مضامین و مقالات

ماتم کرنا چھوڑیں! قوم کو مستحکم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیے۔ ذوالقرنین احمد

۶ دسمبر ۱۹۹۲ ایک ایسا سیاہ ترین دن ہے جس دن جمہوری ملک میں حکومتی اہلکاروں اور پولس فورس کے سامنے بابری مسجد کو آتنگی کارسیوکوں نے منظم طریقے سے مختلف مقامات سے ایودھیا پہنچ کر بابری مسجد کو ظالمانہ طریقے سے شہید کردیا تھا ۔جس وقت ریاست اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومت تھی۔ بابری مسجد کو ۱۵۲۸ کو تعمیر کیا گیا تھا۔ ۱۹۴۹ میں بابری مسجد کے اندر سے رام کی مورتیاں دریافت کی گئی تھی۔ ۱۹۸۴ میں وشو‌ا ہندو پریشد کی جانب سے رام مندر کیلئے تحریک شروع کی گئی بی جے پی کے رہنما لال کرشن اڈوانی نے تحریک کی قیادت کی ۔ ۱۹۸۶ میں ضلعی عدالت کی جانب سے ہندؤں کو مسجد میں پوجا کی اجازت دی گئی۔ ۱۹۸۹ میں وشوا ہندو پریشد نے مسجد سے ملحقہ زمین پر مندر کی بنیاد رکھی۔ ۱۹۹۰ میں وشوا ہندو پریشد نے مسجد کو نقصان پہنچایا ۔ ۱۹۹۲ میں وشوا ہندو پریشد اور اسکے حامیوں نے بابری مسجد کو شہید کردیا۔ ہندو مسلم فسادات ہوئے ہزاروں انسانوں کا بے جا قتل کیا گیا۔ شہادت کے بعد ۲۰۱۰ میں الہ آباد ہائیکورٹ نے متنازع زمین کو تین حصوں میں تقسیم کردیا جس میں دو حصے ہندو فریقوں کو دیے گئے۔
۲۷ سال بعد ہندوستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے آستھا اور ہندو اکثریت کی بنیاد پر ۹ نومبر ۲۰۱۹ کو تمام ثبوتوں اور حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے رام مندر کے حق میں فیصلہ صادر کیا۔ جس میں انصاف کا اور جمہوریت کا قتل کیا گیا ملک کے اعلی ترین اعوان کی روح کو مجروح کیا گیا۔ اور ساتھ میں مسلمانوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی گئی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ۳۰ ستمبر ۲۰۲۰ کو رام مندر کو شہید کرنے والے اہم مجرموں کو سی بی آئی کورٹ نے یہ کہتے ہوئے بری کردیا کہ انکے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے۔ اور اسکے بعد ۵ اگست ۲۰۲۰ کو رام مندر کی بنیاد رکھی گئی جو کہ عدالت کے غیر منصفانہ فیصلے کا زندہ ثبوت ہے۔

ہر سال ملک کے مسلمان بابری کی شہادت پر غم و غصہ کا اظہار کرتے ہیں۔ جمہوریت کے الم بردار حکومتیں ملک میں ہر سال سخت انتظامات کرتی ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ یہ موقوف اول روز سے رہا ہے کہ جس مقام پر ایک مرتبہ مسجد تعمیر ہوجائے وہ قیامت تک کیلئے مسجد ہی رہتی ہے۔ چاہے اس مقام پر کوئی ظالمانہ غاصبانہ طور پر قبضہ کریں اسکی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی ہے۔ اب جبکہ ملک میں مسلسل دوسری مرتبہ سنگھ کی فرقہ پرست سیاسی جماعت بی جے پی اقتدار میں ہے ۔ جو دن بہ دن جمہوریت اور انسانی حقوق کو ختم کر رہی ہے۔ اور ملک میں مسلمانوں کیلئے عرصۂ حیات تنگ کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ مختلف قانون ایسے پاس کیے گئے ہیں جس کا مقصد صرف مسلمانوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ چاہے وہ دہشت گرد مخالف قانون ہو ، چاہے قومی تحفظ قانون ہو، چاہے لو جہاد ہو، پاپولیشن کنٹرول ایکٹ ہو، ایک سے زائد شادی کرنے پر پابندی عائد کرنا ہو چاہے اور کوئی انسانیت مخالف قانون ہو تمام کا تعلق مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنا ہے۔
مسلمان ہر سال ۶ دسمبر کو سیاہ دن اور انصاف کے قتل کے دن کے طور پر یاد رکھتے ہیں۔ اور بابری مسجد کی شہادت پر غم و غصہ کا اظہار کرتے ہیں۔ اسی طرح سنجیدہ افراد بابری مسجد کی تعمیر نو کیلئے عہد کرتے ہیں۔ یہی اصل کام ہے کہ گزشتہ حالات ناکامیوں پر اظہار افسوس کرنے کے بجائے تعمیری سرگرمیوں کو انجام دیا جائے مسلمانوں کو مستحکم کرنے کیلے عملی اقدامات اٹھائے جائیں تا کہ اب آئیندہ مستقبل میں کوئی ایسا حادثہ ہمارے ساتھ پیش نہ آئے جس کی وجہ سے اسلام یا مسلمانوں کو کوئی نقصان پہنچے۔ زندہ قوموں وہی ہے جو ماضی کے واقعات سے سابق حاصل کرتی ہیں اور مستقبل کیلئے لائحہ عمل تیار کرتی ہیں۔ کیونکہ اب آنسوں بہانے اور نوحہ کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا ہے۔ اب مسلمانوں کو ملی تنظیموں کو اپنے تنظیمی ڈھانچے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حالات کی سنگینی اور مسلمانوں کے اجتماعی ملکی پیمانے کے مسائل دیکھتے ہوئے عملی اقدامات اٹھانے چاہیے۔

