مضامین و مقالات

بوریہ نشیں آزادی کی خاطر میدان میں ۰ (مفتی ہمایوں اقبال ندوی استاذ مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ ارریہ ۔ بہار)۔۔۔۔۔۔

*بوریہ نشیں آزادی کی خاطر میدان میں ۰۰۰۰۰۰۰۰۰*
 (مفتی ہمایوں اقبال ندوی استاذ مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ ارریہ ۔ بہار)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   

  ہندوستان ایک آزاد ملک کا نام ہے ۔اس کی آزادی میں کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے ملک کی قربانی رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے صرف ایک آزاد ملک ہی نہیں بلکہ ایک بڑا جمہوری ملک اورایک بڑی جمہوریت سے بھی موسوم کیا جاتا ہے ۔جمہوریت کیاہے؟جس طرح آزادی کی جنگ میں ہر دھرم ،ہرذات،ہر برادری اور ہرسماج کا حصہ و یوگدان رہا ہے، اسی کے صلے میں ہندوستان جیسا جمہوری ملک اپنی آزادی کے بعد سب کے یکساں حقوق کی پاسداری کرتا اورضمانت دیتا ہے اگرایک لفظ میں کہا جائے تو اس کا ضامن ہے ۔اس تعلق سے گفتگو کو طول نہ دیکر ہمیں آج *بوریہ نشیں* پر بات کرنی ہے ۔ہندوستان کی آزادی کی تاریخ میں *بوریہ نشیں* ایک برادری کا نام ہے جسے "علماء”کے نام سے جانا جاتا ہے ان کا کارنامہ عام مجاہدین آزادی سے الگ نوعیت کا رہا ہے ۔جہاں ملک کی آزادی کی خاطر انکی کوششیں ملکی رہی ہیں، وہیں ملک کی آزادی کے لئے ان کا دائرہ کار بین الاقوامی اور عالمی پیمانے کا بھی رہا ہے ۔یہ شاملی کے میدان میں انگریزوں کی گولیوں سے اپنے سینوں کو چھلنی کررہےہیں،اور شہادت کا جام پی رہے ہیں ۔یہ دیکھو حافظ ضامن شہید رح ہیں ،وہ مولانا قاسم نانوتوی ہیں،ادھر دیکھو یہ مولانا رشید احمد گنگوہی ہیں ۔ارے یہ تو پورا کا پورا میدان عالموں سے اور اسکی لاشوں سے پٹا ہوا ہے ۔ ریشمی رومال کی تحریک چلائی جارہی ہے ۔ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پاوں میں بیڑیاں پہن رہے ہیں ۔ترک موالات کی مہم چلا رہے ہیں ،پھانسی پر چڑھ کر اور اپنا سر کٹا کر شہید ہورہے ہیں ،حسینی کرداراداکررہےہیں اورآزادی کی جنگ جیت رہے ہیں۔انگریز سرکاٹ کر بھی یہ جنگ ہار رہا ہے، عجیب و غریب لوگوں سے اسے پالا پڑا ہے ۔جو تختہ دار پر بھی چڑھنے کو بیتاب ہے ۔یہ مولانا جعفر تھانیسری ہیں جو تختہ دار کی رسی اور لکڑی کو چوم رہے اور رجزیہ اشعار گنگنارہے ہیں ۔۔ یہ سرکٹاتو سکتے ہیں مگرجھکا سکتے نہیں،  ۔،دہلی کے یہ دیکھو مولانا  شاہ عبدالعزیز رح کے جسم سے گوشت کٹ کٹ گررہا ہے، انکا جرم یہ ہے کہ انہوں نے انگریزوں کے خلاف فتوی جہاد دیا ہے ،جس کے پاداش میں چھپکلی کا تیل جسم پر مل دیا گیا ہے ۔یہ اسیران  مالٹا مولویوں ہی کی جماعت ہے ۔یہ صادقپور کے *بوریہ نشین* علماء کی بستی ہے، جو انگریز کے گولے سے خاکستر میں تبدیل ہو گئی ہے ۔یہ مولانا فضل حق خیرآبادی ہیں،جامع مسجد دہلی کے مینار پر چڑھ کر جہاد کا پرشور اعلان کر رہے ہیں ۔یہ مولانا آزاد ہیں جو ملک کے کونے کونے میں جہاد کا صور پھونک رہے ہیں،  وہیں دوسری طرف دیکھئے تویہ مولانا محمد علی جوہر ہیں جو لندن میں جاکر موت کا جام پینے کی بات کر رہے ہیں ۔یہ شاہ ولی اللہ دہلوی ہیں جو ملک کی آزادی کے لئے عالمی پیمانے پر رابطے میں ہیں، افغانستان کے شاہ احمد ابدالی سے ملک کی آزادی کے لئے تعاون کے خواہاں ہیں، اور ایک عالم ہونے کا فرض وقرض اتا ررہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ عالم کی موت کو پورے عالم کا نقصان کہا گیا ہے ۔عالم وہ ہے جس کا دائرہ پورا عالم ہے۔علم، علماء،عالم، تینوں کا مادہ ع،ل،م  ہی ہے ۔یعنی علم کے ذریعے علماء کا دائرہ پورے عالم کو محیط ہے ۔بحمد اللہ اس ملک کی آزادی کے لئے علمائے کرام نے اپنے شایان شان قربانی دیکر ایک الگ پہچان ہی نہیں بلکہ ایک نئی جہت ، نیارخ اور عجیب و غریب مثال  پیش کی ہے ۔وطن کی حفاظت وسالمیت اور آزادی کی خاطر بوریہ کندھے پر ڈال کر یہ اعلان کیا ہے، ع ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے ۔۰۰۰۰۰۰۰۰
ہمایوں اقبال ندوی ارریہ

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close