مضامین و مقالات

عصری اداروں میں اسلامیات کی تعلیم وقت کی اہم ترین ضرورت! مولانا محمدمجیب الدین قاسمی (ایم اے)

تعلیم ہرانسان کی بنیادی ضرورت ہے؛ اس کے بغیر دینی اور دنیوی زندگی میں کامیابی کا تصور ممکن ہی نہیں؛ کیونکہ تعلیم دنیائے انسانیت کا وہ بیش بہا قیمتی اثاثہ ہے جو کسی بھی انسان کوصحیح معنی میں انسان بننے میں مدد فراہم کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار بندہ، ملک کا بہترین شہری اور انسانیت کا سچا خادم بننا تعلیم کے ذریعہ ہی ممکن ہے، کردار کی بلندی اور اخلاقِ حسنہ کی تعمیر میں تعلیم کا بڑا مؤثر رول ہے، ملک اور قوم کی ترقی میں تعلیم کوبنیادی اینٹ اور اساس کا درجہ حاصل ہے، تعلیم ہی کے ذریعہ غربت وافلاس کا خاتمہ ہوتا ہے؛ اسی سے عروج واقبال نصیب ہوتا ہے، عہدہ ومنصب، سیادت وقیادت اور اعزاز واکرام سب اسی تعلیم کی کرشمہ سازی اور مرہونِ منت ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ امَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ (المجادلہ:۱۱) ’’تم میں سے جولوگ ایمان لائے اور جنہیں علم دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ ان کے درجے بلند کرے گا‘‘ اس آیت کے تحت علامہ قرطبیؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اہل علم کوآخرت میں اجروثواب سے توضرور نوازے گا ہی دنیا میں بھی فضیلت وبرتری عطا کرے گا (الجامع لاحکام القرآن:۱۷/۲۹۹) غرض یہ کہ تعلیم سے بڑھ کر کوئی چیز بھی قابل قدر نہیں؛ کیونکہ اہل حکومت اپنی قیادت کی وجہ سے عوام پرحکومت کرتے ہیں اور اصحابِ علم اپنے علم کی بناپر عوام اور اہل حکومت کے دلوں پر حکومت کرتے ہیں، المختصر یہ کہ امت مسلمہ کی سیاسی، سماجی، معاشی اور اقتصادی ترقی کا سبب حقیقی تعلیم ہی ہے۔
الحمد للہ، اللہ کا شکر ہے کہ اِدھر چند برسوں سے حصولِ تعلیم کی طرف عوام وخواص اپنی خصوصی توجہ مبذول کیئے ہوئے ہیں اور اس کی اہمیت کوسمجھ رہے ہیں یہ بڑی خوش آئند بات ہے؛ کیونکہ تعلیم ہی انسانی زندگی میں فکری اور ذہنی انقلاب کا مؤثر ذریعہ ہے، سرکاری تقویم میں جون کا مہینہ اس حیثیت سے اہمیت کا حامل ہے کہ عصری اداروں کے تعلیمی سال کا آغاز اسی مہینہ میں ہوتا ہے، قدیم وجدید داخلوں کی کاروائی عمل میں آتی ہے، طلبہ وطالبات اور ان کے والدین اسکولوں اور کالجوں کا رُخ کرتے ہیں، اس مہینہ کی آمد سے قبل ہی اولیائے طلبہ اچھے اور معیاری اسکولوں کے انتخاب کی فکر میں سرگرداں رہتے ہیں، اسکول انتظامیہ اور اس کے مینجمنٹ کی حسن کارکردگی خاص طور سے عصری اداروں کے S.S.C اور C.B.S.C کے نتائج ودیگر سہولیات پرتذکرے تبصرے شروع ہوجاتے ہیں، عصری اداروں کے ذمہ داران بھی اس سلسلہ میں کافی حساس نظر آتے ہیں، اخبارات