مضامین و مقالات

بہار کے راستے بنگال کا سفر : محمد رفیع

محمد رفیع
9931011524
rafimfp@gmail.com

بہار کا بنگال سے روایتی تعلق ہے۔ 19 جولائی 1905 کو ہندوستان کے وائس رائے لارڈ کرزن نے بنگال کو تقسیم کرنے کا اعلان کیا جو 16 اکتوبر 1905 سے عمل میں آیا اور بہار بنگال دو الگ ریاست ہو گئے اس تقسیم کو بنگ بھنگ کا نام دیا گیا۔ اس کا ملک کے تمام قوم پرستوں نے ایک ساتھ مخالفت کیا۔ زبان کے فرق کے باوجود آپس میں ان کا سماجی و معاشی رشتہ ہے۔ بہار اور بنگال کے ماہرین سیاست نے بہار انتخاب کے بعد سے ہی بنگال الیکشن پر اپنے خیالات کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔ درحقیقت بنگال الیکشن کی الٹی گنتی اب شروع ہو گئی ہے۔ بی جے پی بہار کے بعد حیدرآباد اور کشمیر میں ملی کامیابی سے بہت زیادہ جوش میں ہے تو وہیں ممتا بی جے پی کے عروج سے فکر مند ہے۔
دلی کا راستہ بہار ہو کر جاتا ہے تو بنگال کا راستہ بھی بہار ہو کر ہی جاتا ہے چاہے آپ پلین کی بات کریں ٹرین یا کہ موجودہ سیاست کی۔ ماہرین سیاست میں بہار الیکشن سے پہلے سے ہی یہ بحث چلتی رہی ہے کہ بہار کا الیکشن ہی بنگال کا مستقبل طے کریگا بہار میں این ڈی اے کی حکومت بنتے ہی بنگال کی سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ حیدرآباد میں بی جے پی 4 سے بڑھ کر 40 سیٹوں پر کامیاب ہوئی ہے تو اسے کشمیر میں بھی امید سے کہیں زیادہ کامیابی ملی ہے۔ جموں کشمیر کے ڈی ڈی سی انتخاب میں گپکار اتحاد 112 سیٹیں حاصل کر پہلے نمبر پر رہیں تو 75 سیٹوں کے ساتھ بی جے پی نے دوسرا مقام حاصل کیا۔
جہاں ایک طرف تین طلاق قانون دفعہ370 اور 35 اے، سی اے اے، این پی آر اور زراعتی بل پر ملک گیر احتجاج ہوئے، حکومت کے خلاف عوام کا غصہ سڑکوں پر امڈ پڑا ہے۔ مرکزی بی جے پی حکومت نے اپنے قدم پیچھے نہیں کھینچے۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ سماجی اور سیاسی تنظیمیں تو ان کی مخالفت کرتی ہیں مگر وہیں عوام انتخابوں میں بی جے پی کی حمایت کر ان کی پالیسیوں کو مضبوط کرتی ہیں یہی وجہ ہے کہ انتخاب کے میدان میں بی جے پی ایک فاتح کی شکل میں جاتی ہے اور کامیابی اس کا قدم چومتی ہے۔ مہاراشٹر کے بعد بہار میں اس کی اس مہم پر ضرب لگانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی اور یہ بھی کہا جانے لگا تھا کہ بہار میں ہی بی جے پی کی بربادی کی کہانی لکھی جائے گی لیکن ہوا اس کے بر عکس۔ گزشتہ انتخاب 2015 کے مقابلے اسے کافی تشفی بخش کامیابی ملی۔ 74 سیٹیں حاصل کر وہ ریاست کی سب سے بڑی پارٹی راجد کے مقابل کھڑی ہوگئی۔ سب سے بڑی بات یہ ہوئی کہ نتیش کمار کی حمایت سے ہی بی جے پی کو یہ کامیابی ملی اور ان ہی کی حمایت سے اس نے ان کی پارٹی جدیو کو پیچھے دھکیل دیا۔ اس سلسلے میں لوجپا نے کلیدی رول ادا کیا۔ جدیو کو 36، وی آئی پی کو 4، بی جے پی اور ہم کو ایک ایک سیٹوں پر نقصان پہنچائی۔بی جے پی سے کم سیٹ ہونے کے باوجود این ڈی اے کے رہنما ہونے کی وجہ سے ایک بار پھر نتیش کمار وزیر اعلی بننے میں کامیاب ہوئے۔
