مضامین و مقالات

کاش آر ایس ایس تخریب کے بجائے ملک کی تعمیر میں سو سال وقف کرتی ! ذوالقرنین احمد

حکومت اپنے ناجائز عزائم کو پورا کرنے کیلے جس طرح جمہوری اقدار کی اور آئین ہند کی پامالی کر رہی ہے اس سے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جمہوری نظام کو ہی تبدیل کرکے غیر محسوس طریقے سے اپنے من چاہے قانون کو عوام پر مسلط کر رہی ہے۔ ایک جمہوری ملک میں اتنی کثیر تعداد میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج جاری ہونے کے باوجود اگر حکومت اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کیلے تیار نہیں ہے تو یہ کیسی جمہوریت ہے۔ جمہوریت کے پس پردہ گنڈا راج کیا جارہا ہے۔ یہ حکومت اپنے سو سالہ منصوبے کی تکمیل کرنے کیلے اب کمر بستہ دیکھائی دے رہی ہے۔ کیونکہ یہ ایک میشن کے تحت آزادی کے قبل سے کام کر رہے ہیں۔ جن کا خواب ہندو راشٹر کی بنیاد رکھنا ہے جو ملک میں مذہبی منافرت پھیلا کر حکومت کرنا چاہتے ہیں۔ نفرت کی بنیاد پر حکومتیں زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی ہے۔ اور اس میں سب سے زیادہ نقصان بے قصور عوام کا ہوتا ہے۔ مذہبی منافرت کو ہتھیار بناکر عوامی ذہنوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت بھر دینا ملک کے اتحاد و اتفاق کو منتشر کرنا ہے۔ ایسے میں ملک کی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ہے۔
بے شک آر ایس ایس کی منصوبہ بندی اور مسلسل کوشش اورخاموشی کے ساتھ اپنے میشن کو لے کر آگےبڑھنا تمام الزامات کے باوجود پھلنا پھولنا یہ قابل تعریف بھی ہے۔ لیکن یہ سنگھی فرقہ پرست جس مشین کو لیکر بڑھ رہے ہیں وہ تخریب کاری کا عمل ہے۔ یہ ایک ایسا ملک بنانا چاہتے ہیں جہاں غریب عوام اور امیروں کیلے الگ قانون ہو، یہ انسانیت کے بنیادی اور فطری اصولوں کے خلاف ورزی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک خدا کی بندگی سے نکال کر عوام کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنا چاہتے ہیں۔جبکہ انسانوں کے پیدا کرنے والے رب نے انھیں آزاد پیدا کیا ہے۔ یہ شخصی آزادی اورحق و انصاف کی پامالی ہے۔ہر شخص اپنی زندگی گزارنے کیلے فطرت کے اصول اور اللہ کےقانون کی پاس داری کرتے ہوئے آزاد ہے۔
جتنی زہریلی فصل آزادی کے قبل ان فرقہ پرستوں نے بوئی تھی آج اسکی فصلیں تیار ہوچکی ہے۔جسے اب کاٹا جارہا ہے۔ اس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس فرقہ پرست ٹولے نے ملک میں جگہ جگہ خون ریزی کی ، بے قصور بچوں ماؤں بہنوں نوجوانوں کا قتل کیا۔ ہندوستان کو تنزلی کی طرف دھکیلنے کا کام کیا۔ آپس میں مذہب کے نام پر عوام کو ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں کیا۔ غریب عوام اور مخصوص قوم کے حق و انصاف کو غضب کیا۔ اور آج بھی شہریت ترمیمی قانون کو نافذ کرکے تمام غریب پسماندہ طبقات کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنا چاہتے ہیں۔ انہیں ملک بدر کرنا چاہتے ہیں انہیں پابند سلاسل کرنا چاہتے ہیں۔ بے فائدہ قانون کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں عوام پر شکنجہ کسنے کیلے اپنے اقتدار کا غلط اور نا جائز استعمال کر رہی ہے۔ شاہین باغ کی خواتین جو ایک مہینے سے زائد دنوں سے کالے قانون کے خالف مورچہ سنبھالے ہوئے ہیں۔ ان پر جمہوری انداز میں گنڈا گردی کرنا چاہتی ہے۔
ملک بھر میں احتجاج کر رہی عوام کی آواز کو دبانے کیلے قومی سلامتی قانون کو نافذ کر رہی ہے۔ جبکہ ملک و قوم کو نقصان سب سے زیادہ ان اقتدار جماعت کی وجہ سے ہورہا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا ہے کہ فرقہ پرست عناصر نفرت کی کھیتی کی بجائے محبت انصاف اور حق کیلے اپنے سو سال وقف کرتے! آج بھی‌ ملک لاکھوں کروڑوں افراد رات کا کھانا کھائے بغیر سو جاتے ہیں۔ معصوم بچے اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے بجائے مزدوری کرتے ہیں۔ بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوان زندگی کے اہم وقت کو دفتروں میں چکر کاٹ کر ڈگریاں لے کر گھومتے ہوئے ضائع کردیتے ہیں۔ ملک کا مستقبل بننے والے معصوم یتیم بے سہارا بچے ایک وقت کی روٹی مشکل سے حاصل کرپاتے ہیں۔ یتیم اور بیواؤں کے حقوق کو کرپشن کے زریعے سیاسی لیڈران اور افسران مل کر غضب کر لیتے ہیں۔ بیٹیوں کی عزتیں تار تار ہوتی ہے۔ لیکن یہ فرقہ پرست عناصر آج بھی تخریب کاری میں لگے ہوئے ہیں۔ کاش کہ وہ تخریب کاری کے بجائے تعمیر کا کام کرتے، سو سالہ منصوبے کی بنیاد انسانی حقوق کا تحفظ اور انصاف پر مبنی حکومت کو بناتے تو یہ ملک آج پھر سے سونے کی چڑیا کہلاتا، پھر یہاں کوئی بچہ بھوکا نہیں سوتا، یہاں تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار نہیں ملتے ، یہاں بیواؤں یتیموں کو اپنے حقوق ملتے، یہاں بیٹوں کی عزتیں پامال نا ہوتی، یہاں ظلم کرنے والے کو فوری سزا دی جاتی ، یہا نفرت پھیلانے والوں کو پابند سلاسل کیا جاتا ، یہاں بھائی چارگی اور محبت سر چڑھ کر بولتی ، یہاں کوئی بچہ تعلیم سے دور نا ہوتا، کوئی غریب بنیادی حقوق سے محروم نا ہوتا، یہاں ظلم کا نام و نشان نا ہوتا یہا محبت کے پھول کھلتے، یہاں امن و سلامتی ہوتی ، یہ ملک انصاف کے نام سے پوری دنیا میں جانا جاتا، کاش کے یہ لوگ سمجھ پاتے۔ لیکن لمبی ہے غم کی شام، مگر شام ہی تو ہے۔
9096331543

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close