مضامین و مقالات

مردم شماری کی آڑ میں این آرسی کا جال ! تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی

مردم شماری کی آڑ میں این آرسی کا جال ! تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی
email:ghaussiwani@gmail.com
Ghaus Siwani ki Mehfil/Facebook
’این آرسی اور این پی آر ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ یہ نام بدل کر، بھیس بدل کر ،رنگ بدل کر جنتا کو پھنسانے کے لئے جال بچھا رہے ہیں۔ ‘ یہ سابق ممبرپارلیمنٹ شاہد صدیقی کا ایک ٹویٹ ہے مگر وہ تنہا ایسے شخص نہیں ہیں جو این پی آرکو این آرسی کی بدلی شکل سمجھتا ہے۔ اصل میں کانگریس لیڈروںسے لے کر اسدالدین اویسی تک کا یہی کہنا ہے کہ یہ عام مردم شماری نہیں ہے جو ہمیشہ سے ہوتی آئی ہے بلکہ اس بار اسے این آرسی کی بنیاد بنایا جائے گا۔ یہ محض الزام نہیں ہے بلکہ حکومت پارلیمنٹ میں بار بار کہتی رہی ہے کہ اس بار این پی آر یعنی مردم شماری کو این آرسی کی بنیاد بنایا جائے گا۔ حالانکہ امت شاہ بار بار اسے غلط بتارہے ہیں، جب کہ ماضی میں مودی سرکار نے پارلیمنٹ کے اندر کم از کم9 مرتبہ کہا ہے کہ این پی آر ہی این آرسی کی بنیاد بنے گا۔ نوجوان لیڈر کنہیاکمار نے ایک ٹویٹ میں وزیرداخلہ پر طنز کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’موٹا بھائی کہہ رہے ہیں کہ انڈا الگ ہے اور مرغی الگ ہے لیکن یہ بات چھپا ر ہے ہیں کہ اس این پی آرکے انڈے سے این آر سی ہی کی مرغی نکلے گی۔ اور ٹی وی والے بحث کر رہے ہیں کہ پہلے مرغی آئی یا انڈا؟ سر ، یہ پبلک ہے ، سب جانتی ہے۔ عوام کو بے وقوف سمجھنا بند کریں۔‘‘
وزیرداخلہ سچ بول رہے ہیں؟
شہریوں کے قومی رجسٹر (این آر سی) پر بحث اور سوالات کے درمیان ، جب مرکزی کابینہ نے قومی آبادی رجسٹر (این پی آر) کو منظوری دی تو شکوک وشبہات کا اٹھنا لازمی تھا۔ سوالات کا سیلاب سا آگیا۔ پہلا سوال یہ پیدا ہوا کہ کیا این پی آر کا این آر سی سے کوئی تعلق ہے؟ ایسے ہی کچھ سوالوں کے جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک نیوز ایجنسی اے این آئی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ این پی آر کا این آر سی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ شاہ نے کہا کہ دونوں مختلف قوانین کے تحت ہیں اور این پی آر کے اعداد و شمار کو این آر سی کے لئے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ اس سے پہلے مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر بھی کہہ چکے ہیں کہ این پی آر کا این آر سی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اب امت شاہ نے کہا کہ ، این پی آر ایک ڈیٹا بیس ہے جس کی بنیاد پر پالیسیاں بنائی جاتی ہیں جبکہ این آر سی میں ، لوگوں کی شہریت کا ثبوت مانگا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این پی آر کو این آر سی کے لئے استعمال کرنے کی بات صرف افواہ ہے۔
مردم شماری کی بنیاد پر این آرسی
