مضامین و مقالات

مسلمان میت کو”خدارا خدارا” مسلم قبرستان میں ہی دفنائیں! تحریرـ:حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی جمشید پور

حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی جمشید پور
موبائل: 9279996221-

رب العالمین ساری دنیا کا پیدا فر مانے والا ہے۔دنیا فانی ہے ایک نہ ایک دن سبھی کو مرنا ہے، مسلما نوں کا اس بات پر ایمان ہے، اس وقت کورونا وائرس :کی دوسری لہر نے دنیا میں تباہی مچا رکھی ہے، نفسی نفسی کا عالم ہے اپنے قریب ترین رشتے دار بھی راہِ فرار اختیار کر رہے ہیں ہسپتالhospital تنگ پڑ گئے ہیں،بڑی بڑی رقمیں دے کر بیڈ نہیں مل رہے ہیں۔ اسی طرح مُر دوں کے لیے بھی پریشانیاں اُن کے لواحقین کو ہو رہی ہیں۔کرونا وائرس: میں مرنے والے خاندان کے لوگ کس کرب سے گزر رہے ہیں وہی جانتے ہیں۔ لیکن کچھ کم نصیب ایسے بھی ہیں کہ اپنے مردوں کو گورنمنٹ یا دوسرے فلاحی اداروں ، این جی اوNGOs کے سُپرد کر کے بھاگ رہے ہیں،فلاحی اداروں تک کی بات تو کچھ غنیمت ہے،لیکن حکومتی کارندوں پر اپنے مُردوں کو سونپ دینا،چھوڑدینا اِنتہائی ذلیل،غلیظ کام ہے۔ جب آپ ہی اپنی میت کو دفنانے سے دور بھاگ رہے ہیں تو پھر دوسرا کیا کرے گا،کیا بھروسہ ہے؟ کہاں دفنائے گا یا جلا دے گا کیا معلوم استغفراللہ استغفراللہ۔
گزشتہ سال ممبئی،حیدرآباد،رانچی وغیرہ میں کئی ایسے شرمناک واقعات ہوچکے ہیں،کہیں شمشان گھاٹ کے بغل میں دفنادیا گیا،کہیں رقمیں لے کر میتوں کو دفنا نے دیا گیا اور کئی جگہوں پر خود مسلمانوں نے کورونا سے مرے ہوئے مُردوں کو قبرستانوں میں دفنانے نہیں دیا۔ جب قبر کے اس حصہ میں جہاں میت کا جسم قریب ہے،پکی اِینٹ لگانا منع ہے کہ اِینٹ آگ سے پکتی ہے۔تو مسلمان میت کو جلانا کیسے جائز ہو سکتا ہے۔(فتاویٰ عالمگیری،فتاویٰ ہندیہ،ج1:ص166،بہارِشریعت حصہ4:ص843) اللہ مسلمانوں کو آگ کے اثر سے بچائے آمین۔ مسلمان میت کو دفنانا فرضِ کفایہ ہے، یہ جائز نہیں کہ میت کو زمین پر رکھ کر چاروں طرف مٹی یا بالو کا ڈھیر لگا دیں( جیسا کہ ابھی کیا جارہا ہے) یا چاروں طرف دیواریں قائم کردیں۔ اور اگر میت کو اگر بغیر نمازِ جنازہ دفن کردیا تواس کی نمازِ جنازہ پڑھیں تین دن تک نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں ۔ ( عالمگیری،ر دالمختار، باب صلاۃ الجنا زہ،مطلب فی دفن ا لمیت،ج:3 ص163 ، بہارِ شریعت حصہ 4:ص842)۔
*قبرستانوںکا براحال ذمہ دار کون ؟:*
اللہ رب ا لعزت ہی تمام جہانوں کا پیدا فر مانے والاہے ہر جاندار اور بے جان چیزوں کاخالق وما لک اور نگہبان ہے ہر چیز اس کے قبضے اورما تحتی میں ہے۔سب کا کارسازاوروکیل وہی ہے۔زمین وآسمان کی کنجیوں( KEYS) اور خزانوں کا وہی مالک ہے۔قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اللہ ہی ہر چیز کاخالق (پیدا کرنے والا)ہے اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔(القر آن،سو رہ زمر39،آیت،61) اسی نے موت وحیات کو پیدا فرمایاہے۔ (القرآن، سورہ الملک67،آیت2 ، 1) ترجمہ:وہ ذات نہایت با بر کت ہے جس کے دست (قدرت)میں (تمام جہانوں کی)سلطنت ہے،اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادرہے جس نے موت اور زند گی کو (اس لئے پیدا فر مایاکہ وہ تمھیں آز ما ئے کہ تم میںسے کون عمل کے لحاظ سے بہتر ہے ،اور وہ غا لب ہے بڑا بخشنے والا ہے۔(کنزالایمان)رب کریم نے موت و حیات کو اس لئے پیدا فر مایا کہ وہ اپنے بندوں کی آز ما ئش فر مائے گا کہ اس نے احکام الٰہی کی پا بندی کی کہ نہیں،اس نے دنیا ہی کو سب کچھ سمجھ لیاہے اب جو دنیا میں آیا ہے اس کی ذمہ داری ہے وہ دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کی زندگی کی بھی فکر کرے صرف دنیا کمانا، شاندار مکان بنا نااور دنیا کو بہتر سے بہتر کرنا ہی مقصد حیات بنا لینا یقینا خسارے کا کام ہے۔اللہ نے انسا نوں اور جنوں کو اپنی عبا دت کے لیے پیدا فر مایا اور یہ بھی اعلان فرما یاکہ میں تمھیں روزی دیتا ہوں تم سے نہیں ما نگتا( قر آنی مفہوم) انسان یہ جا نتے ہو ئے بھی ایک نہ ایک دن مرنا ہے پھر بھی دنیا وی ز ند گی سجانے سنوار نے میں مگن ہے جبکہ سب کومرنا ہے اور سبھی کو زمین میں ہی دفن ہونا ہے اور سب کو وہی دو گز زمین ملے گی بادشاہ ہو یا فقیر،لاڈ صاحب ہوں یا مز دورسب کو زمین کے ہی گڈھے میں ہی دفن ہونا ہے۔میت کو دفن کر نا فرض کفا یہ ہے اور یہ جا ئز نہیں کہ میت کو زمین پر رکھ دیں اور چاروں طرف سے دیواریں کھڑی کر کے بند کر دیں ، قبر کی لمبائی میت کے قد کے برا براور چوڑائی آدھے قد کے برا بر اور گہرائی کم ازکم آدھے قد کے برا بر ہو(وقا ر الفتا ویٰ کتا ب ا لصلا ۃالجنازہ ص 26،ج1)قبروں کے اندر باہر کسی طرح کی سجا وٹ کر نا منع ہے،اب وہاںنہ صوفہ ہے نہ (LED )بلب کی روشنی ہے نہ نا ئٹ بلب اپنے اپنے اعمال کے مطا بق وہیں سے جزا وسزاکا دور شروع ہو جائے گاانتہائی عبرتناک حدیث پاک ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: آقا ﷺ نمازمیں یہ دعا پڑھتے، اے اللہ قبر کے عذاب سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں ۔زند گی اور موت کے فتنوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ دجال کے فتنوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں،گنا ہوں اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں (ام المئو منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا)نے نبی کر یم ﷺ سے کہاکہ آپ توقرض سے بہت ہی پناہ ما نگتے ہیں!اس میں آپ ﷺ نے فر ما یا کہ جب کوئی مقروض ہو جا تا ہے تو وہ جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ خلاف ہو جا تاہے (بخاری حدیث832 ،اسطرح اور بھی حدیثیں ہیں بخا ری :حدیث616)دنیا میں شاہی زند گی گزارنے کے بعد اب اعمال کے اعتبارسے اللہ رب العزت قبر کو کشا دہ فر مائے گا ، انسا ن کے اعمال کے مطا بق قبر انسان کو دبوچے گی ا تنی طا قت سے کہ سیدھی طرف کی پسلی بائیںطرف چلی جائے گی اور بائیں طرف کی سیدھی طرف چلی جا ئے گی اور مر دہ تکلیف سے زور سے چیخے گا کہ میلوں اسکی آواز جائے گی سوائے انسان کے ہر مخلوق اس کی آ وز سنے گی آپ ﷺ نے فر ما یاکہ اگر انسان مردے کی چیخ سن لے تو بے ہوش ہو جائے گا (حدیث کا مفہوم)
