مضامین و مقالات

کچھ دیر کی خاموشی ہے پھر شور آئیگا!تحریر : مولانا فیاض احمد صدیقی رحیمی انعام وہار سبھاپور دھلی این سی آر

{کچھ دیر کی خاموشی ہے پھر شور آئیگا
تمہارا صرف وقت آیا ہے ہمارا دور آئیگا}
جب ظلم و ستم حد سے تجاوز کرجائے، ہرسو گھنگھور گھٹا چھاجائے، ہر چہرے پہ اداسی ڈیرہ جمالے، ہر آنکھ بھیگ جائے، قائد بن جائیں بزدل، قیادت ہوجائے دلال، محافظ کے بھیس میں ہوں قاتل اور منصف کے بھیس میں ہوں ظالم تو، ایسے وقت میں چپ رہنے سے اور لبوں کو سی لینے سے کچھ نہ ہوگا، صبر و حکمت کی چادر اوڑھ لینے سے کچھ نہ ہوگا، مصلحت کے نام پہ ہاتھ باندھ لینے سے کچھ نہ ہوگا کیونکہ یہ وقت اپنے عالیشان مکانوں سے نکل کر سڑکوں پہ آنے کا ہے، اونچ نیچ، امیر غریب، ذات پات، رنگ و روپ کا ہر فرق بھلاکر ایک ساتھ شانہ بشانہ ہوکر، قدم سے قدم ملا کر ظالم سرکار و تاناشاہ حکمراں کی تانا شاہی کے خلاف اور اپنے حق کے لئے آواز اٹھانے کا وقت ہے ……
جیسے بھارت کو انگریزوں سے آزاد کرانے کی خاطر تمام مذاہب کے ماننے والوں نے متحد ہوکر آزادی کی جنگ لڑی تھی، بالکل اُسی طرح آج انگریزوں کے دلال آر ایس ایس سنگھی، بھگوادھاری چڈی والے انسانیت سوز دشمنوں سے دوسری جنگ لڑنی ہوگی ……. جس کے لئے ہمیں پہلے خود کے اندر بسے ڈر سے باہر نکلنا ہوگا اور ڈنکے کی چوٹ پہ کہنا ہوگا کہ
” ایسے دستور کو صبح بےنور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا “
یہاں پہ ہمیشہ اس بات کو ذہن نشیں کرلیں کہ کل پرسوں کے دلال، دہشتگرد گوڈسے کی اولاد آج ہم سے ہماری شہریت کا ثبوت نہیں مانگ سکتے نہ ہی کوئی ہمیں پاکستان، افغانستان بھیجنے کی بات کہہ سکتا ہے نہ ڈیٹنشن کیمپوں سے ڈرا سکتا ہے، کیونکہ ہم کل بھی بھارتی تھے آج بھی ہیں اور ان شاءاللہ تاقیامت رہینگے، اگر ہمیں پاکستان جانا ہوتا تو ہم 1947 میں ہی چلے جاتے، مگر ہمارے باپ دادا نے پاکستان کو ٹھوکر مار کر اپنے وطن عزیز کو چنا اور اس گلشن کو اپنے خون سے سینچا ہے، تاریخ کے اوراق میں اپنی حب الوطنی کی نہ جانے کتنی داستانیں رقم کی ہیں جس میں عزیز وطن کی آزادی کی خاطر اپنی جان و مال یہاں تک کہ اپنی اولادیں قربان کی ہیں، تاکہ آنے والی نسلوں کو غلامی کی زنجیروں سے نکال سکیں اور ہمارے بہتر مستقبل کی خاطر انہوں نے جتنی اذیتیں جھیلی ہیں، جتنی قربانیان پیش کی ہیں اُس کو بیان کرنے کے لئے قلم سیاہی کی جگہ لہو مانگتا ہے ……. ہم اُن کی ان بےلوث قربانیوں کو ہرگز ضائع ہونے نہیں دے سکتے
یہاں پہ ہمیں شاعر راحت اندوری کا ایک شعر یاد آرہا ہے
” ہمارا خون بھی شامل ہے یہاں کی مٹی میں
کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے “
اس شعر کو دہراتے ہوئے بس اتنا یاد رکھیں یہ ملک کل بھی ہمارا تھا، آج بھی ہمارا ہے اور ان شاءاللہ تاقیامت ہمارا ہی رہے گا، کسی کی اتنی اوقات نہیں ہے کہ وہ ہم سے ہماری وفاداری یا شہریت کا ثبوت مانگیں.