حکومت کے وزیر داخلہ اور ایک سینئر وزیر کے ان بیانات کے بعد کیا یقین کرلیا جائے کہ این پی آر اور این آر سی کا کوئی رشتہ نہیں ہے؟ لیکن حقائق ایک الگ کہانی سناتے ہیں۔ انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والی ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ این پی آر کی بنیاد پر شہریت ایکٹ 1955 کے تحت شہریت کے ضوابط 2003 کے مطابق ہی این آرسی ہوگا۔ این پی آردر اصل این آر سی کے لئے بنائے گئے قواعد کا ایک حصہ ہے۔دوسرے لفظوں میں این پی آر کو بنیاد بناکر ہی این آرسی ہوگا۔ اخبار کے مطابق نریندر مودی حکومت نے اپنی پہلی میعاد میں کم سے کم نو بار پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ این آر سی کو این پی آر کے اعداد و شمار کی بنیاد پر ہی بنایا جائے گا۔علاوہ ازیں مرکزی وزارت داخلہ کے ذریعہ جاری کردہ 2018-19 کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہریت کے قانون کی دفعات کے تحت این آر آئی سی بنانے کی طرف این پی آر پہلا قدم ہے۔
کیاپارلیمنٹ میں حکومت نے جھوٹ بولا ؟
سوال یہ ہے کہ حکومت نے پہلے پارلیمنٹ میں جھوٹ بولا تھایااب وزیرداخلہ غلط بیانی کر رہے ہیں؟ کانگریسی ممبر پارلیمنٹ راجیو ساتو کے 8 جولائی 2014 کو پارلیمنٹ میں پوچھے گئے سوال کے تحریری جواب میں ، اس وقت کے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کیرن رجیجو نے کہا تھا ، این پی آر کے منصوبے کا جائزہ لیا گیا ہے اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ این پی آر مکمل ہونا چاہئے تاکہ یہ ’منطقی انجام‘ تک پہنچ سکے۔ این پی آر میں ہر شخص کی شہریت کی حیثیت کی تصدیق کے بعد این آر آئی سی تشکیل دی جائے گی۔ ’’15 جولائی اور 22 جولائی کو ، رجیجو نے ایک بار پھر لوک سبھا میں وقفہ سوال کے دوران این پی آر اور این آر سی سے مربوط بتایا۔ انہوں نے 23 جولائی کو راجیہ سبھا میں بھی ایسا ہی بیان دیا تھا۔ 29 نومبر 2014 کو ، رجیجو نے راجیہ سبھا کو بتایا کہ ، این پی آر ہندوستان کے ہر شہری کی شہریت کی تصدیق کرکے این آر آئی سی بنانے کی طرف پہلا قدم ہے۔
دی انڈین ایکسپریس کے مطابق ، 21 اپریل اور 28 جولائی 2015 کو ، اس وقت کے مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ ، ہری بھائی پارتھی بھائی چودھری نے ، لوک سبھا میں وقفہ سوال کے دوران ’منطقی انجام‘ والے بیان کا اعادہ کیا۔ 13 مئی 2015 کو ، رجیجو نے ایک بار پھر راجیہ سبھا میں یہی بات کہی۔
دی انڈین ایکسپریس کے مطابق ، 11 نومبر 2016 کو ، رجیجو نے وقفہ سوال کے دوران راجیہ سبھا میں اپنے پرانے نکتہ نظر کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ، حکومت نے آبادی کے اندراج کی تیاری کو منظوری دے دی ہے اور اس میں ملک کے لوگوں کے بارے میں معلومات بھی شامل ہیں۔پاپولیشن رجسٹر کی تیاری، ہندوستانی شہریوں کے قومی رجسٹر کی تیاری کا ایک حصہ ہے۔
وزیراعظم اور وزیرداخلہ کا یوٹرن
اب امیت شاہ بار بار کہہ رہے ہیں کہ این آر سی کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی رام لیلا کی ریلی میں یہی بات کہی تھی کہ حکومت میں این آر سی کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔وزیر اعظم مودی کے این آر سی کے بارے میں بیان کے بعد ، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ این آر سی کے بارے میں مرکزی حکومت کا کیا موقف ہے؟ کیونکہ سوشل میڈیا پر ایسی بہت ساری ویڈیوز موجود ہیں جن میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو 2024 سے پہلے ملک بھر میں این آر سی کے نفاذ کے بارے میں بات کرتے سنا جاسکتا ہے۔ حکومت نے پہلے ہی پارلیمنٹ میں 9 بار این پی آر کو این آر سی سے جوڑا ہے اور کہا ہے کہ این پی آر اصل میں این آر سی بنانے کی طرف پہلا قدم ہے۔
