مضامین و مقالات

کرونا وائرس ,آزمائش اور عملی اقدام ! ریان داؤد سیہی پور

ریان داؤد سیہی پور
متعلم جامعہ شیخ الہند انجان شہید
📱 *9198320640*

کرونا نامی بیماری جو چین کے وہان شہر سے نکل کر عالمی پیمانے پر ایک بھیانک صورت اختیار کرلی ہیے ایشیائ ممالک سمیت افریقی اور یوروپی ممالک کوبھی اس وباء نے اپنے زد میں لے لیا ہیے اور تمام ممالک اپنے اپنے طور پر اس وباء سے نمٹنے کی مختلف تدبیریں اختیار کررہے ہیں عالمی حفظان صحت کے ادارے اسے لیکر کافی متحرک اور متفکر بھی ہیں اور زمینی سطح پر محتاط لائحہ عمل تیار کرہیے ہیں انہیں احتیاطی تدابیر میں سے ثانوی درجہ کی تدبیر لاک ڈاؤن کی تدبیر ہیے جسے ماہ رواں کے اندر قریب قریب تمام ممالک نے اپنے اپنے طور پر نافذ کر رکھا ہیے کچھ ملکوں نے اس تدبیر کو بغرض مجبوری اپنایا ہیے تو کسی نے بغرض سہولت لیکن ضرورت تو دونوں طرح کے ممالک کے ساتھ وابستہ ہیے چنانچہ جن ممالک نے تالابندی کو بغرض سہولت اپنایا ہیے تو اسکی وجہ غالباً یہی ہیکہ اس متعدی بیماری میں جمود کی صورت پیدا کرلی جاۓ اور طبی سہولیات میں ہر جہت سے تیزی لائ جاسکے اور عوام الناس کو انکی روز مرّہ کی ضروریات مہیا کر انے میں کوئ خلل واقع نا ہو.ظاہر سی بات اس صورت کو اختیار کرنے کے لیۓ سب سے پہلے ایک بڑے سرماۓ کی ضرورت ہوگی اور اس سے اوپر اٹھ کر حکومتی سطح پر کام کرنے والے تمام ادارے اور وہاں کے سیاسی کارکنان اور سرمایہ دار افراد کو اپنے اپنے مفاد سے بالا تر ہوکر عوام کے تئیں ایک مرکز پے اکھٹا ہونا پڑے گا اور اسکی مثال ساؤتھ کوریا جیسے ملک سے پیش کی جاسکتی ہیے جس نے اول مرحلہ میں اس آفت کو تاڑ کر ہر طرح کے اسباب وعوامل اختیار کیۓ اور آج صورت حال یہ ہیکہ وہاں پر کرونا بیماری سے متأثرلوگوں کی تعداد میں کمی آتی جارہی ہیے اور عام لوگ احتیاطی تدابیر کے ساتھ اپنے اپنے معمولات زندگی کو انجام دے رہیے ہیں تالا بندی کی کیفیت نہیں ہیے.
دوسری طرف وہ ممالک جنہوں نے لاک ڈاؤن کو اپنے یہاں نافذ کیا ہیے بغرض مجبوری تو انکے ساتھ بھی ضرورت اس وجہ سے ہیکہ انہوں نے اول مرحلے میں اس بیماری کو لیکر عوام میں بیداری مہم پیدا نا کرسے اور نا ہی اسکی سنگینی کوسمجھ سکے اور کچھ گنے چنے ملکوں نے اس بیماری کے تئیں حساس ہونے کے بجاۓ اس پر کھل کر سیاست بھی کی اور آج جب اس بیمار نے ایک ڈراونی صورت اختیار کرلی تو بغرض مجبوری لاک ڈاؤن کی ثانوی تدبیر اختیار کی گی اوران جیسے ممالک کے فہرست میں سر فہرست ہمارا ملک ہندوستان بھی ہیے اور اسکا اندازہ عالمی پیمانے پر کرونا وائرس کی بیماری سے لڑنے کے لیۓ جو ہنگامی طور پر صرفہ استعمال کیا گیا ہیے اسکی ایک چھوٹی سی جھلک سے لگا سکتے ہیں کہ امریکا جیسا سپر پاور سمجھا جانے والا ملک اپنے ہر شہری کے واسطے تقریباً=4,50000(ساڑھے چار لاکھ روپیہ) پاکستان =7000ہزار روپیہ اور ہندوستان ہر شہری پر فقط 1200روپیہ خرچ کررہا ہیے.
اب اس مالی تخمینے کے دائرے میں رہ کر ہم بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس طبی سہولیات کا کس قدر فقدان ہیے اس مہاماری سے نمٹنے کے لیۓ سرکاری سطح پر جس قدر افراد کار کی خدمات کی فوری ضرورت ہیے وہ میدان عمل میں دور دور تک نہیں دکھتی تو ظاہر سی بات ہیے ایسی صورت حال میں سرکار بعجلت تمام لاک ڈاؤن کے اعلان کرنے پر مجبور ہوئ ہیے اور ملکی سطح پر پہلے سے تیاری نا کرسکی جس کا بھیانک انجام یہ نکلا کہ لاک ڈاؤن کے دو چار روز بعد اس قہر کی پرواہ نا کرتے ہوۓ ملک کی آبادی کے تقریباً 52فیصد طبقے کی نمائندگی والا کمزور اور غریب مزدوروں کی بھیڑ دو وقت کی روٹی کے خاطر نقل مکانی پر مجبور ہوگیا ہیے جس کے روکنے کے لیۓ حکومتی سطح پولیس کے جبر وزور کو اختیار کیا جا رہا ہیے ایسے سنگین حالات میں ہم عوام الناس کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہیے خاص طور پر مسلم کمیونیٹی پر کہ خود کا ظاہری اور باطنی طور پر محاسبہ کریں اپنے گھریلو اور معاشرتی پہلو کا جائزہ لیں اس آفت سماوی سے نمٹنے کی ہر ممکن تدبیر اختیار کریں حکومت کے فیصلے کی پابندی کرتے ہوۓ رجوع الی اللہ کا التزام کریں اور غور فرمائیں کہ یہ کرونا وائرس جو کہ دنیا میں غموں کے پہاڑ لے کرآیا ہے اورہرملک سے جانی ومالی جنازے اٹھ رہے ہیں ، کس طرح اس وباء نے دنیاوی چین وسکون کو غارت کرکے مادی واسبابی زندگی کے ماوراء ایک ابدی وسرمدی طاقت کو تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا اس وقت کرونا وائرس کی وبا پوری دنیا میں بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ حالیہ وبا میں جسے اہلِ ایمان کے لیے اللہ کی طرف سے انتباہ، ابتلاء، آزمائش کا لمحہ اور قیامتِ صغریٰ کہا جاسکتا ہے۔ یہ صرف ملکی سانحہ نہیں بلکہ صاحب ایمان کیلیے سخت آزمائش کا لمحہ ہے۔ اس مشکل گھڑی میں گناہوں پر ندامت، توبہ و مناجات اور خصوصی دعائوں کے اہتمام اور اللہ کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔

