مضامین و مقالات

شعبان کا مہینہ ! شاہد عادل قاسمی پرنسپل یتیم خانہ ارریہ

شعبان کا پانچواں سورج طلوع ہونے کیلئے تیار ہے ادھر کرونا کی فرصت والے ایام کی کہانی اپنی مہربانی کا چادر تانے اپنے شباب پر ہے قلم کرونا کرونا کی کچھ کرونا کی گہار لگاےءصفحہء قرطاس پر قربان ہونے کیلئے بیقرار ہے تو دل بھی آج کچھ کرنے کی جستجو کو ترتیب دینے کیلئے حاضر ہے تو چلئے قارئین آج شعبان نگری کا ہی سفر کرتے ہیں جوباعث نجات بھی ہوسکتاہے
شعبان عربی زبان کا لفظ ہے جو شعب سے ماخوذ ہے جس کے معنی پھیلنا ہے
شعبان کو شعبان کہنے کی وجہ تسمیہ
(١)شعبان کو شعبان اسلئے کہا جاتا ہیکہ اہل عرب اس ماہ میں پانی تلاش کرنے نکلا کرتے تھے
(٢)اہل عرب اس ماہ میں جنگلوں میں نکلا کرتے تھے
(٣)رجب اور رمضان کے بیچ میں ہونے کی وجہ سے شعبان بولا جاتا تھا
شعبان کا روزہ کیوں؟
ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہیکہ ماہ شعبان کا روزہ کیوں؟ جبکہ مستقل رمضان کا روزہ سامنے ہے حضرت انس رضہ کی روایت ہے ای الصوم افضل بعد رمضان قال شعبان لتعظیم رمضان(ترمذی)رمضان المبارک کے بعد کونسا روزہ افضل ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شعبان کا روزہ رمضان کی تعظیم کیلئے ہے
روزہ کیوں ضروری؟
انسان کے اندر دو صفتیں پائ جاتی ہیں( 1) روحانیت(2)حیوانیت
روزہ رکھنے سے حیوانی قوت وشہوت ٹوٹ جاتی ہے اور روحانیت میں ترقی پیدا ہوتی ہے جس سے انسان فرشتوں کے مشابہ ہوجاتا ہے
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر چیز کی ایک زکوہ ہوتی ہے جسم کی زکوہ روزہ ہے
ماہ شعبان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یوں تو آپ صہ ہر ماہ کا نفلی روزہ رکھتے تھے اور ایام بیض (١٣ ١٤ ١٥)کا اہتمام ہوتا تھا مگر ماہ شعبان میں روزے کا اہتمام زیادہ ہی ہوتا تھا حضرت عائشہ رضہ فرماتی ہیں کہ آپ صہ کو میں نےرمضان کے علاوہ کسی ماہ کا مستقل روزہ رکھتے نہیں دیکھا اسی طرح کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزہ رکھتے نہیں دیکھا(مشکوہ)
ماہ شعبان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کثرت سےروزے رکھنے کی وجہ
(١)چونکہ اس ماہ میں رب کریم کی بارگاہ میں انسان کا اعمال پیش کیا جاتا ہے اسلئے آپ صہ نے ارشاد فرمایا کہ میری خواہش ہیکہ جب میرے اعمال کی پیشی ہو تو اسوقت میں حالت روزہ میں رہوں
(٢)حضرت عائشہ رضہ کی روایت کے مطابق چونکہ پورے سال مرنے والوں کی فہرست ملک الموت کو اسی مہینے میں سپرد کیا جاتا ہے اسلئے آپ صلہ کی خواہش تھی کہ جب میری وفات کی خبر دیجاےء تو میں روزے کی حالت میں رہوں
(٣)رمضان المبارک کے قریب ہونے اور اسکے خاص انوار وبرکات سے مناسبت پیدا کرنے کی اشتیاق میں آپ صلہ ماہ شعبان میں کثرت سے روزہ رکھتے تھے (معتبر اور مستند علماےء کبار نے یہ توجیہات مرتب کی ہیں)
پندرہویں شعبان کا روزہ
اسلام اعتدال پسند مذہب ہے جان کی حفاظت وقت کی اہمیت پڑوس کا خیال اور ہر نیک اعمال وافعال کا درس دیتا ہے آپ صلہ نفلی روزے کا اہتمام معتدل انداز میں کرتے تھے پندرہویں شعبان کا روزہ بھی نفلی روزہ ہی ہے مگر اسکی فضیلت اہم ہے حضرت علی رضہ روایت کرتے ہیں کہ آپ صلہ نے فرمایا کہ جب نصف شعبان کی رات ہوجاےء تو اسکی قیام کرو یعنی نماز پڑھو اور اسکے دن کو روزہ رکھو اسلئے کہ خداوند اس رات کو غروب شمس کے وقت آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں کہ” ہے کوئ معافی مانگنے والا کہ میں اسکو معاف کردوں "ہے کوئ روزی طلب کرنے والا کہ میی اسے روزی دوں "ہے کوئ مصیبت میں مبتلا کہ میں اسے نجات دوں اور یہ اواز صبح صادق کے طلوع ہونے تک نکلتی ہے
فائدہ
حضرت ابو امامہ سے روایت کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو آدمی اللہ کے واسطے ایک دن کا روز ہ رکھے گا اللہ اس بندے کیلئے اسکے اور دوزخ کے درمیان ایک گڈھا کھود دینگے جسکی چوڑائی زمین وآسمان کے برابر ہوگی(مشکوہ)
پیغام
دوستوں ہم لوگ کرونا سے بچنے بچانے کی تدبیر میں مکمل فری ہیں بستر استراحت بھی مرض مرگ بنتے جارہا ہے بچوں کی کلکاریاں بیگموں کی شوخیاں بھی زیادہ ہورہی ہیں کہیں کہیں سے اکتاہٹ ،پابندی، ہر کام پر نظر، ہر نظر پر اعتراض، ہر عمل پر اشکال، ہر روٹین کی ،تبدیلی بدمزگی ،بھی دکھ رہی ہے کیوں نا ہم وقت کا بہتر فائدہ لیں، بخشے بخشوانے کی راہ اپنائیں ،گھر خوش، گھر والی خوش، بچہ خوش، بچیاں خوش ،سب سے بڑی بات ہمارارب خوش اور ہم بھی خوش کہ کرونا کرونا یہ بھی کام کرونا کی جھک جھک سے ہم خوش
آیئے بارگاہ ایزدی میں سربسجود ہوجائیں مغفرت بخشش اور مصائب سے بچنے کی دعا کریں یقیناً وہ ارحم الراحمین ہیں انکی رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close