مضامین و مقالات

مسلم پرسنل لا بوڑد کا ریویو پٹیشن۔۔۔۔۔ لیکن! مولانا احمد اللہ عقیل حیدر فلاحی

مسلم پرسنل لا بوڑد کا ریویو پٹیشن۔۔۔۔۔ لیکن! مولانا احمد اللہ عقیل حیدر فلاحی
گستاخئِ تحریر کی معذرت
          منھ میں زبان اور ہاتھوں میں قلم رکھنے والے افراد جب خاموش ہو جاتے ہیں اور قلم کو، کہیں الماریوں کے گمشدہ دراز کے حوالے کر دیتے ہیں تو اس وقت گونگوں کو بھی بولنے کی پوری آزادی مل جاتی ہے اور وہ لوگ بھی اہل قلم بن جاتے ہیں جن کے افکار و نظریات سے انتشار اور اختلاف کی راہیں ہموار کرنے میں دشمنوں کو پوری پوری مدد مل جاتی ہے، اور اسی آزادی سے استفادہ کرنے کے لیے شاید میں نے بھی کسی الماری کے بوسیدہ دراز میں ایک خستہ قلم تلاش کر لیا ہے جس کی نوک سے یقیناً ایسی خطاؤں کا امکان ہے کہ معذرت خواہ ہونا پڑے۔۔۔ چنانچہ، گستاخئِ تحریر کی معذرت کا عنوان ہی مناسب معلوم ہوا۔۔۔۔۔
          تو اس عنوان کے تحت، سب سے پہلے آج کی منعقدہ  آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بوڑد کی میٹنگ میں پاس ہونے والے قرارداد پر گفتگو کرنا چاہونگا جیسا کہ بہت سارے افراد نے کیا بھی ہے۔۔
          آج یعنی کہ، سترہ نومبر دو ہزار انیس کے روز دارالعلوم ندوۃ العلماء میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بوڑد کی ایک اہم میٹنگ ہوئی جس میں اس بات پر گفتگو کی گئی کہ نو نومبر کو عدالت عظمیٰ کی جانب سے بابری مسجد کے خلاف دیئے گئے غیر منصفانہ فیصلے کے خلاف ہمارا رد عمل کیا ہو۔ پانچ ایکڑ کی زمین کا تحفہ قبول کیا جائے یا رد کیا جائے، ریویو پٹیشن داخل کیا جائے یا نہیں۔ اور آخر میں بوڑد کے ممبران کا یہ متفقہ فیصلہ آیا کہ عدالت عظمیٰ میں بابری مسجد مقدمہ کے خلاف ریویو پٹیشن داخل کیا جائے۔ حالانکہ اس ریویو پٹیشن کو داخل کرنے کی مخالفت کچھ لوگ پہلے ہی کر چکے ہیں لیکن میں ان سے اتفاق نہیں رکھتا ہوں۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مسلم پرسنل لاء بوڑد کی امارت کو تسلیم کرنے کے باوجود، میں اس ریویو پٹیشن کے داخل کرنے کے حق میں بھی نہیں ہوں۔۔۔۔ تو پھر میرا نظریہ کیا ہے۔۔۔
          میرے خیال سے ایک عدالت ایسی ہونی چاہیے جہاں نہ رام کے پرستار ہوں اور نا ہی اللہ کے عبادت گزار ہوں اور مقدمہ بھی صرف بابری مسجد کی زمین کا نہ ہو بلکہ پوری کائنات کا ہو اور دعویٰ یہ ہو کہ چونکہ تمام کائنات کا خالق صرف اللہ ہے چنانچہ اللہ کی نافرمانی کرنے والے کو اس کائنات میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوہ۔۔۔ گستاخئِ تحریر کی معذرت۔۔۔۔ شاید زیادہ ہو گیا۔۔۔۔۔۔ اچھا چلئے دوسری تجویز سنیے۔۔۔۔۔۔ ہمیں یہ مقدمہ کرنا چاہئے کہ صرف اللہ کی ذات حق ہے اس کے علاوہ سارے بھگوان باطل ہیں۔۔۔۔۔ تو اگر کوئی فرد، خاندان یا قوم۔۔۔ رام کو بھگوان مانتی ہے اور اس کی پرستش کے لیے مندر تعمیر ہی کرنا چاہتی ہے تو پہلے اس کے وجود کی سچائی کا ثبوت دے اور اسے بھگوان ثابت کرے۔۔۔۔۔۔ اور ہم اللہ کے حق ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔۔۔۔ مزید یہ کہ اللہ کی حقانیت کے لیے ثبوت پیش کرنے کا طریقہ وہی ہوگا جو کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا تھا۔۔۔۔ ہاں! محمد کا امتی ہوں، اللہ کا بندہ اور صحابہ کرام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آہن و آتش اور تیغ و تبر سے کھیلنے کا شوقین ہوں۔۔۔۔۔۔ چنانچہ انہیں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یہ ثابت کرونگا کہ اللہ کی ذات حق ہے باقی تمام باطل۔۔۔۔۔
          ممکن ہے کہ یہ بات بھی بہت سارے افراد کو مضحکہ خیز لگی ہو لیکن ان تمام افراد سے میری *گستاخئِ تحریر کی معذرت* کے ساتھ یہ عرض ہے کہ اگر اللہ کی حقانیت کو ثابت کرنے کے لیے جان دینے کا جذبہ ہم میں نہیں ہے تو انصاف کے لیے اس کے نام کو لے کر دربدر بھٹکنے کا اختیار بھی ہمیں نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔۔ ہمیں اس بات کے لیے جواب دہ ہونا پڑے گا کیونکہ محمد ﷺ پر جان لٹانے والوں کی بزدلانہ تاریخ لکھی جانے کے ذمہ دار ہم ہونگے۔۔۔۔۔ جی ہاں! صرف ہم۔۔۔۔۔۔۔
از۔۔۔۔۔۔۔ مولانا احمد اللہ عقیل حیدر فلاحی 17/11/2019*

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close