مذہبی مضامین

"شب قدر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…..اہمیت و فضیلت” ! محمد قمرالزماں ندوی

"شب قدر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…..اہمیت و فضیلت”

(۲)

محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

کل کے پیغام میں اس جانب اشارہ ہوا تھا کہ امت محمدیہ چونکہ پہلی امتوں کے مقابلے میں جسمانی اعتبار سے کمزور ہے اور اس کی زندگی دوسری امتوں کے مقابلے میں نسبتا کم ہے، اس لیے وہ اپنی جسمانی کمزوری اور کم عمری کی وجہ سے اللہ کی عبادت و بندگی میں سابقہ امتوں کی برابری نہیں کرسکتی تھی، لہذا الله تعالٰی نے اس پر خصوصی عنایت اور رحم و کرم کا معاملہ فرماکر اسے شب قدر عطا کی، اور اس کی خیر و برکت اور خصوصیت کو بیان کرنے کے لیے سورہ قدر کے نام سے ایک پوری سورت نازل فرمائی اور دیگر مواقع پر بھی قرآن میں اس کی اہمیت کو واضح کیا۔۔۔۔۔
حدیث شریف میں آتا ہے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تحروا لیلة القدر فی العشر الاواخر من رمضان (صحیح بخاری ۲۰۲۰)
شب قدر کو رمضان کے اخیر عشرہ میں تلاش کرو ۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کی ایک دوسری روایت اور حضرت جابر بن سمرہ ،حضرت معاویہ بن ابی سفیان، حضرت ابی بن کعب، حضرت عبداللہ بن عباس اور نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کی روایات ستائسویں شب میں ہونا ثابت ہے ۔ (ملاحظہ ہو تفسیر مظہری )
اس رات میں کون سی عبادت کی جائے اور کیا اس سلسلہ میں کوئ خاص دعا اور عبادت حدیث و سنت سے ثابت ہے؟ آئیے اس سلسلہ میں کچھ معلومات حدیث سے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم و سلف صالحین کے معمولات سے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
صحابئ رسول حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
من قام لیلة القدر ایمانا و احتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه ( صحیح بخاری ۲۰۱۴)
جس شخص نے ایمان و احتساب ( صفات خداوندی کے استحضار، اخلاص و للہیت اور اجر و ثواب کی امید ) کے ساتھ شب قدر میں قیام کیا اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوچکے ۔
اس لئے کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اللہ کی یاد کے ساتھ شب گزاری ہو،نوافل پڑھے جائیں، تلاوت کی حلاوت اور دعا کی لذت حاصل کی جائے ،تسبیحات و اذکار اور اوراد و وظائف کے لئے وقت فارغ کیا جائے درود شریف سے بھی زبان تر ہو اور رقت انگیز دعائیں بھی ہوں ،جن میں آخرت کی بھلائیاں طلب کی جائیں اور برائیوں سے پناہ چاہی جائے ۔
اس کے ساتھ صلہ رحمی کی طرف بھی ہم خاص توجہ دیں جن سے ہم نے قطع رحمی کرلی ہے یا جن کے حقوق اور نفقہ ہم پر عائد ہیں اور ہم اس کی ادائگی سے غفلت برتے ہوئے ہیں ان حقوق کو ادا کرنے کی طرف متوجہ ہوں اور جو غلطی اور کوتاہی ہوگئ ہے اس پر نادم ہوں اور خدا کے حضور توبہ و استغفار کریں خصوصا والدین کی شان میں اور ان کی خدمت اور حقوق کی ادائیگی میں کوئ کمی ہوئ ہے تو ان سے معافی مانگیں اور پھر کوتاہی اور غلطی نہ کرنے کا عزم کریں ۔
اس رات ایک خاص دعا کثرت سے پڑھنا بھی حدیث سے ثابت ہے چنانچہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی دریافت پر،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شب قدر میں پڑھنے کے لئے اس دعا کی تعلیم و تلقین کی تھی۔
اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی ( سنن ابن ماجہ؛ ۳۸۵۰/ ترمذی ۳۵۱۳)
بار الہا ! آپ بہت معاف کرنے والے ہیں، معافی کو پسند کرتے ہیں، اس لئے مجھے معاف فرما دیجئے ۔
اس رات ہر مسلمان کو خاص طور پر یہ ضرور کرنا چاہیے کہ وہ عشاء اور فجر کی نماز باجماعت اور تکبیر اولی کے اہتمام کے ساتھ ادا کرے ،کیونکہ امیر المومنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: * جس شخص نے عشاء کی نماز جماعت سے ادا کرلی تو آدھی رات کا ثواب پالیا اور جس شخص نے صبح کی نماز بھی جماعت سے ادا کرلی تو پوری رات شب بیداری اور عبادت کرنے کا ثواب حاصل کر لیا ۔ ( تفسیر مظہری بحوالہ صحیح مسلم )
یہ بات بھی ذھن نشین رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من حرمھا فقد حرم الخیر کلہ (کنز العمال: ۲۴۰۲۸)
جو شخص شب قدر کی خیر و برکت سے محروم رہا ،وہ ہر طرح کے خیر اور بھلائ سے محروم رہا ،مطلب یہ ہے کہ وہ بالکل ہی محروم ،بد قسمت اور بد نصیب ہے ،اس لئے ہمیں چاہیے کہ غفلت اور سستی کو راہ نہ دیں بلکہ اس رات کی کما حقہ قدر کرکے بانصیب اور بافیض بنیں ۔
یہاں ایک اور حقیقت کی وضاحت ضروری ہے کہ اخیر عشرہ میں شب قدر کے علاوہ ایک اور رات ہے جو شب مغفرت ہے وہ مزدوری پانے کا دن ہے۔ فضائل کے باب میں یہ حدیث موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،، میری امت کو رمضان شریف کے بارے میں پانچ چیزیں بطور خاص دی گئی ہیں، یہ کہ ان کے منھ کی بو اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسند ہے۔ یہ کہ ان کے لیے دریا کی مچھلیاں تک دعا کرتی ہیں اور افطار کے وقت تک کرتی رہتی ہیں۔ جنت ہر روز آراستہ کی جاتی ہے پھر اللہ عزوجل و جل فرماتے ہیں کہ قریب ہے کہ میرے بندے دنیا کی مشقتیں اپنے اوپر سے پھینک تیری طرف آویں۔ اس ماہ میں سرکش شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں کہ وہ رمضان میں ان برائیوں کی طرف نہیں پہنچ جن کی طرف غیر رمضان میں پہنچ سکتے ہیں۔ رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کے لیے مغفرت کی جاتی ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یہ شب مغفرت شب قدر ہے؟ فرمایا،، نہیں بلکہ دستور یہ ہے کہ مزدور کو کام ختم ہونے کے وقت مزدوری دی جاتی ہے۔
کاش ہمیں اس مبارک رات اور ان نعمتوں کی قدر ہوتی اور ان خصوصی عطایا کے حصول کی کوشش کرتے۔۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close