مضامین و مقالات

اللہ اللہ کس قدر اولاد سرکش ہوگئی : محمد نظر الہدیٰ قاسمی

محمد نظر الہدیٰ قاسمی
نور اردو لائبریری حسن پور گنگھٹی بکساما، ویشالی
8229870156

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں اخلاق کریمانہ کی ادائیگی کی تمام تر سہولتیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہیں، ایک وقت وہ تھا کہ رشتہ داروں سے ملاقات کے لیے سیکنڑوں میل پیادہ پا چلنا پڑتا تھا اور خبروں کے موصول ہونے میں ایک طویل مدت کا انتظار کرنا پڑتا تھا، ان سب صعوبتوں کے باوجود اعز و اقرباء کے اعزاز و اکرام میں ذرہ برابر بھی لاپرواہی نہیں برتی جاتی تھی، والدین کے ہر حکم کو مقدم رکھا جاتا تھا، ان کی تعظیم کو ہم وقت ملحوظ رکھا جاتا تھا، والد کے رعب و دبدبہ کا یہ عالم ہوتا تھا کہ اگر کسی چیز کی ضرورت پڑتی تھی تو درمیان میں والدہ کو واسطہ بنایا جاتاتھا، والد محترم نے کسی غلطی پر ڈانٹ ڈپٹ کی یا کسی برے کام پر پٹائی کی دھمکی دی تو بچے ماں کی گود کا سہارا لیتے تھے،ان کے واسطے سے والد محترم سے معافی کی بھیک مانگا کرتے تھے۔آج صورت حال بالکل بدل گئی ہے۔
آئیے ذرا ہم محاسبہ کریں کہ جس والدین نے اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کو بچوں کی خورد و نوش اور اس کے مستقبل کی آبیاری کے لیے وقف کردیاہو، جس والدہ نے بچوں کے پیدائش سے قبل اور پیدائش کے وقت کی پریشانیوں کو خندہ پیشانی سے قبول کرکے اپنے لخت جگر کی پرورش کی ہو اور جس والدین نے بچوں کی پیدائش کے بعد سے اپنے لیے گرمی و سردی کے احساس کے بغیر بچوں کے آرام و آسائش کے لئے ہمہ وقت متفکر ہوں، جس کے مقام و مرتبہ کے سلسلے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کے (سورہ بنی اسرائیل آیت : ۲۲ پ ١٥)کے ذیل میں ارشاد فرمایا:
وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْآ اِلَّآ اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناً اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُھُمَآ اَوْ کِلٰھُمَافَلَا تَقُلْ لَّھُمَآ اُفٍّ وَّ لَا تَنْھَرْ ھُمَا وَ قُلْ لَّھُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا۔
وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا
ترجمہ:تیرے رب نے حکم کردیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کیا کرو، اگر ان دونوں میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کی حالت کو پہنچ جائیں تو ان کو اف بھی نہ کہو اور نہ کبھی ان کو جھڑکو اور ان سے خوب ادب و احترام سے بات کرو اور ان کے سامنے شفقت کے بازؤں کو جھکا دو اور یوں دعائیں کرتے رہو، اے میرے پروردگار ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا اور پرورش کیاہے۔
