کہنے کا موقع تو فراہم نہیں کر رہا ہے کہ

”گھر کو ہی آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے“

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ مد مقابل تو بلا تفریق ہم کو ایک جان کر ہم کو اپنا نشانہ بناکر ہماری یکجہتی کا ثبوت دے رہا ہے اور ایک ہم ہیں کہ خود ہی دشمن کو اپنے آپسی اختلافات یا جھگڑوں سے آگاہ کرنے کی کوشش میں لگکر اپنی وحدت کے پارہ پارہ ہونے اور شیرازہ کے بکھرنے کی خبر دے رہے ہیں

افسوس صد افسوس!

"اس سے نہیں غرض کہ قبیلہ کا کیا ہوا
بس اس پہ لڑ رہے ہیں کہ سردار کون ہے،،

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close