مضامین و مقالات

کرونا وائرس کے پیش نظر مساجد میں ”مائک“ پر اذان بند کرنا مستقبل کیلئے خطرہ!بندہ محمّد فرقان عفی عنہ

بندہ محمّد فرقان عفی عنہ
(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)
ریاستی حکومت کی جانب سے ریاست کو مکمل لاک ڈاؤن کرنے اور مساجد میں نمازوں کو ترک کرنے کے احکامات جاری کرنے کے بعد کل دیر رات امارت شرعیہ کرناٹک کی ہنگامی میٹنگ ہوئی- جس میں یہ طے پایا گیا کہ مسجدوں میں مائک پر دھیمی آواز میں اذان ہوتی رہے اور مسجد میں مقیم امام، موذن اور دیگر عملہ مکمل احتیاطی تدابیر کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرتے رہیں تاکہ مسجد آباد رہے- اس کے علاوہ محلے کے دیگر افراد حالات درست ہونے تک گھروں میں نمازیں ادا کریں- لیکن ریاست کے مختلف علاقوں خصوصاً کولیگال وغیرہ سے یہ خبر موصول ہورہی ہے کہ وہاں مائک پر اذان نہیں دی جارہی ہے اور بعض علاقوں میں حکومتی اہلکاروں کی جانب سے مائک پر اذانوں کو بند کرادیا گیا ہے- جن علاقوں میں مائک یعنی لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینا بند کردیا گیا ہے، وہاں کے ذمہ داران اس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ امارات شرعیہ کی جانب سے واضح الفاظ میں کہا گیا ہیکہ ”مائک“ پر ہی حسب معمول اذان ہو فقط آواز کو کم یا دھیمی کرلیا جائے- لہٰذا مساجد میں مائک پر اذان ہوتی رہے اور مسجد کے عملہ بھی باجماعت نماز ادا کرتے رہیں لیکن علاقے کے باشندے اپنے اپنے گھروں میں نماز ادا کریں- مسلمانوں کے تعلق سے ملک کے موجودہ حالات کافی تشویش ناک ہیں اور مستقبل میں مزید شدت ہوسکتی ہے- اذانوں پر پہلے سے ہی پابندی عائد کرنے کی باتیں وقتاً فوقتاً رونما ہوتی رہی ہیں- ایسے حالات میں مائک پر اذان دینا بند کردینا مستقبل کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے- امید ہیکہ اس مسئلے پر غور و خوص کیا جائے گا اور مساجد میں مائک پر ہی اذان دی جائے گی!

فقط و السلام
بندہ محمّد فرقان عفی عنہ
(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)
24/ مارچ 2020ء
+918495087865
mdfurqan7865@gmail.com

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close