مضامین و مقالات

خاص کیوں ہے اس بار کا یومِ جمہوریہ؟ تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی

خاص کیوں ہے اس بار کا یومِ جمہوریہ؟
تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی
email:ghaussiwani@gmail.com
Ghaus Siwani ki Mehfil/Facebook
ایک طرف یوم جمہوریہ کا جشن ہے اور دوسری طرف جمہوریت وآزادی کے تحفظ کے لئے پورا بھارت سراپا احتجاج ہے۔ کیرل سے نارتھ ایسٹ کی ریاستوں تک کہیں بھی حالات پرسکون نہیں ہیں۔ کڑاکے کی سردی میں خواتین اور بچے رات رات بھر کھلے آسمان کے نیچے میدان میں بیٹھے ہیں۔ملک بھر کے طلبہ سڑکوں پر ہیں، کلاسیز کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے،پلے کارڈس لہرائے جارہے ہیں اورآزادی، آزادی کے نعرے گونج رہے ہیں۔ دوسری طرف بیکاری اور بے روزگاری عروج پر ہے۔ پہلے صرف کسان خودکشی کرتے تھے مگر آج بے روزگاری سے تنگ نوجوان بھی موت کو گلے لگارہے ہیں۔بھارت کی اقتصادی حالت بدترین دور سے گزر رہی ہے اور حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والوںکے سروں پر بھگواوادیوں کے ڈنڈے اور سینوں پرپولس کی گولیاں برس رہی ہیں،ایسے میں ہم وطنوں کے سامنے جمہوریت کے تحفظ کا چیلنج درپیش ہے۔ حکومت بے حس بنی ہوئی ہے اور عوام کی سننے کو تیار نہیں جب کہ اپوزیشن جس قدرکمزور اور بے اثر آج ہے، پہلے کبھی نہیں تھا۔ آزادبھارت کی تاریخ میں ملک اتنے مشکل حالات سے پہلے کبھی نہیں گزرا جتنے مشکل حالات آج اس کے سامنے ہیں۔ ملک کی آزادی کے لئے اہل وطن کو دوسو سال سے زیادہ جنگ لڑنی پڑی تھی مگر آج آزادی اور جمہوریت کی بقا کے لئے ایک نئی جنگ کی ضرورت ہے جو یقیناپرامن گاندھیائی طریقے پرچل کر ہی جیتی جاسکتی ہے۔ اس جنگ میں تشدد کو کوئی جگہ نہیں ملنی چاہئے۔
پھر دیار ہند کو آباد کرنے کے لئے
جھوم کر اٹھو وطن آزاد کرنے کے لئے
پہلی تصویر
متنازعہ شہریت بل کے خلاف جو تحریک شروع ہوئی تھی،اس میں طلبہ کی شمولیت کے بعدیہ ایک ہمہ جہت تحریک کی شکل لیتی جارہی ہے۔ پورے ملک کے اسٹوڈنٹس حکومت پرلعنتیں بھیج رہے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ ملک بھر کے طلبہ اور نوجوانوں نے نریندر مودی اور امت شاہ کے خلاف علم بغاوت بلند کردیاہے۔پہلے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اورجامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولس نے حملہ کیا اور اس کے بعد جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبہ اور اساتذہ پر سنگھی تنظیم اے بی وی پی کے غنڈوں کے ذریعے حملے کی خبروں نے ملک بھر کے طلبہ کو مشتعل کردیا ۔ یہی سبب ہے کہ گائوں سے لے کر شہر تک اور بھارت سے لے کر امریکہ تک اس کی مذمت میں طلبہ آواز اٹھا رہے ہیں۔آکسفورڈ اور کولمبیا یونیورسٹی کے طلباء نے بھی جامعہ وجے این یو کے طلبہ سے اظہار یکجہتی کیا اور کیمپس میں طلباء کی حفاظت کا مطالبہ کیا۔امریکہ کی کئی یونیورسٹیوں کے طلبہ نے احتجاج کیا اور تعلیمی اداروں میں تشدد کی مذمت کی۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، دہلی میں 5 جنوری کی شام کو تشدد ہوا تھا،اس سے پہلے جامعہ میں پولس نے خود تشدد برپا کیا تھا جب اسٹوڈنٹس سی اے اے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔اس کے خلاف جے این یو اساتذہ اور طلبہ نے منڈی ہاؤس سے جنتر منتر تک مارچ کیا۔ اس میںدوسرے اداروں کے اساتذہ اور طلبہ کی بھی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔اس تشدد کے خلاف طلباء نے ملک کی متعدد ریاستوں میں احتجاج کیا ۔ دہلی ، ممبئی ، کولکاتہ ، چنئی جیسے بڑے شہروں میں ، طلباء کے ہمراہ متعدد سماجی تنظیموں کے لوگ بھی سڑکوں پر آگئے۔اے ایم یو،جامعہ اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ہونے والے تشدد کے خلاف دہلی یونیورسٹی کے طلبا بھی احتجاج پر اتر آئے۔ متعدد ڈی یو کالجوں کے طلباء ،آرٹ فیکلٹی کے سامنے جمع ہوئے اور مظاہرہ کیا۔ دہلی یونیورسٹی کے سینٹ اسٹیفنس کالج کے طلباء نے بھی کلاس کا بائیکاٹ کیا۔انھوں نے کالج کیمپس میں آئین کی تمہید بھی پڑھی۔ ایک طالب علم نے کہاآج ملک خطرے میں ہے۔ جب ملک بچے گا تو پڑھائی کے بہت سے موقع ملیںگے۔ کلکتہ کی جادو پور یونیورسٹی میں تو طلباء اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوگئیں۔ آئی آئی ٹی کھڑگ پور کے طلبا نے بھی احتجاج کیا۔ادھرممبئی کے گیٹ وے آف انڈیا پر بڑی تعداد میں طلبہ اور نوجوانوں کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی جمع ہوئے اور احتجاج کیا۔ پونے میںفلم اینڈ ٹیلی ویزن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا سے ساویتری بائی پھولے پونے یونیورسٹی تک مارچ کیاگیا۔ اس دوران بہت سے طلباء اپنے ہاتھوں میں پوسٹرز اٹھائے ہوئے تھے۔طلبہ نے مرکزی حکومت اور سی اے اے قانون کے خلاف بھی نعرے بازی کی۔جب کہ چنئی میںIIT مدراس کے طلبا نے اپنے کیمپس میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ میسور یونیورسٹی کے طلباء نے بھی مظاہرہ کیا۔ حیدرآباد کی تین یونیورسٹیوں میں مظاہرے کیے گئے۔آئی آئی ایم احمد آباد کے طلبا نے بھی اپنا احتجاج درج کرایا۔ وارانسی میں دفعہ 144 کے باجود بنارس ہندو یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس نے مظاہرہ کیا۔پنجاب کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں مظاہرے ہوئے۔ ادھر نارتھ ایسٹ کی ریاستوں میں طلبہ مسلسل مظاہرے کر رہے ہیں۔
دوسری تصویر
جہاں ایک طرف پورے ملک میں طلبہ حکومت کے خلاف سڑکوں پر ہیں، وہیں خواتین سی اے اے کے خلاف میدان میں ڈٹی ہوئی ہیں۔ دہلی کے شاہین باغ میں جوخواتین کا پرامن مظاہرہ شروع ہوا تھاوہ اب ملک بھر میں پھیل چکا ہے اور بڑے شہروں سے لے کر چھوٹے قصبوں تک میں خواتین دھرنا دیئے بیٹھی ہیں۔ ملک کی کوئی ریاست ایسی نہیں جہاں آج دس بیس ’شاہین باغ‘ نہ بن گئے ہوں۔پٹنہ، گیا، مظفرپور، دربھنگہ، کلکتہ،دیناجپور،لکھنو، حیدرآباد، بھوپال،بنگلور، ممبئی، ناندیڑسمیت پورے ملک میں خواتین، حکومت کے خلاف مورچہ کھولے ہوئے ہیں اور حکومت بے حسی کی چادر اوڑھے سو رہی ہے۔ حد توتب ہوگئی جب اترپردیش کی یوگی سرکار نے پرامن مظاہرہ کر رہی خواتین کے خلاف ایف آئی آردرج کرلی۔ پولس والوں نے خواتین اور بچوں سے کمبل چھین لئے اور ان کے اوپر پانی پھینک دیا۔ یہ حرکت اس حکومت کی پولس نے کیاجوخود کو درگا، کالی، سرسوتی اور لکشمی کی پجاری بتاتی ہے۔ پورے ملک میں اب تک درجنوں افراد کو حکومت سی اے اے کی مخالفت کے سبب قتل بھی کرچکی ہے اور سب سے زیادہ موتیں اترپردیش میں ہوئی ہیں۔مظاہرین کے خلاف سب سے زیادہ تشدد بی جے پی کی حکومت والے اترپردیش،کرناٹک اور آسام میں ہوااور موتیں بھی انھیں ریاستوں میں ہوئیں۔
تیسری تصویر
