مضامین و مقالات

تبلیغی جماعت کے خلاف میڈیا کی زہر افشانی انسانی گراوٹ کی انتہا ہے۔تحریر: سید سعادت اللہ حسینی- امیر جماعت اسلامی ہند

تبلیغی جماعت اور مرکز نظام الدین کے خلاف جاری میڈیا اور سوشل میڈیا مہم انسانی گراوٹ کی انتہا ہے۔ اتنے عظیم انسانی بحران کو گندی سیاست کے لیے اور فرقہ ورانہ تفریق کی خاطر استعمال کرنا بذاتِ خود ایک شرم ناک جرم ہے۔ تبلیغی جماعت کے زیرِ بحث پروگرام کے وقت اوراس کے بعد ملک کے ہر گوشے میں اس سے کہیں بڑے مذہبی اور غیر مذہبی پروگرام ہوئے، اور نام ور سیاست دانوں کی سرپرستی میں ہوئے۔ ان سب کو نظر انداز کرکے جس طرح مرکز نظام الدین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہماری بحثوں کا معیار کس حد تک پست ہوچکا ہے۔ اس شرم ناک مہم کی سختی سے مذمت ہونی چاہیے۔ اگر مرکز نظام الدین کے کسی عہدے دار کے خلاف اس مسئلے کی وجہ سے ایف آئی آر ہوسکتی ہے تو اس سے پہلے مرکزی اور ریاستی حکومت کے ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آر ہونی چاہیے جن کی بد نظمی کی وجہ سے لاکھوں مزدور آنند وہار اور دیگر جگہوں پر لاک ڈاؤن کے باقاعدہ آرڈر کے بعد جمع ہوئے۔ اسی طرح ان سب عہدہ داروں کے خلاف ایف آر زیادہ ضروری ہے جو رپورٹوں کے مطابق،تبلیغی جماعت کے ذمہ داروں کے متعدد خطوط کے جواب میں خاموش بیٹھے رہے۔ ہم اس میڈیا مہم کی مذمت کرتے ہیں ۔ ہم سب تبلیغی جماعت اور مرکز نظام الدین کے ساتھ ہیں۔
اس موقع پر مسلمان علما اور اکابر کے اُن بیانات کو پرُزور طریقے سے سامنے لانا چاہیے جو اس وبا سے مقابلہ کے لیے جاری کیے جاتے رہے ہیں، اور اُن عظیم خدمات کا بھی تعارف ہونا چاہیے جو مسلمان اور ان کی مختلف تنظیمیں وبا کی روک تھام اور متاثرین کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کررہی ہیں اور بلاتفریق مذہب و ملت تمام ہندوستانی بھائیوں اور بہنوں کے لیے کررہی ہیں۔ اور شائستگی کے ساتھ لوگوں کو اس بات کی طرف متوجہ کرنا چاہیے کہ یہ وقت ایسی سیاست کا نہیں بلکہ متحد ہوکر اس بیماری کے مقابلہ کا ہے۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close