قرآنِ کریم میں ارشادِ ربّانی ہے: *ولنبلونكم بشيء من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرت وبشر الصبرين* (ترجمہ) ’’اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، کسی قدر خوف، بُھوک، مال اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے، تو (آزمائش کی اس گھڑی میں) صبر کرنے والوں کو اللہ کی خُوشنودی کی بشارت سُنادیجیے، کہ جب اُنہیں کوئی (آزمائش اور) مصیبت پیش آتی ہے تو وہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ کی ملکیت ہیں اور ہم اُسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، اُن پر اُن کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ (سُورۃ البقرہ / 155۔ 157)

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اللہ کے حضور توبہ واستغفار کریں اور راضی کرنے والے اعمال میں لگ جائیں ، صدقہ وخیرات کثرت سے کریں اپنے پڑوسیوں کا محلے گاؤں اور بستی کے پاس سے نقل مکانی کررہے غریب مزدور اور بے سہارا لوگوں کے سہارابنیں جو موجودہ وقت میں صدقے کے بہترین مصارف ہیں اور اس عمل خیر کے ذریعہ اللہ کی ناراضگی دور کریں کیونکہ یہ اللہ رب العزت کو بہت زیادہ پسند ہے اور اس کے ذریعے اس کی ناراضی دور ہوتی ہے۔