ودیگر تشہیری ذرائع سے اپنے اداروں کی حسن کارکردگی، دسویں جماعت کے نتائج اور دیگر سہولیات سے لوگوں کو باخبر کرواتے رہتے ہیں اور اب تومسابقت کے دور میں ہرایک دوسرے سے آگے بڑھنے اور خود کوبہتر بتانے کی فکر میں اس قدر مست ہے کہ بہت سے عصری ادارے تعلیمی سازوسامان، نصابی کتب، اسکول یونیفارم وغیرہ تک مفت تقسیم کرنے لگے ہیں، یہ جذبہ اگر واقعی ملت کی تعلیمی پسماندگی وناخواندگی دور کرنے اور انہیں تعلیمی میدانوں میں آگے بڑھانے اور فکری شعور بیدار کرنے کی غرض سے ہے توحقیقتاً لائقِ تحسین اور قابلِ مبارکباد ہے؛ ورنہ اگر اس کے پس پردہ کوئی اور نیت کارفرما ہے تواصلاحِ احوال کی ضرورت ہے؛ کیونکہ آج ملت کوتعلیم کی ضرورت ہے، مہنگی تعلیم کی نہیں، تعلیم کے ذریعہ ملتِ اسلامیہ کوجذبۂ ہمدردی سے واقف کروانے کی ضرورت ہے، تعلیم کومتاعِ خرید وفروخت بناکر ان میں کمرشیل ذہنیت پیدا کرنے کی نہیں، تعلیم کے ذریعہ لوگوں میں میل ملاپ اور آپسی اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ تعلیم کے نام پرپڑھنے والوں کے دلوں میں قساوت اور انہیں پیسے بنانے اور کمانے کی مشین بنانے یاتیار کرنے کی نہیں، واقعی یہ مسئلہ آج ہم سب کے لیے بالخصوص اُمت مسلمہ کے لیے سوہانِ روح بنا ہوا ہے، آج سرپرست حضرات اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے نونہالوں کے لیے بہتر سے بہتر اورخوب سے خوب ترادارہ تجویز کریں؛ جہاں ان کا مستقبل تابناک اور درخشاں ہوسکے وہ سماج اورمعاشرہ کے لائق اور قابل شہری بن سکیں؛ لیکن اس وقت اس سے کہیں زیادہ قابل توجہ اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے نونہالوں کے لیے ایسی تعلیم کا نظم کریں جودنیوی ترقی اور معاشی استحکام کے ساتھ ان کے دین وایمان کے بقاء کی ضامن ہو، موجودہ پرفتن دور میں ارتداد کی تیز وتند ہواؤں کے مقابلہ میں اُن کے لیے سینہ سپر ہوکر کھڑا ہوجانا آسان ہو اور وہ اس قابل ہوں کہ خود اپنے ایمان وعقیدہ کی حفاظت کرسکیں؛ اگر والدین اس حساس ونازک پہلو پر توجہ نہ دیں توصدفیصد ممکن ہے کہ عصری تعلیمی قابلیت کی وجہ سے ان کی دنیا توسنور جائے مگر ساتھ ہی دین وایمان اور عقیدہ وعمل کا جنازہ بھی نکل جائے اور والدین کوخبر تک نہ ہو۔
عصر حاضر میں یہ سوال بڑے شدومد کے ساتھ اُٹھتا رہتا ہے کہ آخر ہم اپنے نونہالوں کوکونسی تعلیم دلائیں؟ دینی یادنیوی؟ کیونکہ آج زیادہ ترلوگ عصری تعلیم کی طرف متوجہ ہورہے ہیں اور معاذ اللہ دینی علوم سے اپنے بچوں کوآراستہ کرنا بے فائدہ، نامناسب یاکم از کم دنیوی ترقی میں رُکاوٹ ضرور سمجھتے ہیں؛ چنانچہ سچرکمیٹی کی رپوٹ کہ ’’۹۵/فیصد مسلم طبقہ عصری تعلیم کے حصول میں لگا ہوا ہے، باقی صرف ۵/فیصد طبقہ دینی مدارس میں پڑھتا ہے‘‘ اس نظریہ کونہ صرف تقویت فراہم کرتا ہے بلکہ مسلم معاشرہ کی دین بیزاری اور علومِ دینیہ سے دوری کا واضح ثبوت بھی پیش کرتا ہے، درحقیقت ہمیں اس سوال کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ موجودہ دور میں صرف عصری علوم کافی ہیں یاصرف دینی تعلیم یادونوں کی یکساں ضرورت ہے یاان میں قدرے تفاوت ہے۔
