مضامین و مقالات

خطبہ حجۃ الوداع۔انسانیت کی فلاح وبقاکامنشوراعظم، رہتی دنیا تک اس کی اہمیت وافادیت باقی رہے گی : اے۔ آزادقاسمی

آج کی مادیت پرست دنیاایک بے ہنگم، ناہمواراور دشوارگزارراستہ پر چل پڑی ہے،جس مصنوعی ترقی و ماڈرن سوسائٹی کاخواب اہل مغرب نے ہم دنیا والوں کو دکھایاہے،سچی بات تو یہ ہے کہ اس کی خوفناک حقیقت اور بھیانک تصوریں دھیرے دھیرے واضح ہوتی جارہی ہے۔ہم یہ دیکھ رہے ہیں اور محسوس بھی کررہے ہیں کہ اکیسویں صدی میں ترقی کا یہ خوشنما تصور بڑی تباہی کے دہانے پر ہمیں پہنچا چکاہے۔نتیجتاًہم انسانی اقدار کی کھلی پامالیوں،خودغرضیوں اورمادیت پرستی کی پرفریب کاریوں کامشاہدہ بھی کررہے ہیں۔پچھلے ڈیڑھ برسوں کے دوران عہد’کورونا‘ میں جگہ جگہ اور متواترترقی کا چولہ اتر تے اور انسانیت کا جنازہ اٹھتے جس انداز اورجس روپ میں ہم سبھوں نے دیکھا،وہ انسانی تاریخ کا مکروہ ترین باب کہلانے کیلئے کافی ہے۔ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ ’دورِ جدید‘ میں معاشی، معاشرتی، سیاسی، سماجی، ثقافتی، تعلیمی نابرابری کی ایک گہری خلیج انسانی معاشرہ میں حائل ہوچکی ہے،بلکہ کردی گئی ہے،جس کی لکیریں اب بہت صاف اورواضح ہوچکی ہیں، جسے ہر کوئی صاف طورپر دیکھ اورپڑھ سکتاہے۔ایسا محسوس ہوتاہے کہ چودہ سوسال پہلے کے اس دورجاہلیت کی بہت سی برائیاں انسانی زندگی میں ایک بارپھر داخل ہوچکی ہیں۔انسانیت سے عاری قوم کوہر طرح کی معاشرتی برائی سے نجات دلانے اور سسکتی بلکتی انسانیت کوراہ راست پرلانے کیلئے آقائے نامدار خاتم النبین ﷺ کواللہ پاک نے 14سو سال قبل مبعوث فرمایا تھا۔ دورجاہلیت کی وہ قومیں جس میں احترام انسانیت اور حقوق انسانیت نام کی کوئی ادنی سی بھی رمق باقی نہ تھی، وہ چند ہی سالوں میں تعلیمات نبوی ﷺ کی مساویانہ اورعادلانہ درس سے تاریخ انسانیت کی ایک عظیم جماعت بن گئی،جن کے بارے میں خود معلم انسانیت ﷺ نے فرمادیا کہ اگر تم زندگی میں فلاح وکامرانی چاہتے ہوں تو”میرے اصحاب کی پیروی کرلو کامیاب ہوجاؤگے“۔
آج کے اس نازک دورمیں جبکہ ہرطرف انسانیت پامال ہورہی ہے، آپسی رنجش و چپقلش انتہاکوپہنچ چکی ہے، بات بات پر جھوٹی قسمیں کھائی جارہی ہیں،ہرطرف بے جا انانیت کا بازارگرم ہے، انسانی زندگی ایک عذاب بنی ہوئی ہے،ہر لمحہ بے سکونی کااحساس غالب ہے، زندگی کا ہرپہلو مضطرب وپریشان ہے،لوگ عالمِ مایوسی میں اللہ کی عطاء کردہ بیش قیمتی اثاثہ یعنی اپنی زندگی تک کو ختم کرنے سے بھی گریزاں نہیں ہیں،انسانی زندگی بڑی شدت کے ساتھ ’سکون قلب‘ کی متلاشی ہے،اسے اس وقت ایک ایسی تعلیمات کی ضرورت بڑی شدت سے محسوس ہورہی ہے جومضطرب اورپریشان حال لوگوں کی کشتی کومنجھدارسے نکال کر کنارے لگادینے کا سامان مہیاکراسکے۔
