مضامین و مقالات

” شاہین باغ” دہلی سے دہلی گیٹ تک..! شہاب مرزا

زندہ قومیں تاریخ کا رخ موڑ دیتی ہیں اورنگ آباد کا شاہین باغ ہماری غیور ماؤں بہنوں اور نوجوانوں کی بیداری کی علامت

دہلی کے شاہین باغ طرز پر گزشتہ 8 جنوری سے شروع ہوئے "شاہین باغ اورنگ آباد” کے آٹھارہ دن مکمل ہوئے اس احتجاج کو شروع کرنے کے دو نکات تھے ایک تو یہ تھا کہ دہلی کے شاہین باغ میں گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج کر رہی خواتین کیونکہ دہلی کا درجہ حرارت 2 سے 4 ڈگری کے درمیان ہے اتنی شدید سردی میں بھی احتجاج جاری ہے اس کے علاوہ اس احتجاج کے خاص بات یہ ہے کہ پچھلے ایک مہینے سے اس کی نمائندگی خواتین کر رہی ہیں جب یہ احتجاج شروع ہوا تھا اس وقت احتجاج کے کوئی منتظمین نہیں تھے اور نہ ہی احتجاج کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا لیکن احتجاج شروع ہوا اور یہ تحریک پورے ملک میں آگ کی طرح پھیل گئی پورے ملک میں شاہین باغ سے متاثر ہوکر لگ بھگ 1000 سے زائد شاہین باغ بسے اور یہ سب ممکن ہوا دہلی کی خواتین کی وجہ سے جنھوں نے راستے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے منزل کی طرف قدم بڑھائے
خواتین کا یہ حوصلہ، یہ جذبہ کہی نہ کہی ہم مردوں کی غیرت کو جھنجھوڑتا ہے ان خواتین کی حوصلہ افزائی کے لئے ہر شہر، ہر گاؤں، ہر قصبہ، شاہین باغ بنا ہوا ہے یہ ملک کے شاہین باغ ہی ہے جس کی وجہ سے حکومت میں بیٹھے ہٹلر کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں
وہی شاہین باغ بھی دہلی پولیس کیلئے درد سر بنا ہوا ہے دہلی پولیس شاہین باغ کی خواتین کو اٹھانے اور احتجاج کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے معاملہ یہاں تک پہنچا ھیکہ پولیس شاہین باغ کی خواتین کو اُٹھانے کے لئے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرتی ہے لیکن خواتین کا حوصلہ وہاں بھی پولیس کو رسوا کرتا ہے اسی طرز پر اورنگ آباد کے نوجوانوں نے بھی عہد کیا ھیکہ جب اورنگ آباد زنجیری احتجاج شاہین باغ طرز پر شروع ہوا تھا تو اس احتجاج کو انجام تک اسی طرز پر کریں گے اگر پولیس، انتظامیہ طاقت کی زور پر شاہین باغ اٹھانے کی کوشش کریں گی تو نوجوانان اورنگ آباد آگے بڑھ کر جیل بھرو آندولن کریں گے دہلی کے شاہین باغ میں مسلسل 24گھنٹے احتجاج جاری ہے اسی طرح کا احتجاج اورنگ آباد میں شروع کیا گیا تھا چند نوجوانوں نے مل کر اس جراتمندانہ اقدام کو انجام دیا اور کوشش کی کے شاہین باغ طرز پر ہی عمل کیا جائے اور الحمد للہ نوجوان تقریباً کامیاب بھی ہوئے ہیں کیونکہ اب ہر فرد میں شعور پیدا ہوا ھیکہ انہیں اپنے وجود کی لڑائی خود لڑنی ہوگی اب انجام چاہے کچھ بھی ہو کتنا بھی وقت لگے لڑائی پوری لڑنا ہے اسلئے ملک بھر میں شاہین باغ بن رہے ہیں
ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮨﺮ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﮨﮯ؛ ﻟﯿﮑﻦ ﻇﻠﻢ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺁﻭﺍﺯ ﺍﭨﮭﺎﻧﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ۔
ظلم کے خلاف جنگ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﮨﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮتی، ﺑﻠﮑﮧ جنگ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﺪﺩ ﺫﺭﺍﺋﻊ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ احتجاجی ﺟﻠﺴﮯ ﺑﮭﯽ ظلم ﮐﮯ ﺧﻼﻑ جنگ ﮨﯿﮟ۔‏ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﭘﯿﺪﺍﺋﺸﯽ ﺣﻖ ﮨﮯ، ﺍﺱ لئے ﮨﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﺼﻮﻝ کے لئے ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻧﯽ ﭼﺎہیے، ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﻮﻧﭩﯽ ﺑﻦ ﮐﺮ ﻣﺤﺾ ﮐﺎﭦ ﮨﯽ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍُﺳﮯ ﮐﺎﭨﻨﺎ ﭼﺎہیے۔سبھی کو اس تحریک میں قربانیاں پیش کرکے تاریخ کے سنہرے بابوں کا حصہ بننا ہے کیونکہ اس کالے قانون کی جب بھی تاریخ لکھی جائیگی تو یہ بھی لکھا جائے گا پورا ملک شاہین باغ بن کر سراپا احتجاج تھا
ایسا نہیں ہے کیا اورنگ آباد بسانے اور زنجیری احتجاج میں بیٹھنے کی اجازت بڑی آسانی سے مل گئیں بلکہ کافی تگ و دود کے باوجود پولیس اور انتظامیہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتا رہا کبھی اجازت دی گئی پھر نہ منظور کی گئی گھنٹہ تک وقت برباد کیا گیا بالآخر نوجوانوں نے اپنے طور پر اس احتجاج کو شروع کیا اور خاص بات یہ رہی کہ اس احتجاج کو روز اول سے ہی اچھی خاصی عوامی حمایت مل گئی نہ صرف مرد و خواتین کی بلکہ معصوم بچوں اور بزرگوں نے بھی احتجاج میں شریک ہوکر اپنا احتجاج درج کروارہے ہے اورنگ آباد شاہین باغ احتجاج کا سلسلہ پچھلے دو ہفتوں سے جاری ہے قابل ذکر بات یہ بھی رہی کہ احتجاج نے کسی سیاسی پارٹی، نہ کسی تنظیم کے بینر تلے ہے بلکہ یہ خالص نوجوانان اورنگ آباد کی برپا کی ہوئی تحریک ہیں جو گزرتے ہر دن کے ساتھ اپنے منفرد شکل اختیار کر رہا ہے پہلے تعداد کم تھی اب شام ڈھلتے ڈھلتے لا تعداد لوگ شریک ہوکر کالے قانون کو واپس لینے کی آواز بلند کرتے ہیں ایسا نہیں ہے کہ زنجیری احتجاج کو پولیس کی جانب سے سبوتاژ کرنے کی کوشش نہیں کی گئی لیکن ان جیالے نوجوانوں کے حوصلے نے کسی کو بھی اپنے حربے میں کامیاب نہیں ہونے دیا پولیس نے ڈھکے چھپے انداز میں دباؤ بنانے کی کوشش کی لیکن بقولِ علامہ اقبال کے

جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

ایسا ہی کچھ معاملہ اورنگ آباد کے نوجوانوں کا ہے جنہوں نے زنجیر کاٹی بھی اور کالے قانون کی مخالفت میں زنجیریں جوڑی اور ان نوجوان نے نا صرف پولیس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ان کر صبر و استقلال اور حکمت سے غیر محفوظ انداز میں اپنے مشن پر ڈٹے رہے
اس زنجیری احتجاج کا نتیجہ اللہ کے ہاتھ ہے شہر کے نوجوانوں نے جو تحریک شروع کی ہے وہ اب نقطہ عروج پر ہے اورنگ آباد زنجیری احتجاج صرف احتجاج نہیں بلکہ طلباء و طالبات کے لیے تربیتی ورکشاپ ہے جسمیں اسپوکن انگلش، پرسنیلٹی ڈیولپمینٹ، کلچرل پروگرام، ڈرائنگ، انقلابی تقاریر، نظمیں ترانے وغیرہ میں حصہ لے کر شرکاء کو محظوظ کر رہے ہے اور اسکول کے طلباء کے مطالعے کے لیے بھی وقت مختص کیا گیا ہے
دوپہر دو بجے سے شام چھ بجے تک کا وقت خواتین کے لیے مختص کیا گیا ہے جسمیں خواتین شامل ہو رہی ہے اور روز بروز ان خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ہماری مائیں بہنیں پہلے دن سے احتجاج میں شرکت درج کرا رہی ہیں یہ وہ خواتین ہیں جن کی اپنی ذمہ داریاں ہوتی ہے کہ ان کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہے جن کے اپنے مسائل ہوتے ہیں لیکن تمام باتوں کو پت پوش ڈال کر میری پردہ دار مائیں بہنیں پوری پابندی، عزم وحوصلے کے ساتھ اپنی شرکت درج کروا رہی ہے انکا جوش و جذبہ لائق تحسین ہے دہلی کے شاہین باغ کی حمایت میں شروع ہوئے اس احتجاج میں خواتین، نوجوانوں، معصوم بچوں، بزرگوں کی بے لوث خدمات کو ہر وقت کیا جائے گا
اس زنجیری احتجاج کو کیا علماء، سیاسی قائدین، سماجی جہدکار، الغرض ہر طبقے کی تائید و حمایت اس تحریک کو مل رہی ہے یہ وہ بیدار لوگ ہے جو زندہ ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں یاد رکھیے! زندہ قومیں ہی تاریخ کا رخ موڑتی ہے مغلوب قوموں کا کوئی مقدر نہیں ہوتا
بہر کیف وقت کی ضرورت ہے کہ ملک بھر میں حکومت کی جانب سے نافذ کردہ کالے قانون کے خلاف شاہین باغ آباد کرنا چاہئے اور جہاں آباد ہے وہاں شریک ہوکر اپنا احتجاج درج کرانا چاہیے حکومت اور الیکٹرانک میڈیا پروپیگنڈہ کر کے ایسے احتجاج کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کریں گی لیکن ہمیں منزل طے کرکے اس تحریک کو مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھانا ہے یہ آزاد ہندوستان کی سب سے بڑی تحریک ہے ہمیں اسے اور مضبوط کرنا ہے اسی وجہ سے کہا جاتاہیکہ یہ لڑائی ہفتہ، دو ہفتہ ،مہینہ ،دومہینہ کی نہیں بلکہ لمبی لڑائی ہے اور یہ ہم بھارت کے لوگوں کی لڑائی ہے سب کو ملکر یہ جنگ لڑنی ہے اور ملک کو بچانا ہے لیکن ہمیں تمام فیصلوں کو برحق اور حرف آخر تسلیم نہیں کرنا ہے جتنی جلدی ذہن و دماغ کو آزاد کرلیں بہتر ہوگا
جو کرنا ہے اب خود کرنا ہوگا
ورنہ نامِ خدا سے دور ہونا ہوگا۔

شہاب مرزا، 9595024421

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close