بہار میں این ڈی اے کی حکومت سازی سے ہی یہ خبر ملک بھر میں پھیل گئی کہ مہاراشٹرا میں بھلے ہی این ڈی اے کی حکومت نہ بنی ہو مگر بی جے پی کی بربادی ابھی ناممکن ہے۔ حذب اختلاف کی لاکھ کوششوں کے بعد بھی بی جے پی کی قوت کم نہ ہو سکی۔ ماہر سیاست پرشانت کشور بہار میں نتیش کا ساتھ چھوڑکر چلے گئے تھے، انہوں نے بڑے بڑے دعوے کئے تھے، عظیم اتحاد اس سے بہت زیادہ خوش تھے۔ مگر انتخاب کے درمیان نہ تو وہ کسی کی حمایت میں آئے اور نہ ہی ان کی آواز سنائی دی۔ آج وہ ممتا بنرجی کے ساتھ ہیں تو یہ بڑا سوال ہے کہ پرشانت کشور کے ذریعے کیا وہ فاتح بن چکی بی جے پی کو روک پائیں گی۔ اسدالدین اوویسی نے جس طرح بہار میں کامیابی حاصل کی ہے ماہرین سیاست اوویسی پر ہی عظیم اتحاد کی شکست کا ٹھکرا پھوڑ رہے ہیں۔ بنگال میں بھی اوویسی نے انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے اس سے سیکولر ووٹ کے تقسیم ہونے کی پوری امید ہے۔ بی جے پی کے ساتھ ہی بہار میں اوویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کو ملی کامیابی سے 2020 کے انتخاب نے سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ووٹ اب مذہب کے نام پر ہوگا۔
بہار انتخاب میں ذاتی مساوات اور اس کے نتائج پر نظر ڈالنے سے بات سمجھ میں آتی ہے۔ سب سے زیادہ یادو 55 سیٹیں اور ایس ٹی سب سے کم 2 سیٹیں حاصل کی ہیں۔ بہار میں سب سے زیادہ مسلم آبادی 17 فیصدی اور یادو 14.4 فیصدی کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ 55 سیٹیں حاصل کر یادو نے کل 243 سیٹوں میں 22.63 فیصدی اور مسلمانوں نے 14 سیٹیں حاصل کر 14.24 فیصدی حصہ داری حاصل کی ہے جبکہ گزشتہ انتخاب 2015 کے مقابلے یادو 6 اور مسلم کو 10 سیٹوں کا نقصان ہوا ہے۔ یادو کے ساتھ اتحاد کا نتیجہ یہی ہے۔ سال 2015 کے مقابلے سب سے زیادہ اونچی ذات کو فائدہ ہوا ہے۔ مسلم، کرمی، کشواہا، اور کائستھ کو نقصان ہوا ہے۔
سیاسی پارٹیوں کی حالت کا جائزہ لیا جائے تو سب سے زیادہ فائدہ بی جے پی کو ہوا ہے، اس نے 21 سیٹوں کے فائدہ کے ساتھ کل 74 سیٹیں حاصل کی ہیں۔ وہیں سب سے زیادہ نقصان بی جے پی کے ساتھی اور این ڈی اے رکن جد یو کو ہوئی ہے۔ اسے 28 سیٹوں کا نقصان ہوا ہے۔ اسےکل 43 سیٹیں ہی حاصلِ ہوئی ہیں۔ عظیم اتحاد کے رکن راجد اور کانگریس کو بھی بالآخر 5 اور 8 سیٹوں کا نقصان ہوا ہے۔ وہیں ہم ووٹ فیصدی کی بات کریں تو آج بھی بہار میں راجد کی بادشاہت برقرار ہے۔ 2015 میں اسے 18.4 فیصد ووٹ ملے تھے اور 80 سیٹیں حاصل کی تھیں اس مرتبہ 2020 میں 22.4 فیصدی ووٹ لےکر راجد نے 5 سیٹوں کے نقصان کے ساتھ 75 سیٹیںں حاصل کی ہیں۔ اسے پانچ سیٹوں کا نقصان تو ہوا لیکن ووٹ فیصدی بڑھ گئی۔ وہیں کانگریس کو 2015 میں 6.7 فیصدی ووٹ ملے اور اسے 27 سیٹیں حاصل ہوئیں۔ جبکہ 2020 میں 9.53 فیصدی ووٹ لے کر 8 سیٹوں کے نقصان کے ساتھ 19 سیٹیں ہی جیت پائیں ۔ راجد کی طرح ہی کانگریس کو بھی سیٹوں کا نقصان تو ہوا ہے لیکن ووٹ فیصدی بڑھی ہے۔ وہیں حکومت میں شامل بی جے پی گزشتہ انتخاب 2015 میں 53 سیٹیںں جیتی تھیں اس مرتبہ 21 سیٹوں کے فائدہ کے ساتھ وہ 74 سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ مگر ووٹ فیصدی 2015 میں 24.4 کے مقابلے کم ہوکر 2020 میں 19.36 فیصدی ہو گئی اور جدیو کو تو سیٹ اور ووٹ فیصدی دونوں کا ہی نقصان اٹھانا پڑا ہے اس نے 2015 میں 16.8 فیصدی ووٹ لےکر 83 سیٹیںں جیتی تھیں تو 2020 میں 15.34 فیصدی ووٹ حاصل کر صرف 43 سیٹیں ہی جیت پائی۔ کل ملاکر اسے 28 سیٹوں کا نقصان ہوا۔ وام دلوں کو بھی 2020 کے انتخاب میں بڑا فائدہ ہوا ہے۔ 2015 میں اس نے صرف 3 سیٹیں ہی حاصل کی تھیں 2020 میں 3.54 فیصدی ووٹ لیکر وہ 16 سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ اسے کل 13 سیٹوں کا فائدہ ہوا۔ وام دلوں سے زیادہ ووٹ 5.67 فیصدی لوجپا کو ملی مگر وہ صرف کھاتہ کھولنے میں ہی کامیاب ہوئی۔ 2015 میں اس کے دو سیٹ تھے تو 2020 میں ایک سیٹ کے نقصان کے ساتھ ایک ہی سیٹ پر جیت ملی۔ اوویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کو 2015 کے مقابلے 2020 میں بڑی کامیابی ملی۔ 4 سیٹوں کا اسے فائدہ ہوا اور وہ 5 سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ عظیم اتحاد چھوڑکر این ڈی اے میں جانے والی پارٹیاں، وی آئی پی کو 4 اور مانجھی کی ہم کو 4 سیٹیں ملیں اس طرح وی آئی پی نے پہلی مرتبہ اسمبلی انتخاب لڑی اور بڑی کامیابی حاصل کی جبکہ ہم کو بھی 3 سیٹوں کا فائدہ ہوا ہے۔
ٹھیک بی جے پی کے نقش قدم پر اوویسی کی پارٹی بھی مذہبی گولبندی کرنے میں کامیاب ہوتی دکھ رہی ہے۔ حالاں کہ یہ ملک کے حق میں ہو ہی نہیں سکتا کہ ہندو-ہندو کو اور مسلم-مسلم کو ووٹ کریں۔ باوجود اس کے سیمانچل میں ہی سہی لیکن اے آئی ایم آئی ایم نے بہار کی سیاست کے ذریعے ملک کی سیاست میں دھمک پیدا کر دی ہے۔اوویسی اتر پردیش اور بنگال میں پوری قوت کے ساتھ انتخاب میں جانے کی بات کہہ کر سیکولر پارٹیوں اور سیکولر فرنٹ کو فکرمیں ڈال دیا ہے۔اسی لئے مسلمانوں کا ووٹ لینے والی نام نہاد سیکولر پارٹیاں اوویسی کو بی جے پی کا ایجنٹ بتاتی ہیں لیکن اس سچ سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا ہے کہ بہار میں اگر اے آئی ایم آئی ایم 5 سیٹ اور جیت گئی ہوتی تو حکومت کی کنجی جسے کبھی رام ولاس پاسوان لےکر گھوما کرتے تھے اس کے پاس ہوتی۔ سی ایس ڈی ایس دلی میں پروفیسر اور ہندوستانی زبان پروگرام کے ڈاکٹر ابھے کمار دوبے کو اوویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کی کامیابیوں نے قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ دینک بھاسکر میں 8 دسمبر کو اپنے مضمون میں خود ہی وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا ہمارے انتخابی جمہوریت میں مسلمانوں کی ایک الگ پارٹی ابھرنے والی ہے؟ وہ لکھتے ہیں مجلس (اے آئی ایم آئی ایم) کوئی نئی پارٹی نہیں ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں اسدالدین اوویسی کے والد سلطان صلاح الدین اوویسی نے حیدرآباد میں اس کی بنیاد رکھی تھی۔ شروع میں وہ مقامی سیاست تک ہی محدود رہے۔ پھر 1984 میں ایک سال پہلے عروج پر آئی تلگودیشم پارٹی اور کانگریس کے درمیان ہندو سیٹوں کے بنٹوارے کا فائدہ اٹھا کر پارلیمنٹ کا انتخاب بھی جیت گئے۔۔ انہوں نے 1989-91 کے پارلیمانی انتخاب بھی جیتے لیکن حیدرآباد کے باہر اپنا پاؤں پھیلانے کی نہ تو کوشش کی اور نہ ہی ایسا کوئی موقع انہیں ملا۔ ان کے لخت جگر اسدالدین اوویسی میں ایک قابل مقرر ہونے کے ساتھ آئین کے مطابق اقلیت کی سیاست کرنے کا قوت ہے۔ انہیں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ مسلمانوں کے ووٹوں کی دعویدار ی کرنے والی باقی پارٹیاں بی جے پی کے ذریعہ طے کئے گئے ہندو ایجنڈا کے پیچھے گھسٹ رہی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی مسلمان ہندو ووٹوں کی فکر کئے بنا اقلیت کے مثائل کو پکڑے گی تو کسی نہ کسی سطح پر کامیابی ضرور ملےگی۔ دوبے کہتے ہیں کہ ایسا بھی ممکن نہیں ہے اور اگر ایسا ہو بھی گیا تو ضروری نہیں کہ اس کا فائدہ صرف بی جے پی کو ہی ملے۔ دراصل اس کا الٹ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر مسلم ووٹر دھیرے دھیرے قومی سطح پر کسی ایک مسلم پارٹی یا کچھ مسلم پارٹیوں سے منسلک ہوگئے تو ہندو ووٹوں کے لئے انتخابی مقابلہ پوری طرح ہو جائے گا۔ باقی سبھی پارٹیاں مسلم ووٹوں کی فکر چھوڑ دیں گے۔ اس حالت میں بی جے پی کے لئے ہندؤں کی واحد نمائندہ جماعت بنے رہنا مشکل ہوگی۔
اے آئی ایم آئی ایم کی جانب سے ایک بات اور واضح کر دوں کہ یہ بلکل سیدھا سا حساب ہے کہ 28 ریاست اور9مرکزی حکومت والی ریاستوں میں ایک دو کے اوسط سے بھی اگر مجلس کو سیٹیںں ملتی ہیں تو بھی اسکی تعداد 50 کے آس پاس ہوگی، ایسی صورت میں تب مجلس ایک بڑی سیاست کرنے کی حالت میں ہوگی۔
بنگال انتخاب سے پہلے وہاں کی سیاسی اور سماجی حالتوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ پچھلے تین انتخاب 2014 اور 2019 کا پارلیمانی و 2016 کا اسمبلی انتخاب کا جائزہ لینے سے سب کچھ واضح ہو جائے گا۔ 2014 کے پارلیمانی انتخاب اور 2016 کے اسمبلی انتخاب میں بنگال میں بی جے پی قریب صفر کے آس پاس تھی لیکن 2019 کے پارلیمانی انتخاب میں اس نے دھمک پیدا کر دی۔ 2014 کے پارلیمانی انتخاب میں کل 17 فیصدی ووٹ لے کر صرف 2 سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی اور اس طرح 24 اسمبلی حلقوں میں اس کو سبقت حاصل تھی۔ ترنمول کانگریس نے 39.7 فیصدی ووٹ پاکر 34 سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی اور اس طرح 214 اسمبلی حلقوں میں اسے سبقت ملی تھی وہیں بایاں محاذ (لیفٹ) اور کانگریس نے 28-28 سیٹوں پر سبقت حاصل کی تھی۔ سال 2016 کے اسمبلی انتخاب میں سب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ترنمول کانگریس نے 294 سیٹوں میں 292 کے لئے ہوئے انتخاب میں 211 ، لیفٹ 33، کانگریس 44 اور بی جے پی کو صرف 3 سیٹیں ہی ملیں۔ ترنمول کانگریس نے 44.91 فیصدی ووٹ حاصل کئے اور بی جے پی کو 10.16 فیصدی ووٹ ملے۔ سال 2019 کے پارلیمانی انتخاب نے بنگال میں بی جے پی کو 40.2 فیصدی ووٹرس نے ووٹ کر کے 18 سیٹوں پر کامیابی دلائی۔ جبکہ ممتا کی ترنمول کانگریس کو 12 سیٹوں کا نقصان ہوا، وہ صرف 22 سیٹیں ہی جیت پائی۔ اور 43.3 فیصدی ووٹ حاصل کیا۔ سب سے بڑی بات یہ ہوئی کہ لیفٹ صفر پر چلی گئی اس کا کھاتہ بھی نہیں کھلا۔ 2019 کے پارلیمنٹ انتخاب کا اسمبلی کے سطح پر جائزہ لیتے ہیں تو ہم یہ پاتے ہیں کہ ترنمول کانگریس 2014 کے 211 سے گھٹ کر 158 اور بی جے پی 3 سے بڑھ کر 128 اسمبلی حلقوں میں سبقت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ وہیں کانگریس تینوں انتخاب میں 28,24 اور 8 سیٹوں پر جب کہ ایک طویل عرصہ تک ریاست میں حکومت کرنے والی لیفٹ 2014 کے انتخاب میں 28، 216 میں 33 اور 2019 کے پارلیمانی انتخاب میں ایک بھی اسمبلی حلقہ میں سبقت حاصل نہیں کر پائی۔
اب ہم بنگال کی ذاتی مساوات کی بھی ایک جھلک لے لیں۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ ریاست کا ذاتی سطح پر معاملہ بہت الجھا ہوا ہے۔ 2011 کی رائے شماری کے مطابق 27.1 اور اب قریب 30 فیصدی مسلمانوں کی آبادی 120 اسمبلی حلقوں میں فیصلہ کن حالت میں ہیں۔ پارلیمنٹ کی 14 سیٹوں پر مسلمانوں کی آبادی 5 لاکھ اور 28 سیٹوں پر 4 لاکھ سے کم ہے۔ ان میں کچھ ایسی بھی سیٹیں ہیں جہاں مسلم ووٹروں کی تعداد 7 لاکھ سے تجاوز کر جاتی ہے ان میں بہرام پور 10 لاکھ، مرشیدآباد 8 لاکھ (66.28 فیصدی), جنگی پور 11 لاکھ، راۓ گنج میں 9 لاکھ اور مالدہ جنوب میں قریب 8 لاکھ (51.2 فیصدی)، شمالی دیناج پور 49.92 جنوبی 24 پرگنہ 35.57، بیر بھوم 37.06 اس کے ساتھ ہی مغربی بردوان اضلاع شمالی 24 پرگنہ اور ندیا میں بڑی مسلم آبادی ہے۔ مسلمانوں نے اپنے روایتی حلیف لیفٹ کو چھوڑ کر ترنمول کانگریس کے ساتھ مکمل طور پر ہو گئی ہے لیکن اس 2021 کے اسمبلی انتخاب میں ممتا حکومت کا مسلمانوں کے تئیں رویہ ٹھیک نہیں ہے۔ مصنف وصحافی عبد العزیز کہتے ہیں کہ ممتا مسلمانوں کے ساتھ غلام جیسا سلوک کر رہی ہے۔ ان کو خوشحال بنانے کے بجائے بدحال بنانے پر تلی ہوئی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ملی کالج کو اقلیت کردار سے ہی محروم نہیں کیا بلکہ اپنی پارٹی کے ایک ٹیچر کے فائدہ کے لئے کالج کو برباد کر دیا۔ دوسری طرف اوویسی فیکٹر بھی مسلم ووٹوں کو متاثر کرے گا۔ مسلمانوں کے بعد دوسری سب سے بڑی آبادی شیڈیول کاسٹ کی 23 فیصدی ہے۔ اس 23 میں 50 فیصدی اکیلے مٹوا برادری کی ہے۔ 2019 کے پارلیمانی انتخاب میں مٹوا آبادی والی کوچ بہار، جلپائی گوڑی اور بون گاؤں میں جیت حاصل کی تھی۔ یہ برادری مشرقی پاکستان سے آتی ہے اسلۓ ہم سی اے اے کے تحت سیٹیزن شپ دئے جانے کی مانگ کر رہے ہیں۔ بی جے پی بھی اس کا پورا فائدہ اٹھانے کے فراق میں ہے، وہ اس برادری کو سی اے اے کے ذریعہ سیٹیزن شپ دینا چاہتی ہے۔ ایسے میں یہ برادری 2021 کے انتخاب میں بی جے پی کے ساتھ جا سکتی ہے۔ حالاں کہ ممتا بنرجی کے ساتھ بھی اس برادری کے رشتے اچھے رہے ہیں۔ مٹوا برادری کی کل دیوی بینا پانی دیوی ‘ مارو ممان ‘ نے 2010 میں ممتا بنرجی کو مٹوا برادری کا اصل حمایتی بنایا تھا۔۔ ممتا نے بھی اس برادری کے لۓ کئی کام کئے ہیں۔ لیکن سی اے اے کا ممتا مخالفت کر رہی ہیں۔ اسلئے جہاں مسلم ووٹروں کا رجحان ان کی طرف ہوگا وہیں مٹوا اس کے خلاف جا سکتی ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ مٹوا برادری کی حالت 6 پارلیمانی حلقوں میں فیصلہ کن ہے اور وہ 90 اسمبلی حلقوں میں اچھی دخل رکھتی ہیں۔
ریاست میں بی جے پی کے تابڑ توڑ حملے سے ممتا غصے میں ہے۔ بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا کے قافلہ پر حملہ کو لے کر مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت میں زبانی جنگ ہو گئی۔ بی جے پی بنگال میں اپنے بڑے رہنماؤں اور ترنمول چھوڑ کر آنے والوں کے تحفظ کو لے کر فکر مند ہے، بی جے پی قومی جنرل سکریٹری کیلاش وجئے ورگیز کو حکومت نے بولٹ پروف گاڑی دی ہے وہیں ترنمول کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں آئے شوبیندھو ادھیکاری کو زیڈ پلس سیکوریٹی محیا کرائی ہے۔ شوبیندھو ادھیکاری نے نہ صرف ترنمول چھوڑی بلکہ ممبر اسمبلی کے عہدے سے بھی مستعفی ہوگئے۔
بنگال کی وزیراعلی محترمہ ممتا بنرجی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ بنگال کو گجرات نہیں بننے دیں گی۔ جے پی نڈا کے قافلہ پر حملہ کو لے کر مرکزی حکومت نے ریاست بنگال کے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو دلی طلب کیا تو ممتا بنرجی نے انہیں بھیجنے سے انکار کر دیا تب مرکزی وزارت داخلہ نے تین آئی پی ایس افسروں کو طلب کیا، اس پر ممتا بھڑک گئیں اور کہا کہ مرکزی حکومت آئی پی ایس افسروں کو دلی بلا کر ریاستی حکومت کے حقوق میں مداخلت کر رہی ہے۔ وہیں ممتا بنرجی کے بگڑے تیور کو دیکھتے ہوئے گورنر جگدیپ دھنکر نے ریاست میں قانون کے معاملے پر مرکزی حکومت کو رپورٹ کی ہے اور ممتا کو آگ سے نہ کھیلنے کی نصیحت دی ہے۔ ممتا نے نڈا کے قافلہ پر حملے کو ڈراما قرار دیا تھا اور کئی سوال اٹھائے تھے۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ جب میں دلی جاتی ہوں تو میرے ساتھ کیا کرتے ہیں، مجھے گھیر لیتے ہیں، گورنر نے اس بیان کو واپس لینے کا مشورہ دیا ہے۔
ممتا سیکولر ووٹ کو ساتھ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے تو بی جے پی ہندو کٹر پنتھیوں کو گول بند کر رہی ہے۔ مسلمانوں کی ناراضگی کو کم کرنے کے مقصد سے ممتا نے یہ اعلان کیا ہے کہ انڈال میں مشہور شاعر نظرالاسلام کے نام سے بننے والے ہوائی اڈا کو زمین دینے والے سبھی کسانوں کو معاوضہ دے دیا گیا ہے۔ وہیں سی اے اے پر اپنے رخ کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ بنگال میں وہ این آر سی اور این پی آر کو لاگو نہیں ہونے دیں گی۔ 24 پرگنہ کے گوپال نگر میں اس موضوع پر بولتے ہوئے انہوں نے شیڈیول کاسٹ میں خاص کر مٹوا اور نامسدار برادری سے ہمدردی دکھاتے ہوئے کہا کہ اس برادری سے آنے والے سبھی لوگ ہندوستانی ہیں۔ انہیں کاغذ دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ممتا نے ایسا بی جے پی کے جنرل سیکرٹری وجئے ورگیز کے اس بیان کے بعد کہا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حکومت جنوری تک سی اے اے لاگو کر سکتی ہے۔ ورگیز نے ممتا حکومت پر یہ بھی تہمت لگایا تھا کہ اسے پناہ گزینوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ ادھر بی جے پی ہندو پناہ گزینوں کے کیمپ میں پوجا کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ اس طرح وہ ہندو ووٹروں کو شنی پوجا، لکچھمی پوجا اور مذہبی پروگرام کے نعروں میں دیوی دیوتاؤں کے نام کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہر پوجا کے لئے ہفتے کا دن طے ہے۔ اس مذہبی سرگرمی نے لوگوں کو آر ایس ایس یا پھر بی جے پی کے قریب کر کے ممتا کی بے چینی بڑھا دی ہے۔
ادھر اسدالدین اوویسی کا بنگال میں انتخاب لڑنے کے اعلان کو دیکھتے ہوئے ممتا بنرجی نے یہ واضح کیا کہ بی جے پی نے بہار میں مسلمانوں کے ووٹ کو تقسیم کرنے کے لئے اوویسی کو لائی تھی اور اب بنگال میں بی ٹیم کی شکل میں اسے اتارنے کے لئے کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے۔ اوویسی نے بنگال میں انتخاب لڑنے اور مسلم ووٹوں کو تقسیم کرنے کے الزام پر صفائی پیش کرتے ہوئےکہا کہ ہماری پارٹی اے آئی ایم آئی ایم نے 2019 پارلیمانی انتخاب بنگال میں نہیں لڑی تھی تو بی جے پی نے 18 سیٹیں کیسے حاصل کی لیکن ایک بڑا سوال یہاں یہ ہے کہ اوویسی کی پارٹی کا حملہ سیکولر ووٹ پر ہی ہوگا۔ اس لئے اوویسی کے انتخاب لڑنے سے‌‌سیکولر پارٹی یا فرنٹ کو نقصان اور بی جے پی کو فائدہ ہونا طے ہے۔ تمام ماہرین سیاست کا بھی، یہی ماننا ہے کہ بہار کی طرح ہی بنگال میں جو سیٹیں سیکولر فرنٹ کو حاصل ہوتی وہ اے آئی ایم آئی ایم جیت گئی۔ ایسا اگر بنگال میں ہوتا ہے تو وہاں بھی سیکولر پارٹیوں کو حکومت سازی میں مشکلوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ وہیں اوویسی نے بنگال میں مذہبی اور سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ ہگلی ضلع کے مشہور پھر پھرا شریف مزار شریف کے سرپرست صدیقی خاندان کے ایک نوجوان پیرزادہ عباس الدین صدیقی سے ملاقات کی ہے۔ اوویسی عباس الدین صدیقی کے ساتھ انتخابی اتحاد قائم کرنا چاہتے ہیں۔ عباس الدین صدیقی ممتا بنرجی کے سخت مخالفوں میں سے ایک ہیں۔ حالاں کہ اسی خاندان کے دوسرے افراد کا کہنا ہے کہ اس سے انتخاب میں ممتا بنرجی کو کسی طرح کا نقصان ممکن نہیں ہے۔ اس درمیان بنگال امام تنظیم نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ بنگال میں اوویسی کے انتخاب لڑنے کا پر زور مخالفت کیا جائے گا۔ امام تنظیم کے صدر محمد یحیٰ نے کہا کہ بنگال میں 40,000 مساجد ہیں ان میں 26,000 تنظیم کے ممبر ہیں جو تنظیم کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چاہے ہندو ہوں یا مسلمان ریاست میں لوگوں کی ایک ہی پہچان ہے ‘ وہ سبھی بنگالی ہیں ‘ ، وہیں ممتا حکومت میں وزیر اور جمیعت علماء کے صدر صدیق اللہ اور نا خدا مسجد کے امام محمد شفیق قاسمی نے بھی اوویسی کے بنگال میں انتخاب لڑنے کی مخالفت کیا ہے۔