ہمیں یہ حکم ہے کہ اللہ کی رحمت سے کسی صورت اورکبھی بھی مایوس نہ ہوں، اُس کے دامنِ رحمت سے وابستہ رہنے، دین پر عمل کرنے، عبرت و نصیحت حاصل کرنے میں ہی عافیت ہے۔ اللہ کی رحمت کا دامن جس قدر وسیع ہے، اُس کے عفو وکرم اور درگزر کا بھی کوئی ٹھکانہ نہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنی رحمت سے مایوس ہوجانے والوں سے بھی ناراضی کا اظہار فرماتا ہے، اس حوالے سے ارشاد ہُوا: *قال ومن يقنط من رحمة ربه الا الضالون* ’’اللہ کی رحمت سے صرف گُمراہ ہی مایوس ہوسکتے ہیں۔‘‘ (سُورۃ الحجر56)

حدیث میں مختلف گناہوں کو مختلف آفات وپریشانیوں کا سبب بتایا گیا ہے، اس قدر صراحت کے بعد بھی کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ” نافرمانی سببِ پریشانی اور باعثِ عذاب ہے“؟۔

دنیا دارالعمل ہے، مگر کبھی اللہ تعالیٰ اپنی حکمت سے اخروی عذاب کا ایک ادنیٰ سا نمونہ دنیا میں بھی دکھا دیتا ہے، تاکہ انسان نافرمانی سے باز آجائے، جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے *ولنذيقنهم من العذاب الادنى دون العذاب الاكبر:ترجمہ*: ”اور ہم ضرور ان کو قریب کاچھوٹا عذاب چکھائیں گے بڑے عذاب سے پہلے، تاکہ وہ لوٹ آئیں ۔“(سورۃ السجدہ:۲۱)

*توبہ:رجوع الی اللہ*

گویا کہ توبہ ہر صاحب ایمان کی ضرورت ہے اوراللہ رب العزت کی معرفت کے جویاں افراد کے لیے قدمِ اولین ہے۔جب انسان کو توبہ کی توفیق نصیب ہوجائے تو پھر انسان شرح سے اکتساب کرتے ہوئے اوراپنی فراست مومنانہ کو استعمال کرتے ہوئے، صحیح راستے کا تعین کرسکتا ہے ، گویا توبہ ایک ایسا اہم ترین فریضہ ہے، جو تمام فرائض وواجبات کی جان ہے، اس لیے کہ اس کا مطلب ہی گمراہی کو ترک کرکے سیدھے راستے کو اختیار کرنا ہے۔ یاد رہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے ہر بندے کو توبہ کرنے کا حکم دیا ہے ، سورۃ نور میں ارشاد ربانی ہوتا ہے *وتوبواالي الله جميعا ايه المؤمنون لعلكم تفلحون* ۔’’اے ایمان والو! تم سب اللہ کے حضور میں توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاجائو‘‘۔ (النور: ۳۱)سورۃ ہود میں ارشاد ہوتاہے *وان استغفروا ربكم ثم توبوا* ’’اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو اورپھر اس کی طرف رجو ع کرو‘‘(ہود : ۳) سورۃ التحریم میں حکم ہوا *یا يهاالذين امنواتوبواالي الله توبة النصوحا*’’اے ایمان والو! اللہ کی جناب میں سچے دل سے توبہ کرو‘‘(التحریم :۸) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشادفرمایا : سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے جو شخص توبہ کرے گا اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی۔(صحیح مسلم)
الغرض صورت حال کی سنگینی کو سمجھیں تمام تر احتیاطی تدابیر کے ساتھ مومنانہ زندگی گزارنے کا عزم کریں اور دعاء کریں ک ی مولاۓ قادر مطلق اس وباء سے ہر فرد بشر کی حفاظت فرماۓ اور اس مصیبت سے دوچار افراد کے ساتھ رحم وکرم کا معاملہ فرماۓ….

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close