مضامین و مقالات

رشتہ داری۔ آداب واحکام ! مولانا محمد مجیب الدین قاسمی ایم اے

انسانی معاشرہ زندگی کی حقیقی مسرتوں سے اس وقت لطف اندوز ہوسکتا ہے جب ہر خاندان کے افراد باہمی محبت وپیار سے ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہوں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکومت ومشیت سے پیدائش کا ایسا نظام بنایا ہے، کہ ہر پیدا ہونے والا رشتوں کے بندھنوں میں بندھا ہوتا ہے، ان رشتوں کے کچھ فطری تقاضے اور حقوق ہیں، جن کا عنوان اللہ تعالیٰ نے ’’رحم‘‘ مقرر کیا ہے، جو درحقیقت اس کے پاک نام رحمن سے مشتق ہے، (یعنی دونوں کا مادہ ایک ہی ہے ) جو بندہ انسان کی فطرت میں رکھے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے مقرر کئے ہونے ان حقوق اور تقاضوں کو ادا کرے گا یعنی صلۂ رحمی کرے گا اس کیلئے اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے کہ وہ اس کو جوڑے گا ، اپنا بنا لے گا، اور اپنے فضل وکرم سے نوازے گا اور جو اس کے برعکس قطع رحمی کا رویہ اختیار کرے گا، قرابت کے ان حقوق کو پامال کرے گا جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں اور خون انسان کی فطرت میں رکھے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس کو توڑ دے گا اور اپنے قرب اور رحم وکرم سے محروم کردے گا، اسی لئے معاشرت کے باب میں صلۂ رحمی، رواداری ، اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کی بڑی اہمیت ہے، اور اس سلسلہ میں تاکیدی احکام ہیں:
صلۂ رحمی کی اہمیت اور فضائل:
اسلامی تعلیمات میں والدین کے علاوہ دوسرے اہل قرابت کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوق کی ادائیگی پر کافی زور دیا گیا ہے، جس کیلئے ’’صلۂ رحمی‘‘ کا خاص عنوان مقرر کیا گیا ہے، اس مختصر مگر جامع عنوان سے مراد یہ ہے کہ رشتہ داروں سے بھلائی اور احسان سے پیش آنا، ان کی ضروریات پوری کرنا اور حسب موقع اپنے دست بازو سے ان کے کام آنا ، قرآن کریم میں تقریباً بارہ مقامات پر رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک وروا داری کی تلقین کی گئی ہے، اور جہاں والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید فرمائی گئی وہیں ’’ذوی القربیٰ‘‘ فرما کر دوسرے اہل قرابت کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوق قرابت کی ادائیگی کی بھی وصیت فرمائی گئی ہے، چنانچہ ایک سائل کے جواب میں رسول ﷺ کا یہ ارشادفرمانا کہ ’’خدمت اور حسن سلوک کا سب سے پہلا حق تم پر تمہاری ماں کا ہے، اس کے بعد باپ کا اور اس کے بعد درجہ بدرجہ دوسرے اہل قرابت کا ‘‘
(مسلم :2548، باب بر الوالدین)
صلۂ رحمی اور رشتہ داری کی اہمیت کی بڑی واضح دلیل ہے، کہ والدین کے بعد رشتہ دار اور قرابت دار ہی انسان کے حسن سلوک کے حقدار ہیں۔
رسولﷺ نے اپنے ارشادات کے ذریعہ صلۂ رحمی کی اہمیت اور اس کے فضائل وبرکات بیان فرمائے ہیں، نیز اس کے برعکس قطع رحمی کے برے انجام سے بھی باخبر کیا ہے ، تاکہ امت مسلمہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقرر کردہ رشتہ داری کے حقوق کو ادا کرتے ہوئے انسانی فطرت کے تقاضوں کو پورا کرسکے، چنانچہ ایک حدیث قدسی میں ہے کہ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، کہ میں اللہ ہوں، میں رحمن ہوں، میں نے رشتہ قرابت کو پیدا کیا ہے، اور اپنے نام رحمن کے مادہ سے نکال کر اس کو رحم کا نام دیا ہے، جو اسے جوڑے گا میں اس کو جوڑوں گا اور جو اس کو توڑے گا میں اسے توڑوں گا۔ (صحیح ابن حبان :443)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسانوں کی باہمی رشتہ داری اور قرابت کے تعلق کو اللہ تعالیٰ کے نام پاک رحمن سے اور اس کی صفت رحمت سے خاص نسبت ہے، اور وہی اس کا سرچشمہ ہے، اس خصوصی نسبت ہی کی وجہ سے اس کا عنوان بھی اللہ تعالیٰ کے نام رحمن سے مشتق کرکے رحم مقرر کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کی اتنی اہمیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی یہ فیصلۂ فرمایا کہ جو صلۂ رحمی کرے گا یعنی قرابت اور رشتہ داری کے حقوق ادا کرے گا اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سے وابستہ کرلے گا اور جو کوئی قطع رحمی کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سے کاٹ دے گا اور بے تعلق کردے گا۔
