مضامین و مقالات

کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق : ملی کاموں میں اجتماعیت اور اتحاد کا ثبوت دیجئے : مولانا محمد قمر الزماں ندوی

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بے گانے بھی ناخوش
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

اسلام کی پاکیزہ تعلیم ہے اور امت کو پیارے آقا مدنی ﷺ نے یہ مزاج اور مذاق دیا ہے کہ مسلمان ملی سماجی اور تنظیمی کاموں میں اجتماعیت اور اتحاد کا ثبوت دیں۔ ایک دوسرے کا ملی اور اجتماعی کاموں میں بھر پور تعاون کریں۔ خلفشار، انتشار اور نزاع و فساد کا ذریعہ نہ بنیں،کسی کا پیر نہ کھینچیں ۔۔۔بلکہ دامے درمے قدمے سخنے تعاون کریں اور باہم ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں ۔ ۔
ایک اور غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے کہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ معاشرہ اور سماج سو فیصد نبوی معاشرہ بن جائے اور عہد نبوی کی پوری تصویر اور جھلک سامنے ہو۔۔ قائدین، ذمہ داران اور رہنما و قائد نیز ماتحت لوگ سب فرشتہ صفت بن جائیں۔ بہت اچھا جذبہ اور بہت اچھی سوچ ہے، لیکن ایسا ممکن نہیں ہے، کوئی بھی سماج اور معاشرہ بیک وقت سو فیصد برائی، فساد اور بے انصافی سے پاک نہیں ہوسکتا۔ یہاں تک کہ نبوی معاشرہ بھی جو دنیا کا سب سے پاکیزہ اور آئیڈیل معاشرہ تھا۔ جس کے بارے میں آقا ﷺ نے فرمایا تھا۔ خیر القرون قرنی کہ سب سے بہترین زمانہ اور عہد میرا زمانہ اور عہد ہے۔۔ وہاں بھی مدنی معاشرہ میں منافقین کی ایک بڑی تعداد تھی، جو مسلمانوں کو اندر سے نقصان پہنچاتے رہتے تھے اور اسلام کے قلعہ کو کمزور کرنے اور اسلامی تعلیمات کو مٹانے اور اس کی شمعوں کو بجھانے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔۔ یہ منافقین آستین کے سانپ بنے ہوئے تھے۔۔۔ ان غداروں کا تذکرہ قرآن میں سورہ منافقون میں آیا ہے۔۔۔
تو جب مدینہ منورہ میں منافقین کی تعداد موجود تھی، باوجود کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس معاشرہ کی تربیت کر رہے تھے، اللہ کی مصلحت و حکمت اللہ جانے۔۔۔۔
تو آج کے زمانے میں یہ تصور کرنا کہ ہر ایک شخص مکمل پاک اور صاف ستھرا ہو اور کسی کے اندر کوئی کجی نہ ہو۔۔۔ بظاہر یہ ناممکن سی بات ہے۔۔
انجمن اسلامیہ جمہوریہ ایک ذیلی ملی اور سماجی تنظیم ہے، اس تنظیم کی افادیت مسلم ہے اور اس کے نافع اور مفید و موثر اور عند الله مقبول ہونے کی دلیل یہ ہے کہ یہ سو سال سے قائم ہے۔ یقیناً اس کے بانیان اور قائم کرنے والے مخلص اور بے لوث تھے۔۔۔ ان کی نیتں پاک اور ان کے جذبات پاکیزہ تھے۔۔
اس تنظیم اور انجمن میں بھی خامیاں اور کمیاں ہیں، اس کے افراد اور ذمہ داران بھی مبرا اور بے گناہ نہیں ہیں، وہ سب بھی انسان ہیں فرشتے نہیں ، ان سے بھی فیصلے میں غلطیاں ہوئی ہیں ہورہی ہیں اور آئندہ بھی ہوسکتی ہیں۔ اس کا امکان ہی نہیں یقین ہے۔ لیکن اس کی وجہ سے اس انجمن کو نکار دینا اور اس کی افادیت کا انکار کرنا یہ عقلمندی اور دانش مندی کی بات نہیں ہے۔۔۔ انجمن تو افراد کے مجموعہ کا نام ہے، ہر شخص اس باڈی اور جسم کا حصہ ہے، ہر فرد اس کی شاخ اور کل پرزے کے مانند ہے۔ اس لیے کسی ایک کو یا صرف ذمہ داران کو اس نقص اور کمی کا ذمہ دار ٹہرانا درست نہیں ہے۔۔ ہر شخص اپنا محاسبہ کرے کہ انجمن اسلامیہ کو قوت فراہم کرنے میں اس کا کیا رول اور کرادر ہے۔؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کی من مانی اور طاقت پر اکڑ کی وجہ سے انجمن کو نقصان ہوا ہے,؟ اس نے انجمن کو کمزور کرکے بھانجے اور بھتیجے کا غلط ساتھ دیا ہے رشتہ دار کی طرف داری کی ہے؟۔۔ اس پہلو پر سب کو سنجیدگی سے غور کرنا ہے۔۔۔۔ ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ مولانا صاحب!
گاوں اور سماج میں اور انجمن میں یہ یہ کمیاں ہیں، آپ اور فلاں مولانا اس جانب کیوں توجہ نہیں کرتے؟ کیوں دھیان نہیں دیتے؟ میں نے جواب دیا جہاں تک ممکن ہوتا ہے, کوشش کرتا ہوں اور اپنی ذمہ داری ادا کرتا ہوں۔۔۔ لیکن ایک بات کا آپ جواب دیجئے کہ کیا یہ ساری ذمہ داری میرے اور مولانا شمس پرویز صاحب کے سر ہے؟ آپ کے خاندان اور رشتے دار میں بھی عالم ہیں اور خود آپ کے تین بھائی ماشاء اللہ عالم فاضل ہیں، کیا ان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے؟ کیا وہ جمعہ سے قبل تقریر نہیں کرسکتے ، وہ خود کیوں نہیں آگے بڑھتے ، وہ کیوں نہیں اس ذمہ داری کو اپنے سر لیتے ہیں۔ آپ ان کو کبھی کیوں نہیں ٹوکتے۔؟
دگھی کے بعض لوگوں پر میں نے ان کی وفات کے بعد مضمون لکھا اور حدیث پر عمل کرتے ہوئےمرحومین کا ذکر خیر کیا ، لیکن ان کی اولاد میں سے کسی صاحب کو یہ بھی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ شکریہ کے بعض کلمات ہی کہہ دیتے۔ بلکہ محسوس ہوا کہ ان کو اچھا نہیں لگا کہ یہ کام فلاں نے کیوں کردیا ، ہم کیوں نہیں کرسکے۔۔۔ یہ حال ہے اس قوم کا اور یہ سوچ ہے اس معاشرے کی۔۔۔۔
انجمن کی تاریخ ترتیب دی جارہی تھی ، میں نے بہت سے لوگوں سے کہا، آپ اس میں لکھئیے اور اپنا قلمی تعاون پیش کیجئے، سوائے دو تین کے کسی نے اس ذمہ داری کو قبول نہیں کیا۔ بعض نے تو اصرار اور بار بار تقاضا کے بعد بھی اپنے والد کی تاریخ ولادت اور وفات بھی نہیں دئیے یہ ہے بے حسی کی حالت۔۔۔۔۔۔
الحمد تحدیث نعمت کے طور پر کہتا ہوں کہ میں نے خود ایک سو بیس صفحات سے زیادہ موبائل پر کمپوز کیا اور نصف سے زیادہ رسالہ کو میں نے خود تیار کیا۔۔۔۔۔ اس لیے اگر میں یہ کہوں تو مجھے کہنے کا حق ہے کہ