اولاً یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اسلام ملک وقوم کے لیے مفید علوم وفنون کا کبھی بھی مخالف نہیں رہا، یہ صحیح ہے کہ اسلامی شریعت میں دینی علوم کواوّلیت وترجیح حاصل ہے؛ لیکن اس نے انسانیت اور معاشرہ کے لیے کارآمد تمدنی وعصری علوم کی افادیت سے کبھی بھی انکار نہیں کیا، علمائے دین پر یہ غلط الزام ہے کہ وہ عصری وفنی علوم وفنون کے حصول کوناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں؛ ایسا ہرگز نہیں ہے؛ بلکہ انہوں نے صرف سماج کونقصاندہ اور جدید تعلیم کے غلط اثرات سے بچانے کی کوشش کی ہے، دینی علوم اور جدید عصری وفنی علوم وفنون کے درمیان تصادم کا تعلق نہیں؛ بلکہ تعاون واشتراک کا رشتہ ہے؛ اگردونوں علوم کے افراد نیک جذبے اور خلوص سے باہمی میل ملاپ کے ساتھ کام کریں توملک وقوم کے حق میں بڑے اچھے اور مفید اثرات مرتب ہونگے؛ کیونکہ جیسے علمائے دین سے عوام وخواص کا اٹوٹ رشتہ ہے وہیں جدید تعلیم یافتہ طبقہ بھی ملت کا ناقابل فراموش حصہ اور عظیم سرمایہ ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ عصری تعلیم اسلامی اور اخلاقی کردار کی سرپرستی سے بالاتر اور آزاد رہ کر ملک وقوم اور معاشرہ کے لیے مفید ثابت نہیں ہورہی ہے؛ کیونکہ آج عصری علوم وفنون نے انسان کوایک مشینی پُرزے کے خول میں جکڑ کررکھ دیا ہے، جس سے وہ خودغرضی اور مادیت کی تصویر بن کررہ گیا، وہ ہرچیز کوصرف دنیا ہی کی نظر سے دیکھنے کا عادی ہوچکا ہے اور مادی اغراض کا پہلو اس قدر غالب آچکا ہے کہ اخلاقیات اور امن ومحبت پرمبنی ملک ومعاشرے کی تشکیل وتعمیر کا امکان موہوم سے موہوم تر ہوتا جارہا ہے؛ کیونکہ اخلاقی اقدار کوعصری تعلیم سے خارج کردینے کی وجہ سے باہمی رشتوں کا احترام بالکل ختم سا ہوگیا ہے؛ اسی لیے یہ سوال کھڑا ہوتا ہے کہ آیا ہم اپنے نونہالوں کوعصری علوم سے آراستہ کریں یاعلومِ دینیہ سے مزین کریں؟ اس خصوص میں مسلمان تعلیم کے میدان میں دوطرفہ خطرے اور اندیشے سے دوچار ہیں، ایک طرف وہ ملک کے تعلیمی نظام کی توسیع وترقی سے بہرہ ور نہیں ہوسکے ہیں تودوسری طرف ملک کے عام تعلیمی نظام میں ان کے دینی اور ثقافتی تشخص کے مٹنے کے سنگین اندیشے ہیں۔