ایک دوسری حدیث میں یہ مضمون یوں آیا ہے:
’’الرحم معلقۃ بالعرش تقول من وصلنی وصلۂ اللہ ومن قطعنی قطعہ اللہ ‘‘ (مسلم 2555 باب صلۃ الرحم)
یعنی رحم (رشتہ داری ) عرشہ الٰہی ہے آویزاں ہے اور کہہ رہی ہے کہ جس نے مجھے جوڑا خدا اسے جوڑے رکھے، اور جس نے مجھے قطع کیا اسے اللہ پارہ پارہ کردے۔
ان دونوں حدیثوں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلامی تعلیمات میں رشتہ داروں اور اہل قرابت کیساتھ حسن سلوک کی کتنی اہمیت ہے، اور اس میں کوتاہی کتنا سگین جرم اور کتنی بڑی محرومی ہے۔ صلۂ رحمی کی اہمیت کیلئے یہ بات بھی کافی ہوسکتی ہے، کہ وہ ایسا مبارک نیک عمل ہے جس پر اللہ تعالیٰ اس دنیا میں بھی برکتوں سے نوازتا ہے، حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی یہ چاہے کہ اس کے رزق میں فراخی وکشادگی ہو اور دنیا میں اس کے آثار قدم تا دیر رہیں، یعنی اس کی عمر داراز ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ رشتہ داروں کیساتھ صلۂ رحمی کرے۔
(مسلم 2557، باب صلۃ الرحم)
اس حدیث میں صلۂ رحمی کی دو دنیوی برکات بیان کی گئی ہیں، (۱) رزق میں وسعت (۲) عمر میں برکت ، یعنی صلۂ رحمی وہ مبارک عمل ہے جس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندہ کو دنیا ہی میں فراخی رزق اور عمر میں اضافہ نصیب ہوتا ہے، غور کریں! آج انسان کی ساری کوششوں اور محنتوں کا محور یہی دو چیزوں ہیں، انسانی معاشی خوش حالی اور حفظان صحت ہی کیلئے تمام تگ ودو کرتا ہے، رسول اللہﷺ نے ان دونوں اہم چیزوں کا بڑا آسان فارمولہ بتادیا کہ صلۂ رحمی اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک ان کے حصول کا موثر ذریعہ ہے، علماء نے لکھا ہے کہ صلۂ رحمی کی دو ہی صورتیں ہیں، ایک یہ کہ آدمی اپنی کمائی سے اہل قرابت کی مالی خدمت کرے، دوسری یہ کہ اپنے وقت اور اپنی زندگی کا کچھ حصہ ان کے کاموں میں لگائے، اس کے صلۂ میں رزق ومال میں وسعت اور زندگی کی مدت میں اضافہ اور برکت بالکل قرین قیاس اور اللہ تعالیٰ کی حکمت ورحمت کے عین مطابق ہے، آج کے اس مصروف ترین دور میں اگر کوئی اپنے رشتہ داروں کیلئے اپنا وقت اور اپنی زندگی کا کچھ حصہ نہ لگا پائے تو کم از کم مفلس ومفلوک الحال رشتہ داروں کی مالی امداد تو ہر حال لازمی ہے، تاکہ ان کی دعائوں سے مذکورہ دونوں برکتیں حاصل ہوسکیں، علاوہ ازیں اخروی اجر تو اضافہ مزید کی شکل میں ضرور عطا ہوگا، صلۂ رحمی کی اہمیت اور اس کے چند ایک فضائل مختصراً ذکر کئے جاتے ہیں، جو ذخیرہ احادیث میںموجود ہیں، صلۂ رحمی انسان کو اللہ تعالیٰ سے جوڑتی ہے، جبکہ قطع رحمی رحمت خداوندی سے کٹ جانے کا ذریعہ ہے، اس سے رزق میں وسعت ،عمر میںبرکت اور دنیا میں تعمیر وسربلندی حاصل ہوتی ہے، یہ قبولیت اعمال اور دخول جنت کا ذریعہ ہے، صلۂ رحمی کی نیت سے کیا جانے والا صدقہ دوہرے اجر کا باعث ہے، صلۂ رحمی ایمان باللہ اور ایمان بالاخرت کی نشانی ہے، صلۂ رحمی سے آدمی کے احترام ، عزت اور اس کے رعب کی حفاظت ہوتی ہے، اس سے دل کو اطمینان وسکون حاصل ہوتا ہے، صلۂ رحمی غائبانہ دعا کا ذریعہ ہے، اس سے آدمی بری موت سے محفوظ ہوجاتا ہے، اس سے گناہ مٹ جاتے ہیں،اور خطائیں معاف ہوجاتی ہیں، اور سب سے اہم یہ کہ صلۂ رحمی جنت میں اعلیٰ درجات حاصل کرنے کا ذریعہ ہے وغیرہ، مذکورہ فضائل وبرکات سے صلۂ رحمی کی اہمیت وفضیلت اور اس کے اجرو ثواب کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے، کہ یہ کتنا اہم ترین عمل ہے۔
قطع رحمی اور موجودہ صورتحال :