مردم شماری میں نئے سوال کیوں؟
مردم شماری پہلے بھی ہوتی رہی ہے مگر اس بار سوال اٹھنے کے کئی اسباب ہیں جن میں سے ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ پہلے جو سوالات پوچھے جاتے تھے،ان میں اس بار اضافہ کیا گیا ہے۔2010 میں یو پی اے حکومت کے دوران ، این پی آر میں 15 سوالات تھے جبکہ 2020 کے این پی آر میں یہ تعداد 21 ہوگئی ہے۔ 2010 کے این پی آر میں باپ ، ماں ، شوہر یا بیوی کا نام تین سوالات میں تھا جبکہ 2020 کے این پی آر میں اسے کم کرکے ایک کردیا گیا ہے۔ این پی آر 2020 میں جو 8 نئے امور کی جانکاری مانگی گئی ہے، وہ کچھ اس طرح ہیں۔
1- آدھار نمبر
2- موبائل نمبر
3- والدین کی پیدائش کی جگہ
4- پچھلی جگہ کا پتہ
5- پاسپورٹ نمبر (ہندوستانیوں کے لئے)
6- ووٹر شناختی کارڈ نمبر
7- مستقل اکاؤنٹ نمبر(پین کارڈ)
8- ڈرائیونگ لائسنس نمبر
وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق ، این پی آر میں اندراج ضروری ہے لیکن پین ، آدھار ، ڈرائیونگ لائسنس اور ووٹر I کارڈ کے بارے میں بتانا رضاکارانہ ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ این پی آر کو آن لائن اپ ڈیٹ کرنے کا آپشن بھی تیار کرلیا گیا ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ اس کا شہریت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
حکومت جواب دے
سوال یہ بھی ہے کہ وہ 8 نئی معلومات جو پوچھی گئیں ہیں ، کیا ان کا مقصد شہریت چیک کرنا ہے؟ حکومت پاسپورٹ نمبر ، پین اور ڈرائیونگ لائسنس نمبر کیوں مانگ رہی ہے؟ اس کے ساتھ ہی حکومت ان سوالوں کے جواب بھی دے جو لوگوں کے ذہن میں اٹھ رہے ہیں۔ پہلے ہی این آرسی کے سوال پر ملک گیر تنازعہ کھڑا ہے اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی ریاستی حکومتوں نے اس پر عمل درآمد سے انکار کردیا ہے۔ ایسے میں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس صورتحال کو واضح کرے لیکن افسوس کہ حکومت کے بیانات سوالوں کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدگی پیدا کر رہے ہیں؟کانگریس کا کہنا ہے کہ مودی حکومت این پی آر کو این آر سی سے جوڑ رہی ہے ، جب کہ یہ یو پی اے حکومت کے دور میں نہیں ہوا تھا۔ پارٹی کے سینئر لیڈر اجے ماکن نے کہا ، ہم نے بھی 2011 میں این پی آر پروگرام کیا تھا لیکن ہم نے اسے کبھی بھی این آر سی سے نہیں منسلک کیا۔اگر اسے این آر سی کے ساتھ ملایا گیا تو ہمیں اعتراض ہے۔
اب حکومت کو جواب دینا ہوگا کہ اس نے 2020 کے این پی آر میں نئی چیزوں کو کیوں شامل کیا؟اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ این پی آر کا تعلق این آر سی سے ہے جبکہ حکومت اس کی تردید کر رہی ہے۔ ایسے میں عوام کا الجھن میں پڑنا لازمی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close