چنانچہ خالص عصری نصاب (جودرحقیقت یہود ونصاریٰ کا تیار کردہ ہے) جس میں اسلامیات شامل ہی نہ ہو مسلم معاشرہ کے لیے انتہائی مضر ثابت ہورہا ہے، جدید عصری تعلیم کی بنیاد ہی دین بیزاری پر ہے، اسلام دشمن طاقتوں کا مقصد ہی یہ ہے کہ تعلیم کے نام پر نئی نسل کودین اسلام سے دور کیا جائے، ان کے ذہنوں میں اسلامی تعلیمات کے متعلق شکوک وشبہات پیدا کیئے جائیں؛ چنانچہ ہمارے ان طلبہ کو اسکولوں اور کالجوں میں جونصاب پڑھایا جارہا ہے اس کا بانی مبانی ’’لارڈمیکالے‘‘ ہے اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان تعلیمی خرافات کے خلاف نہ طلبہ آواز اُٹھاتے ہیں نہ اساتذہ؛ چنانچہ اس وقت مسلم گھرانے کے بچے ایسے اسکولوں میں جارہے ہیں؛ جہاں کی رنگارنگ تہذیب وثقافت متاع دین وایمان پر شب خوں مار رہی ہے؛ کیونکہ وہاں جوکچھ ہے وہ ایمان واسلام کے ماسواء ہے؛ ایسا کلچر ہے جوسلوپائزن کی طرح دھیرے دھیرے ایمان کی جڑ کاٹ رہا ہے؛ ایسی صورت میں بچے کی فطری معصومیت، سلامت روی، ایمانی نور، توحیدی مزاج، دینی حس متأثر ہوتی جائے گی، وہ معصوم بچہ کشمکش کا شکار ہوگا کہ گھر میں تواس عقیدہ پرزور کہ اللہ ایک ہے اور یہاں کانوینٹ اسکول میں God is Three خدا تین ہیں (پرمیشور، مریم اور یسوع مسیح) اسی طرح گھر میں صرف اللہ کی عبادت کی بات اور یہاں اسکول میں سرسوتی دیوی کی پوجا، گھر میں صرف اللہ کے آگے جھکنے اور ہاتھ پھیلانے کی تعلیم اور یہاں سوریہ نمسکار یعنی سورج کونمسکار کرنا ہے، یہ ایسی صورتحال ہے جونہایت خطرناک اور معصوم بچوں کے لیے انتہائی پریشان کن ہے، اس سے نہ صرف بچوں کی فطری معصومیت مجروح ہوگی؛ بلکہ اس کی سوچ بھی بدل جائے گی اور اس انحراف وبرگشتگی کی ساری ذمہ داری والدین، گھرانہ اور مسلم معاشرہ پر ہوگی، یہ توکلچر وثقافت کی بات ہے پھر تعلیمی مواد اور تعلیم گاہیں ان کی صورتِ حال اور بھی ابتر ہے؛ چنانچہ آج کی عصری تعلیم گاہیں جہاں ہرقسم کی سہولیات مہیا کروائی جارہی ہیں درحقیقت وہ جگہیں بے جان ہیں، جہاں علم ہے نہ کردار، نہ دین ہے نہ جذبہ؛ ایسی تعلیم گاہوں سے علم حاصل کرکے کہاں سے دین کے لیے مرمٹنے کا جوش وولولہ آئے گا؟ ان کے دل پر جب اغیار کی عظمت کے نقوش ثبت ہیں تووہ اپنی کسی چیز پر فخر کیسے کریں گے؟ اگر ان کے کانوں میں مغربی تہذیب کے راگوں کے الاپ ہی پڑے ہیں تووہ اپنی تہذیب میں کسی خوبی کا نشان کیسے پائیں گے؟ چونکہ ثقافت اور دین کا گہرا تعلق ہے؛ لہٰذا اگر ان کے دل ارتداد کی طرف مائل ہوں تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟ جس طرح دہلی کے اقبال عالم ولد یوسف علی نے اپنا نام بدل راج گپتا کرتے ہوئے دہرہ دون کی ترپتی گپتا دختر انل کمار گپتا سے شادی کرلی (انڈین ایکسپریس، دہلی:۳/اپریل ۲۰۱۳ء؁) یعنی ارتداد کی راہ اختیار کرلی؛ اسی پر بس نہیں! بلکہ اس ثقافت کی بربادی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ہمارے