مگر افسوس! آج معاشرہ میں اس مبارک عمل سے کوتاہی اور قطع رحمی کا رواج روز افزوں ہے جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت سے محرومی کا سبب بن رہی ہے، قطع رحمی ایک ایسی بیماری ہے جو سرطان کی طرح انسانی معاشرہ کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے اور بہت سے باعمل اور دیندار لوگ بھی اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ امت مسلمہ آج جن مسائل سے دوچار ہے، اس میں قطع رحمی کا بھی بڑا کردار ہے، چنانچہ آج دنیا میں مسلمان جن حالات سے دوچار ہیں، اور ہر جگہ اللہ تعالیٰ کے غیض وغضب کا جو منظر نظر آرہا ہے، بلا شبہ وہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ہماری بہت سی بداعمالیوں کا نتیجہ ہے اور اس بربادی ومحرومی میں بڑا دخل ہمارا صلۂ رحمی سے متعلق بدلتا ہوا رویہ بھی لازما اس کا حصہ ہے، کیونکہ اس وقت صلۂ رحمی کی تعلیم وہدایت کو ہماری غالب اکثریت نے بالکل ہی بھلا دیا ہے اور اس باب میں ہمارا طرز عمل غیروں سے کچھ زیادہ مختلف بھی نہیں ہے، شریعت مطہرہ میں جہاں حسن سلوک کی اتنی اہمیت ہے ، اس پر بڑے اجروثواب کے وعدے ہیں، وہیں اس میں کوتاہی وغفلت اور قطع رحمی بڑا سنگین جرم اور عظیم محرومی ہے۔
قطع رحمی کا مطلب یہ ہے کہ رشتہ داروں کیساتھ بھلائی، حسن سلوک اور احسان کو ترک کرنا ان کی ضروریات پوری نہ کرنا یا کبھی ہاتھ اور زبان یا دونوں سے ان کو تکلیف پہنچانا ۔
چنانچہ قطع رحمی کے کچھ خاص رویئے اور مظاہرے ہیں جن کا ہمارے معاشرے میں مشاہدہ ہوتا رہتا ہے، جس سے قطع رحمی کی پہچان ہوتی ہے، مثلا کسی ناشائسہ وغیر مذہب گفتگو کے ذریعہ تکلیف دینا ، غیبت اور چغلی کے ذریعہ افواہیں پھیلا کر مختلف رشتہ داروں کے درمیان تعلقات خراب کرنا، گالی گلوج ، بددعا اور تحقیر آمیز غلط ناموں سے پکار کر ایذاء دینا وغیرہ۔ یہ وہ مظاہر ہیں جن کا تعلق زبان سے ہے، مار پیٹ کرنا یا معاملات زندگی میںباہم تعاون نہ کرنا ، مثلا شادی بیاہ ، اور دیگر امور دینوی وغیرہ، ذوی الارحام کی تکلیف اور مصیبت میں ان کا زبانی اور عملی طور پر مددگار نہ بننا یا ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو معاف نہ کرنا ،رشتہ داروں کے ساتھ بھلائی کرنے سے گریز کرنا ۔مثلا رشتہ داروں کے فقر وافلاس اور تنگی میں ان کے احوال پوچھنے اور داد رسی کرنے سے گریز کرنا، خوشی اور مسرت کے موقع پر مبارک باد نہ دینا، رشتہ داروں کی خبر گیری ان کے گھر آمد ورفت منقطع کردینا، ان کی خوبیوں ، اچھائیوں اور کمالات کے اظہار کے وقت خوش دلی یا چہرے پر مسکراہٹ پیدا نہ کرنا، بڑوں کو سلام میں پہل نہ کرنا یا مجلس میں بیٹھنے کے لیے جگہ نہ دینا، رشتہ داروں کی آمد پر خوشی اور خندہ پیشانی کا اظہار نہ کرنا، وغیرہ یہ وہ مظاہرے ہیں جو قطع رحمی کی ظاہری علامات ہیں، جن سے قطع رحمی کرنے والے اپنے رشتہ داروں سے تقریبا افراد کو سابقہ پڑتا ہے، اور اس سلسلہ میں شکوہ شکایت بھی ہوتی رہتی ہیں۔
قطع رحمی سے متعلق وعیدیں: قطع رحمی نہایت ہی سنگین گناہ اور برا عمل ہے جس کے اثرات نہایت مضر اور اس کے نتائج بڑے دور رس ہوتے ہیں، اس کے اثرات انفرادی بھی ہیں، یعنی افراد امت پر بھی پڑتے ہیں اور اجتماعی بھی یعنی بحیثیت امت اجتماعی طور پر بھی اس کے مضر اثرات نمایاں ہوتے ہیں، بے شمار آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ اس پر دلالت کرتی ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ قطع تعلق کرنے والے کی تعریف نہیں کرتا اور نہ ہی اسے اپنے قریب کرتا ہے، بلکہ وہ خدا کی رحمت سے دور کردیا جاتا ہے، ارشاد باری ہے۔
والذین ینقضون عہد اللہ من بعدمیثاقہ ویقطعون ما امر اللہ بہ ان یوصل ویفسدون فی الارض اولٰئک لھم اللعنۃ ولہم سوء الدار (الرعد : 25)
جو اللہ کے عہد کو مضبوطی کے بعد توڑ دیتے ہیں، اور ان رابطوں کا ٹتے ہیں، جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، اور جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، وہ لعنت کے مستحق ہیں، اور ان کیلئے آخرت میں بہت برا ٹھکانہ ہے۔
