مضامین و مقالات

زندگی کے لئے موت کا سفر : از قلم۔۔۔۔۔ احمداللہ عقیل حیدر فلاحی

چوبیس مارچ دو ہزار بیس، رات کے آٹھ بجے، اکیس روز کے لئے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا تو ایسا لگا کہ پورا ہندوستان کرونا وائرس کی زد میں آ گیا ہے۔ کچھ لوگ کرونا سے متاثر تھے تو بقیہ لوگ کرونا کے سبب کئے گئے لاک ڈاؤن سے متاثر ہو گئے۔ ہنستے مسکراتے چہرے پر رنج و غم کی لکیریں گہری ہوتی چلی گئیں۔ کسی کو گھر میں قید ہو جانے کی الجھن تو کوئی دور دراز رہنے والے اپنے عزیز و اقربا کی فکر ستانے لگی۔ جو لوگ کھانے پینے کی اشیا خرید کر لا چکے تھے وہ بھی فکر مند تھے کہ معلوم نہیں متعینہ مدت تک کے لئے وہ اشیا کافی ہوں گی کہ نہیں۔ سب سے زیادہ پریشانی اس طبقے کے لئے تھی جو یومیہ مزدوری کر کے اپنی اوراپنے اہل و عیال کی پرورش کر رہے تھے۔ لیکن چونکہ کرونا وائرس کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہنے کے لئے یہ لاک ڈاؤن ضروری تھا اس لیے لوگ خاموش رہ گئے۔ مزید یہ کہ ریاستی اور مرکزی دونوں ہی حکومت نے اس بات کا یقین دلایا کہ ایسے تمام افراد کا خیال رکھا جائے گا۔ لیکن، لاک ڈاؤن کاؤنٹ ڈاؤن کے چار پانچ روز بھی نہیں گزرے تھے کہ پورا ملک، مختلف قسم کی نئی نئی تباہیوں کا سامنا کر رہا تھا۔
دارالحکومت دہلی سمیت مختلف شہروں کے بس اسٹینڈ اور ریلوے اسٹیشن پر ایسے افراد کی بھیڑ جمع ہونے لگی جن کے چہروں پر مفلسی کی لکیریں اور آنکھوں میں بھوک اور پیاس کا خوف تھا۔ ان کو یہ ڈر ستا رہا تھا کہ کرونا سے شاید وہ چند دنوں تک لڑ بھی لیں لیکن بھوک اور پیاس کی شدت ان کی جان لے لے گی۔ لیکن یہ تو خوف و ہراس کی ابتدا تھی۔
سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ دیگر ذرائع سے موصول اطلاعات کے مطابق، کرائے پر رہنے والے افراد، ہوٹلوں اور ممبئی کی بھی۔ سی۔ میں کھانا کھانے والے، دن بھر محنت کر کے فٹ پاتھ پر سونے والے اور ہر دن محنت کر کے پیٹ بھرنے والے افراد سب سے زیادہ ڈرے اور سہمے ہوئے تھے۔ ان میں سے بعض افراد کے خوف و ہراس کا یہ عالم تھا کہ وہ زندہ رہنے کے لئے موت کے سفر پر روانہ ہو گئے۔
ہندوستان کے موجودہ حکمرانوں نے جس طرح عوام الناس کو بے وقوف بنا کر اس ملک کو غربت و افلاس کی طرف دھکیل دیا ہے اس کی تصویر اب نظر آنے لگی ہے۔ کیونکہ جن حکمرانوں نے ہزاروں کروڑ روپے ایم پی اور ایم ایل اے خریدنے میں لگا دیئے اس کے پاس ابتدائی سہولیات فراہم کرنے کے لئے بھی پیسہ نہیں ہے اور جس نے سینکڑوں کروڑ روپے مجسمے اور پوشاک میں خرچ کر دیئے اس کے پاس ہاسپٹل کے انتظامات اور ماسک کے لئے بھی پیسہ نہیں ہے۔ نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ اربوں کھربوں روپے ٹیکس وصول کرنے کے باوجود سرکار چندہ مانگ رہی ہے۔ مگر کیا فائدہ کہ چندے کے کروڑوں روپے جمع ہونے کے باوجود مفلسی کی وہ تصاویر، مٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہیں۔
روتے بلکتے معصوم بچے، پریشان حال والدین، ایک کاندھے پر سامان کا بوجھ اور دوسرے کاندھے پر ننھے بچوں کا بوجھ لئے دھوپ اور چھاؤں سے بے پرواہ، زندہ رہنے کے لئے موت کے سفر پر پیدل ہی نکل جانے والے افراد نے مفلسی کی اس تصویر کو بہت واضح اور بہت ڈراؤنی بنا دیا ہے۔ معلوم نہیں کہ وہ لوگ اپنی منزل پر پہنچیں گے یا نہیں۔ معلوم نہیں کہ ان کی ریاست کے حکمران انہیں گھر تک آنے بھی دیں گے یا نہیں لیکن ایک بات جو مجھے معلوم ہے وہ یہ ہے کہ وہ لوگ ان شاء اللہ، اگر زندہ اور سلامت رہے تو اپنی آئندہ نسلوں کو کرونا کی تباہ کاریوں کے قصے نہیں بلکہ مفلسی اور غربت سے تباہ ہوئے ہمسفروں کی داستان سنائیں گے۔ وہ بتائیں گے کہ جس ملک میں سینکڑوں کروڑ روپے مجسمہ سازی پر خرچ کئے گئے تھے اسی ملک میں پھٹے پرانے کپڑوں کی پیوند کاری کرنے کے لئے بھی لوگ محتاج تھے۔ وہ اپنے پیر کے تلووں میں پڑے آبلوں کے نشان کو دکھا کر اپنے حوصلوں کی داستان لوگوں کو سنائیں گے۔ وہ بھوک اور پیاس سے تڑپتے اور بلکتے معصوم بچوں کی درد بھری چیخوں سے جرأت و ہمت کے ترانے تحریر کریں گے اور دنیا کو بتائیں گے کہ دنیا کا سب سے بڑا درد غربت ہے اور دنیا کی سب سے بڑی جنگ بھوک، پیاس اور مفلسی سے لڑی جاتی ہے۔
اے کاش! کہ میں چیخ کر چیخ کر کہ سکوں اور تم سن سکو کہ جب جب نا انصافی، بد عنوانی اور ظلم و زیادتی کو حکمرانوں کے ذریعے فروغ دیا جاتا ہے تب تب عوام الناس پر ایسی جنگیں مسلط ہو ہی جاتی ہیں۔ اے کاش! تم جانتے کہ اسلام کے عادلانہ نظام حیات کو ٹھکرا دینے کا یہی انجام ہوتا ہے۔ لیکن یہ تو ابتدا ہے۔ مظلومین پر کئے گئے ہر ہر ظلم کا حساب تو ظالموں کو دینا ہی ہوگا۔ یا تو اس دنیا میں یا پھر اس دنیا میں۔۔۔

از قلم۔۔۔۔۔ احمداللہ عقیل حیدر فلاحی

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close