فتین برہمنوں کو جانا ہے تو وہ شوق سے جائیں، مسلمان ہرگز نہیں جائیں گے، مرکر بھی ہم یہاں کی مٹی میں خوشبو بن کر بس جائیں گے، بکھرجائیں گے، گٹر میں بہنا ہمارا مقدر نہیں یہ تو یوگی مودی امیت شاہ کی قسمت ہے …..
ہمارے بزرگوں کا بنایا ہوا تاج محل آج بھی دنیا میں ساتویں عجوبے کے طور پر جانا جاتا ہے اور جس پر ہندوستانی کو فخر ہے،جہاں مودی نے کھڑے ہوکر تقریر کی تھی وہ لال قلعہ بھی ہمارا ہے، ہم اپنی وراثت کو اپنے ورثہ کی یادوں کو ان دلالوں کے ہاتھوں نہیں سونپیں گے، بلکہ جب تک جان میں جان ہے، جسم میں خون کا آخری قطرہ ہے، آخری سانس باقی ہے، ہم لڑیں گے، بیشک ہم لڑینگے، لڑکر اپنا حق حاصل کریں گے ان شاء اللہ.
اور خدا جانے یہ لڑائی کب تک چلے گی 1 سال، 4سال، 15 سال یا 20 سال باوجود بنا ڈرے، بنا رکے، بنا تھکے ہمیں لڑنا ہوگا
اپنے حق کی خاطر، آنے والی نسلوں کے مستقبل کی خاطر سر پہ کفن باندھے اپنے حجروں سے اپنے خانقاہوں سے نکل کر عملی میدان میں جہاد فی سبیل اللہ کہتے ہوئے خود کو سپاہی کی طرح پیش کرنا ہوگا.
آج ہمارا سب کچھ داؤ پہ لگا ہے، ہمارا ایمان، ہمارا وجود، ہمارا مستقبل خطرے میں گھرا ہوا ہے، اور ہم ایک نظریاتی، نفرتوں کی سیاست میں پھنسے ہوئے ہیں، دشمنوں کی سازشوں میں چاروں طرف سے گھرے ہوئے ہیں، ہمارے بیچ کئی منافق دلال جنم لے چکے ہیں، آج ہماری لڑائی باہری دشمن کے ساتھ اندرونی بھیدیوں ، مخبروں و ضمیر فروش قوم کے دلالوں سے بھی ہے اور ہماری منزل تک پہنچنے والا راستہ کانٹے دار جھاڑیوں سے بھرا ہوا ہے …
جس کو پار کرنے کی خاطر محض اپنے آنچل کو کھینچ لینے سے ہم محفوظ نہیں ہوجائینگے، نہ ہی راستہ بدل لینے سے بچ جائینگے کیونکہ دوچار کانٹوں کو نکالنے کے لئے نرمی اختیار کی جاسکتی ہے، لیکن یہاں تو کانٹے دار شاخیں گہری مضبوط جڑ پکڑ چکی ہیں اور دن بہ دن یہ اپنا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ہمیں لہولہان کرنے کی ضد میں ہیں بلکہ یوں کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہمارا پورا وجود اُس میں جکڑا ہوا ہے اس لئے ان خطرناک حالات میں وقت کا تقاضہ یہی ہے کہ ہم سبھی کو متحد ہوکر ایک کے بعد ایک ان کانٹے دار جھاڑیوں کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنا ہوگا تاکہ یہ دوبارہ پنپ نہ سکیں ………
بیشک یہ کام آسان نہیں ہے، باوجود ہمیں اس کام کو انجام دینا ہوگا، بھلے اس دوران ہمارا جسم چھلنی ہوجائے، ہمارا وجود لہولہان ہوجائے باوجود ہم پیچھے نہیں ہٹ سکتے، ہمیں ہر درد، ہر اذیت ہر کرب کو برداشت کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے، اپنے جسم کو چھلنی کرتے ہوئےقوم کی خاطر، انسانیت کی خاطر خود کو فنا کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے، صبر کے ساتھ آنے والی ہر پریشانی پہ الحمدللہ کہتے ہوئے ثابت قدم رہنا ہوگا،اس لئے ہر مسلمان کو چاہئیے کہ وہ اپنی صلاحیت، قابلیت کو استعمال کرتے ہوئے خود کو عملی میدان میں اتارے…….