اس آیت میں قطع رحمی کرنے والوں پر خدا کی لعنت بھیجی گئی ہے، جو درحقیقت رحمت خداوندی سے محرومی کا دوسرا عنوان ہے، اسی طرح ایک دوسری آیت میں بھی قطع رحمی کرنے والوں کیلئے اللہ کی لعنت اور انہیں حق سے بہرا ندھا اور مردہ دل کئے جانے کی وعید آئی ہے۔
فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم ، اولئک الذین لعنہم اللہ فاصمہم واعمی ابصارھم افلا یتدبرون القراٰن ام علی قلوب اقفالھا (محمد: 22 تا24)
یہی وعید کیا کم تھی کہ آدمی اللہ کی رحمت سے دور ہوجائے ، مزید براں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سلسلہ میں بڑی سخت وعیدیں ارشاد فرمائی ہیں، کہ رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے والا اللہ تعالیٰ کی مدد سے محروم ہوجاتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ صلۂ رحمی کرنے والوں سے اپنا تعلق جوڑتا اور قطع رحمی کرنے والوں سے تعلق ختم کردیتا ہے، اور اللہ سے کسی کے تعلق کے کٹ جانے کا اس کے سواء اور کیا معنی ہوسکتا ہے، کہ وہ اللہ کی مدد سے محروم کردیا جائے کیونکہ یہ ضابطہ مسلم ہے کہ تعلق والوں ہی کی مدد کی جاتی ہے اور جب تعلق ختم تو مدد کے تمام راستے بھی مسدود ہوجاتے ہیں، رشتہ داروں سے تعلق اور صلۂ رحمی جہاں درازیٔ عمر اور فراوانی رزق کا ذریعہ ہے وہیں قطع رحمی کی سزا یہ ہے کہ عمر اور رزق سے برکت اٹھا لی جاتی ہے، چنانچہ جو آدمی صلۂ رحمی کا خیال نہیں رکھتا ،اس سے رشتہ دار متنفر ہوجاتے ہیں، اور اسے زندگی کی دوڑ میں تنہاچھورڑ دیتے ہیں اور اس پر زیادتی کرنے لگتے ہیں، جس سے زندگی بے مقصد اور بے فائدہ ہو کر رہ جاتی ہے۔
گناہ انسان کے دل میں نحوست اور اللہ کے غضب کو بھڑکاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اپنی صفت رحمت سے گناہوں پر فورا مواخذہ نہیں فرماتا بلکہ انسان کو مہلت دیتا ہے کہ تاکہ انسان سدھر جائے اور اپنی اصلاح کرلے مگر قطع رحمی اور سرکشی ایسے گناہ ہیں جن کی سزا اللہ تعالیٰ فوری طور پر دنیا میں ہی دے دیتا ہے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا :
ما من ذنب احری ان یعجل اللہ الصاحبۃ العقوبۃ فی الدنیا مع ماید خرلہ فی الاخرۃ من البغی وقطیعۃ الرحم(ابودائود :4902 باب النہی عن البغی )
یعنی سرکشی اور قطع رحمی سے زیادہ کوئی گناہ اس لائق نہیں کہ آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی اس کی فوری سز مل جائے ، اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قطع رحمی ایسا گناہ ہے جو فوری طور پر غضب خداوندی کو بھڑکادیتا ہے اور اس کا مرتکب سزاء کا مستحق ہوجاتا ہے۔
انسان خطا اور نسیان کی سواری ہے ، وہ اپنی کمزور ی اور خواہشات وترغیبات کی تکمیل میں پڑ کر کچھ چھوٹے موٹے گناہ اور کوتاہیاں کر بیٹھتا ہے، جو نیک اعمل کی قبولت میں حائل نہیں ہوتیں، مگر قطع رحمی ایسا خطرناک گناہ ہے جو نیک اعمال کی قبولیت میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔
آپ کا ارشاد ہے:
ان اعمال بنی آدم تعرض کل خمیس لیلۃ الجمعۃ فلا یقبل عمل قطع رحم (مسند احمد:10272)
یعنی بنی آدم کے اعمال ہر جمعرات کو اللہ کے حضور پیش کئے جاتے ہیں، لیکن قطع رحمی کرنے والے کا عمل قبول نہیں کیا جاتا۔
ایک حدیث میں رسول ﷺ نے قطع رحمی کرنے والے کی جو سزا بیان فرمائی ہے، وہ انتہائی بھیانک ہے، اور جس کا تصور انسان کی ساری آروزوں پر پانی پھیر دیتا ہے، آپ نے فرمایا :
لا تدخل الجنۃ قاطع رحم ( مسلم :2556)
قاطع الرحم (رشتہ داری کو ختم کرنے والا ) جنت میں نہیں جائے گا، اللہ تعالیٰ نے جنت کو صاحب ایمان اور اعمال صالحہ کرنے والے بندوں کیلئے ثواب اور بدلہ کی جگہ بنایا ہے، مگر جس نے قطع رحمی کا رویہ اختیار کیا اور اس عمل نیک سے منھ موڑا اس کا انجام جنت سے محرومی کی شکل میں ظاہر ہوگا، اور کم از کم وہ اتناعرصہ تو جنت سے محروم ہی رہے گا جو اس کے عمل کے برابر ہو، یا اللہ تعالیٰ مغفرت اور معافی کا فیصلۂ فرما کر جنت کا داخلہ نصیب فرمادے۔