نوجوان اب ان کتابوں سے تک ناواقف ہیں جو ہمارے لیے مشعلِ راہ تھیں، اس کا توذکر ہی کیا ہے جن قدروں پر ہماری انفرادی وملی زندگی کی تعمیر ہونی تھی وہ استہزاء اور نسیان کے سپرد ہوگئی ہیں؛ نیز یہ بھی کوئی باعث تعجب نہ رہا کہ ہم اپنی قومیت وثقافت کو مغرب کی ثقافت پر قربان کردیں اور اس پر نہ ہماری آنکھ میں نمی ہے، نہ دل میں درد، نہ لبوں پر آہ اور اگر کسی واقف راز کے دل سے آہ نکلتی بھی ہے تو دوسرے حیرت سے اس کا منہ تکتے ہیں کہ ایسی خوشی کی گھڑی میں یہ بدشگونی کیسی؟ یادرکھیں! انسانی تجربہ سے واضح ہے کہ مذہب کوترک کرکے انسان نہ صرف یہ کہ اخلاقی حیثیت سے تباہ ہوجاتا ہے بلکہ خود مادی وسائل کے استعمال میں بھی توازن نہیں رکھ سکتا جوفلاح وخوشحالی کے لیے ناگزیر ہے، عصری تعلیم کے نصاب پرغور کریں تومعلوم ہوگا کہ اسلام دشمن طاقتیں نرسری سے لیکر اعلیٰ سطح تک اور پھرمڈیا کے ذریعہ روزمرہ کی زندگی میں ہرشعبۂ زندگی اور ہرسبجیکٹ ومضمون اپنے ہی نقطۂ نظر سے پھیلاتے اور پڑھاتے ہیں کہ اگر کچھ اسلامی رمق اور شرارہ کے حامل مسلمان پوری طرح ان کے رنگ میں رنگنے کے لیے تیار نہ ہوں توان کوسیکولرزم کے نام پر لادینیت اور الحاد کے جال میں جکڑ دیا جائے، اس لیے ضرورت ہی نہیں اشد ضروری ہے کہ عصری اداروں میں اسلامیات کی تعلیم لازم کی جائے؛ اس کے لیے صرف ایک آدھ گھنٹہ کافی نہیں جوبرائے نام پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں دینیات کے نام پر ایک سبجیکٹ ہوتا ہے؛ بلکہ اس مسئلہ کا سب سے کارگر اور واحد حل یہی ہے کہ ابتداء سے لیکر اعلیٰ سطح تک تمام درسیات اسلامی نقطۂ نظر سے لکھی جائیں، ان کے ذریعہ تعلیم دلائی جائے، اس طرح بچپن ہی سے ہونے والی تربیت کے نتیجے میں مسلمانوں کی نسلیں مسلمان رہیں گی، ان کا معاشرہ اسلامی ہوگا اور سب سے اہم فائدہ یہ ہوگا کہ اسلامی اُصولوں پردرسیات پڑھنے پڑھانے سے نئی نسل کوانجامِ بد اور برے حشر سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے، اس امر کی خاص ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کوعصری تعلیم کے ساتھ صحیح اسلامی تعلیمات سے بھی آراستہ کریں؛ کیونکہ بچے والدین کے پاس اللہ کی امانت ہیں، اس امانت کی پاسداری اس طرح ہوسکتی ہے کہ ان کی تربیت اور نگہداشت اس طرز پر کی جائے کہ ان کی فطری سلامت روی میں کوئی کمی اور کجی نہ آنے پائے، اسی لیے نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’جب بچہ بولنا شروع کرے تو اسے لاالہ الا اللہ سکھاؤ‘‘ آپؐ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ ’’بچے کا اپنے باپ پرحق ہے کہ وہ ان کا اچھا نام رکھے اور ان کواچھی تہذیب سکھائے؛ اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ ’’آدمی کا اپنے بچہ کو ادب سکھانا ایک صاع صدقہ کرنے سے بہتر ہے، ان احادیث سے یہ بات بخوبی ثابت ہوتی ہے کہ ادب وشائستگی کی تعلیم اور اس کے لیے فکر مندی کے ساتھ سعی وکاوش والدین کی ذمہ داری ہے؛ کیونکہ لڑکپن میں بچوں پر جورنگ چڑھ جاتا ہے وہ تاحیات قائم رہتا ہے، اس لیے اگر ہم ابتداء ہی سے ان معصوم غنچوں میں حسن ادب، پاکیزہ سیرت، بلند اخلاق کی دل آویز خوشبو پیدا کردیں تویہ خود بھی ہمیشہ معطر رہیں گے اور دوسروں کوبھی معطر کرتے رہیں گے؛ نیزاگر گھر اور تعلیمی اداروں دونوں کا ماحول اور فکر وثقافت یکساں ہو گھر پر خالص دینی تعلیم کا نظام اوور والدین اخلاقی تعلیم کا نمونہ پیش کریں توکیا کہنا، نور علی نور کا مصداق ہوگا۔
اس پوری بحث سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ ہوگا کہ صرف عصری تعلیم اسلامیات کے یااسلامی ماحول کے بغیر ہماری نسلوں کے لیے سم قاتل اور ان کے دین وایمان اور عقیدہ وعمل کا جنازہ نکالنے کے مترادت ہے یایوں کہیے کہ دبے پاؤں انہیں ارتداد کی وادی میں ڈھکیل دینا ہے، اس لیے موجودہ دور میں عصری تعلیم کے ساتھ اسلامیات کی تعلیم بھی لازم اور ضروری ؛ بلکہ نصاب کا جز ہونا چاہیے جس سے بچوں میں اسلامی روح باقی رہے؛ جہاں تک عصری تعلیم کے بغیر صرف علومِ دینیہ کی بات ہے تویہاں یہ بات ذہن نشن رہے کہ عموماً لوگ دنیوی تعلیم کی طرف صرف اس لیے جاتے ہیں کہ روزگار، آمدنی اور بہتر مواقع زندگی اور کثیر وسائل واسباب دنیا اسی سے پیدا ہوتے ہیں؛ مگر یاد رکھیں! یہ خام خیالی ہے؛ کیونکہ دنیوی رزق ہماری کوشش ومحنت سے زیادہ تقدیر پر موقوف ہے؛ کہاوت مشہور ہے کہ ’’اگر رزق کا تعلق صرف عقل سے ہوتا توبے وقوف بھوکے مرجاتے‘‘ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْْنَہُم مَّعِیْشَتَہُمْ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَرَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ (الزخرف:۳۲) ترجمہ: ’’دنیوی زندگی میں ان کی روزی کے ذرائع بھی ہم نے ہی ان کے درمیان تقسیم کررکھے ہیں اور ہم نے ہی ان میں سے ایک کودوسرے پر درجات میں فوقیت دی ہے‘‘ (توضیح القرآن:۳/۱۴۹۴) چنانچہ جو طلبہ صرف علومِ دینیہ کی طرف اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں الحمد للہ ۹۹/فیصد ان کا دین وایمان بھی سلامت رہتا ہے اور عقیدہ وعمل کے لحاظ سے بھی وہ مضبوط ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے دین کی خدمت کی وجہ سے دنیا میں بھی چمکاتے ہیں اور تقریباً معاش کے اعتبار سے بھی خوشحال ہی رہتے ہیں لہٰذا معلوم ہوا کہ صرف دینی علوم جوعصریات کے بغیر حاصل کیئے جائیں ایک خیرکثیر ہے اور ہرحال فائدہ مند ہے؛ مگر صرف عصری علوم