مضامین و مقالات

کرونا وائرس اور بھارت ! نبیل اختر نوازی

دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک اور ایٹمی طاقتیں اس وقت بد حواس ہیں, ان کے تمام تر دفاعی سسٹم ناکام ہوچکے ہیں, افواج کو جسے, دشمنوں کو روکنے کے لیے, چھاؤنیوں میں رکھا جاتا ہے آج اپنے ہی شہریوں کو اپنے ہی ملک کے دیگر حصوں میں جانے اور آنے سے روکنے کا کام لیا جا رہا ہے .
ایک جرثومہ کے حملے نے تمام ا”نا ربکم الاعلی” کے نعرہ کو بلند کرنے والی قوتوں کی قلعی کھول کر رکھ دیا ہے اور ان کی بے بسی کو دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے, آج یہ,قوتیں لاچار ,ہیں ,مجبور ہیں, ان کی قومیں موت کے منہ میں جارہی ہیں, اور مرنے والوں سے ان کے اپنے ہی دوری بنا رہے ہیں, اس جرثومہ کی ہیبت , ڈر و خوف اور اس کی ھولناکی ” یوم یفرالمرء من اخیہ” کی تفسیر بیان کر رہی ہے.
تباہی و بربادی کا نیا مرکز اب امریکہ بن گیا ہے , جس کے دیڑھ لاکھ شہری اب تک اس جرثومہ (کرونا وائرس) کے حملہ کا شکار ہو چکے ہیں, اور مہلوکین کی تعداد دو ہزرا سے تجاوز بھی کرچکی ہے. اٹلی, چین, فرانس, اسپین, برطانیہ, ایران, جرمنی, یہ وہ طاقتیں ہیں جو سالانہ اربوں, کھربوں روپے اپنے عسکری اور دفاعی نظام پر خرچ کرتی ہیں مگر آج یہ سب ناکام ہوچکے ہیں, کرونا وائرس ,کی گرفت اس وقت دنیا کے دو سو ممالک پر مضبوط ہوگئ ہے.
بھارت بھی وائرس سے اپنے شہریوں کو بچانے کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کر رہا ہے. مگر تاخیر سے اٹھایا ہوا ایک ایسا قدم ہے جس سے شہریوں کی ھلاکت کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جا رہا ہے .اب تک کرونا متأثرین کی تعداد تیرہ سو اور جاں بحق ہونےوالوں کی تعداد 65 پار کرچکی ہے. بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جہاں کی حکومتیں اراکین پارلیامنٹ و اسمبلی کو اپنے مقاصد کے استعمال کے لیے توڑ و پھوڑ اور خرید و فروخت کرتی رہتی ہیں. جس کے اثرات قومی خزانوں بھی پڑتا ہے, مقننہ ساز کو خریدنا اور انھیں ان کے متعلقہ پارٹیوں سے برگشتہ کرنا یہ کوئ بائیں ہاتھ کا کھیل نہیں اس سازش کو انجام تک پہونچانے میں مہینوں لگ جاتے ہیں اور پھر برسراقتدار پارٹیاں اور ان کی حکومتیں, ان حکومتوں کے تابع سرکاری مشنیریاں سب اس کام میں لگ جاتی ہیں تب جا کر ان کو کامیابی ملتی ہے. حالیہ مدھیہ پردیش میں منتخب کمل ناتھ کی سرکار کو اقلیت زدہ کرنا اور پھر ان کی پارٹی کے اراکین اسمبلی کو بھوپال سے ایک ہزار کیلومیٹر دور بنگلورو میں مرکزی حکومت کے ذریعہ اغوا کیے رکھنا اس بات کی بین ثبوت ہے.