اور اس بات کو یاد رکھیں 70 سالوں کی بیوقوفی ہم دوبارہ نہیں دوہرا سکتے نہ اوروں پہ آنکھیں بند کر کے یقین کرسکتے ہیں نہ ہی اپنی لڑائی اپنی ذمہ داری کسی اور کے کندھوں پہ ڈال سکتے ہیں بلکہ سبھی کا ساتھ، سبھی کا اعتماد حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھتے جانا ہے،
اس کے لئے خود کو ذہنی و جسمانی طور پر تیار کرنا لازم ہے،اپنی سوچ کو بدلنا لازم ہے، تاکہ کوئی ہمیں اپنے مقصد سے گمراہ نہ کرسکے اور آنے والے ہرقسم کے حالات کا ہم ڈٹ کر مقابلہ کرسکیں، ہمیں ہرگز ہمت نہیں ہارنی ہے اور گھبرا کر جلدبازی میں ہمیں ایسا کوئی فیصلہ بھی نہیں لینا چاہئیے جو وقتی ہو بلکہ ایسی رائے عامہ تیار کرنی ہوگی جو آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ کرسکے، دنیا بھر میں ہماری پہچان کو ایک نئی سمت دے سکے اور ہمارا ہر عمل ہمارا ہر کردار مثالی ثابت ہو …..
اس کے لئے ہم دوبارہ اپنی بات دہرائینگے ہمیں اپنی ذات سے کئی قسم کی قربانیاں دینی لازم ہیں کیونکہ ہر فتح ہر تاریخ قربانی مانگتی ہے ………
اپنے اس مقصد کے لئے ایسے مخلصوں کو اپنا ساتھی بنائیں جو سانپ کی فطرت کے نہ ہوں نہ ہی گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والی خصلت رکھتے ہوں …..
بھلے چھوٹی سی ٹیم ہی صحیح لیکن مخلص، بےباک، جراتمند و دیندار ہونی شرط ہے، اسلامی تاریخ اٹھاکر دیکھ لیں، صحابہ رضی اللہ عنہم سے لے کر ہر دیندار کامیاب مسلم حکمراں نے مٹھی بھر فوج کے ذریعہ کئی کئی ممالک پہ فتح حاصل کی ہےاور میدان جنگ میں دشمن کی لاکھوں کی فوج کو دھول چٹایا ہے، صف ہستی سے مٹایا ہے ……… یاد رہے اگر ہم اکثریت، تعداد دکھانے کی خاطر منافقوں، دلالوں و ایمان فرشوں کو اپنے ساتھ رکھینگے تو جنگ لڑنے سے پہلے ہی شکست ہمارا مقدر بن جائے گی، اس لئے ایسوں کی پرواہ نہ کریں، جتنی بھی مخلص ٹیم ہے اُسی کے ساتھ جی جان لگادیں انشاءاللہ کامیابی ضرور ہماری ہوگی ……….
غورطلب آج کی لڑائی صرف ایک مودی یا امت شاہ سے نہیں ہے بلکہ یہ لڑائی ساورکر اور گوڈسے کی سوچ، اُن کے نظریات کے خلاف ہے، جن نظریات کو پختہ رنگ دینے اور ایک طبقہ کے اندر مکمل طرح سے زہر کی طرح بھرنے میں سنگھ پریوار نے 90 سال لگائے ہیں اور اپنی نسلوں کے دل و دماغ کو ان نظریات کا غلام بنادیا ہے جس کا جیتا جاگتا ثبوت حال میں ( جے این یو ) جواہر لال نہرو یونیورسٹی پہ آر ایس ایس کی طلبہ تنظیم ( اے بی وی پی ) کے دہشتگردوں کا حملہ ہے …….