پرشانت کشور ممتا بنرجی کے لئے حکمت عملی تیار کرنے والے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ بنگال انتخاب میں بی جے پی دو نمبر کو عبور نہیں کر پاۓ گی، اگر وہ عبور کر جاتی ہے تو میں سیاست سے کنارہ کشی کر لوں گا۔ اس پر بی جے پی نے طنز کیا اور کہا کہ 2021 میں سیاسی حکمت عملی تیار کرنے والے ایک شخص کا خاتمہ ہونے والا ہے۔ ماہرین سیاست یہ مان رہے ہیں کہ ممتا کی ترنمول کانگریس، بایاں محاذ (لیفٹ) اور کانگریس ساتھ مل کر انتخاب لڑتے ہیں تو اسے متوقع کامیابی حاصل ہوگی نہیں تو بی جے پی کو 2021 کے اسمبلی انتخاب میں روکنا مشکل ہوگا۔ ابھی تک صرف کانگریس نے لیفٹ کے ساتھ انتخاب لڑنے کا اشارہ کیا ہے جب کہ ممتا کی طرف سے کسی اتحاد کا اشارہ نہیں ملا ہے۔ ہاں یہاں ایک مشکل ہے کہ ترنمول کانگریس کے پاس اکیلے 294 ممبر والے اسمبلی میں 211 ممبر ہیں تو اس لئے ترنمول کا کسی کے ساتھ اتحاد ممکن نہیں دکھ رہا، کیوں کہ اتحاد کی سبھی حلیف پارٹیاں زیادہ سے زیادہ سیٹیں چاہتی ہیں۔ ہم بہار میں دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح کانگریس نے زیادہ سیٹیں لے کر عظیم اتحاد کو نقصان پہنچایا۔ ادھر بی جے پی کی اندرونی سروے رپورٹ بھی آچکی ہے۔ 2021 کے بنگال اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کو 150 سے 160 سیٹیں ملتی دکھ رہی ہیں، واضح ہو کہ 2019 کے پارلیمانی انتخاب میں اسے 128 اسمبلی حلقوں میں سبقت حاصل تھی اسی بنیاد پر قومی وزیر داخلہ اور بی جے پی کے قدآور رہنما امیت شاہ نے 200 سیٹیں حاصل کرنے کا عزم کیا ہے۔
مغربی بنگال میں مسلم اور شیڈیولڈ کاسٹ پر ہی منحصر کرتا ہے کہ 2021 کے اسمبلی انتخاب کا رخ کیا ہو گا۔ ممتا بنرجی صاف گو اور ضدی ہیں نہ تو وہ پیچھے ہٹنے والی ہیں اور نہ ہی شکست کھانے والی جبکہ بی جے پی انتخاب کے تمام پہلوؤں سے نہ صرف واقف ہے بلکہ ماہر بھی ہے۔ وہ اپنے بڑے رہنماؤں کو چھوٹے سے چھوٹے سطح پر لے جاکر عام ووٹرس کو اپنے حق میں کرنے کی قوت رکھتی ہے۔ نڈا اور امیت شاہ نے بنگال کا سفر کیا، جلسے کئے اور سرگرمیاں اتنی بڑھی کہ اسمبلی میں صرف 3 سیٹوں والی پارٹی نے مضبوط مقابلہ کا احساس ممتا بنرجی حکومت کو کرا دیا۔ سب سے دلچسپ انتخابی نظارہ بنگلہ دیش سے ملحقہ علاقوں جنوبی و شمالی 24 پرگنہ، ندیا، مرشدآباد، مالدہ، جنوبی و شمالی دناج پور، جلپائی گوڑی، علی پور دروازہ اور کوچ بہار میں متوقع ہے۔ اس علاقہ میں مسلم اور شیڈیولڈ کاسٹ میں مٹوا برادری کی بڑی آبادی ہے اور ایک طرف اوویسی تو دوسری طرف بی جے پی زیادہ سرگرم ہیں۔ بی جے پی 2019 کے پارلیمانی انتخاب میں 18 سیٹیں حاصل کر مضبوط حالت میں ہے تو اوویسی کو ابھی شروعات کرنی ہے

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close