مضامین و مقالات

معاشرے کو بنانے اور بگاڑنے میں سب کا ہاتھ ! سیدہ تبسم منظور ناڈکر۔(موربہ) ممبئی

 اصلاحی معاشرہ سننے، بولنے اور پڑھنے والے ذہن میں معاشرے كی وہ تمام برائیاں گھومنے لگتی ہیں۔جنھوں نے معاشرے كو گندہ اور زہر آلود كردیا ہے۔آج یہ لفظ نہ جانے كئی جگہ بار بار پڑھا جاتا ہے لكھا اور بولا جاتا ہےاور سنا بھی جاتا ہے۔ کئی تنظیمیں معاشرے کی اصلاح كے مقصد سے قائم ہیں۔ کئی پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں۔ مگر کئی كوششوں كے باوجود نتیجہ وہی کا وہی۔ غور كرنے كی بات یہ ہےكہ آخر یہ ساری کوششیں بے كار كیوں ہو رہی ہیں؟ کیوں كوئی تدیبر كامیاب نہیں ہورہی ہے؟ معاشرہ اصلاح كے بجائے بگاڑ، فساد، دھوکا، زنا، قتل كی طرف مزید كیوں بڑھتا جا رہا ہے؟
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے.اس میں ہر طبقے کے متعلق ہدایات موجود ہیں کوئی طبقہ ایسا نہیں کہ جس کے بارے میں اسلام نے کوئی رہنمائی نہ کی ہو اب صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان اسلام سے رہنمائی حاصل کر لے اور اپنا تعلق اپنے حقیقی خالق سے استوار کرے اور اپنی ہر خواہش کو اللہ رب العالمین کے حکم کے سامنے قربان کردے ۔آج ہمارے معاشرے کی ایسی حالت کیوں ہے ؟ ہمارے گھر کا ماحول غیر اسلامی کیوں ہے؟ ہمارے خاندان کا انتظام کیوں بگڑ رہا ہے؟ ہمارا معاشرہ اصلاح کی شاہراہ پر کیوں نہیں چل رہا ؟ اس کی وجہ صرف اور صرف دین اسلام سے دوری اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصولوں کی نافرمانی کرنا ہے۔
ہمارے معاشرے میں شدید اخلاقی تنزل پایا جا رہا ہے ۔ لوگ بے راہ روی کا شکار ہورہے ہیں۔لوگوں نے نیکی اور بدی میں حلال اور حرام کی سمجھ بوجھ رکھنا چھوڑ دیا ہے۔
اسلامی تعلیم کا بنیادی مقصد انسانی معاشرے کی اصلاح کرنا ہے۔ اور اس طرح اصلاح کرنا ہے کہ دنیا میں تمام انسان امن و امان کی زندگی بسر کریں اور اس طرح زندہ رہیں کہ اخلاق کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوٹے اور آخرت کی کبھی نا ختم ہونے والی زندگی کے لیے پورے اخلاق و تقویٰ کے ساتھ تیاری کریںﷲ کو راضی کریں۔ ﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اور رسول اکرم صلی اﷲ علیہ و سلم کے اسوہ حسنہ کی پیروی کریں۔
معاشرہ لوگوں سے بنتا ہے اور یہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے معاشرہ کو ہر طرح کی خرابیوں اور گندگیوں سے پاک و صاف رکھے۔،ظاہری، باطنی گندگی اور ہلاک کرنے والی چیزوں کو معاشرہ سے دور کرنے کی فکرکریں.جب معاشرے کی اصلاح ہوگی تو پھر اس کے نتیجہ میں لوگ بھی پاکیزہ سانچے میں ڈھلیں گے اور نوجوان بھی بے راہ روی سے بچیں گے۔
اس معاشرتی بگاڑ کی وجہ پر ہمیں غور کرنا ہوگا کہ کیا ہم بحیثیت مسلمان اپنا فرض اچھے طریقے سے ادا کررہے ہیں؟ کیا ہم اپنے نفس کا محاسبہ کررہے ہیں؟ کیا ہم سیدھے راستے پر ہیں؟ کیا ہم مدد گار اور اہل و عیال کی اصلاح کا ذریعہ بن رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے حقوق اور فرائض اچھے طریقے سے ادا کررہے ہیں؟