اس سے یہ صاف پتہ چلتا ہے کہ سنگھی فی الحال بوکھلائے ہوئے ہیں اور اپنی اسی بوکھلاہٹ کی وجہ سے وہ آدم خور درندے بن چکے ہیں جو کبھی بھی کچھ بھی کرسکتے ہیں، اس لئے مسلمانوں و تمام سیکولر طبقات کو چاہئیے کہ وہ ہر لمحہ چاق و چوبند رہیں، ہر صورتحال سے نپٹنے کے لئے خود کو تیار رکھیں اور وقتاً فوقتاً اُن نظریات کو صف ہستی سے مٹانے کی کوشش کریں اور اس بات کو اپنے دل میں بٹھالیں کہ بھارت میں برہمن محض 4 سے 5 فیصد ہیں، باوجود انہوں نے 130 کروڑ آبادی والے ملک پہ غلبہ حاصل کیا ہے اس سے ان کی شاطرانہ چال کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ………
دراصل یہ ڈر اور عصبیت کی سیاست کررہے ہیں لیکن ان شاءاللہ اگر انہی کا وار ان پہ پلٹادیا جائے تو ایک حد تک کامیابی مل سکتی ہے، فی الحال ملک بھر میں جو احتجاجات و مظاہرے کئے جارہے ہیں اُس میں تیزی لانی چاہئیے، تمام سیکولر و دیگر اقلیتی طبقات کو برہمن ایزم و برہمن وادی سوچ کے متعلق بتانا چاہئیے، تاکہ احتجاجات طول پکڑیں کیونکہ فی الحال بھاجپائیوں کا ڈر عوام کے مظاہروں سے ہے اگر اس ڈر کے بازار کو اور گرمایا جائے تو بی جے پی کے ساتھ ساتھ تمام سنگھی بھی بوکھلا جائینگے اور اسی بوکھلاہٹ کے چلتے اُن کی 90 سالہ منصوبہ بندی کمزور پڑنے لگے گی اس لئے مستقل درپیش آنے والے ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے الٹا وار ضروری ہے، ساتھ ہی مسلمانوں کو چاہئیے کہ وہ ابھی چل رہے احتجاجات و مظاہروں میں غیر مذاہب کے لوگوں کو بیشک ساتھ رکھے اور اپنے آگے بھی رکھے لیکن ان کی کمان اپنے ہاتھوں تھامے رہے نہ کہ خود کی کمان اُن کے ہاتھ سونپ کر خود خواب خرگوش میں مدمست ہوں ……..
کیونکہ یہ شاطر آج میں رہ کر آنے والے 100 سال تک کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کے لئے یہ یہودی و صلیبیوں کی چال چلتے ہیں، آج تک کی ان کی تمام سازشوں میں صلیبیوں کی جھلک نظر آئی ہے، چاہے وہ مسلمانوں کو آپس میں لڑوانا ہو یا ہمارے درمیان منافقوں کو پیدا کرنا ہو یا مسلمانوں کے خلاف دیگر مذاہب کے نوجوانوں کو بھڑکاکر مسلمانوں کا قتل و عام کروانا ہو ……….
ابھی حالات کا کھلا اشارہ ہے کہ عنقریب آر پار کی لڑائی ہوگی اُس وقت کے لئے قوم کو ابھی سے تیاری کرنی ہوگی ….
کیونکہ اُس وقت ہمارے آگے دو ہی راستے ہوں گے ایک طرف کنواں دوسری طرف کھائی،
فرقہ پرستوں کے ظالمانہ قوانین پہ خاموش رہینگے تو بھی مارے جائینگے
اس کے خلاف لڑینگے تب بھی مارے جائینگے …..
لیکن فرق یہ رہے گا کہ لڑکر مرنے سے شہادت کا مرتبہ ملے گا برعکس خاموش بزدلانہ مرینگے تو مردار کہلائیں گے.
