مضامین و مقالات

علی سہراب کی گرفتاری، عالمی یومِ صحافت پر سوال! مولانا احمد اللہ عقیل

علی سہراب کی گرفتاری، عالمی یومِ صحافت پر سوال
           عالمی یومِ صحافت کی مبارکبادیوں کا سلسلہ جاری تھا، ساتھ ہی روز مرہ کی رزو جیسی خبریں بھی تھیں جس پر سرسری نگاہ ڈالتے ہوئے، واٹس ایپ اور فیس بک کے صفحات پلٹ رہا تھا کہ ایک خبر نے ہاتھوں کی جنبش کو روک دیا، خبر تھی۔۔۔۔۔۔ معروف و مشہور اور بے باک سوشل صحافی علی سہراب عرف کاکاوانی کی گرفتاری۔۔۔۔ جس کی تفصیل میں اس بات کا تذکرہ بھی تھا کہ اس پر ایک مہینہ پہلے ہی ایف۔ آئی۔ آر۔ درج کی گئی تھی کیونکہ اس نے کچھ ایسی باتیں ٹویٹر پر پوسٹ کی تھیں جس کا تعلق کملیش تیواری کے قتل سے تھا۔۔۔
          اس سے پہلے کہ میں اس معاملے کی مزید تحقیق کرتا، ایک خیال آیا کہ اکثریت کے جذبات کے احترام میں جس ملک عدالت عظمیٰ بھی سرنگوں ہو وہاں کچھ بھی ممکن ہے۔۔۔۔۔ نو، نومبر کے تاریخی فیصلے کے بعد تو کم از کم یہ سمجھ میں آ ہی جاتا ہے کہ اکثریت کے خوف کا لبادہ اوڑھے ہر کوئی دوسروں کو بزدلی کی تعلیم دے رہا ہے اور یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ اللہ کا شکر ادا کرو کیونکہ تمہاری زندگی سلامت ہے، تو کیا ہوا کہ مسجدِ بابری تمہارے ہاتھوں سے نکل گئی لیکن اس کے عوض پانچ ایکڑ زمین کا تحفہ تو دے دیا گیا اور سب سے بڑی بات یہ کہ تمہارے سر اور تمہارے گھر تو سلامت ہیں۔۔۔۔
          لیکن بد قسمتی سے علی سہراب کا شمار ایسے افراد میں ہوتا ہے جو ظالموں کو ظالم اور بزدلوں کو بزدل ثابت کر دیا کرتے ہیں اور لوگوں کے پاس اس کا کوئی جواب بھی نہیں ہوتا۔۔۔۔ اور ایسے وقت میں جب کہ عدالتوں کا رویہ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ اکثریت کے نشے میں چور طاقت کے خداؤں سے اس قدر خائف ہے کہ عدل و انصاف کا سارا سبق بھول چکی ہے، علی سہراب نے ان کے مزاج کے خلاف کوئی بات کہ دی ہے تو یہ یقینا گناہ عظیم ہے۔۔۔ اسے گرفتار تو ہونا ہی تھا۔۔۔۔ لیکن عالمی یوم صحافت کے موقع پر ہونے والی یہ گرفتاری، کہیں نہ کہیں عالمی یومِ صحافت پر سوالیہ نشان بن کر مذاق اڑا رہی ہے اور یہ کہ رہی ہے کہ قلم کی طاقت اسی وقت سب سے بڑی ہوتی ہے جب اس قلم کی طاقت کے پس پردہ ایک اور طاقت ہو۔۔۔۔ پھر وہ طاقت، افراد کی شکل میں ہو، ایمان کی شکل میں ہو یا حق کے لیے جان لٹا دینے کے جذبے کی شکل میں ہو۔۔۔۔۔
از۔۔۔۔۔۔ مولانا احمد اللہ عقیل حیدرآباد فلاحی    17/11/2019

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close