مضامین و مقالات

وائرس کاقہر اور مدارس کی پیشکش۔از مفتی ہمایوں اقبال ندوی صاحب

اپنے ملک پر کوئی بھی آفت مدارس کو منظور نہیں ہے۔یہ بلبل بن کر اپنے اس گلستان میں چہچہاتے ہیں، پھول بن کر اپنے اس چمن میں مہکتے ہیں، خوشبو بن کر اس‌کی ‌فضا کو معطر کرتے ہیں، تتلیاں بن کر چمنستان ہند میں ٹہلتے ہیں اور اپنے اس وطن کی شان میں سارے جہاں سے اچھا کا ترانہ گنگناتے رہتے ہیں ۔
جب کوئی ناپاک ارادہے سے وطن عزیز کو دیکھتا بھی ہے تو یہ نونہالان مدارس بھی ضیغم (🦁) بنکر ان پر ٹوٹ پڑتے ہیں، کوئی ناپاک قدم اس دھرتی پر رکھتا ہے تو اس کےلئے برہنہ شمشیر بن جاتے ہیں اور آخری سانس تک برسرپیکار ہوتےہیں، قرآن کی زبان میں فيقتلون ويقتلون (قرآن)”مارتے ہیں اور مرتے ہیں "کی عملی تفسیر بھی پیش کردیتے ہیں۔
ایسے کارہائے نمایاں اور کارنامے لاتے ہیں دنیا جنکی مثال پیش کرنے سے عاجز ہوجاتی ہے۔
بھارت پرانگریزوں نے حملہ کیا اور اس پر غداروں کی وجہ کر قابض بھی ہوئے ۔مدارس نے ملک کی آزادی کے لئےاپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور ان کے ناپاک قدم سے ملک کی دھرتی کو پاک کیا ہے ۔شاملی کی جنگ میں مولانا قاسم نانوتوی رح ، مولانا رشید احمد گنگوہی رح، حافظ ضامن شہید رح ودیگر ارباب مدارس ہی تھے جو انگریزوں کے خلاف سینہ سپر تھے، صادقپور کی آبادی یہ مولویوں ہی کی تھی جسے انگریزوں نے توپ کے گولوں سے خاکستر میں تبدیل کردیا تھا، مالٹا جیل کی سلاخوں میں اپنے کو سڑانے والے شیخ الہند مولانا محمودالحسن دیوبندی رح،چھپکلی کے تیل میں وطن کے لئے اپنے جسم کو گلانے والے شاہ عبدالعزیزرح یہ مدارس والے ہی تھے ۔ علامہ فضل حق خیرآبادی رح، مولانا عبیداللہ سندھی رح، مولانا عنایت اللہ کاکوروی رح، مولانا جعفر تھانیسری رح، احمد علی لاہوری رح، ابراہیم راندیری رح،ابوالحسن تاج محمود رح، آزادسبحانی‌رح، مولاناعبدالباری فرنگی محلی رح، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح وغیرہ یہ مدارس والے ہی تھے۔ ان کی تعداد اتنی کثیر ہے برسبیل تذکرہ بھی ان کا احاطہ مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔
آج جب کہ اپنے ملک پر کرونا وائرس کا حملہ ہواہے ۔مدارس کی فضامیں بڑی بےچینی سی چھاگئی ہے ۔ لیکن یہ فکر مند ضرور ہیں، پریشان نہیں، انہیں یہ معلوم ہے کہ یہ مصیبت آئی ہے جانے کے لئے، ان کا ماننا یہی کہ جو بھی آتا ہے وہ جانے کے لئے ہی آتا ہے ۔انسان یہ اشرف المخلوقات ہے۔اس سے زیادہ کسی کی عزت نہیں ۔اسے ہر مخلوق پر فضیلت وبرتری حاصل ہے ۔یہ خود خالق کائنات نے اسے دی ہے ۔ "ولقد كرمنا بني آدم” (قرآن )ہم نے انسان کو برتری دی ہے ۔ایک جرثومہ جب انسان سے باہم دست گریباں ہوگا تو وائرس ہار جائے گا اور انسان جیت جائے گا ۔اسی لئے یہ مدارس والے ناامید نہیں ہیں، یہ جنگ جیتنا جانتے ہیں ۔اس وبائی جنگ کے لئے اپنی خدمات پیش کررہے ہیں ۔خانوادۂ مدنی کے چشم و چراغ حضرت مولانا محمود مدنی نے خط لکھ کر وزیر اعظم سے اپنی پوری مدارس والی آبادی کو ملک کی خدمت کے لئے پیش کیا ہے ۔ہر ریاست وہر ضلع سے مدارس والوں کو اس ناگہانی مصیبت پر اپنے کو پیش کرنے کو کہا ہے ۔حضرت مفتی ابوالقاسم نعمانی صاحب مدظلہ العالی مہتمم دارالعلوم دیوبند نے اپنی قرآن سے منسوب پوری عمارت کو بیماروں کی تیمارداری میں پیش کیا ہے ،اور اس کے اپنی ہر طرح کی مدد کی پیشکش کی ہے ۔ہم ایسے موقع پر ان تمام اہل مدارس کا شکریہ ادا کہتےہیں جو ملک پر آئی اس وبا کو اپنا نقصان کہتے ہیں ۔فسادات میں اجڑے گھروں کو بسانے کا کام کرتے ہیں ۔سیلاب میں راحت رسانی کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔مصیبت کی ہر گھڑی اور ہر موقع پر یہ ملک کی تقویت کا سامان بنتے ہیں ۔اس کے لئے نہ انہیں ستائش کی تمنا ہوتی ہے اور نہ صلے کی پرواہ۔
ع خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را ۔

*ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ*
رابطہ، 9973722710

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close