مضامین و مقالات

میرے لیے میرا دین ہی کافی ہے ! از قلم۔۔۔۔۔ احمد اللہ عقیل حیدر فلاحی

 "لکم دینکم ولي دین” کا ترجمہ، "تمہارا دین تمہارے لیے اور میرا دین میرے لیے ” ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو تمہارا دین تم کو مبارک ہو، میرے لیے میرا دین کافی ہے۔
     اسی ضمن میں آپ سے ایک بات عرض کرنی ہے کہ دین اور آخرت کو نظرانداز کر کے آپ دنیا داری کو ترجیح دیجیے اور دین کو اپنے گھر اور کمروں کی چہار دیواری میں بند کر دیجیے، آپ کو روکا کس نے ہے۔ اگر آپ بحالت مجبوری دین کے ادنی پر بھی عمل کرنے کے روادار نہیں ہیں تو بھی آپ سے کوئی جنگ تھوڑی ہے۔ آپ ہندو مسلم اتحاد کے نعرے لگاتے ہوئے ماتھے پر تلک، سر پر ٹوپی اور ہاتھوں میں ترنگا بھی ضرور رکھیے کہ اس سے شاید آپ کو تاریخ ہندوستان کے صفحات میں وفادار لکھ دیا جائے۔ یہاں تک کہ سیکولرازم اور جمہوریت کی بقا کے لیے آپ اپنی جانیں بھی قربان کر دیجیے، آپ کو کون روک سکتا ہے لیکن بس ایک بات کا دھیان رکھیے کہ ان تمام معاملات کو مذہب اسلام سے خدارا مت جوڑیئے، بالکل مت جوڑیئے۔ کیونکہ آپ کے حوصلوں کی اور شجاعت کی داستانیں رقم ہونگی، تو کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے عمل کو ہی اسلام بنا کر پیش کر دیا جائے۔
     کیونکہ آپ بہادر ہو سکتے ہیں۔ آپ مجاہدین آزادی بھی ہو سکتے ہیں۔ آپ مسلم ہو بھی سکتے ہیں لیکن آپ، اسلام کے لیے آئیڈیل (نمونہ) نہیں ہو سکتے۔ بحالت مجبوری انجام دیے گئے آپ کے کارنامے یقینا تاریخ ساز ہونگے لیکن ان کارناموں پر کوئی مسلمان بحیثیت مسلمان فخر کر سکے ایسا کوئی کام آپ نے نہیں کیا ہے۔
     بس آپ سے یہی کہنا ہے کہ سڑکوں پر نکلنا، احتجاج کرنا، اور راستوں پر بیٹھنا، ہماری مجبوری ہے، اسے فخر کی چیز نہ بنائیں۔ لوگوں سے رسم و راہ ضرور رکھیں لیکن اس قدر نہیں کہ مذہب اور ثقافت میں امتیاز باقی نہ رہے، اگر کوئی آپ کو دینی معاملات میں خلط ملط کرنے کی کوشش کرے تو آپ ان سے اتنا ضرور کہ دیں کہ میرا دین میرے لیے ہے اور آپ کا دین آپ کے لیے ہے۔ قبل اس کے کہ کوئی اور ہم سے یہی جملہ کہنے لگے۔
از قلم۔۔۔۔۔ احمد اللہ عقیل حیدر فلاحی 15/02/2020

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close