ہمارے لیے اس دنیا میں ﷲ تعالیٰ کی رضا ضروی ہے. اور ﷲ نے قرآن حکیم میں یہ حکم دیا ہے کہ اس کی رضا اور خوشنودی صرف رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ بلکہ اس نے ہم سے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ تم ﷲ کے رسول کی پیروی کرو گے تو ﷲ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا ذرا غور فرمائیے کسی انسان کے لیے اس سے زیادہ بلند مرتبہ کیا ہو گا کہ خود ﷲ اس سے محبت کرنے لگے۔
ہم سبھی اسی معاشرے میں رہتے ہیں ۔ اورہماری باہمی ترکیب و آپسی محبت و میل ملاپ کا نام ہی معاشرہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی چاہتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں عدل وانصاف ہو ۔اخوت وبھائی چارگی ہو ۔آپس میں محبت ہو ۔ اتحاد و اتفاق کی فضا قائم ہو۔ اورہم ایک دوسرے کے دکھ درد کو بانٹنے والے ہوں ۔ اس کے باوجود یہ خوبیاں اوراچھائیاں ہمیں نظر نہیں آتیں بلکہ اچھائیاں اور انسانیت دور ہورہی ہیں کہیں دور دور تک نظر ہی نہیں آتی اور ان کی جگہ برائیاں بڑی تیزی کے ساتھ حاوی ہورہی ہیں انہی حالات کے تناظر میں اکثر لوگ اپنی فانی زندگی سے مایوس ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔ کوئی اپنے ہی گھر سے پریشان ہے تو کوئی پڑوسی سے ناراض ہے تو کوئی رشتہ دار و خاندان سے گلہ کر رہا ہے ۔ غرض ہر انسان کو انسان سے ڈر ہونے لگا ہے ۔ انسان اپنے کرموں سے اپنا نامہ اعمال خراب کرتا جارہا ہے۔ہر جگہ سے سکون غائب رہا ہے ۔غیبت، چغل خوری کا چلن ہے کینہ کپٹ جلن وحسد کارواج ہے. کسی مؤمن کا ہنسی مذاق اڑانا۔ کسی پاک دامن پر الزام و بہتان کرنا ہمارے معاشرے کا شیوہ بن چکا ہے اور لوگ اسے اپنا محبوب مشغلہ سمجھ بیٹھے ہیں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا "جوشخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالی اس کے عیبوں کی پردہ پوشی کرےگا۔”
ہر قوم حالات کے رو میں بہہ رہی ہے ۔ ہر طرف کشیدگی کا ماحول ہے بلکہ گھر میں سکون نہ باہر چین ۔ آخر ایسا کیوں ؟ کیا ہم نے کبھی تنہائی میں سوچا اورغور وفکر سے کام لیا ۔
اسلام میں ہرچیز کا حل موجود ہے ۔ وہ کونسا مسئلہ ہے جس کا اسلام میں کوئی حل نہیں ہے. جو اس کی حقانیت کی واضح دلیل ہے ۔ ہمارے معاشرے کی اصلاح کا ایک حل یہ ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی اپنی ذمہ داریوں کو کام سمجھ کر نہیں فرض سمجھ کر نبھائے اور اپنا کردار کوسیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے سانچے میں ڈھالے تو یقین مانیں معاشرے کی تقدیر وتصویر بدل جائے گی۔ اور ہمارے لئے سکون قلب اور روح پرور ثابت ہوگا۔

سیدہ تبسم منظور ناڈکر۔(موربہ) ممبئی
نائب ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال اسٹار نیوز ٹو ڈے
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال ہندوستان اردو ٹائمز
9870971871

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close