جواسلامیات کے بغیرہوں اُن کا معاملہ ایسا نہیں ہے؛ البتہ یہ مسئلہ قابل توجہ ہے وہ طلبہ جوصرف علوم دینیہ کے حصول میں لگے ہوئے ہیں یادینی خدمات ہی ان کا محور ومرکز ہے یہ طبقہ اسلامی حلقوں میں توخوب کام کرتا ہے مگر دوسرے طبقات پر اثرانداز ہونے کے لیے یہ بہتر ہے کہ وہ عصری علوم بالخصوص زبان دانی وسائنسی علوم کی طرف توجہ دے، علمائے کرام کے لیے یہ مسئلہ موجودہ دور کا اہم تقاضہ ہے کیونکہ وہی مسلمان اپنے سماج اور ملک پر اثرانداز ہوسکتا ہے جودین ودنیا دونوں میں ایک مقام رکھتا ہو؛ چنانچہ عصری تعلیم کے اعتبار سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو دنیا میں خاص مقام رکھتے ہیں؛ مگر ان کا کوئی گہرا اثر نہیں ہے؛ اسی طرح بہت سے لوگ دینی تعلیم میں بلند مقام رکھتے ہیں لیکن ان کا اثر اسلامی حلقوں میں محدود ہے وہ دوسروں پر اثرانداز نہیں ہوسکتے، مخلوط معاشرے میں اثرانداز ہونے کے لیے ہمیں ایک مؤثر مقام بنانا ہوگا اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہمارے طلبہ دین وودنیا دونوں میں ایک اچھا مقام حاصل نہ کریں؛ تاکہ پورے اعتماد کے ساتھ اپنا مطمح نظر پیش کرسکیں؛ اس کے لیے پاکیزہ ماحول میں نفع بخش علوم وفنون کی تعلیم کا معیاری نظم وانتظام وقت کی اہم ضرورت ہے اور ایسے اداروں کے قیام کے لیے ہمہ جہت عملی اقدام وقت کا اہم تقاضہ ہے؛ کیونکہ تعلیم کا مقصد وہی ہے جوزندگی کا مقصد ہے اور زندگی کا مقصد رب کی معرفت؛ اس کی رضا کی طلب اور اس کی مخلوق کی خدمت ہے، کھانا کمانا اور مرجانا زندگی کا مدعا ہرگز نہیں ہے، جانوروں کی زندگی بھی اس سے مختلف نہیں ہوتی، اس لیے انسان کی زندگی کا مقصد اور تعلیم کا مدعا بھی اعلیٰ وارفع ہونا چاہیے، جس سے دنیا بھی سنورے اور آخرت کی کامیابی بھی نصیب ہو، آج مدارس میں عصری تعلیم کی بات توہرکوئی بڑے کروفر سے کرتا ہے کہ اگر مدارس کے طلبہ عصری تعلیم سے نابلد رہے توان کا علم ادھورا رہ جائے گا اور وہ دعوتِ دین کے فرائض سے عہدہ برآ ہوہی نہ پائیں گے وغیرہ، مگر افسوس! کہ عصری اداروں میں دینی تعلیم کی بات دبیز الفاظ میں کرتے ہیں؛ حالانکہ جتنی ضرورت مدارس میں عصری تعلیم کی ہے اس سے ہزارگنا زیادہ اہمیت کا حامل یہ مسئلہ ہے کہ عصری اداروں میں اسلامیات کی تعلیم کوفروغ دیا جاے، تمام اسکولوں میں ایک مشترکہ دینی نصاب اختیار کیا جائے، شرعی وفقہی مسائل پڑھائے جائیں جس کوحاصل کرنے کے بعد طالب علم اسلام کی امتیازی خصوصیات اور اس کی تاریخ سے واقف ہوسکے، یادرکھیں! مسائل کا حل صرف لکھنے بولنے اور پڑھنے سے حاصل نہیں ہوتا اس کے لیے عمل ضروری ہے، ائے کاش عمل!… عمل!… عمل!…۔mujeebuddin2012@gmail.com

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close