مضامین و مقالات

شعبان یہ میرا مہینہ ہے ! ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ

یہ شعبان المعظم کا مہینہ ہے ۔ ماہ رمضان کی آمد آمد ہے ۔ہم اور آپ اس مہینے کے بعد قرآن کے مہینے میں داخل ہونے جارہے ہیں اوررمضان المبارک کا استقبال کرنے جارہے ہیں ۔اس مہینے کی فضیلت کےکیاکہنے،،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ماہ رجب سے ہی رمضان کےاستقبال کی رہی ہے۔اس کے حصول اور اس تک وصول کی دعائیں دوماہ قبل سےآپ صلعم نے کی ہے ۔ماہ رجب کا چاند دیکھتے ہی آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے اشتیاق کا یہ عالم تھا کہ یہ دعا کیا کرتے :اللھم بارك لنا في رجب شعبان وبلغنا رمضان "اے میرے اللہ! ہمارے لئےرجب وشعبان کے مہینے کو مبارک بنادیجئے اور ہمیں ماہ رمضان تک پہونچادیجئے "یہاں برکت کی ایک نئی تشریح کی یافت ہوتی ہے کہ شہراللہ کو پالینا ،اس تک جالینا ،اس کے لئے خود کو آمادہ وتیاربنالینا یہ دراصل برکتیں ہیں رمضان المبارک سے قبل ان دونوں مہینوں کی جن کے لئے دعائیں کی جارہی ہیں ۔شعبان کا یہ مہینہ شہراللہ (رمضان )سے قریب ترین مہینہ ہے ۔اس سے زیادہ قربت کسی دوسرے مہینے کو حاصل بھی نہیں ہے ۔اسی لئے روایتوں سے اس ماہ مبارک کو رسول اللہ ص نے اپنے سے قریب کرلیا ہے اور اسے اپنا مہینہ قرار دیا ہے ۔شعبان شهري ورمضان شہراللہ (حديث )”شعبان یہ میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے ۔اماں جان حضرت ام سلمہ رض کہتی ہیں کہ :میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ مسلسل روزے میں ہیں سوائے شعبان ورمضان کے (حدیث )اسی مضمون کی روایت اماجان حضرت عائشہ رض سے بھی مروی ہے :میں نے ماہ شعبان سے زیادہ روزے میں آپ کو غیر رمضان میں نہیں پایا ہے ۔(حدیث )
ان احادیث کریمہ سے آپ کی تیاری اور رمضان کے عملی استقبال کا علم ہوتا ہے جس پر عمل کی اس مہینے میں شدید ضرورت ہے ۔رمضان کی تلاش دراصل اللہ کی رضا کا حصول ہے ۔جو اس مقام کو پالیتا ہے وہ کامیابی کے معراج پر پہونچ جاتاہے ۔شعبان کے مہینے کی پندرہویں شب کی بڑی فضیلتیں وارد ہوئی ہیں ۔اسے شب برات کہتے ہیں ۔اس تعلق وہ واقعہ بہت ہی معروف ہے ۔جب آپ صلعم آدھی رات کو مدینے کے عام قبرستان "جنت البقیع” پہونچ گئے، رب کے حضور گریہ کرنے لگے، ہر ہر امتی کے لئے مغفرت کا پروانہ مانگنے لگے، دفعتا اماں جان حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی آنکھ کھل گئی، تو دیکھا کہ ماہ مدینہ ص بسترپرنہیں ہیں، ڈھونڈتیں جنت البقیع پہونچ گئیں وہاں آپ کو پالیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا :اے عائشہ رض معلوم ہے آج کونسی رات یے؟ آج کی رات بنی کلب کی بکریوں کے بال برابر لوگوں کی بخشش کا سامان ہوتا ہے ،سوائے چند لوگوں کے، انمیں ایک شخص وہ ہے جو ایک اللہ کی طاقت کے علاوہ بھی دوسری طاقتوں کا قائل ہے، جسے وہ خدا جیسی تصور کرتا ہے، ایسا انسان مشرک کی شرعی اصطلاح سے موسوم کیا جاتا ہے ۔دوسرا وہ آدمی ہے جو اپنے سینے میں کینے کو پالتا ہے ۔تیسرا وہ بندہ ہے جو فخر وتکبرسے اپنے کپڑے زمین میں گھسیٹتا ہے اور ٹخنے سے نیچے لٹکایا کرتا ہے ۔چوتھا شخص وہ ہے جو اس رات کی بے پناہ باران رحمت سے بھی محروم رہتاہے وہ تعلقات وروابط کو ختم کرنے والا ہے، اس کا پاس ولحاظ نہیں کرتا ہے اور نہ صلہ رحمی کا قائل ہے،بلکہ ایسا آدمی قطع رحمی کرنے والا ہے ۔پانچواں آدمی والدین کی نافرمانی کرنے والا ہے ۔چھٹا شرابی ہے، اور ساتواں آدمی جو اس برکت ومغفرت والی عام بخشش والی رات میں معافی کے لائق نہیں ہے، وہ قاتل ہے جو ناحق کسی کی گردن ماردیتا ہے ۔
