مضامین و مقالات

ویلنٹائن ڈے مذہپ اسلام کی نظر میں!!! از قلم🖊 انظارالحق قمری

ہمارے سماج اور معاشرے میں جہاں بہت ساری برائیاں جنم لے چکی ہیں
وہیں ایک برائی جسے ہم اور آپ ویلنٹائن ڈے کے نام سے جانتے ہیں
اور یہ ویلنٹائن ڈے ہر سال 14 فروری کو منایا جاتا ہے اور اسے اردو میں عید عاشقاں کہا جاتا ہے
قارئین کرام
رہی بات ویلنٹائن ڈے کی ایجاد تاریخ کی تو اس کے بارے میں لوگوں کے مختلف اقوال ہیں لیکن ان سب اقوال کو پڑھنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ عیسائی مذہب کے تہوار کا دن ہے
اور وہ لوگ اس دن کو عشق و محبت کے نام پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں
اور اس دن کا لڑکے اور لڑکیاں بے صبری سے انتظار کرتے رہتے ہیں کیونکہ یہ دن محبوب عاشق و معشوق کیلئے خاص ہے
لیکن افسوس صد افسوس کہ اس مغرب کی گندی تہذیب وتمدن اور ثقافت کو ہم مسلمانوں نے بھی اپنے زندگی کا حصہ بنالیا اور ویلنٹائن ڈے منانے لگے جس کا اسلام تو اسلام دوسرا دھرم بھی
اس کی قطعاً اجازت نہیں دیتا بلکہ سراسر حرام ہے
کیونکہ اس دن لڑکے لڑکیاں عشق و محبت کے نام پر ہر وہ کام انجام دیتے ہیں جس سے اسلام نے روکتے ہوئے اس کے انجام دینے والے کو سزا
کی وعید سنایا ہے اور کیوں نہ سزا کی وعید سنائے جبکہ لڑکے لڑکیاں پارک میں جاکر فسق و فجور اور بے حیائی و بے شرمی کے ساتھ ہی زنا کا ارتکاب کرتے ہیں
ذرا سوچیں غور و فکر کریں کے ہم کس کے روش پر جارہے ہیں اور کس کی تقلید کررہے ہیں
کہ یہی فسق وفجورچیز جسے کل تک ہمارے معاشرے و سوسائٹی میں معیوب سمجھی جاتی تھی اور اب اسے ہم فخریہ طور پر انجام دینے لگے
افسوس ہوتا ہے اور کہنا پڑتا ہے
کہ : مگر تم کو شرم نہیں آتی
لہذا میں امت مسلمہ کے غیور عوام سے درخواست کرتا ہوں کہ
آپ اس بے حیائی اور فسق و فجور جیسے کام کرنے سے اجتناب کریں اور مغربی تہذیب و تمدن کو اپنی زندگی کا حصہ نہ بنائیں
بلکہ اسلامی تہذیب و تمدن اور ثقافت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور اسی میں ہماری بھلائی ہے
اور رہی بات ویلنٹائن ڈے کے حرام ہونے کی تو اس کے مختلف وجوہات ہیں مثلا
نمبر(1 )
اس کے انجام دینے سے غیروں کی مشابہت لازم آتی ہے اور اسلام نے اس سے منع کیا ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ ۔ من تشبه بقوم فهو منهم (ابو داؤد / رقم الحدیث 4031 ) کہ جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ بھی اسی میں سے ہے
نمبر( 2 )
غیر محرم لڑکے لڑکیاں کا آپس میں ملنا جو کہ سراسر حرام ہے ذرا سوچیں آپ جس کی بہن کے ساتھ وہ نازیبہ و گندی حرکتیں کر رہے ہیں اگر وہی شخص آپ کی بہن کے ساتھ وہی حرکت کرے
تو کیا آپ دیکھنا گوارہ کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
تو بہلا کوئی دوسرا شخص کیسے گوارہ کرے گا کہ آپ ان کی بہن بیٹیوں کے ساتھ ویسی گندی حرکتیں کریں
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم نے ارشاد فرمایا کہ والذي نفسي بيده لا يؤمن أحدكم حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه. (بخاری / رقم الحدیث 13 )
اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ اپنے بہائ کیلئے وہی چیز پسند کرے جو کچھ اپنے لیئے پسند کرتا ہو ۔۔۔
نمبر( 3 )
اس سےزنا کاری و بےحیائی کو فروغ ملتا ہے کیونکہ باحیا و پاک باز لڑکے لڑکیاں جو اس سے نابلدوناآشنا ہوتے ہیں وہ بھی دیکھا دیکھی اس بے حیائی اور فسق و فجور کے کام کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں
اسلیئے اس بے حیائی و فسق و فجور جیسے کام کرنے سے اجتناب کریں اور اسےاپنے معاشرے سے دور کرنے کی حتی الامکان کوشش کریں
کیونکہ مومن کبھی بے حیا و بے غیرت نہیں ہوتا کیونکہ نبی نے فرمایا ۔۔ لكل دين خلقا و خلق الإسلام الحياء ( ابن ماجہ رقم الحدیث 4181 )
کہ ہر دین میں عمدہ اور اچھے اخلاق کی ایک صفت ہوتی ہے اور اسلام حسن اخلاق کی اہم صفت حیا ہے
اور اللہ نے سورہ فرقان آیت نمبر 68 میں کہا ولا يزنون/
کہ اللہ کے نیک بندے زنا نہیں کرتے اور سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر 32 میں کہ لوگوں زنا کے قریب مت جاؤ

خلاصہ کلام کہ ویلنٹائن ڈے کا منانا مذہب اسلام میں جائز نہیں ہے بلکہ حرام ہے لہذا اس برائی سے خود بھی بچیں اور دوسرے کو بھی بچنے کی تلقین کریں
اللہ تعالٰی ہم سب کو اس بے حیائی اورفسق و فجور جیسی برائ سے بچائے آمین

آپ کا دینی و ملی بھائی انظارالحق قمری

پرسونی بسفی مدہوبنی بہار
رابطہ کیلئے 7808101951

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close