اترپردیش پولس نے شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی سب سے زیادہ جانیں لی ہیں مگر وہ اسے قبول کرنے کو تیار نہیں۔ ’پولیس فائرنگ کے الزامات بے بنیاد ہیں۔‘فیروزآباد کے ایس ایس پی کے اس بیان کے بعد یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ کیا عوام نے خود ہی ایک دوسرے کو گولیاں ماردیں۔ 20 دسمبر کو یوپی کے فیروز آباد میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے تعلق سے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جس کی تصاویر قومی اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کیں اور تشدد کی ویڈیوز یوٹیوب پر وائرل ہوگئیں لیکن بھیڑ اور یوپی پولیس کے مابین پتھراؤ اور لاٹھی چارج کے علاوہ بھی ، کچھ ایسا ہوا کہ بہت سے خاندانوں کی زندگیاں تباہ ہوگئیں۔ دہلی کا صفدرجنگ اسپتال ان خاندانوں کی تباہی کا شاہد بنا۔ 16 سالہ مقیم کی ماں کی سسکیاں گم ہوچکی ہیں جو 20 تاریخ کو گولی لگنے سے زخمی ہوگیا تھا۔ اس کی ماں تب بیہوش ہوگئی جب 23 دسمبر کی رات نو بج کر تیس منٹ پراس کی موت ہوگئی۔ مقیم کے چچا نے 72 گھنٹوں سے زیادہ عرصے تک لاش کی پوسٹمارٹم رپورٹ کا انتظارکیا اور گھر والوں نے لاش کا۔ مقیم کے چچا کہتے ہیں کہ وہ اس دن میٹھی سپاری لینے گھر سے نکلا تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ پولیس اور ہجوم کے مابین فائرنگ ہو رہی ہے تو وہ گھر کی طرف بھاگا۔ تھوڑی ہی دیر میں ، ایک گولی چلی جو اس کے پیٹ سے پار نکل گئی۔ اس کے بعد مقیم کو آگرہ کے اسپتال میں داخل کرایا گیا ، جہاں اس کی حالت تشویشناک ہونے کے بعد اسے دہلی ریفر کردیا گیا۔نبی جان ، راشد اور ارمان 20 تاریخ کو واقعہ کے دن ہی انتقال کر گئے تھے مگر پولس ان کے قتل کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔
32 سالہ رانی اپنے شوہر شفیق کو دم توڑتا دیکھ چکی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ہم مکانات کی چھتوں پر کھڑے دیکھ رہے تھے۔ پولیس دھڑادھڑگولیاں برسارہی تھی۔ ایک ٹھیلے والے کو بھی گولی لگی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ میرے شوہر چار بجے کے قریب چوڑی فیکٹری سے کام پر واپس آرہے تھے۔ وہ گلی میں داخل ہی ہونے والے تھے جب پولیس کی گولی آکرلگی اور وہ وہیں گر پڑے اور میں چھت پر بے ہوش ہوگئی۔فیروزآباد کے ہی گاؤں ناگلہ کا رہائشی ہارون (30سال) ہنگامے کے دوران گولی لگنے سے زخمی ہواتھااورعلاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔
مشکل وقت،مشکل حالات
اوپر کی سطور میں آپ نے تین تصاویردیکھیں۔جن سے اندازہ ہوچکا ہوگا کہ اس وقت ہمارا ملک کن مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔حالانکہ اس سے بھی بڑی مشکل یہ ہے کہ ملک اقتصادی طور پر کنگال ہونے جارہا ہے اور آنے والے دنوں میں قحط اور افلاس جیسی صورت حال ہوگی۔ اب تک صرف کسان مرتے تھے مگر اب پورا ملک بھوکوں مرے گا۔دوسری طرف ملک کو ان حالات سے باہر لانے کے لئے حکومت کے پاس کوئی روڈ میپ بھی نہیں ہے۔ جو لوگ اقتدار میں بیٹھے ہیں،وہ تعلیمی لحاظ سے بھی پسماندہ ہیں، ایسے میں سمجھا جاسکتا ہے کہ ملک کا مستقبل کن تاریکیوں میں پھنسا ہوا ہے۔ڈر لگتا ہے کہ کہیں بھارت بھی افریقہ کے پسماندہ ملکوں کی راہ پر نہ چل پڑے۔ آج خواہ ہم یوم جمہوریہ کا جشن منارہے ہیں مگر حقیقت میں ہمیں جمہوری حقوق اور ملک کے تحفظ کی فکر کرنی چاہئے۔ ملک بچ گیا تو پھر ترقی کی راہیں بھی کھلیں گی مگر آج جمہوریت اور آزادی کے تحفظ کی ضرورت ہے۔
وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close