مضامین و مقالات

اجتماع کو اپنے لئےکیسےمفید بنائیں۔ حسین احمد ھمدم

مہینوں کی تیاری اور سینکڑوں کروڑ روپے خرچ کرکےہرسال بلکہ کبھی تو سال میں کئ بار ملک میں عالمی ملکی وصوبائی اجتماعات دعوت وتبلیغ کے نام پرہوتے ہیں، اور لاکھوں مسلمان ہزاروں روپے مزید خرچ کرکے ان میں تین تین چار چار روز تک شریک رہتےہیں،بہت سے لوگ چالیس دن چارمہینے اور سال‌‌ بھرکےلئے‌بھی نکل جاتےہیں،اجتماع کے موقع پرگاؤں کے گاؤں مردوں سے خالی ہوجاتے ہیں۔ان اجتماعات پر اگرچہ خالص فقہی نقطۂ نظر سے کئی زاویوں سے بحث کی گنجائش ہے تاہم فی الوقت ہم سردست اس جانب توجہ کرنا چاہتے ہیں کہ اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والے ان اجتماع میں جو مسلمان جاتے ہیں اور وقت لگاتے ہیں ان کو وہاں سے آج کے‌دور میں وہ دینی و روحانی فائدے‌‌ حاصل نہیں ہورہے ہیں جن کا علم ہمیں ماضی کے اجتماعات کے متعلق ہوتاہے۔ اس عدم تاثیر کی وجہ بلکہ وجوہات آخرکیاہیں وہ اہل نظر سے مخفی نہیں حضرت کلیم عاجز رح سابق ریاستی امیر جماعت صوبہ بہارنے بھی اپنی ایک‌کتاب میں اس طرف اشارہ کیا ہے۔ کل 15 فروری 2020سے پڑوسی ملک نیپال میں بڑا اجتماع شروع ہو رہا ہے اس میں جانے والے دوستوں کواپنے لئے اجتماع میں شرکت کومفیدبنانےکےلئے فکرمند ہونا ‌لازم ہے۔ اس کے لئے سب سے پہلے انہیں غور کرنا چاہئے کہ اب تک ہم جن اجتماعات میں شریک ہوئے ان سے ہم نے کیا دینی فائدے حاصل کۓ۔ کیا ہمیں دینی عقائد کا ضروری علم حاصل ہوا یا اس کی طلب پیدا ہوئی؟ ہم شرک وبدعات سے باز آگئے یانہیں؟ عبادات معاملات معاشرت وغیرہ کے احکام ومسائل کی کتنی سمجھ ہم میں پیدا ہوئی؟ جہیزکی لعنت سے ہمیں نفرت پیدا ہوئی یا نہیں؟ کیابندھن،کمیٹی اور‌دیگر سودی معاملات سے ہم باز آۓ ؟ نشیلی دوائیوں کے استعمال اور سپلائی سے ہمارا‌ہاتھ رکا یا پھر ہاتھوں میں تسبیح اور بغل میں بوتل کی حالت ہے؟ رشوت خوری چوری اور دلالی سے‌توبہ کا خیال آیا نہیں ؟ کیا حسن اخلاق کی افزائش ہمارے اندرہوئی،جرأت حق نوائی کانموہوا؟ جات برادری پر مبنی تعصب وتنگ نظری کے خطرناک ہمارے وائرس دل ودماغ‌سے نکلے یانہیں؟کیا ابتک پورے دین کو جاننے اور سیکھنےکی طلب پیدا ہمارے‌اندر پیداہوئی؟کیاقرآن سیکھنے کی ضرورت کا شدت سے احساس ہوا ؟؟؟۔ اگر *ہاں* تو بہت مبارک ہو اللھم زدفزد۔ لیکن *نہیں* تو انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔صرف:لاکھوں لاکھ کی بھیڑ جمع ہونے کے چرچے فخر کے ساتھ کئے جاتے ہیں.نمونے کے سامان خریدتے جاتے ہیں.پنڈال میدان سے لے کر ٹوائلیٹ تک کی خوبیاں بیان کرتے لوٹتے ہیں۔اورواپس آکر پھر وہی حرام خوری پھروہی بےایمانیپھر وہی ظلمپھر وہی ناانصافی پھر وہی بداخلاقیپھر وہی خود‌غرضی۔۔۔ غرض وہی رفتار بےڈھنگی جو پہلی تھی سواب‌بھی ہے،بلکہ پہلے تو غلط کاریوں پر افسوس بھی تھا، روک ٹوک بھی تھی، اب دین کا لبادہ اوڑھ کر بداعمالیوں کو انجام دیا جارہاہے۔اناللہ۔۔۔ خود احتسابی کا مشورہ ایک کڑوی بات ہے، کٹھن عمل ہے، مگر یقین جانئے بہت شفابخش اور کارآمد ہے۔ اس خود احتسابی کے بعد اجتماع میں جانے والےہمارے بھائیوں کو اب کی بار استحضار کے ساتھ تصحیح نیت یعنی نیت کودرست کرنےکی ضرورت ہے تاکہ پچھلے اجتماعات کی طرح اب کی بار بھی محرومی ہی قسمت نہ بن جائے۔اوریہ غضب نہ ہو کہ ہمیں اس بڑی محرومی کا احساس بھی نہ رہے۔ اللہ ہمیں دین کی سمجھ عطا فرمائے،ہمارے دینی کاموں کو قبولیت سے نوازے،معاشرے میں دین کی ہوا چلادے۔آمین ثم امین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close