یہ شعبان کا مہینہ جسے آپ صلعم نےاپنی طرف منسوب کیاہےاوریہ کہاہےکہ:شعبان میرا مہینہ ہے، دراصل ان فہرست سے باہر ہونے کا متقاضی ہے جو ابھی پیش کردی گئی ہے ۔آپ صلی اللہ کے مہینے کی برکتوں سے جو مالا مال ہونا چاہتا ہے اور خدا کی خاص رضا اوراس کی مغفرت کامتمنی ہے اسے ان رذائل سے تائب ہونے کی ضرورت ہے ۔
یہ مہینہ رمضان تک پہونچنے کا وسیلہ ہی نہیں دراصل اللہ کی خاص قرب و خوشنودی حاصل کرنے کا سامان بھی ہے ۔ابھی ہم اور آپ ایک وائرس کو لیکر خوف میں مبتلا ہیں اور اس ذرہ کو پہاڑ ہی نہیں بلکہ نعوذبااللہ خدائی طاقت جیسا تصور کرتے ہیں جس کی ماہ شعبان میں اور اسلام میں کوئی بھی گنجائش نہیں ہے ۔ایسا واقعہ رونما ہونے سے ہمارے خوف خالق میں اضافہ ہونا چاہئے نہ خوف مخلوق میں ۔اللہ کی طاقت پر یقین کامل ہونا چاہئے نہ کہ غیر اللہ پر،اسی کو تو شرک سے تعبیر کرتے ہیں کہ اللہ جیسی طاقت کا کسی غیر میں انسان قائل ہوجائے ۔جبکہ حدیث تو یہ کہتی ہے کہ پوری مخلوق بھی ایک ساتھ زور لگالے اور وہ کسی ایک فرد کے نقصان پہونچانے کی کوشش کرلے،توبھی اسے نقصان نہیں ہوگا بدون اللہ کی مرضی کے، اگر تمام کے تمام فائدہ ہی پہونچانا چاہیں، نہیں کامیاب ہونگے جب تک کہ خدا نہ چاہے ،(حدیث ) اسی عقیدہ کا حامل انسان وہ مسلمان کہلاتا ہے اور اللہ کی خاص مغفرت جو پندرہویں شب میں شعبان کے نازل ہوتی ہے اس کا سزاوار ہوجاتا ہے ۔
آپ صلعم کے اس مہینے میں کینہ پرور کی معافی بھی اس مبارک رات میں نہیں ہوتی ہے ۔جس دل میں ایمان ہے وہاں کینے کے لئے کوئی جگہ خالی نہیں رہتی ہے ۔حسدوکینہ ایک مسلمان کے اعمال صالحہ کو دیمک کی طرح چاٹ کھاتے ہیں، پھر عام مغفرت کی گھڑی میں بھی معافی کے قابل نہیں گردانا جاتا ہے ۔اسی لئےوہ آدمی جو توڑنے کی بات کرتا ہے اور رشتہ دار کے حقوق ادانہیں کرتا اور ان سے فاصلہ اپناتا ہے وہ اللہ کی رحمت ومغفرت سے کوسوں دور چلا جاتا ہے ۔آج اسی دوری کو پاٹنے کی اس مہینے میں بالخصوص ضرورت ہے ۔ابھی شوشل ڈسٹنس کے منٹینس کی ہدایت دی جارہی ہے اور انسان کو انسان سے دور رہنے کی بات آرہی ہے ۔یہ گرچہ احتیاط کے لئے کہی جارہی ہے اور ایک حد تگ ضروری بھی ہے اس کا انکار بھی نہیں ہے لیکن بات اس کے ذریعے سمجھنے میں آسانی ہے کہ زمین پر کیا کچھ ماحول بنا ہواہے ۔حدیث تو یہ کہتی ہے کہ "الخلق عيال الله "سارا کنبہ خدا کا ہے ۔اسی ذمہ داری کو لیکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی ہے ۔بندے کو بندے سےاور تمام بندوں کوخدا سےجوڑاجائے ع من برائے وصل کردن آمدم
نے برائے فصل کردن آمدم
اسی لئے آپ ص نے یہی فرمایاکہ میرا کام جوڑنا ہے ، اسی لئے میں مبعوث کیا گیا ہوں اور توڑنا یہ میرا کام نہیں ہے ، جو قطع کا قائل ہو اور قطع رحمی کرتا ہو وہ اس مہینے کی برکت سے جو میرا مہینہ ہے محروم رہ جاتا ہے ۔دعوتی نکتہ نظر سے یہ جوڑنے کے کام کا بہترین مہینہ ہے اور حالات بھی اس کے لئے بہت سازگار ہیں، صرف علم و حکمت کی اس راہ میں شدید ضرورت ہے جسے اپنانے اور اختیار کر لینے کے بعد انقلاب کی قوی امید کی جاسکتی ہے ۔یہ وقت یہ مہینہ اور یہ حالات ہمیں آواز دے رہے ہیں کہ ہمیں اللہ کی خاص مغفرت کا مفہوم سمجھ کر اس تعلیم کو عام کرنے کے لئے کمربستہ ہوجانا چاہئیے جو کبھی بھی ازکاررفتہ نہیں ہے بلکہ اس وقت پوری دنیا کی سب سے بڑی ضرورت بن گئی ہے ۔اس مہینے کا پیغام یہی ہے اور آپ کا یہ کہنا کہ "یہ میرا مہینہ ہے "اس کا واضح پیغام بھی یہی ہے ۔مگر توفیق باندازہ ہمت ہے ازل سے ۔
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
رابطہ 9973722710

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close