قطع رحمی کا ایک معاشرتی نقصان یہ ہوتا ہے کہ قاطع الرحم دوسرے رشتہ داروں کی نفرت ، بددعا اور خود بھی قطع رحمی کا مستحق ہوجاتا ہے، کیونکہ رشتہ داروں سے بھلائی اور احسان کا معاملہ نہ کرنا بلکہ الٹا ان کو تکلیف دینا یا ان کا برا چاہنا ایسی بری صفت ہے کہ جو رد عمل کے طور پر دیگر رشتہ داروں کو بھی اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ وہ اس سے نفرت کریں اور بددعائیں دیں اور وہ بھی ’’جزا سیئۃ سیئۃ بمثلھا ‘‘کے بمصداق وہی اعمال اختیار کرنے لگتے ہیں جس سے معاشرہ کی حقیقی ساکھ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتی، آئے دن ایسے مشاہدات ہوتے ہی رہتے ہیں، ایک نقصان یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ قاطع الرحم لوگوں کا اعتماد کھو بیٹھتا ہے، کیونکہ عموما لوگ بھی اس آدمی کے ساتھ اعتماد واحترام کا رویہ رکھتے ہیں، جو اپنے اہل وعیال اور رشتہ داروں کے ساتھ شفقت ونرمی کا برتائو رکھتا ہو، مگر جب وہ قطع رحمی کرتا ہے تو لوگوں کے دلوں سے اس کا احترام نکل جاتا ہے، اور وہ اس پر اعتماد نہیںکرتے ، کیونکہ جس آدمی میں اپنے رشتہ داروں کیلئے کوئی خیر کا جذبہ نہ ہو، تو اس سے دوسروں کیلئے (جو رشتہ دار نہیں ہیں) کیا خیر کی توقع کی جاسکتی ہے، اور خود قاطع الرحم بھی ان وجوہات سے روحانی بے چینی واضطراب کا شکار ہوجاتا ہے۔
قطع رحمی کا اجتماعی نقصان یہ ہے کہ معاشرہ اور امت کا اتحاد پارہ پارہ ہوجاتا ہے، کیونکہ جب رشتے کٹ جائیں تو معاشرہ بد امنی اور آپسی بیزارگی کا شکار ہوتا ہے، جس سے امت کی وحدت منقسم اور پارہ پارہ ہوجاتی ہے، اور جب اتحاد امت بکھر جائے تو دشمنوں کیلئے معاشرہ اور امت کی عزت کو تار تار کرنا آسان ہوجاتا ہے، اور وہ تمام وسائل کو اپنے ہاتھوں میں لے کر امت کی تہذیب وثقافت کو بدل ڈالتے ہیں، جس سے گھر، خاندان سب کے سب تباہی کے دہانے پر آجاتے ہیں۔
قطع رحمی کے اسباب:
معاشرتی احوال پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قطع رحمی کے چند اسباب ومحرکات ہیں جس کی وجہ سے یہ روگ ہماری سوسائٹی میںپھلتا جارہا ہے، پہلا سبب یہ ہے کہ اس وقت بالعموم معاشرہ میں احکام شریعت پر عمل تقریبا معطل سا ہوگیا ہے، لوگ دینیات اور دینی امور میں بڑی حد تک غفلت برتنے لگے ہیں، اتحاد ویکجہتی ناپیدا ہوتی جارہی ہے، جس سے آپسی ربط وضبط اور تعلق ختم ہورہا ہے، نتیجۃً جرائم کی کثرت اور آپسی لڑائی ، جھگڑے ، خاندانی تنازعات بڑھ رہے ہیں، اسی کا عملی مظاہرہ قطع رحمی کی شکل میں سامنے آرہا ہے، ماڈرن ازم طبقہ یہ تصور کرتا ہے کہ خاندانی تعلقات جی کا جھنجھال ہے، وہی آدمی فری لائف گذار سکتا ہے جو خاندانی تعلقات اور رشتہ داری کے تقاضوں سے بالا تر ہو، اسی لئے نئی نسل اس معاملہ میں کافی آزاد بھی ہے اور بیزار بھی ، انہیں صرف اپنی زندگی کے تقاضے پورے کرلینا ہی کافی ہے، دوسرے کیلئے ان کے پاس وقت ہی نہیں ہے، اسی وجہ سے اچھے خاصے خاندانی تعلقات اور رشتہ داریاں ختم ہوکر قطع رحمی کی نذر ہورہی ہیں،۔ دوسرا سبب ظاہر اور بدیہی ہے، جو یہ ہے کہ عوام الناس ہی نہیں بلکہ بعض خواص بھی صلۂ رحمی کی اہمیت وفضائل اور اس کے اجروثواب سے بالکل نابلد ہیں، کچھ لوگ تو ایسے ہیں جو صرف نسبت اور حسب ونسب کی برقراری کیلئے خاندانی تعلقات قائم کئے ہوئے ہیں، اور بعض وہ ہیں جو خانہ پری اور ضابطہ کی کارروائی کیلئے رشتہ داری نبھاتے ہیں، اور کچھ نادان ایسے بھی ہیںجو خاندان میں آنے جانے بالخصوص سسرالی رشتہ داروں میں آنے جانے کو حد درجہ معیوب سمجھتے ہیں، حالانکہ غیر ضروری بلکہ غیر شرعی حتی کہ اجانب وغیر محارم لوگوں سے ان کے تعلقات حددرجہ بہتر ہوتے ہیں، اور ان کو نبھانے اور برقرار رکھنے کی پوری کوشش بھی کرتے ہیں، عجیب حال ہے لوگوں کا:
خرد کا نام جنوں کردیا جنوں کا نام خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
کے بمصداق جہاں رشتہ داریوں کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، جو عین شریعت اور باعث ثواب کام ہے ،اس سے تو کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں، اور جو غیر ضروری بلکہ عین گناہ ہے اس کی فکر میں پڑے رہتے ہیں، درحقیقت ان بے چاروں کواس کے فضائل ومسائل اور ثمرات دنیوی واخروی معلوم ہی نہیں اور نہ ہی جاننے کی کوشش کرتے ہیں، اور جو بتانا چاہے وہ اسے چاپلوس کا نام دیا جاتا ہے، کچھ تو ایسے بھی ہیں جو یہ تصور کرتے ہیں کہ صلۂ رحمی کوئی دینی مسئلہ نہیں بلکہ دیگر معاملات زندگی کی طرح ایک وقتی ضرورت ہے، بس اب جو شخص رشتہ داری اور صلۂ رحمی کی اس اہمیت سے بے خبر ہو جو ذخیرہ احادیث سے ثابت ہے، تو لازماً وہ اس اہم دینی فریضہ میں کوتاہی کرے گا اس لئے ضرورت ہے کہ عوام الناس میں خصوصا اور خواص میں بھی کبھی کبھار اس سلسلہ کی کوئی تذکیری شکل پیدا کی جائے ، جس سے اس باب میں پیدا ہونے والی کوتاہیوں سے اجتناب کی سبیل نکل سکے۔
قطع رحمی کا تیسرا سبب رشتہ داروں کی بدسلوکی ہے، بسا وقات ایسا ہوتا ہے کہ رشتہ داروں میں بعض لوگ ہوتے ہیں جن پر اگر کچھ زیادتی ہوجائے تو وہ بھی اس زیادتی اور برائی کا بدلہ ویسی ہی زیادتی اور برائی سے دینے اور برابری کا مقابلہ کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں، چنانچہ اگر رشتہ د اروں میں سے جو بھی اس کے ساتھ برا سلوک یا زیادتی کرتا ہے، تو یہ بھی اسی طرح کی زیادتی اور برا سلوک کرنا چاہتا ہے، جو قطع رحمی کی بدترین شکل ہے، بعض ایسے ہوتے ہیں جو علی الرغم اپنے بڑے یا باحیثیت ہونے کا یہ مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جس کے بھی ساتھ جیسا چاہیں سلوک کریں، مگر دوسرا ہمارے ساتھ بہتری اور اچھائی ہی کا برتائو کرنے کا پابند رہے، ایسی سوچ کا نتیجہ بھی قطع رحمی ہی ہوتا ہے، چوتھا سبب والدین یا ماحول کی غلط تربیت کے اثرات ہیں کیونکہ بسا اوقات غلط تربیت کی وجہ سے بھی آدمی رشتہ داروں کو بھول جاتا ہے، بلکہ ان کے درپے آزار ہوجاتاہے ، اسے رشتہ داری کا مفہوم اس کی اہمیت مقام ومرتبہ بے فائدہ معلوم ہوتا ہے، اسی وجہ سے اس میں صلۂ رحمی کا کسی طرح خیال پیدا نہیں ہوتا، ان حالات میں جب بچوں کی تربیت ہو اور اسی ماحول میں جو پل کر جوان ہوا ہو تو اس کے ذہن میں صلۂ رحمی کا نہ کوئی خیال آتا ہے اور نہ وہ اس کی ضرورت محسوس کرتاہے، بعض والدین شروع ہی سے اپنی اولاد کی ذہن سازی ایسی کرتے ہیں، کہ ان میں کچھ مخصوص رشتہ داروں کے متعلق غلط خیالات بیٹھ جاتے ہیں، اور وہ بڑے ہو کر اسی ذہنیت کے ساتھ چلتے بھی ہیں حالانکہ رشتہ داری یہ نہیں ہے بلکہ حقیقی رشتہ داری یہ ہے کہ جس نے آپ سے تعلق توڑا آپ اس سے تعلق جوڑیں:
لیس الواصل بالمکافی ولکن الواصل الذی ذا قطعت رحمہ وصلھا (بخاری 5991)
پانچواں سبب یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ بھی قطع رحمی کے سلسلہ میں بڑی کوتاہی کرتا ہے ، ہونا تو یہ چاہیے کہ قطع رحمی کرنے والوں میں حقوق اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کا شعور پیدا کرنے کیلئے ان کا بائیکاٹ کیا جائے تاکہ بالعموم ہر کس وناکس کو معلوم ہوجائے کہ اسے کس عمل کی سزا ملی ہے، حضور اکرمؐ سے بعض خاص معاملات میں اس طرح کا طرز عمل ثابت بھی ہے (جیسا کہ جنگ تبوک میں پیچھے رہ جانے والے مخلصین صحابہ کرام کی تنبیہ کیلئے آپ نے ایسا فرمایا تھا) مگر یہاں بائیکاٹ تو دور کی بات، ان سے عدم دلچسپی کا اظہار بھی نہیں کیا جاتا بلکہ اپنے مفادات کو خطرہ میں پڑا دیکھ کر بعض اہل فکر ودانش بھی اس کی پذیرائی کرنے لگتے ہیں کہ ’’واہ صاحب! بڑا اچھا کیا جو اس کو سبق سکھایا اسے بھی معلوم ہوجائے کہ اس نے کس سے ٹکر لی ہے‘‘ یہ مفاد پرستی پر مبنی بظاہر حوصلۂ بخش مگر درحقیقت ایمان کش جملے ان کو زیب نہیں دیتے جو وقتی مصالح کی خاطر اس جرم عظیم کو روکنے کے بجائے اسے بڑھاوا دیتے ہیں، جب معاشرہ یا افراد معاشرہ اپنے اس فرض کو پورا نہیںکریںگے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ قطع رحمی کرنے والا مزید جرأت واستقلال کیساتھ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے گا، کیونکہ اس کے سامنے کوئی ایسا ہے ہی نہیں جو اسے سیدھا کردے ، اور اس کی سرکشی اور ظلم پر روک لگائے۔
