مضامین و مقالات

انکاؤنٹر پروموشن کیلے یا اصل مجرموں کو بچانے کیلے ! ذوالقرنین احمد

انکاؤنٹر پروموشن کیلے یا اصل مجرموں کو بچانے کیلے
ذوالقرنین احمد
9096331543
حیدرآباد میں ہوئے عصمت دری و قتل کے مجرموں کو آج صبح پولس نے انکاؤنٹر کردیا ہے۔ اگر فیصلے ایسے ہی ہونا ہے تو اناؤ کے متاثرہ کو بھی انصاف ملنا چاہیے، بی جے پی کے لیڈر کا انکاؤنٹر ہونا چاہیے، اسی طرح آصفہ کے مجرموں۔ کا بھی انکاؤنٹر ہونا چاہیے، ایسے ہزاروں کیسز ہے پھر عدالت کس لیے ہیں،
مینکا گاندھی نے کہا جو ہوا ہے ملک کے لیے بہت بھیانک ہوا ہے آپ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتے ، ان (ملزم) کو ویسے بھی عدالت کسی بھی طرح پھانسی ہی دیتی ، اگر آپ قانونی عمل مکمل ہونے سے پہلے ہی انہیں گولی مار رہے ہیں تو پھر عدالتیں ، قانون اور پولیس رکھنے کا کیا فائدہ؟
یہ کوئی انصاف نہیں ہوا ہے ملزمین پر جرم آئد ہونے سے پہلے انہیں مجرم قرار دینا کہا کا انصاف ہے۔ پولس حراست میں ہومے کے باوجود ملزم بھاگنے کی کوشش کیسے کر سکتے ہیں کوئی فلمی سین تھوڑی چل رہا ہے یا کسی فلم کی ریہرسل چل رہی ہے۔ جو آیا دل میں کرو۔ قانون اور جمہوری نظام کس لیے ہیں، ملزم کو قانونی طور پر مجرم قرار دینے جانے کے بعد سرے عام پھانسی دینے چاہیے تھی۔ ناکہ خوفیا دور پر انکاؤنٹر کردیا جائے۔ یہ بات بلکل جمہوری نظام کے خلاف ہے۔ ایکطرف تو ہمارا قانون ہے کہ اگر کوئی مجرم ہماری اوپر حملہ کرتا ہے تو الٹا ہم دفعہ کے سوا کچھ کرتے ہیں تو وہاں ہم مجرم قرار دی جاتے ہیں اور اگر یہی کام پولس کریں تو انہیں ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے انکا پروموشن کیا جاتا ہے۔
ہوسکتا ہے کہ جن لوگوں کو پکڑا گیا تھا اسکے علاوہ کو ئی اور‌ ہی مجرم ہو اور بڑی مچھلیوں کو بچانے کیلے بے گناہ معصوم افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہو، اور ایک بات یہ بھی صرف حیدرآباد کے مجرموں کو اس طرح سے انکاؤنٹر کرکے مار دینا مطلب عوام کو بے وقوف بنانا ہے جو آوازیں انصاف کیلے اٹھنے رہی ہیں انہیں خاموش‌ کرنا ہے۔ کیونکہ اس ایک کیس کی وجہ ایسے سیکڑوں کیسز سامنے آرہے ہیں جو اسی نوعیت کے ہے جس مین کلاسیک تازہ معاملہ سامنے آیا ہے نوجوان لڑکی جس کی عصمت دری کی گئی تھی اسی کے مجرموں کو عدالت نے ضمانت پر رہا کیا تھا اور جب وہ لڑکی صبح کے وقت شہر کی عدالت میں کیس کی تاریخ پر جانے کیلئے نکلی تو مجرم اور اسکی ۵ ساتھیوں نے اسکے سر پر لاٹھیوں سے وار کیا جس وہ بے ہوش ہ کر گر پڑی اور پھر اس پر آئیل ڈال کر آگ لگا گئی جسمیں 90 فیصد تک جل چکی ہے۔ ہوسکتا ہے ایسے کیسز کو دبانے کیلے بھی یہ کام کیا گیا ہے۔ اور جو احتجاج ریپسٹوں کیلے  سخت  قانون سازی کیلے ملک بھر میں کیے جارہے ہیں انہیں خاموش کرنے یا خوش کرنے کا ایک عمل ہے۔ اگر حقیقت میں قانونی چارہ جوئی کے بعد مجرم قرار دینے جانے کے بعد  کو  مجرموں کو کھلے عام پھانسی دی جاتی تو اس سے مجرموں کو سبق ملتا۔ لیکن اب حیدرآباد پولس پر شک جتایا جارہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بڑے مجرم اس میں ملوث ہو۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close