کرونا وائرس کی تباہ کاریوں سے ہماری سرکار واقف تھی. دسمبر کے آواخر میں ہی اس نے بھارت میں قدم جمانا شروع کردیا تھا, مگر موجودہ مرکزی حکومت کی ترجیحات میں ملک کی ایکتا اکھنڈتا, اس کی ترقی و بہودی, شہریوں کے بنیادی حقوق, صحت عامہ سے متعلق امور, غربت کا خاتمہ, نوجوانوں کی صلاحیتوں کے تئیں نوکریاں, تجارت و معیشت کے میدان میں ترقی, شامل نہی ہے, ان کی ترجیحات اپوزیشن کو کمزور سے کمزور تر کرنا اور اقلیتوں کے خلاف سخت سے سخت قدم اٹھانا ہی شامل ہے تاکہ اکثریت کے متعصب افراد اور نئ نسل ان کے پالے میں بندھیں رہیں اور ان کا ووٹ بینک بڑھتا رہے ,جس کی نظیر آپ کو قدم قدم پرمل جائے گی ,جس ملک کا وزیر اعظم کھلے عام عوامی اسٹیج سے اپنے ملک کے مخصوص شہریوں کے خلاف نفرت انگیز تقریریں کرتا ہو تو اس کا ردعمل ہمیں فسادات کی شکل میں دیکھنے کو ملتا ہے .
جی ہاں جیسا کہ میں نے اوپر والے پیراگراف میں کہا کہ کروناوائرس بھارت میں دسمبر کے آواخر میں ہی آگیا تھا
مگر ہماری مرکزی حکومت سنجیدگی سے کام نہیں کر رہی تھی نہایت ہی جارحانہ قدم اٹھا رہی تھی سی اے اے, این آر سی اور این پی آر کو نافذ کرنے کے لیے اور انھیں محسوس ہورہاتھا کہ اکثریت کو خوش کرنے کے لیے ایک بہت بڑا ہتھیار مل گیا ہے, پورےملک کی اقلیت اور آئین پر بھروسہ رکھنے والی عوام اس متعصبانہ ایکٹ کی مخالفت کر رہی تھی,مظاہرے ہو رہے تھے, عالمی برادری اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی مگر مرکزی حکومت ایک اینچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہو رہی تھی اور اس متعصبانہ بل کی حمایت میں ریلیاں اور جلسے کر وارہی تھی جو جمہوری نظام میں پہلی بارہورہاتھا .
جو حکومت اپنی پوری طاقت اپنی انا کو بچانے میں جھونک دے اس حکومت سے عوام کو کبھی کوئ فائدہ نہیں ہوا ہے, ایسی حکومت کبھی بھی اپنے شہریوں کے تئیں سنجیدہ نہیں رہی ہے, لہذا آج آپ دیکھیں کہ کرونا وائرس کے حملے نے ان کے تمام بلند بانگ دعوؤں کو بے نقاب کر دیا, 21 دن کے لاک ڈاؤن نے پانچ کروڑ مزدوروں کو بےچین کردیا بھوک کی شدت نے انھیں اپنے گاؤوں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کردیا ہے, لاکھوں لوگ اپنے ہی ملک میں سڑکوں پر بے یارو مدگار پیدل مارچ کر رہے ہیں اور زندگی بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں روح فرسا ویڈیوز اور پریشان کرنے والی تصویریں اخبارات, سوشل میڈیا اور ٹیلی ویزن پر نشر ہورہے ہیں, آج ان غریبوں کا کوئ پرسان حال نہیں, کوئ ہندو ہردائے سمراٹ ,اور شکتی مان ان کی مدد کو آگے نہیں آیا اب تک بڑے شہروں سے ہزاروہزار کیلو میٹر پیدل چلنے والوں میں درجنوں افراد راستے ہی میں دم توڑ چکے ہیں, ایسا بھیانک منظر اب سے کچھ سالوں قبل یمن, اور سیریا میں دیکھنے کو ملا تھا تب بھارتی عوام اور میڈیا ان کی بے بسی کا مذاق اڑا رہے تھے.
آج ہمارے وزیر اعظم معافی مانگ رہے ہیں, 56 انچ کے سینے کا غرور ٹوٹ چکا ہے, ایک انچ نہ ہٹنے والا "ھوم منسٹر” اپنے ہی ھوم میں قرنطینہ میں قید ہوگئے ہیں,
شاکشی مہاراج, پاکستان ویزا منتری گری راج سنگھ, جیسے لوگ خاموش ہوگئے ہیں سب کے سب اپنی زندگی بچانے کی فکر میں لگے ہیں. بے شک "ان بطش ربک لشدید ” کی واضح تصویر و تفسیر عملی طور پر دیکھنےکو مل رہی ہے.

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close