سماج اور معاشرہ کے افراد کے ساتھ ساتھ رشتہ داروں کی لاپرواہی بھی جلے پر نمک کا کام کرتی ہے، کیونکہ ایسے موقع پر رشتہ دار بھی قطع رحمی کرنے والے کے بارے میں اپنے فرض کی ادائیگی سے بے پرواہی برتتے ہیں، یعنی قاطع الرحم کی اصلاح ونصیحت سے غافل ہوجاتے ہیں، ترغیب وترہیب سے کام نہیں لیتے ، چنانچہ جب رشتہ داروں کا یہ رویہ ہو تو قطع رحمی کرنے والا بھی شیر ہوجاتا ہے، اور اپنے عمل کو جاری رکھتا ہے، قطع رحمی کا ایک انتہائی افسوس ناک سبب مسلکی وفروعی اختلاف ہیں، آج ہر دوسرا گھر مسلکی تشدد اور فروعی مسائل کے اختلاف کا شکار ہے اور جو رشتہ دار اس مسلک کا حامی یا عامل نہیں ہوتا تو اس سے یا تو بیزارگی کا اظہار کیا جاتا ہے، یا قطع رحمی اختیار کرلی جاتی ہے، بعض رشتے دار ایسے بھی ملیںگے جو صرف اس وجہ سے قطع تعلق کرلیتے ہیں کہ فلاں نے ہمارے گھر کی رسوم ورواج اور روایات میں شرکت نہیں کی جبکہ شرعا شرکت نہ کرنے والے کا عمل بالکل درست ہے، مگر رسوم کے پابند لوگ اس کوبھی قطع تعلق کا سبب بنا لیتے ہیں، کچھ ایسے بھی ہیں، جو صرف اسی بنیاد پر نمازہ جنازہ میں تک شرکت نہیں کرتے، العیاذ باللہ
قطع رحمی کا علاج:
جہاں قطع رحمی اور رشتہ داریوں کو ختم کرنے کے بے شمار اسباب ہیں، وہیں ان کے تدارک کی بھی چند ایک تدبیریں ہیں، چنانچہ درج ذیل طریقوں سے قطع رحمی کا تدارک کیا جاسکتا ہے، شریعت مطہرہ اور اس کے جملہ قوانین واحکام پر عمل پیرا ہی از بس ضروری ہے، کیونکہ یہی وہ تحریک اور عملی قوت وعنصر ہے جو اسلامی منشور اور ایمان کے اعلیٰ وادنی شعبہ پر عمل کرنے کیلئے افراد امت کو سرگرم رکھتا ہے، اور رکھے گا پھر نہ کوئی طاغوتی طاقت اور شیاطین الانس والجن ابھریںگے جو جرائم کی اشاعت کرسکیں اور لوگوں میں قطع رحمی کیلئے گمراہ کن جذبات کو پیدا کریں، یعنی جب تک مادہ حقیقی (دل) کی اصلاح نہ ہوگی، عوارضات قلب (اعضاء وجوارح) کی اصلاح ناممکن ہے، جب دل صحیح ہوگا اس کی اصلاح وتربیت کا نظام ہوگا، تو تمام اعمال واخلاق کی اصلاح ہوسکتی ہے، کیونکہ
’’ اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسدت کلہ ‘‘
کا مسلم ضابطہ یہی پیغام دیتا ہے کہ اصلاح قلب کے بغیر اسلامی اقدار واخلاق پر عمل پیرا ہی ناممکن ہے۔
انسانی فطرت میں جو برائی کا بدلہ برائی دینے کا مادہ ہے، اس کے رخ کو تبدیل کرکے ’’السیئۃ ادفع بالتی ھی احسن‘‘ والے پیغام ربانی پر لانے کی ضرورت ہے، کیونکہ ہمیں برائی کے بدلے میں احسان کا حکم دیا گیا ہے، جس سے دشمن بھی دوست ہوجاتا ہے، پھر رشتہ دار خواہ وہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں، بہر حال اپنے ہی میں جب اس طرز عمل سے دشمن بھی دلی دوست بن سکتے ہیں تو یہ اور بھی بہت آسان ہے، صرف طرز عمل کو بدلنے کی ضرورت ہے، یہی حقیقی رشتہ داری ہے، یہی درحقیقت صلۂ رحمی ہے۔
قطع رحمی کے علاج کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انسان صلۂ رحمی کی فضیلت واہمیت اور اس کی قدر وقیمت کو جانے اور قطع رحمی کے مضر اور برے اثرات کو خواہ وہ انفردی ہوں یا اجتماعی ہمیشہ مد نظر رکھے ، یہی چیز اصل میں قطع رحمی کی روک تھام اور صلۂ رحمی کی ترویج کا ذریعہ بنتی ہے۔