آئیندہ مستقبل قریب میں مسلمانوں کے اوپر سخت گیر حالات آنے کا امکان ہے ان حالات سے نمٹنے کیلئے ہمارے پاس کیا لائحہ عمل ہے ۔ آج مسلم نوجوان عیش و آرام اور دنیا کی رنگینیوں میں ڈوب کر حقیقت حال سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ جو حالات ہمارے سروں پر موت کی سائے کی طرح منڈلا رہے ہیں۔ اس کا ہمیں کچھ ادراک نہیں ہیں۔ ذرا ایمانی غیرت و حمیت کو زندہ کیجئے اور ایمان کی فراست سے دیکھیے ہم کس موڑ پر کھڑے ہیں نا کوئی رہنما نا کوئی رہبر ہے۔ نا ہی ہمارے پاس اپنے آپ اور اپنے خاندان اور قوم کے تحفظ کیلئے کوئی پروگرام ہے نا‌ ہی دفاعی نظام موجود ہے۔ ہمارے نوجوان ہر مذھبی معاملات میں جذباتی ہوجاتی ہے۔ اور خود اپنا اور قوم کا نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر ہمارے اوپر کسی طرح کے حالات فرقہ پرست عناصر یا حکومت کی طرف سے آتے ہیں تو ہمارے پاس بیک گراؤنڈ پاور کیا ہے۔ ہمارے پاس اپنی فیملی کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے کیا لائحہ عمل ہے۔ ذرا سنجیدگی سے غور کیجئے آج ہم کس مقام پر کھڑے ہوئے ہیں۔

آج اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کی نظریں بلکل ایسی چیزوں اور افراد پر ہے جن کے ذریعے قوم مضبوط اور مستحکم ہو سکتی ہے اپنی موجودگی کا احساس دلا سکتی ہے۔
آج فرقہ پرست عناصر ہمیں خود ان چیزوں کی طرف متوجہ کر رہے ہیں جس کیے ذریعہ سے مسلمانوں کو عروج مل سکتا ہے وہ ملک میں مستحکم ہوسکتے ہیں۔ ایسے اداروں اور افراد کو سنگھی فرقہ پرست عناصر ٹارگیٹ بناکر انھیں ختم کرنے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ مدارس مکاتب کو بند کرنے کی کوشش جاری ہے۔ جو مسلم نوجوان ملک کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کیلئے یو پی ایس سی میں کامیابی حاصل کر رہے ہیں انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مسلم لڑکیوں کو پیسوں کا لالچ دے کر غیر مسلم نوجوانوں کے ساتھ انکی شادی کروائی جارہی ہے۔ جس میں سنگھی ذہنیت کے حامل وکیل پورا سپورٹ کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کو سیاست سے کنارہ کش کیا جارہا ہے۔ مسلمانوں کو معاشی طور پر کمزور کرنے کیلئے جہاں مسلمان مضبوط ہے وہاں فرقہ وارانہ فسادات برپا کرکے مسلمانوں کی جائیداد، دوکانوں کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ تعلیمی نصاب اور اداروں کا بھگوا کرن کیا جارہا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان ہر لحاظ سے اپنے آپ کو مستحکم کریں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے، اعلیٰ تعلیمی میدان میں اہم کردار ادا کریں، معیشت کو مضبوط کرنے کیلئے چھوٹے سے لے کر بڑے سے بڑے بزنس شروع کریں، اپنے قوم کے بچوں کو ماہر اساتذہ، ڈاکٹر ، مبلغ، انجینئر، بنایے ٹیکنیکل فیلڈ میں داخل کروائیے، ایڈوانس ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کیجیے۔ ماہر کیمیا، ماہر اقتصادیات، صنعت کاری، ذراعت، میں کیریئر بنانے کیلئے تیار کیجئے، بچوں خواتین کو نڈر اور بہادر بنایے انہیں اپنے اور اہل خانہ کے دفاع کے طریقے سکھائیے۔ سیاست میں نئی نسل کے تعلیم یافتہ، قابل اعتماد، باصلاحیت نوجوانوں کو میدان میں اتاریے ۔ خستہ حال بوڑھی نام نہاد مسلم قیادت کو آرام کرنے کا موقع دیجئے۔ اب ذمہ داریاں بڑھ چکی ہے اور موجودہ دور کے نئے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے نئی نسل کی ضرورت ہے۔ آج مسلم تنظیموں اور نوجوانوں کو ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس سے قوم اپنے وجود کو ثابت کرسکے اور فرقہ پرستوں کو منہ توڑ جواب دے سکے یہی وقت کا تقاضا ہے۔

۶ دسمبر ۲۰۲۰

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

Back to top button
Close
Close