مضامین و مقالات

نجات کے یہ تین گر ہیں : مفتی ہمایوں اقبال ندوی

اس وقت وطن عزیز کی اکثر ریاستوں میں لاک ڈاؤن لگاہواہے۔مہلک کورونا وائرس سے بچنے بچانے کی احتیاطی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں ۔اسمیں مزید سختی کی بات سامنے آرہی ہے۔دہلی کے وزیر اعلی نے بھی یہ عندیہ دیا ہے کہ اس کےلئےباضابطہ کرفیو کا اعلان بھی کیا جا سکتا ہے ۔اسی طرح کی بات بہار کی طرف سے بھی آرہی ہے ۔اپنےملک کےوزیراعظم کی طرف سےلاک ڈاؤن کی میعادمیں چودہ اپریل تک توسیع کردی گئی ہے۔اب مسلسل کرفیوجیسےحالات پورےملک میں اکیس دن تک بنےرہیں گے۔یہ سب کچھ خوش آئند ہے،اور حفاظتی نکتہ نظر سے یہ ضروری بھی ہے ۔ عوام الناس کے مفاد میں ہے، لوگوں کی بھلائی کے لئے یہ پابندیاں ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ہر آدمی بخوشی اسے گوارا کررہا ہے،کڑوی دواکے گھونٹ سمجھ کر اسے پی بھی رہا ہے، کچھ اس انداز میں بھی جی رہا ہے اور اپنے آپ کو محصور کرنے میں کوئی دریغ نہیں کررہا ہے ۔یہ لاک ڈاؤن یا بریک ڈاؤن دراصل کرونا وائرس کے حملے سے نجات حاصل کرنے کے لئے ہے جس کا حملہ پوری دنیاسمیت اپنےملک پر بھی ہوا ہے۔ اسی سے بچاؤ اور دفاع مقصود ہے۔اس سےبچنےکی اوردفاع کی تدبیریں کی جارہی ہیں،اسی وجہ کرلاک ڈاون کےذریعہ گھرمیں محصوررہنےکی بات کی جارہی ہے۔لاک ڈاون کاتصور اسلام سے ہے۔ایسےموقع پرضروری ہےکہ اس وقت اس ناگزیرعمل سےحاصل ہونےوالےتمام فوائدسے مستفیدہولیاجاوے،ساتھ ہی ساتھ پیش آمدہ مصیبت سے مکمل نجات حاصل کرلی جائے،مگراس کےلئےتین کام ضروری ہیں ۔صرف گھرمیں دبکنے سےیہ مسئلہ حل کے عین قریب نہیں جاتا ہے۔تحقیقات سے یہ بات سامنے آرہی ہیں کہ کہ دنیا اب اپنی عمر پوری کرنے میں لگی ہے ۔اس اخیر وقت میں انسانی برادری کو مختلف قسم کے مسائل کا سامناتسلسل کے ساتھ پے ۔اسی لئےلاک ڈاؤن کی میعادکی توسیع رحمت عالم ص نے قیامت تک کردی ہے ۔ایک صاحب ایمان کےلئےتوپوری دنیا ہی کولاک ڈاون کردیاہے۔اوریہ کہاہےکہ :”دنیامومن کےلئےقیدخانہ ہے”۔یہاں یہ بات صاف ہوجانی چاہئےکہ مومن دراصل ماننےوالوں کاہی نام ہے،اورجونہیں مانتےایسےلوگوں کےبارےحدیث کہتی ہےکہ:”نہ ماننے والوں کے لئے دنیا جنت ہے ” اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ پابندیاں جہاں کہیں ہیں وہ ماننے والوں ہی سی جڑی ہیں اور جنہیں ماننا ہی نہیں ہے وہ کسی بھی پابندی کا قائل نہیں ہے۔ایک انسان کورحمت عالم کی تعلیم احتیاط وپرہیز سکھاتی ہے۔اسی لئےحدیث میں کہاگیاہےکہ پرہیزآدھاعلاج کانام ہے۔یہ احتیاط وپرہیز بھی ایک قسم کی پابندی ہی کا نام ہے ۔اور اس کا فائدہ اسے مل کر رہتا ہے جواحتیاط والی زندگی بسر کرتا ہے ۔کھانے پینے،اٹھنے بیٹھنے اور ہرہرعمل میں اسے آزمانے کی ضرورت ہے ۔دواؤں سے مکمل علاج قطعی نہیں ہے جب تک پرہیز اس میں شامل حال نہ ہو ۔ ایک انسان جو سوفی صد کامیابی اور ان مصائب سے نجات چاہتا ہے جب اسے مسائل کاسامناہواکرتاہے،بلکہ پوری زندگی میں ہرمسئلےکاحل اورکامیابی ودرپیش مصائب سےنجات چاہتاہے،حدیث اسےتین کام کی تعلیم کرتی ہے ۔جنمیں صرف ایک چیز ہی حکومت نافذ کررہی ہے بقیہ دوچیزیں چھوٹ رہی ہیں ۔ ۔ایک صحابی رسول ص نےان آزمائشوں، فتنوں، مصیبتوں سے بچنے اور محفوظ رہنے کے لئے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا کہ :مکمل نجات حاصل کرنے کا گرکیا ہے؟ جوابا آپ نے ارشاد فرمایا کہ اپنی زبان قابو میں رکھو، اپنے گھر میں قرار پکڑو،اپنے گناہوں وخطاوں پر رویا کرو (حدیث ) اس حدیث کےذریعےتین چیزکی تعلیم ہی نہیں ہےبلکہ دراصل نجات کےیہ تین گرہیں جواس صحابی کےسوال پر بطور جواب قیامت تک کے متلاشی کو بتلائے گئے ہیں ۔آج ہمیں ان وائرس سے بھی نجات چاہئے تو تینوں پابندیاں قبول کرنی ہوں گی ۔ دیکھنے والی بات اس حدیث میں یہ ہے کہ اس لاک ڈاؤن میں جہاں مکمل کامیابی اور وائرس سے مکمل حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے ۔یہاں جھوٹ پر، گالی پر، غلط بیانی پربھی لاک ڈاؤن ہے ۔گویا تمام بازار بندی کے ساتھ ساتھ بازاروالفاظ والقاب کے استعمال کی بھی ممانعت ہے ۔رحمت عالم سےپوچھاگیاتھاکہ بدترین جگہ کونسی ہے،؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہ بازار ہے ۔گویا سب سے زیادہ کثافت کی جگہ بازار ہی ہے اور وہاں بے محابا اختلاط بھی ہے ۔ایسے میں وائرس کی منتقلی میں بری آسانی کی فضا وہاں موجودہوتی ہے ۔اور مسجد بہترین جگہ بتلائی گئی اس لئےکہ اس میں ہر کوئی بازار کی طرح داخل نہیں ہوسکتا ہے۔اسمیں نمازکےلئےداخلے کےکنڈیشنز ہیں ۔وضوکرناہوتا ہے۔وائرس کے ساتھ نہ آدمی مسجد جاسکتا ہےاورنہ ہی اللہ کی کتاب اللہ کوہاتھ لگاسکتاہے۔بازار سے وائرس کے پھیلنے کا شدید خطرہ ہے اسی طرح زبان سے بھی اس کے پھیلنے کا ہی نہیں بلکہ یہاں اگر لاک ڈاؤن نہیں کیا گیا تو یہ بھی وائرس کا سرچشمہ اور منبع بن جانے کا قوی امکان اور سخت اندیشہ ہے ۔ اس وقت جبکہ ہم ایک مصیبت سے بچنے کے لئے اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں تو بقیہ دوااورکام ہیں جنہیں کر لینے کی ضرورت ہے ۔جبھی ہم اس کروناوائرس سےودیگرتمام وائرس سےبچ سکیں گے،اپنی زندگی اوراپنے ملک سےوائرس کاخاتمہ کرسکیں گے ۔دیکھنے میں یہ بھی آرہا ہے کہ ماسک لگاکر بھی لوگ زبان سے وائرس پھیلانے میں اس وقت بھی لگے ہیں ۔زبان کے وائرس سے ملک سب سے زیادہ خطرہ میں ہے ۔کروناوائرس سےانسان کوشدیدخطرہ ہےاورزبان کےوائرس سےبھی اس وقت ملک کی سالمیت کوشدیدنقصان کااندیشہ ہے۔جس قدر زہر زبان سے باہر کیا جاسکتا ہے اور کیا جارہا ہےاس کی زہرناکی کا نتیجہ دہلی سمیت ملک بھر کے اب تک کے تمام فسادات ہیں جو اسی وجہ رونما ہوئے ہیں ۔اس پر بھی ماسک لگانے کی ضرورت ہے ۔تیسرا کام غلطیوں سے سبق لینے کی بھی ضرورت ہے اور اس پر نادم ہونے کی بھی ضرورت ہے ۔انسان اپنے کو قابو میں اور اپنی زبان کو قابو میں کرلے، اور جہاں جہاں یہ دونوں بے قابو ہوئے ہیں، ان جگہوں کی یاد دہانی کرکے اس پر نوٹس لے لے، آئندہ اپنے کو کنٹرول میں رکھنے کا عہد کر دراصل یہی ندامت ہے ۔یہ تین کام اگرہم کرلیتے ہیں تو قیامت تک کے لئے ہر وائرس سے محفوظ ہوجاتے ہیں، اور سب سے لمبی لاک ڈاؤن کا فائدہ جو سب سے زیادہ ہے اس کو حاصل کرلینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔اس احتیاط وپرہیز سے ایک ایسی زندگی کے سزاوار ہوسکتے ہیں جسے کبھی فنا نہیں ہے ۔ہمیشہ ہمیش کی جہاں راحت ہے ۔عافیت ہے ،چین ہے اور ایک انسان کی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔اے کاش! !!!!!!
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
رابطہ 99 73 72 27 10

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close