مضامین و مقالات

دعاؤں کے اہتمام کی بھی ضرورت ہے!ابوالحسنات قاسمی دارالثقافہ ، اسونجی بازار ، گورکھپور

فی زمانہ پورے عالم میں ایک اضطراب کی کیفیت ہے، بالخصوص ہمارا ملک بھارت سنگین بحرانی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ مسلم امہ کے حوالے سے عدم اطمینان و بے یقینی کا ماحول بنا ہوا ہے، مسلمانان ہند پر( فاشسٹ نظریہ کی حامل) مرکزی کی حکومت کی طرف سے عرصۂ حیات تنگ کرنے کے نت نئے حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔ حالات مشکل سے مشکل تر ہوتے جارہے ہیں لیکن ہم اتنے سادگی پسند ہو گئے ہیں کہ اس شدید ترین و پر آشوب دور میں بھی آسان اور بہت ہی آسان راستوں کے انتخاب میں انتہائی کسلمندی کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔انہی میں سے ایک ہے کسی بھی مشکل وقت میں دعاء کا اہتمام کرنا –
کوئی بھی شخص کوئی کام اسی وقت توجہ ، انہماک اور یکسوئی سے کرتا ہے جب وہ اس کام کی اہمیت سے واقف ہوتا ہے ۔
دعاء بھی ایک انتہائی اہم کام ہے
اس کی اہمیت کا اندازہ اسی سے لگاسکتے ہیں کہ خود ذات باری تعالٰی ( جس کے روبرو دست بدعاء ہونا ہے) فرماتے ہیں کہ :
” ٱدْعُونِىٓ أَسْتَجِبْ لَكُمْۚ ”
مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔ ( غافر : 60 (
اور ارشاد ربانی ہے :
اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے، یقیناً و ہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا-(الأعراف: 55(
نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ :
اور اے نبیؐ، میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو اُنہیں بتا دو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے، میں اُس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں لہٰذا انہیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں یہ بات تم اُنہیں سنا دو، شاید کہ وہ راہ راست پالیں۔( البقرة : 186 (
شہریت کے تعلق سے مجلس مقننہ میں منظور کئے گئے ( فریب پر مبنی )ترمیمی قانون ( CAA + NRC + NPR) کے رد کے سلسلے میں مسلمان اور ساتھ ساتھ امن پسند نیز جمہوریت پر یقین رکھنے والے برادرانِ وطن دستور و ملک کے تحفظ کے لئے شانہ بہ شانہ کھڑے سراپائے احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ مگر یہی تدبیر کافی نہیں ہے۔اس لئے کہ کسی بھی عمل کو کامیابی کے ساتھ پایۂ تکمیل پہونچانے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اس لئے احتجاج و مظاہرے اور دعاء دونوں طریقے اپنائے جانے کی ضرورت ہے۔ کچھ لوگ یا وہ لوگ جو باہمت ہیں وہ دلی میں موسم کے انتہائی سرد ( درجہ حرارت صفر کے قریب) ہونے کے باوجود احتجاجی دھرنے میں مستعدی سے جمے ہوئے ہیں، اور کچھ ( مقامات پر) ایسے لوگ ہیں جنہیں جابر حکام کی طرف سے احتجاج و مظاہرے کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ، یا کم ہمت و ناتواں لوگ ہیں مگر اس کوشش میں ابنا اندراج کرانا چاہتے ہیں مگر موقع نہیں مل پارہا ہے، ان کو چاہئے کہ وہ ان مسائل سے نجات کے لئے صرف حکومت کے سامنے احتجاج کرنے ، دھرنا دینے پر اکتفاء نہ کریں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور بھی معتکف و مظاہر ہوکر دعاؤں کا اہتمام کریں،خواہ یہ اہتمام اجتماعی شکل میں ( نماز فجر میں قنوت نازلہ کی صورت میں) ہو یا انفرادی شکل میں ہو۔ اس لئے کہ حالات کو پیدا کرنے ، آزمائش میں ڈالنے اور اس سے نجات دینے والی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات عالی ہے۔
جیسا کہ ارشاد فرمایا:
” اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے”۔(البقرة : 155)
اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
"یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں تم پر یہ وقت ا س لیے لایا گیا کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں، اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی (راستی کے) گواہ ہوں کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں ہیں”۔ (آل عمران : 140)
لہٰذا حالات سے نبرد آزما کرنے و نجات دینے والی ذات بھی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ہی ہوسکتی ہے۔
اور اس امت کے لئے تو خود رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم و دیگر انبیاء و رسل کی زندگیاں نمونہ ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آزمائش کے اوقات میں نبرد آزمائی کی دعاء کی ہے۔ اور انبیاء سابقین نے بھی کیا ہے۔
حضرت شعیب علیہ السلام پر اسی طرح کے حالات آئے تو دعاء فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی دعاء قبول فرمائی اور سرکشوں سے نجات عطاء فرمائی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اس کی قوم کے سرداروں نے، جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے، ا س سے کہا کہ "اے شعیبؑ، ہم تجھے اور اُن لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے ورنہ تم لوگوں کو ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا” شعیبؑ نے جواب دیا "کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں؟
ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر تمہاری ملت میں پلٹ آئیں جبکہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ہمارے لیے تو اس کی طرف پلٹنا اب کسی طرح ممکن نہیں الا یہ کہ خدا ہمارا رب ہی ایسا چاہے ہمارے رب کا علم ہر چیز پر حاوی ہے، اُسی پر ہم نے اعتماد کر لیا اے رب، ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے”( الأعراف : 88 ، 89)
اسی طرح کے حالات حضرت ابراہیم علیہ السلام پر واقع ہوئے تو آپ نے دعاء فرمائی:
"آخر کار منکرین نے اپنے رسولوں سے کہہ دیا کہ "یا تو تمہیں ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا ورنہ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے” تب اُن کے رب نے اُن پر وحی بھیجی کہ "ہم اِن ظالموں کو ہلا ک کر دیں گے”۔
"اور اُن کے بعد تمہیں زمین میں آباد کریں گے یہ انعام ہے اُس کا جو میرے حضور جواب دہی کا خوف رکھتا ہو اور میری وعید سے ڈرتا ہو "۔
"اُنہوں نے فیصلہ چاہا تھا (تو یوں اُن کا فیصلہ ہوا) اور ہر جبار دشمن حق نے منہ کی کھائی”-(سورہ ابراھیم: 13،14،15)
اسی طرح حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کا واقعہ ہے:
موسیٰؑ نے دعا کی “اے ہمارے رب، تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں زینت اور اموال سے نواز رکھا ہے اے رب، کیا یہ اس لیے ہے کہ وہ لوگوں کو تیری راہ سے بھٹکائیں؟ اے رب، ان کے مال غارت کر دے اور ان کے دلوں پر ایسی مہر کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں”۔
"اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا “تم دونوں کی دعا قبول کی گئی ثابت قدم رہو اور اُن لوگوں کے طریقے کی ہرگز پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے”۔ )سورہ یونس: 88،89(
لہٰذا جب بھی امت مسلمہ پر حالات آئیں تو ظاہری تدابیر کے اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ دعاؤں کا سہارا لینے اور اہتمام کرنے کی ضرورت ہے۔
اللہ سبحان و تعالیٰ خود اعلان فرماتے ہیں کہ :
‏” أَمَّن يُجِيبُ ٱلْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ ٱلسُّوٓءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ ٱلْأَرْضِ ۗ أَءِلَهٌۭ مَّعَ ٱللَّهِ ۚ قَلِيلًۭا مَّا تَذَكَّرُونَ ”
( النمل : 62 )
کون ہے جو بے قرار کی دعا سنتا ہے جبکہ وہ اُسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے؟ اور (کون ہے جو) تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (یہ کام کرنے والا) ہے؟ تم بہت کم نصیحت و عبرت حاصل کرتے ہو۔
اللہ ہی سے مانگے ، کیونکہ :فرمان نبوی علی صاحبہا الصلاۃ والسلام ہے :

” إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الأُمَّةَ لَوْ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، وَلَوْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، رُفِعَتِ الأَقْلَامُ وَجَفَّتْ الصُّحُفُ ” (قال الترمذی : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ )
"جب کچھ مانگنا ہو تو اللہ ہی مانگو ، اور جب بھی مدد طلب کرنی ہو ،تو صرف اللہ سے مدد طلب کرو ،اور یقین رکھو! کہ ساری امت تجھے کوئی نفع پہنچانا چاہے تو نہیں پہنچا سکتی،
سوائے اتنے نفع کے جو پہلے اللہ نے تیرے لئے لکھ رکھا ہے ،اور سارے لوگ تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے ،سوائے اس نقصان کے جو اللہ تعالی نے تیرے لئے لکھا ہوا ہے – قلمیں (مقدر ،نصیب لکھ کر )خشک ہو چکیں ،اور صحیفے بند ”
چونکہ فی زمانہ امت مسلمہ ہرجانب سے قومی و بین الاقوامی ، مذہبی وسیاسی ، سماجی و معاشی اور اقتصادی سطح پر اعدائے دین کی سازشوں ، مکر و فریب، ظلم و جبر اور استبداد و معاندت کا شکار ہے اس لئے ان حالات میں بدرگاہ رب العزت دعاء کرنے کی بھی ضرورت ہے –
اور دعاء میں خشوع و عجز کے لئے استحضار اور اس کے معنی مفہوم کا سمجھنا ( اگر وہ عربی زبان میں ہے ) ضروری ہے ۔اس لئے عوام الناس کے لئے لازم ہے کہ اگر عربی زبان میں مرتب شدہ ماثورات و دعاؤں کا مفہوم سمجھ میں ‌ہ آرہا ہو تو اپنی مادری زبان میں ہی دست بہ دعاء ہوں۔
اس لئے کہ دعاء کے بارے میں کہا گیا ہے کہ "دعاء مؤمن کا ہتھیار ہے اور اللہ تعالیٰ سے قرب کا ذریعہ بھی ”

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close