مذکورہ آیت کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حقوق کے فوراً بعد والدین کے حقوق کو بیان فرما کر والدین کی اہمیت و افادیت سے روشناس کرایا ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے لفظ” الکِبَرَ”فرما کر اس بات کی طرف متوجہ فرمایا کہ والدین بڑھاپے کے عالم میں زیادہ حسن سلوک کے محتاج ہوتے ہیں؛ لہذا اس وقت ان کے ساتھ نرمی اور حسن اخلاق کے ساتھ پیش آئیں، اس لیے کہ جب والدین کے پاس طاقت و قوت کا غلبہ رہتا ہے اور اعضاء و جوارح اپنے اپنے کام پر مامور رہتے ہیں تو کسی اولاد کی یہ جرأت نہیں ہوتی کہ وہ والدین کے ساتھ نازیبا سلوک کرے؛ لیکن یہی والدین جب عمر کے آخری مرحلے میں پہونچ جاتےہیں یا کسی بھی حیثیت سے کمزور ہوجاتے ہیں تو بچے ان کی ذات کو بوجھ سمجھ کر خدمت سے کتراتے اور سبکدوشی اختیار کرنے کے طریقے اور حیلے استعمال کرتے ہیں؛ جو والدین بچوں کی غلاظت کو صاف کرنے میں ذرہ برابر بھی عار محسوس نہیں کرتے تھے اگر خدانخواستہ پیٹ کے اندرونی بد نظمی کی وجہ سے وہی حالت والدین کی ہوجاتی ہے تو بچے ناک پر ہاتھ رکھ کر تھوکوں کے انبار لگا دیتے ہیں اور جس والدین نے سر چھپانے کے لیے اولاد کی زندگی کے اکثر حصہ کو شفقت و محبت کا سایہ عطا کیا ہو وہی اولاد ناساز گار ماحول میں اپنے والدین سے پلہ جھاڑ لیتے ہیں اور وہ بیوی بال بچوں کے ساتھ پر سکون زندگی گذارنے کا خواب دیکھتے ہیں ؛حالانکہ یہ ان کی خام خیالی، خوش فہمی؛ بلکہ حماقت ہے، یہی حماقت اس شخص کو اپنے بچوں کی طرف سے اپنے والدین کو گھر سے چلتا کردینے کا سبب بنتا ہے۔
یہ بات مشاھدے کی ہے کہ جب والدین عمر کی آخری منزل پر پہنچ جاتے ہیں تو ان کے عمل میں لڑکپن آجاتا ہے ذرا ذرا سی باتوں پر بلکنا اور سسکنا تو ان کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہے، تھوڑی تھوڑی سی باتوں پر ان کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں، ان کی آنکھوں سےچھلکتے آنسو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ والدین کے ساتھ جو نازیبا سلوک کیاجارہا ہے وہ قابل مذمت ہے؛ آج صورت حال یہ ہے کہ جس والدین کی خدمت کو انسان اپنے لیے سرمایہ آخرت سمجھتا تھا اور ان کے حکم کی تابعداری میں ذرہ برابر بھی تاخیر نہیں کرتا تھا آج اس خونی رشتہ میں اتنا فاصلہ ہوگیاہے کہ جس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا یہ فاصلہ والدین کی طرف سے نہیں، عموماً اولاد کی طرف سے ہی ہوتا ہے۔
کیوں کہ والدین کی شفقت و محبت کا سایہ اتنا وسیع وعریض ہوتاہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اولاد کو یکساں طور پر پرورش کرلیتا ہے؛لیکن یہی اولاد عمر کی ابتدائی منزل کو عبور کرتے ہوئے؛ جب جوانی کی دہلیز پر قدم رنجہ ہوتی تو سرکشی کی گھٹا ٹوپ تاریکی میں غوطہ زن ہوکر والدین کے حقوق کی پامالی میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑتی۔
حالانکہ مذہب اسلام جو صداقت و امانت کا علم بردار اور سر چشمہ ہدایت ہے جو تمام حقوق کی پاسداری اور سسکتے ماحول کو ختم کرنے کی تلقین کرتا ہے وہ اس بات کی قطعاً اجازت نہیں دیتا ہے کہ والدین کے احسانات کو فراموش کردیا جائے اور ان کے ساتھ بدسلوکی کا معاملہ کیا جائے؛بلکہ وہ والدین کے ساتھ حسن سلوک، حسن کردار، حسن گفتار اور ان کے شایانِ شان خدمت کرنے کا حکم دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سبھوں کو والدین کی کما حقہ خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

مطمئن ماں باپ کو ہیں بے مکاں کرنے کے بعد
اللہ اللہ کس قدر اولاد سرکش ہو گئی

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close