مضامین و مقالات

اس گھر کو آگ لگ گئیی گھر کے چراغ سے ! ذوالقرنین احمد

دنیا کی تاریخ پر ایک نظر ڈالے تو پتہ چلتا ہے کہ ہر دور میں منافق لوگ موجود رہے ہیں۔ اسلامی تاریخ میں بھی یہ بات واضح ہے کہ آپ ﷺ کے زمانے میں بھی منافق لوگ موجود تھے لیکن ان پر اس قدر خوف و دہشت طاری تھی کہ وہ منافق ہونےکے باوجود نماز با جماعت ادا کیا کرتے تھے۔ اور جب مسلمانوں کی مجلس میں ہوتے تو کہتے ہم تمہارے ساتھ ہے اور جب مشرکین کی طرف لوٹتے اور انہیں کہتے کہ ہم تو دلجوئی کیلے انکی مجالس میں جاتے ہیں۔ اور مخبری کیا کرتے تھے۔ اسی طرح منفاقت مثال حضرت ٹیپوں سلطان رحمۃ اللہ علیہ انگریزوں کے خلاف جنگ کرنے والے پہلے مجاہد آزادی جن کے خوف سے انگریزوں کے پسینے چھوٹ جاتے تھے۔ لیکن اپنوں میں سے ہی میر صادق میر جعفر کی منافقت کی وجہ سے شہید کردیے جاتے ہیں۔ آج بھی مسلمانوں کی صفوں میں میر صادق اور میر جعفر موجود ہے۔ جو ان ناسازگار حالات میں اپنی منفاقت سے باز نہیں آرہے ہیں۔ حدیث میں آتا ہےکہ منافق لوگ جہنم کے آخری درجے میں ہوگے۔ کافروں کے بھی نیچے کی جہنم میں ڈالا جائے گا۔ جو مسلمانوں میں پھوٹ ڈالتے ہیں۔ انکی صفوں میں رہتے ہوئے انہیں کمزور کرنے کی سازشیں کرتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ منافق کی تین علامت ہے جب بات کریں تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے جو وعدہ خلافی کریں، اور جب کوئی امانت اسکے پاس رکھی جائے تو اس میں خیانت کریں۔

آج مسلمانوں کے درمیان میں ایسے لوگ موجود ہے جن کی خباثت بے ایمانی، بے غیرتی کی وجہ پوری ملت کو نقصان سے دوچار ہونا پڑھتا ہے اور وہاں پوری قوم کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ ایسے معاملات ہر جگہ دیکھنے مل رہے ہے چاہے عالمی سطح پر ہو یا ملکی سطح پر یا پھر ہمارے شہروں اور دیہات اور علاقوں میں ہو، یہ منافق لوگ اپنی منافقت دیکھا رہے ہیں۔ ایک طرف ملک میں مسلمانوں پر کیا حالات آئے ہوئے ہیں۔ ہر کوئی ملت کے وجود کی بقا کیلے متحد ہوکر جد وجہد کر رہا ہے۔ اتنا ہی‌ نہیں بلکے دیگر کمیونٹی کے لوگ بھی ساتھ اگر ملک و آئین کی حفاظت کیلے متحد ہوکر احتجاج کر رہے ہیں۔ لیکن ایسے پر آشوب دور میں بھی ہمارے بیچ سے میر جعفر میر صادق افراد ختم نہیں ہورہے ہیں۔ نا یہ کھول کر سامنے آتے ہیں۔ نا ہی اپنی اصلیت دیکھاتے ہیں۔ لیکن کچھ اتنے بے شرم ہےجو کھل کر اپنی منافقت دیکھا رہے ہیں۔ آج مسلمانوں کو ان افراد کو پہچاننے کی ضرورت ہے کیونکہ مسلمان ایک سراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاسکتا ہے۔
لیکن آج ہم ٹھوکر پر ٹھوکر کھانے کے باوجود ہوش کے ناخن لینے تیار نہیں ہے۔ تو اس پر ہمیں اپنے آپ کا بھی محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ کے ہمارے اندر ایمان کی چنگاری کہئ مدھم تو نہیں ہوچکی ہے۔ ہمارے اندر وہ قوت کیوں باقی نہیں رہی کہ ہم سب متحد ہوکر ان منفاقوں کی منافقت کو سر عام عیاں کرکے انکی دشمنی کو عوام الناس کے سامنے لائے۔ ایمان کے تین درجے بتائے گئے ہیں جس میں اول اگر کچھ غلط ہوتا ہوا دیکھو تو اسے ہاتھ سے روکو ، دوسرا یہ کہ زبان سے روکو ،اور تیسرا یہ کہ اتنی قوت نہیں تو دل میں اس کو برا جانو، یہ ایمان کو سب سے کمزور درجہ ہے۔ ہمیں اس بات پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہےکہ ہمارے ایمان اتنے کمزور ہو چکے ہیں کہ ہم صرف ہر بری بات کو دیکھ کر دل میں برا جان کر خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔ جبکہ ہماری ذمہ داری ہے کہ حق بات کا کلمہ کہتے ہوئے ہم کسی بادشاہ یا وزیر یا لیڈر کے خوف کو خاطر میں نا لاتے ہوئے صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور حق کا کلمہ بلند کریں۔ کیونکہ جس نے ہمیں پیدا کیا وہ اس کا حقدار ہے کہ اس سے ڈرا جائے اسکی فرمابرداری کی جائے کیونکہ کل قیامت میں سوال ہوگا کہ لوگوں تمہیں حق بات کہنے سے کس بات نے روک رکھا تھا۔ جبکہ ان سب بڑھ اللہ تعالیٰ کا ڈر تمہارے دلوں میں ہونا چاہے تھا۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close