*سب سے پہلے تدفین حضرت ہا بیل کی ہوئی:* جب قا بیل نے ہا بیل کو قتل کر دیا تو چو نکہ اس سے پہلے کوئی آد می مرانہیں تھا اس لئے قا بیل حیران تھاکہ بھا ئی کہ لاش کو کیا کروں،چنا نچہ کئی دنوںتک وہ لاش کو پیٹھ پر لادے پھرا۔ پھر اس نے دیکھاکہ دو کؤے آپس میں لڑے اور ایک نے دوسرے کو مار ڈا لا۔ پھر زندہ کؤے نے اپنی چو نچ اور پنجو ں سے زمین کریدکر ایک گڑ ھا کھو دا اور اس میں مرے ہو ئے کوے کو ڈال کر مٹی سے دبا دیا۔یہ منظر دیکھ کر قا بیل کو معلوم ہوا کہ مردے کی لاش کو زمین میں دفن کرنا چا ہیئے ۔چنا نچہ اس نے قبر میں بھا ئی کی لاش کودفن کر دیا۔ اللہ نے مر دے کوز مین میں دفن کر نے کا طریقہ قر آن میںبتا یا ہے(ا لقر آن،سورہ الما ئدہ 5، آیت31 ،آیت 75،سورہ 75،آیت 34، سورہ، 80،آیت 21وغیرہ)قبر کے اند رکی دیوا ریں و غیرہ کچی مٹی کی ہوں،آگ کی پکی ہو ئی اینٹیں استعمال نہ کی جا ئیں اگراندر میں پکی ہوئی اینٹ دیوا ریںضرو ری ہوں تو پھر اند رونی حصہ مٹی کے گا رے سے اچھی طرح سے لیپ دیا جا ئے(ردالمختار،کتا ب ا لصلا ۃ،با ب صلاۃالجنازۃ،فی دفن ا لمیت ،ج 4،ص167 و عا لمگیر ی ج ، ۱ ص144)قبر کے اندر چٹائی وغیرہ بچھا نانا جائز ہے کہ بے سبب مال ضا ئع کرنا ہے قبر اونٹ کی کوہان کی طرح ڈھال بنا ئیں چوکھونٹی ڈھال رکھیں اور قبر کو اینٹوں سے پکی نہ کریں قبر ایک بالشت یا تھو ڑااور اونچی ہو زیادہ اونچی نہ بنا ئیںبعد دفن قبر میں پا نی چھڑ کنا مسنون ہے۔(ردالمحتار ،ج3 ص149،148،فتا ویٰ رضو یہ ج9،ص373)۔
*مر دے کے لیے دعا ئے مغفر ت سنت ہے ضرور کریں:*
حضرت سید نا ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر ما یاہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ ایک نیک بند ے کا در جہ بلندفر ما ئے گاتو وہ کہے گا کہ اے میر ے رب کہاں سے یہ مرتبہ مجھ کو ملا؟ تو اللہ تعالیٰ فر مائے گا کہ تیرے بیٹے نے تیرے لیے مغفرت کی دعامانگی ہے اس لیے تجھے یہ در جہ ملا ہے( مشکوٰ ۃالمصا بیح،کتا ب الدعوات، باب ا لاستغفار والتوبہ،ج1، ص440،حدیث2345) ۔ایصال ثواب ودعائے مغفرت کی اور بھی حدیثیں ہیں مطالعہ فرمائیں۔
*قبر وں کی بے حر متی نہ کریں :*
حضور اعلیٰ حضرت مو لا نا احمد رضا خاں علیہ الر حمہ نے منع فر ما یا ہے اب زما نہ منقلب ہوا،لوگ جنا زہ کے ساتھ اور دفن کے وقت قبروں پر بیٹھ کر لغویات وفضولیات اوردنیوی تذ کروں بلکہ خندہ ولہو میں مشغول ہو تے ہیں تو انھیں ذکر خدا ورسول کی طرف مشغول کر نا عین ثواب ہے( فتا ویٰ رضویہ،ج 9 ،ص 1737)بلکہ میت کے لیے بکثرت دعا مانگو حضور ﷺ سے قبل نماز وبعد نماز دونوں وقت میت کے لیے دعا فرمانا اور مسلما نوں کو دعا کا حکم دینا ثابت ہے۔(صحیح مسلم کتا ب الجنا ئز۔ فتا ویٰ رضویہ، ج 9، ،ص17) مومن قبروں کے اندر بھی تلاوت کر تا ہے ایک حدیث پاک میں ہے ایک صحا بی نے ایک جنگل میں زمین کے اندر سے سورہ ملک پڑ ھنے کی آواز سنی حضور ﷺ سے عرض کیا آپ نے فر مایا کی وہاں کسی مو من کی قبر ہے زند گی میں سورہ ملک پڑھا کر تا تھا اب بھی قبر میں پڑ ھ رہا ہے۔(تفسیر نو رالعر فان ص897) قبرستان یا قبروں کی حرمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگا یا جا سکتا ہے کہ قبروں پر نماز جنازہ بھی پڑ ھنا ہر گز جائز نہیں،نہ ان پر کوڑا کر کٹ ڈالنا جائز، مما نعت کریں، بندو بست کریں ، ہاں اگر وہاں اس کے قریب کوئی قطعہ زمین ایسی ہو جہاں قبریں نہ تھیں تو وہاں نمازکی اجا زت ہے میت اگر تا بوت کے اندر ہے تو نماز اس میں جائز ہے۔(فتا ویٰ رضویہ، کتا ب الجنا ئز ،ج9 ص49)
*قبر ستا نو کی حفا ظت کی ذمہ داری مسلما نو کی ہے* :
ہرزندہ قوم اپنی تہذ یب و ثقا فت کی حفا ظت کرتی ہے قبرستان بھی مسلما نوں کی ضرو رت و پہچان ہے۔آج اگر کوئی دوسرا ہما رے مذ ہب وشعا ر کے با رے میں کچھ کہتا ہے تو ہم سبھی اس کی مخا لفت کرنے لگتے ہیں لیکن آج قبرستا نوں کا جو خراب حال ہے اس کے ذمہ دار مسلمان ہی ہیں کوئی دوسری قوم کے لوگ نہیں ہیں،قبرستا نوں کی زمینوں پر قبضہ کرنا ،دو کا نیں بنا نا ،مار کیٹ بنا نا ،گو دام بنا نا وغیرہ وغیرہ یہ کا م آر ایس ایس ، بجر نگ دل ، شیو سینا والے نہیں کر رہے ہیں بلکہ ہما رے بھا ئی بند یعنی مسلمان ہی کر رہے ہیں، حیرت کہ کبھی مسلمان قائدنے اس پر اپنی زبان نہیںکھو لی شعا ئر اسلام اورثقا فت کے خلاف جو کام اپنے لوگ کر رہے ہیں تو لوگ ’’ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم‘‘بن جا تے ہیں یہ بہت تشو یشنا ک ہے ۔آزاد خیالLiberal مسلمان خدا سے ڈریں! کورونا وائرس، میں مرے ہوئے براد رانِ وطن کی آخری رسومات میں مسلمانوں کا حصہ لینا دیکھنے سننے میں تو اچھا لگتا ہے ، مصیبت کی گھڑی میں ایک دوسرے کی مدد کا اسلام بھی حکم دیتا ہے۔ پر کسی براد رانِ وطن(ہندو بھائی) کے جنازے کو اُس کے مذہبی رسم ورواج اور اُس کے وہ بول جو انکے مذہبی کلمات ہیں بولتے ہیں کہاں تک درست ہے پھر رب تعالیٰ کے اس فرمان پر مسلمان کیسے عمل کریں گے۔ترجمہ: تم فرمائو! اے کافرو!۔ میں ان کی عبادت نہیں کرتا جنہیں تم پوجتے ہو۔ اور تم اس کی عبادت کرنے والے نہیں جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ اور نہ میں اس کی عبادت کروں گا جسے تم پوجا۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔
*لَکُمْ دِیْنُکُم وَلِیَدِیْنِ۔* *تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرادین ہے*
۔( القرآن ،سورہ : الکافرون109 ،آیت 1 سے 6تک)۔ ایسے لوگوں کو مذہب اسلام کی تعلیمات سے ضرور آ گاہی حاصل کرنی چاہیے۔
*مسجدوں اور قبرستانوں میں ہسپتال نہ بنائیں:*