شکوہ سنجی اپنی فطرت میں نہیں داخل مگر
دل دکھا تو لب پہ حرف ناگوار آہی گیا
اور یہ کہ

رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی سے معاف
آج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہے
اس لیے میں پوری جرات اور ہمت سے کہتا ہوں، لگی لپٹی بات کرنے کی میری عادت نہیں ہے۔ بے باکی اور جواں مردی کو میں نے اپنا شیوہ بنایا ہے کہ شکوہ شکایت کا ماحول ختم کیجئے، کانا پھوسی کی عادت ترک کیجئے، اعتراض کا دروازہ بند کیجئے، چوک چوراہے پر تبصرہ سے باز رہئیے،اور سامنے آئیے اور اس ذمہ داری کو قبول کیجئے، اس میں ہاتھ بٹائیے اور یہاں آکر اپنی صلاحیت کو نکھارئے اور اپنی صلاحیت اور تجربہ سے قوم کو فائدہ پہنچائیے۔۔۔ کسی دوسرے کے سر پر صرف ٹھیکرا مت پھوڑئیے۔۔۔۔۔۔ باکردار، ہمت ور،شریف، باحوصلہ، جواں مرد اور مخلص لوگ چائے خانے اور چوراہوں پر امت کے مسائل حل نہیں کرتے اور نہ شکوہ شکایت سے حالات کے بدلنے کی امید اور توقع رکھتے ہیں۔۔
اس لیے جس کے اندر جتنی اور جس قدر طاقت اور صلاحیت ہے، اس سے اس قوم اور انجمن کا بھلا کرے، شکوہ شکایت اور اعتراض وہ کرتے ہیں، جنہیں کچھ کرنا نہیں ہوتا یہ لوگ خود کچھ نہیں کر پاتے تو چاہتے ہیں کہ دوسرا بھی کچھ نہ کرے۔۔۔
یہ باتیں حقائق پر مبنی چند باتیں ہیں۔ اس لیے میں نے اپنا فرض سمجھ کر پہنچا دیا ایک امانت سمجھ کر آپ کے حوالہ کردیا ، تاکہ غلط فہمیاں دور ہوں اور سچائیاں سامنے آئیں،۔۔۔۔۔۔ کیونکہ میری عادت اور میرا مشن ہے کہ

کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

نوٹ اس مضمون کا اصل تعلق اور اس کے مخاطب انجمن اسلامیہ کے لوگ ہیں، لیکن اس میں جو باتیں کہی گئی ہیں۔ اس کا فائدہ اور دائرہ عام ہے، اس لیے آپ حضرات کی خدمت میں بھی پیش ہے۔۔۔۔۔۔

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close