مضامین و مقالات

ہم اللہ کے علاوہ اور کسی کو سجدہ نہیں کرتے : تحریر:ابو رَزِین محمد ہارون مصباحی فتحپوری

تحریر:ابو رَزِین محمد ہارون مصباحی فتحپوری
استاذ الجامعۃ الاشرفیہ ،مبارک پور ،اعظم گڑھ

” ہم اللہ کے علاوہ کسی اور کو سجدہ نہیں کرتے ہیں” یہ ایمان افروز جملہ ایک ستم رسیدہ مومن اس بادشاہ کے سامنے کہتا ہے جس کے یہاں وہ پناہ لینے آیا ہوا ہے۔

*کون ہے وہ؟*

تاریخ اس بندۂ مومن کو جعفر بن ابی طالب کے نام سے پکارتی ہے۔ اسلام کا ابتدائی دور ہے، رب کی وحدانیت کا اقرار کرنے والے بہت تھوڑے ہیں، عرب کے مرکزی شہر ‘ مکہ’ میں محصور ہیں، ایک خدا کو ماننے کا نتیجہ ہے کہ مشرکین مکہ کے ظلم و ستم کے شکار ہیں۔

*ان غریب مسلمانوں کو ہر طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اتنا ستایا گیا کہ مکہ کی سر زمین ان کے لیے تنگ کر دی گئی، انھیں اتنا مارا گیا کہ وہ مظلوم مسلمان اپنا گھر بار چھوڑ کر کہیں اور ہجرت کر جانے پر مجبور ہو گئے اور ظالموں کے ظلم و ستم سے تنگ آکر جان سے بھی زیادہ عزیز اپنا وطن چھوڑ ایک اجنبی ملک میں جا کر پناہ گزیں ہوئے۔*

اَسِّی سے زیادہ مجبور و مظلوم مسلمانوں کا یہ قافلہ جس میں مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی ملک حبشہ پہنچتا ہے، اور ربِ کائنات کی ایسی تدبیر کہ ملکِ حبشہ کا بادشاہ مسلمانوں کے اس قافلے کو اپنے دربار شاہی میں حاضر کیے جانے کا فرمان جاری کرتا ہے۔

قافلہ دربار شاہی میں حاضر ہوتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ قافلے میں ایک شخص ایسا ہے جو پیش پیش ہے، قافلے والوں نے اپنی ترجمانی کے لیے اسے اپنا نمائندہ منتخب کر رکھا ہے، *وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بادشاہ کے دربار میں بے خوف داخل ہوتا ہے اور شاہی دربار کے آداب کے مطابق بادشاہ کے سامنے سر نہیں جھکاتا ہے، اس کا سجدہ نہیں کرتا ہے،* بلکہ سر اٹھا کر اسے السلام علیکم کہتا ہے۔

*کون ہے یہ بے باک مسلمان جو اس کس مپرسی کے عالم میں بھی اپنے دین کے احکام نہیں بھولتا ہے، اپنا عقیدہ خراب نہیں کرتا ہے، اپنے دماغ کو مغلوبیت کی خاک سے آلودہ نہیں کرتا ہے، جس بادشاہ کے یہاں پناہ لینے گیا ہے اس کے یہاں کا راہ و رسم بھی نہیں اپناتا ہے۔*

سنو، تاریخ بتاتی ہے کہ اس بطل عظیم کا نام ہے جعفر بن ابی طالب اور اس کے سامنے ہے اس وقت کی دنیا کا ایک باجبروت بادشاہ نجاشی۔

حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اس مومنانہ جسارت پر بادشاہ کے درباری ناراض ہو جاتے ہیں ، سجدہ نہ کرنے کو بادشاہ کی گستاخی گردانتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیا تم شاہی دربار کے آداب سے بھی آشنائی نہیں رکھتے؟ آخر تم نے بادشاہ کو سجدہ کیوں نہیں کیا؟

مرد مومن حضرت جعفر بن ابی طالب کی طرف سے جو جواب دیا جاتا ہے وہ یہ ہے :

*” ہم اللہ کے علاوہ اور کسی کو سجدہ نہیں کرتے ہیں۔ ہمارے ہادی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اہلِ جنت کے درمیان ایک دوسرے سے ملاقات کے وقت تحیت کے کلمات یہی سلام کے الفاظ ہیں۔ سو ہم بھی آپس میں ایک دوسرے کو سلام کے الفاظ کہتے ہیں۔ آج بادشاہ کے دربار میں بھی ہم نے انھیں الفاظ میں سلام پیش کیا ہے”۔*

اس کے بعد حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے بادشاہ کے پوچھنے پر اسلام کی خوبیاں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف بیان کیے۔

پھر کیا تھا اللہ کی غیبی مدد شامل حال ہوئی اور بادشاہ حضرت جعفر کی تقریر سے اتنا متاثر ہوا کہ درباریوں کی مخالفت کے باوجود اس نے مسلمانوں کو اپنے یہاں پناہ دی اور بعد میں خود بھی مسلمان ہو کر صحابۂ کرام کے مقدس زمرے میں شامل ہو گئے۔ رضي الله عنهم أجمعين.
( تفصیل کے لیے دیکھیے : زرقانی علی المواهب، ج: ۱، ص: ۲۸۸، اور سیرت ابن کثیر و غیرہ کتب سیر )

*سبق : حالات کیسے ہی مایوس کن کیوں نہ ہوں، اور ماحول کتنا ہی مخالفانہ کیوں نہ ہو، ایک مسلمان کو اپنے رب کی طرف سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، خدا پر بھروسہ رکھنا چاہیے، اپنے عقیدے پر قائم رہنا چاہیے، اپنی تہذیب چھوڑ کر غیروں کا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے اور یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ کی غیبی تدبیر سے مایوس کن حالات امید افزا ماحول میں تبدیل ہو جائیں گے اور مخالفانہ ماحول سازگار صورت حال میں بدل جائے گا۔*

نزیلِ حال، پیرن پور ،فتح پور
31 / مارچ ، 2020 ، منگل

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close