آج کی اس پرفریب دنیا کے سامنے چودہ سوسال پہلے مکہ کی سنگ ریز وادی’میدان عرفات‘ میں معلم انسانیت کے ذریعہ پیش کردہ وہ تاریخی وابدی منشور’خطبہ حجۃ الوداع‘ موجودہے،جو کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرام ؓ کے جم غفیر کے سامنے ۹/ذوالحجہ سنہ ۰۱ھ کوتپتی ہوئی دوپہر کے وقت رحمۃ العالمین ﷺنے دیاتھااور جس کو تاریخ میں ”خطبہ حجۃ الوداع‘ کے نام سے موسوم کیا جاتاہے۔اللہ اکبر! وہ خطبہ کیاتھا بلکہ اکثراہل علم اسے اسلامی تعلیمات کا نچوڑ اور اسلام کے سماجی،سیاسی، تمدنی اصولوں کا ایک جامع مرقع قراردیتے ہیں۔
1947-48میں جب ’اقوامتحدہ‘کی داغ بیل ڈالی جارہی تھی اورانسانی حقوق کی بازیابی اورتحفظ کیلئے عصرحاضرکے عالمی منشور کو آخری شکل دیا جارہا تھا، اس وقت بھی منشورکے مرتب کردہ سرکردہ پینل کے پیش نظریہی تاریخی’خطبہ وداع‘تھا اور کہا جاتاہے کہ حقوق انسانی، احترام انسانیت اور پوری دنیا میں انسانی بنیادپر سب کے ساتھ یکساں سلوک اور باہمی رواداری پیش کرنے کے حوالہ سے جودفعہ شاملِ منشورکیا جارہا تھا،اس کی تیاری میں اس تاریخی’خطبہ وداع‘ کے اکثر جزاورپیراگراف کو فوقیت کے ساتھ شامل منشورکیا گیا ہے۔ خطبہ حجۃ الوداع کو تاریخی حقائق کی روشنی میں انسانیت کا سب سے پہلاجامع واکمل منشور’انسانی حقوق‘ ہونے کا اعزازحاصل ہے۔ ہم اسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ خطبہ وداع حقوق انسانی کا اولین منشوراعظم بھی ہے اورمحافظ بھی کہ انسانی تاریخ میں اس سے قبل ایسی کوئی نظیر ہمیں دیکھنے کو نہیں ملتی،جس میں عالم انسانیت کیلئے کوئی ایساعملی دستور فراہم کرایا گیا ہو،جو ذات،رنگ،نسل،طبقہ، فرقہ، علاقہ،گروہ یاقوم سے بالا تر ہو اور جس میں وسیع تر انسانی مفادات کے تحفظ کی ضمانت اس قدروسیع پیمانہ پر درج ہو۔یہی وجہ ہے کہ رہتی دنیا تک زمین کے کسی بھی خطہ میں جب بھی کہیں انسانی حقوق کی بات ہوگی، اس منشوراعظم یعنی کہ ’خطبہ حجۃ الواداع‘کاتذکرہ فطری طورپرہوگا۔اس کے زیادہ تر نکات کی شمولیت کے بغیرتیارہونے والا حقوق انسانی کا کوئی جامع ترین دستوربھی عملاًناقص ہی قرار پائے گااوروہ تنفیذی طورپربھی بے سوداور بے اثرثابت ہوگا۔
خطبہ حجۃ الوداع کواسلام میں بڑی اہمیت حاصل ہے،اسی کے ساتھ عالمی تاریخ میں بھی اس کی اہمیت ومعنویت مسلم ہے۔ اس عالمی منشورکی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں کسی خاص گروہ کی حمایت، کسی خاص نسل کی برتری،کسی خاص قوم کے مفادات کی حفاظت کا شائبہ تک موجود نہیں ہے۔ اس کے کلیدی نکات کی مذہبی افادیت کے ساتھ ہی بڑی اخلاقی اہمیت بھی ہے،جوبنی نوع انسان کی زندگی کیلئے آئیڈیل اورنمونہ قرارپانے کیلئے اس وجہ سے کافی ہے کہ اس پر عمل درآمدکے ذریعہ بشری حقوق کے تحفظ کی سو فیصدضمانت دی جاسکتی ہے۔
اس وقت جبکہ انسانی زندگی بے پناہ صعوبتوں اورپریشانیوں میں گھری ہوئی ہے،انسانیت کے راستہ پر چلنااورانسانی عظمت واحترام کومقدم ٹھہراناپہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ذیل میں اس اہم خطبہ کے کچھ نکات پیش کئے جارہے ہیں۔اس اہم اور اولین عالمی منشورکا نقطہ آغاز اللہ اور اس کے بندے کے درمیان صحیح تعلق کی وضاحت کرتا ہے اور بنی نوع انسان کے ساتھ بغیر کسی تفریق کے بھلائی کی تلقین کرتا ہے۔