حضرت عمر بن عبسہ ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا گیا
یارسول اللہ ﷺ جہاد کا کیا معنیٰ ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا
میدان جنگ میں کفار سے لڑنا۔
پھر کسی نے عرض کیا یا رسول اﷲ ﷺ
سب سے افضل اور بہتر جہاد کونسا ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
میدان جنگ میں کفار سے لڑنا۔
جس میں مجاہد کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور مجاہد کا اپنا خون بھی بہا دیا جائے۔
(کنز العمال ج۱،ص ۲۹)
افسوس کہ آج جب بھی جہاد کی بات آتی ہے تو ہمارے اپنے اہل علم حضرات نوجوانوں کی سوچ کو گمراہ کرتے ہوئے صبر، حکمت و مصلحت کے نام پہ بزدلی کا درس دینے لگ جاتے ہیں
اور عبادتوں و دعاؤں کی تلقین دے کر نوجوانوں کے اندر اُبلتے ہوئے جوش، حوصلوں پہ ٹھنڈے پانی کے چھینٹے چھڑک کر ٹھنڈا کردیتے ہیں، پھر شروع ہوتا ہے قیامت کی نشانیوں اور موجودہ دور کے گناہوں کا تذکرہ جس کے بارے میں لمبے چوڑے بیانات دے کر مظلوم کو خود اپنے آپ کو گنہگار تصور کرنے پہ مجبور کردیتے ہیں، اس درمیان قسم ہے ایک بار بھی ظالم کے خلاف لڑنے، جہاد فی سبیل اللہ کا درس دینے کی بھی کسی نے کوشش کی ہو، کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے یہ حضرات اللہ سے زیادہ مودی سے ڈرتے ہیں، تبھی آج بھی اتنے برے حالات میں بھی کئی مساجد میں خطبے و درس کے دوران این آر سی کو آئین کے خلاف کہنے سے بھی کتراتے ہیں، کہیں امام کہہ نہیں پاتے تو کہیں مساجد کے مفاد پرست ذمہ داران کہنے نہیں دیتے، یہاں تک کہ کئی جگہوں پہ ایسے واقعات بھی پیش آئے ہیں جہاں حالات حاضرہ پہ حکومت کے خلاف لکھنے والے اہل علم حضرات کو امامت کی ذمہ داری سے برطرف کردیا گیا ہے، ایسے دنیا پرست نام نہاد اہل علم حضرات و مفاد پرست ذمہ داران سے ہم بس اتنا کہینگے کہ ہر دور میں آزمائشیں آتی رہی ہیں لیکن جس دور میں اہل علم حضرات نے نوجوانوں کو محض مصلے بچھاکر خانقاہوں میں بیٹھنے کا حکم دیا وہ قوم دشمنان اسلام کے ہاتھوں نیست و نابود ہوئی ہے …..
کیونکہ آرام دہ حجروں و خانقاہوں میں مصلے پہ بیٹھے صبر کے نام کی تسبیح پڑھنا صبر نہیں بلکہ بزدلی ہے جس کو ہمارے چند نام نہاد قائدین نے صبر اور حکمت کا نام دیا ہے اور ایسے اپاہج صبر کی منزل بیشک قبر ہے اپنے ساتھ اپنوں کی بھی قبر بنانے کے برابر ہے، کیونکہ صبر کے حقیقی معنی اے سی لگے کمروں میں سجدوں میں بیٹھنا ہرگز نہیں ہے بلکہ ظالم دشمن، تانا شاہ حکمران کے آگے حق بات پہ ڈٹے رہنا، حق کی خاطر انگاروں پہ چلنا، گردوں کے نظرانے پیش کرتے ہوئے ظالموں کے ہاتھ پکڑنے کی کوشش کرنا، اور میدان جنگ میں بھوکے، پیاسے، تیروں و تلواروں کے بیچ دشمنوں کے وار سے اپنے جسم چھلنی ہوتے ہوئے بھی ثابت قدم رہنا حقیقی صبر ہے اور اس بات کو بھی ذہن نشین کرلیں ہماری عبادات، دعائیں مصلے کی محتاج نہیں ہیں، بلکہ ہمارے سجدے تو جنگل، بیابانوں، تپتے ہوئے صحراؤں، ٹاپوں کی آوازوں و شمشیروں کی چھاؤں میں ہونی چاہئے اور جب ظالم حکمران، دشمنان اسلام کے آگے ہم سجدہ ریز ہوکر اپنے رب کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہیں تو یہ وہ منظر ہوتا ہے جسے دیکھ کر بڑے سے بڑے دشمن کا دل کانپنے لگتا ہے…….
لیکن افسوس ہم نے بزدلی کے سبق کو جتنی گہرائی سے اپنے اندر اتار لیا ہے، کاش اتنی شدت سے ہم جہاد فی سبیل اللہ کو بھی سمجھ جاتے تو تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود دنیا بھر میں مسلمان ذلیل و خوار نہ ہوتے ………
اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتے ہیں
خدا کبھی اُس قوم کے حالات نہیں بدلتا، جو خود اپنے حالات بدلنا نہیں چاہتی ہو ……

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Back to top button
Close
Close