آج کل دین سے نا بلد کچھ لوگ یہ آوازیں اُٹھارہے ہیں حد ہوگئی آزاد خیالیliberal پنا کی،کتنے اسکول ،کالج ، ویدھیا لیہ ،آنگن باڑی، کلب وغیرہ وغیرہ خالی پڑے ہوئے ہیں اندھوں کی نظر ادھر کیوں نہیں جاتی؟ مسجد قبرستان ہی اِنہیں دیکھائی پڑتے ہیں،” حُبِّ علی نہیں حُبِّ معاویہ ہے یہ” قبرستانوں میں ایسے نااہل جوشیلے ذمہ دران،متولیان ہیں ان حضرات کو اپنی زمینیں اور اپنے گھر نہیں دکھتے،اپنے گھروں میں کووڈ وائرس مریضوں کا لاکر کیوں علاج نہیں کراتے۔ان آزاد خیال مسلمانوں نے اسلام کو تماشہ بنا دیا ہے۔ جب مسجد میں بیٹھ کر کھانا نہیں کھا سکتا ہے، جب قبرستان میں مسلمان اپنے رشتے دار کی قبر پر ’’ قبروںکے‘‘ اُوپر سے جاکر فاتحہ نہیں پڑھ سکتا تو پھر قبرستانوں میں سڑکیں کیسے بنوا سکتا یا ہسپتال کی تعمیر کیسے کر واسکتا ہے اور کیسے جائز ہوسکتا ہے۔کیا جائز ناجائز کی کوئی پرواہ نہیں؟ اسلامی تعلیم یا نقطئہ نظر جاننے کی کوئی ضرورت نہیں،صرف واہ واہی سے مطلب ہے حرام و ناجائز جائے بھاڑ میں۔ مسئلہ:’’ اپنے کسی رشتہ دار کی قبر تک جانا چاہتا ہے مگر قبروں پرسے گزر نا پڑے گا تو وہاں جانا منع سخت ہے، دور ہی سے فاتحہ پڑھ دے،قبرستان میں جوتا ،چپل پہن کر نہ جائے۔ ایک شخص کو حضور ﷺ نے جوتے پہنے دیکھا، فر مایا:’’ جوتے اُتار دے، نہ قبر والے کو تو ایذا دے، نہ وہ تجھے۔‘‘۔( در مختار، کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ الجنازہ،ج:3ص185، بہارِ شریعت حصہ4ص848) قبرستان کے مسائل جاننے کے لیے بہار شریعت حصہ 4 اور فقہ اسلامی کی کتابوں کا مطالعہ فر مائیں)
ایسے واہ واہی لوٹنے والوں کے لیے رب کا فر مان ہے:تر جمہ: تم فر مائو کیا ہم تمہیں بتا دیں کہ سب سے ناقص عمل والے کون ہیں؟ وہ لوگ جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں بر باد ہوگئی حالانکہ وہ یہ گمان کر رہے ہیں کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں۔( سورہ کھف،:18 آیت 104 سے 103تک) بد کار سے زیادہ بدنصیب وہ نیکو کار ہے جو سخت محنت اُٹھاکر نیکیاں کرے مگر اس کی نیکی اس کے کام نہ آئے وہ دھوکہ میں رہے کہ میں نیکو کار ہوں، ہم اس سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔(تفسیر صراط الجنان) آیت ھذا!۔
ہم سب کی دینی واخلا قی ذمہ دا ری ہے مل بیٹھ کر اس سلگتے ہوئے مسئلہ پر دھیان دیںاورضرور قدم آگے بڑھا ئیں خد ا نخواستہ کہیں ایسا زمانہ آجا ئے کہ مردہ لیکر لوگ گھوم گھوم کر مر دہ دفن کرنے کے لیے زمین تلاش کرتے پھریں کوئی عجب نہیں کی مسلم دشمن عنا صر ایسا قا نون بنا دیں کہ مسلمانوں کو بھی شمشان میں جلا یا جائے جیسے کہ آواز اٹھائی جا رہی ہے کہ قا نون بنایا جائے وغیرہ وغیرہ خدا را مسلمانوں جاگواور اپنے دین اور ایمان وثقا فت قبرستانوں کی دیکھ بھال حفاظت کرو اگر ہر آدمی نہیںبولے گا تو خرا بی اور بڑھے گی خواب غفلت سے بیدار ہوں غیرت ایمانی سے اس میں حصہ لیں اللہ ہم سب کو عمل کی تو فیق دے آمین( e-mail: hhmhashim786@gmail.com, Mob.:09431332338)
حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی خطیب و امام مسجد ہاجرہ رضویہ اسلام نگر کپالی وایا مانگو جمشیدپور جھارکھنڈ پن کوڈ 831020,

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close