مضامین و مقالات

مسلمانوں کے لیے سیاست کیوں ضروری ہے؟ از قلم تنویر عالم دربھنگوی متعلم: دارالعلوم وقف دیوبند

یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اسلام میں
سیاست کو یکتا ومنفرد حیثیت حاصل ہے اور یہ کافی اذیت ناک عنوان ہے جودل کو تڑپا دیتا ہے ہے ،آنکھوں کواشکبار کریتاہے۔اس لئے اس موضوع پر کچھ لکھنا،گویا کہ اپنے دردکے ساز کو چھیڑ نے، بلکہ اپنے دل کے زخموں سے کھیلنے کے مترادف ہے ۔یہ موضوع ہمیں حال کے حالت زار پر رلاتاہے،تو دوسری طرف گلستان ماضی کی سیر بھی کراتاہے ۔جب بات عصر حاضر میں لوگوں کی حالت وکیفیت کی آتی ہے خیر میں آپ کو بتادوں، کہ لفظ سیاست کے معنی انتظام وانصرام کے ہیں،اور اسلام نام ہے موالید ثلاثہ(شریعت،طریقت اور سیاست )کا یہ تین چیزیں اکھٹی ہونگی، تواسلام بنیگا اور سیاست علم حکمت کا وہ گوشہ ہے، جوذاتی حالات اور خاندانی نظام سے اٹھ کر ملکی نظام کے استحکام، امن و امان کا قیام، جرائم کی روک تھام،اور مجرموں کو کیف کردار تک پہونچانے، نیز عوام کو بہتر سے بہتر مواد اور سہولیات فراہم کرنے کا ۔دین کا سیاست سے اس قدر گہرا تعلق ہے، جیسا کہ عین نماز کا رکوع اور سجدہ سے ۔علم سیاست کوئی جدید علم نہیں؛بلکہ یہ ایک پرانا اور قدیم علم ہے جس کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:كَانَت بَنُو إسرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الأَنْبياءُ، كُلَّما هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبيٌّ آخر،وَإنَّهُ لا نَبِيَّ بَعدي، کہ بنی اسرائیل کے انبیاء ان کی سیاسی رہنمائی بھی کیا کرتےتھے،جب بھی ان کا کوئی نبی ہلاک ہوجاتے،تو دوسرے ان کی جگہ آموجود ہوتے، لیکن یادرکھو کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ۔دوسری جگہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: "من مات وليس في عنقه بيعة مات ميتة جاهلية” (مسلم) کہ اس شخص کی موت جہالت کی موت ہے جو سیاست سے کنارہ کش ہوجائے اور کسی قائد یا حکمراں کی حمایت کیلئے کمر بستہ نہ رہے؛ یہی وجہ ہے کہ سیاست کو دین کا مقصود اصلی قراردیتے ہوے کہا گیا، کہ سیاسی جدوجہد میں تھوڑے بہت مکروہات کا بھی ارتکاب ہوجائے تو کوئی مضائقہ نہیں، سیاست کے تعلق سے اسلام نے بہت سے احکام عطافرمائے ہیں ۔اسی کے پیش نظر یہ بات کہی گئی کہ قیادت وسیادت مسلمانوں کے خمیر کا عنصر ہے اور ان ان کا سیاست میں حصہ لینا ان ملی وہ دینی فریضہ کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے اسلاف واکابر کی شاندار روایات کا اہم حصہ اور ان کا ورثہ بھی ہے۔ جی ہاں جب سیادت وقیادت اسی اسلام کے ماننے والوں کے ہاتھوں میں تھی تو اقوام عالم انہیں سلامی دیتی تھی جن کے حکم کی تابعداری جنگل کے بے زبان جانوروں نے کی تھی ۔لوگوں کی زندگی مسرتوں وشادمانی سے لبریز تھی ان کے رخساروں کی تابندگی کبھی مایوسی میں تبدیل نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ھیکہ کامیابی وکامرانی ان کا استقبال کرتی تھیں ۔وہ جن راستوں سے گزرتے فضائیں ان کے کردار وعمل کی خشبو سے معطر ہوجاتی تھیں، جس کی بستی اور آبادی میں داخل ہوتے وہاں کے باشندے ان کا خیر مقدم کرتے تھے، کیالوگ تھے جو راہ وفاسےگزرگئے جی چاہتا ہے نقش قدم چومتا چلوں
حیف صد حیف! عصر حاضر میں اسی اسلام کے ماننے والوں کی حالت وکیفیت ان کے بالکل برعکس ہے
آج! ضرورت ہے قوم وملت کو ایک ایسے مسلم رہنما اور لیڈر کی جوعوام کو ملی انتشار اور گروہی اختلافات سے ہٹ کر رنگ و نسل اور مذہب وملت کی تفریق کو مٹاکر انہیں اتحاد واتفاق کے ایک پلیٹ فارم پر لا سکے، ملک سے ظلم و ستم کا خاتمہ کر کے امن و آشتی کا پرچم لہراسکے
ازقلم محمد تنویر عالم دربھنگوی

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close