صلۂ رحمی کے فروغ کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ ترغیب وترہیب کے ذریعہ لوگوں کی تربیت کی جائے یعنی صلۂ رحمی کے فضائل اور قطع رحمی کے نتائج کی یاددہانی کا سلسلہ مسلسل جاری رہے تاکہ صلۂ رحمی کی طرف مائل کیا جاسکے، اور یہ عمل حکمت ومصلحت اور دانش مندی کے ساتھ جاری رہے، اس سلسلہ میں والدین کی بھی بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بچپن ہی سے اپنے رشتہ داروں سے واقف کروائیں ، ان کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کرتے رہیں، اور انہیں رشتہ د اری کے آداب سکھائیں، حضرت آمنہؓ اسی غرض سے آپ کو بچپن میں یثرب (مدینہ منورہ) لے گئی تھیں، تاکہ آپ بڑے ہو کر صلۂ رحمی کا خیال رکھیں، سیرت کی یہ مثال ہمارے لئے بڑی سبق آموز ہے، جسے اپنا کرہم قطع رحمی کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔
قطع رحمی کے سدباب میں معاشرہ کا بھی برا اہم کردار ہے، جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا کہ افراد معاشرہ اپنا فرض ادا کریں کہ قطع رحمی کرنے والے سے ترک تعلق کرکے (تادیبا ، تنبیہاً )اس کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش کریں تاکہ وہ اپنا رویہ بدل کر صلۂ رحمی اختیار کرلے علماء امت اور دانشوران قوم وعظ ونصیحت کے ذریعہ امت میں اس کی شعور بیداری کو عام کریں،خاص اسی موضوع پر تذکیری مجالس منعقد کریں، تاکہ صلۂ رحمی کے فضائل اور اس کے بہترین اثرات اور اسے دینی عمل بلکہ مبارک عمل سمجھنے کی توفیق ہو، اور ساتھ ہی قطع رحمی کے برے اور دور رس نتائج سے امت باخبر ہوسکے۔
یاد رکھیں کہ یہ طرز عمل افراد معاشرہ کا یا علماء امت کا معاشرتی باب میں دوسروں کے معاملات میں مداخلت کا ہرگز نہیں ہے، بلکہ یہ تعاون علی البر والتقویٰ کی بڑی آسان راہ اور ہماری دینی ذمہ داری ہے، قطع رحمی کی روک تھام میں رشتہ داروں کی بھی بڑی اہم ذمہ داری ہے کیونکہ بعض مرتبہ قاطع الرحم اپنی غلطی پر نادم وپشیمان ہو کر اس برائی اور گناہ کے عمل کو ترک کرنا چاہتا ہے، مگر رشتہ داروں کی طرف سے اس کو بے رخی ، بے توجہی اور انتشار کے سوا کچھ نہیں ملتا ہے، جس سے مایوس ہوکر قاطع الرحم پھر سے اپنی پرانی روش اختیار کرلیتا ہے؛ ایسے میں رشتہ داروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ قطع رحمی کرنے والے اپنے رشتہ دار کو مثبت جواب دے کر اس کے ساتھ نرمی کا برتائو کریں، اور اس کی تسلی کا سامان کریں۔ اس کو جرأت دلا کر اس کے عمل کی قدر کریں، اس کا حوصلہ بڑھا کر اس کا کام آسان کریں۔ حضرت عائشہؓ نے اپنے بھانجے حضرت عبداللہ بن زبیرؓ سے قطع تعلق کرلیا تھا، مگر جب وہ معذرت خواہی کرکے دوبارہ صلۂ رحمی کیلئے حاضر ہوئے تو ام المومنین حضرت عائشہؓ نے ان کی حوصلہ افزائی فرمائی، یہ واقعہ تمام اہل قرابت اور رشتہ داروں کیلئے بڑی عبرت کا ذریعہ ہے۔ نیز رشتہ داروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مسلکی اور گروہی اختلافات کو فراموش کریں، جزوی وفروعی مسائل میں پڑھنے کے بجائے کلمہ کی بنیاد پر جو امت کے ہرطبقہ اور ہراہل مسلک کے نزدیک مسلم وغیر متنازع ہے، خاندانی تعلقات کی بنیادیوں کو استوار کریں، اور اسے مضبوط کرنے کی فکر کریں۔ مسلکی اختلافات تو درحقیقت جزوی وفروعی مسائل کا اختلاف ہے، خدا را اس کو ذاتی اور نجی اختلاف کی شکل نہ دیں، جس سے خاندان کے خاندان تباہی وبربادی کے شکار ہورہے ہیں؛ یہی رشتہ داری کا حقیقی تقاضہ ہے، اور انسانیت کا عروج کمال اور اعلیٰ معراج ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس مرض کے علاج کیلئے امت کے ہر طبقہ کو حرکت میں آنے کی ضرورت ہے، ہر فرد اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے اس طوفان کو روک سکتا ہے، جس کیلئے سب سے اہم تقویٰ اور پرہیز گاری ہے کیونکہ جب تک دل میں خدا خوفی اور آخرت کی جواب دہی کا احساس بیدار نہ ہو تو انسان اس عظیم گناہ ہی سے نہیں کسی بھی گناہ کے ارتکاب سے بچ نہیں سکتا ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں تمام اخلاقی برائیوں سے محفوظ رکھے، اور مسلم معاشرہ کو جملہ اخلاقی امراض سے شفا نصیب فرمائے ۔ آمین۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close