٭ خطبہ حجۃ الوداع اسلام کے معاشرتی نظام زندگی کی بنیادیں مہیا کرتا ہے۔ معاشرتی مساوات، نسلی تفاخر کا خاتمہ، عورتوں کے حقوق، غلاموں کے ساتھ حسن سلوک، ایک دوسرے کے جان و مال اور عزت وآبرو کا احترام، یہی وہ بنیادیں ہیں جن پر اسلام کی معاشرتی زندگی کانظام بڑی ہی خوش اسلوبی کے ساتھ ترتیب پاتاہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں سے دنیاوی زندگی میں ہمہ وقت عملی طورپراپنے اوپر، اپنے خاندانوں پر اور سماج ومعاشرہ میں عملی زندگی میں اس کے نفاذکا متقاضی ہے۔
٭ اس خطبہ نے معاشی عدم توازن کا راستہ بند کرنے کیلئے سود کو حرام قرار دیاہے کیونکہ سود سرمایہ دار طبقہ کو محفوظ طریقہ سے دولت جمع کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے اور ان کی تمام دولت کی فروانی سودی سرمائے کے حصول ہی کی وجہ سے ہوتی ہے۔
٭ اس خطبہ نے بہت سے اہم قانونی اصول متعین کئے ہیں۔ مثلاً انفرادی وخانگی ذمہ داری کے اصول اوروارثین کے درمیان توزان اور عدل برقراررکھنے کیلئے مکمل اورپائیداررہنماہدایات تفویض کئے ہیں۔
٭سیاسی طور پر خطبہ وداع کو اسلام کے سیاسی منشور کے طورپر بھی دیکھا جاتا ہے۔ دنیا بھر کو اس خطبہ کے ذریعہ بتایا گیا کہ اسلامی حکومت کن اصولوں کی بنیاد پر تشکیل پائے گی اور ان اصولوں پر تعمیر ہونے والا نظام حکومت انسانیت کیلئے کیوں رحمت ثابت ہوگا؟۔ اسی بناپردنیابھرکے جدیددانشور،مفکرین اورریڈیکل افراد بھی اس کے تمام ترنکات کو انسانیت کا منشور اعظم قرار دینے پرمجبورہوئے ہیں۔
٭ یہ ہمارے نبی پاکﷺ کا آخری پیغام ہے اور اس کے مخاطب بھی ہم ہی ہیں۔ اس کی نوعیت،معنویت اوراہمیت پیغمبر اسلام ﷺ کی امت کے لئے ایک وصیت کی ہے۔
اس کے ایک ایک بول پر حضور ﷺنے درد بھرے انداز سے آواز بلند کی ہے کہ میں نے بات پہنچا دی ہے، لہٰذا لازم ہے کہ اسے پڑھ کر ہم اپنی زندگی کا نصب العین بنائیں۔ اور ہم اپنی اب تک کی روش پر نادم ہو کر اور غیرمنصفانہ نظام زندگی سے باہرنکل کر محسن انسانیت ﷺکا دامن مکمل طور پر تھام لیں۔خطبہ وداع اپنی معنویت کی روسے ایک دعوتِ انقلاب بھی ہے، ہم اسے پوری ایمانداری سے اپنی زندگی میں اتارنے کے ساتھ ساتھ اپنے قول وفعل سے دنیا کویہ پیغام دیں کہ ہم اس نبی پاک ﷺ کے ماننے والے ہیں جن کا قول وفعل اور عمل رہتی دنیاتک آنے والوں کیلئے قابل دعوت وعمل ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو پیارے نبی ﷺ کی ہر ہر سنت پر عمل پیراہونے کی توفیق عطافرمائے اوراپنے خاص فضل وکرم سے پریشان حال امت کو عافیت عطاء فرمائے، اور اس عظیم خطبہ وداع کے نکات کو عملی زندگی میں اتارنے کی توفیق عطاء فرمائے۔آمین۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close