مضامین و مقالات

معاشر ہ سے جہیز کی لعنت کو ختم کرنا ضروری، مولانا محمدجمال الدین رشادی

5۔مارچ 2021؁ء نماز جمعہ سے قبل ممتاز عالم دین حضرت مولانا محمدجمال الدین صاحب صدیقی رشادی مہتمم مدرسہ عربیہ تعلیم الدین گنگانگر بنگلور32نے خطبہ جمعہ میں معاشرہ سے جہیز کی لعنت کو ختم کرنا ضروری اور ہماری ذمہ داری کے موضوع پر بصیرت افروزخطاب کرتے ہوے فرمایا دین اسلام نے ہمیں کتنا اچھا کتنا پاکیزہ معاشرہ، زندگی گذارنے کا طور طریقہ، معاشرتی زندگی اس کے احکامات اور آداب سکھایا ہے، جس کے مطابق ہم چین سکون، عزت اور عافیت والی زندگی گذارسکتے ہیں ، یکم مارچ ہمارے ملک گجرات کے احمد آباد شہر میں عائشہ عارف خان جو ہماری بہن ہماری بیٹی تھی جس کا اپنے سسرال والوں کے برُے سلوک اور جہیز کے مطالبہ سے تنگ آکر سابر متی ندی میں کود کر خودکشی کرلینے کا جو واقعہ پیش آیا ہے اور چاروں طرف اسکا ہی چرچا ہے، اس معاملہ کو اس لیے بھی ہر جگہ ذرائع ابلاغ میں نشر کیا جارہا ہے، کیوں کہ یہ ایک مسلم خاتون کا معاملہ ہے، اس طرح کے واقعات کسی بھی سماج کیلے افسوسناک ہیں اور مسلمانوں کیلے سبق آموز ، ہمیں اس کی وجوہات پر سنجیدگی سے سوچنا چاہیے، مسلم معاشرہ سے جہیز کی لعنت کو ختم کرنے کیلے منصوبہ بند عملی اقدام کرنے کی فوری طور پر ضرورت ہے اور یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے جس کی طرف ہمیں توجہ دینا ہے، مولانا نے دوران خطاب فرمایا اسلام نے نکاح شادی کو بالکل آسان اور سادہ انداز میں انجام دینے کا ہمیں حکم دیا ہے، آج کا مسلمان اسلامی تعلیمات اور احکامات سے بغاوت کرتے ہوے، اﷲ او ر رسولؐ کی نافرمانی کرتے ہوے، غیروں بے ایمانوں کا دیکھا دیکھی نکاح شادی کو مشکل بنارکھا ہے، غیر اسلامی رسم ورواج کے بغیر، جہیزکے لین دین کے بغیر نکاح شادی کا تصورمسلم معاشرہ میںنا ممکن ہے ، غریب گھرانوں میں سینکڑوں نہیں ہزاروں لاکھوں ہماری بہنیں بیٹیاں صرف او ر صرف غربت کی وجہ سے شادی کی عمر ہوجانے کے بعد بھی بے نکاح اپنے گھروں میں بیٹھی ہوئی ہیں، اس لیے کہ انکے پاس جہیز کے نام پر نکاح شادی کے موقع پر ان بے غیرت لالچی دوسروں کی دولت کے سہارے جینے والے بھکاریوں کو دینے کیلے روپیہ سونا چاندی مال و متاع اور ان کے مطالبات مانگ پوری کرنے کیلے دولت نہیں ہے، مولانا نے دوران خطاب فرمایا ملت اسلامیہ کایہ المیہ ہے جب بھی کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے ، پوری ملت بیدار ہو جاتی ہے ، چاروں طرف اس کی مذمت ہوتی ہے اور چند دن کے بعد ایسا ہوتا ہے کوئی واقعہ ہی پیش نہ آیا ہو، حقیقت یہ ہے معاشرہ سے جہیز کی لعنت کو ختم کرنے کیلے تحریر اور تقریر سے زیادہ آج تحریک اور تعمیل کی ضرورت ہے، نکاح شادی میں جہیز کا لین دین کرنے والے فریقین اسلامی مجرم ہیں ، ان کایہ جرم نا قا بل معافی ہے، معاشرہ میں ان کا سماجی بائیکاٹ ہونا چاہیے، آج ہی ہم اس بات کا عہد کرلیں، ہم اپنے بچوں کی شادیوں میں جہیز کا لین دین بالکل نہیں کریں گے، ہم ایسی شادیوں میں شرکت نہیں کریں گے جس میں جہیز کا لین دین ہو، اﷲ تعالیٰ ہم سب کو امت مسلمہ کو اس کی توفیق عطا فرماے، مسلم معاشرہ سے جہیز کی لعنت کا خاتمہ فرماے، ہماری کسی بہن بیٹی کو اس طرح کا انتہائی اقدام کی نوبت نہ آے اور کوئی نامناسب صورت حال پیش نہ آے جس کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کی بد نامی ہو اور دوسروں کو یہ کہنے کا موقع مل جائے یہ کیسے مسلمان ہیں جن کے قول اور عمل میںاتنا فرق ہے،

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close