مضامین و مقالات

"اپنا مقام پیدا کر ” : از قلم :شیبا کوثر

انسانی فطرت ہےکہ جو چیز اسے فائدہ نہیں پہنچاتی ہے وہ اسے اپنے سے الگ کر دیتا ہے چاہے وہ کتنا بیش قیمت کیوں نہ ہو،یہاں تک کہ جسم کا کوئی عضو بھی اگر بیکار ہو جائے تو ڈاکٹر کا مشورہ ہوتا ہے کہ اس کو جسم سے الگ کر وا لیا جائے تو بہتر ہوگا ،ورنہ یہ دوسرے عضو کو بھی خراب اور بیکار کرنے کی وجہ بن سکتا ہے لیکن دوسری طرف حقیقت یہ بھی ہے کہ اگر کوئی چیز انسان کو فائدہ پہنچا تی ہے تو وہ چاہے کتنا ہی ہیچ اور سستی ہو انسان اسے اپنے ساتھ رکھنے کیلئے مجبور ہوتا ہے اور اپنے جسم سے سٹا کر رکھتا ہے۔
آج کے اس پر آشوب دور میں یہ حقیقت تو اور بھی آشکار ہو چکی ہے اور معا ملہ قریبی رشتوں ناتوں تک پہنچ چکا ہے یہاں تک کہ سچ یہ ہے اگر کسی کو دو اولادیں ہیں تو اکثر مشا ہدے میں یہ بات آتی ہے کہ والدین کا جھکاؤ اس کی طرف زیادہ ہوتا ہے جو دنیاوی اعتبار سے زیادہ مستحکم ہوتا ہے۔ اس لئے سب سے پہلے ہر انسان کی کوشش یہی ہونی چاہئے کہ خود کو اس لائق بنائے کہ وہ لوگوں کی ضرورت بن جائے نہ کہ وہ کسی کے لئے محض ایک انسانی شکل ہو۔ یہی سچ قوم،نسل ،برا دری ،ذات یہاں تک کہ شکل و صورت پر بھی صادق آتی ہے۔میں نے کئی اعلی نسب کہلا نے والے لوگوں کو دیکھا ہے جو اپنے بچے اور بچیوں کی شادی اس ذات و برادری میں کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں جسے وہ اپنے سے کمتر گردانتے ہیں وجہ ہوتی ہے دنیاوی اعتبار سے کامیاب شخص اگر کوئی ذات و برادری میں کمتر ہے مگر اس کا لڑکا یا لڑکی کوئی بڑے سرکاری عہدے پر فائز ہوتا ہے یا ڈاکٹر یا انجنیںئر یا کوئی بڑا بز نس مین ہوتا ہے تو اس کے یہاں رشتہ جوڑنے میں کوئی قبا حت محسوس نہیں ہوتی ہے ۔یہ آج دور ِحاضرہ کی تلخ حقیقت ہے ۔
مگر عام طور سے سیدھے سادے لوگ اس حقیقت سے دور آج بھی رنگ و نسل ،ذات برادری ،اونچ نیچ کے چکّر میں پڑے رہتے ہیں جسکا فائدہ عقلمند اور ہوشیار اٹھاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ انسان محض انسان ہے اس کے اندر جو نمایاں تبدیلی ہوتی ہے اس کی وجہ تعلیم اور معاشی استحکام ہے۔اس کے علاوہ جو چیزیں ہیں وہ فقط بانٹنے والی ہیں اس لئے ضروری یہ ہے کہ اگر سماج میں اپنا مقام پیدا کرنا ہے تو تعلیمی اور معاشی اعتبار سے اپنے آپ کو مستحکم کرنا پڑے گا۔اور خود کو اس لائق بننا پڑے گا کہ سماج کو آپ کی ضرورت محسوس ہو۔آج پوری دنیا ایک گاؤں میں تبدیل ہو چکی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی ملک تن تنہا نہیں رہ سکتا ہے۔اس لئے دنیا کی ساری قوم اپنے آپ کو تیز رفتاری سے آگے کی طرف بڑھا رہی ہے۔یہ مقابلہ کا دور ہے وہ بھی تیز وہ بھی تیز تر مقابلہ جو عالمی پیمانے پر ہے۔ جس میں ذرا ئع ابلاغ کی اہمیت کافی بڑھ گئی ہے۔سیکنڈوں میں کوئی خبر دنیا میں گردش کرنے لگتی ہے۔عالَم یہ ہے کہ اگر قتل یا آبرو ریزی دنیا کے کسی گوشے میں ہوتی ہے تو فورًا وہ عا لمی منظر نامہ پر چھا جاتی ہے اس لئے آج کے اس دور کو ذرائع ابلا غ کا دور کہا جائے تو بالکل سچ ہے۔
دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں اس لئے خبروں کی اس بارش میں ہر کوئی کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ کون سی خبر اس کے لئے غیر ضروری ہے اس پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے جیسے اگر کوئی طالب علم ہے تو اسے سائنس و تحقیق ،تاریخ،جغرا فیہ، معاشیات اور زبان وادب۔ سے متعلق خبروں کی جانکاری حاصل کرنا چاہئے یہ اس کے لئے زیادہ اہم ہے اس طرح وقت بھی بچے گا اور آپ اپنے دائرہ کار میں مہارت بھی حاصل کر سکتے ہیں۔اگر آپ استاد ہیں تو آپ کو بہترین استاد بننا پڑے گا۔جس کے لئے ضروری یہ ہے کہ آپ کا کام پڑھنا پڑھانا ہو دیگر مشغولیات میں اپنے آپ کو نہ ڈالیں تب جاکر آپ ایک بہترین اور با صلاحیت استاد بن سکتے ہیں جسکی صحیح معنوں میں سماج کو بہت زیادہ ضرورت ہے ۔آج اکثر و بیشتر یہی مسلہ ہے کہ لوگ اپنے پیشہ سے ایمانداری نہیں برت پا رہے ہیں جس کی خاص وجہ مہارت کی کمی ہے اور اسی کی وجہ کر ہر پیشہ میں ایک بھیڑ تو نظر آتی ہے مگر مہارت رکھنے والے مودود چند ہیں اور جو ہیں ان کی عزت بھی ہے اور شہرت بھی۔وجہ صاف ہے وہ سماج کی ضرورت بن چکے ہیں آج ہم جس سماج میں رہ رہے ہیں اس میں ہر کوئی اپنے آپ کو پریشان پا رہا ہے کوئی کسی کے درد و احساسا ت اور پریشانی کو سمجھنا نہیں چاہتا ہے سارے کے سارے اپنے ہی مسائل سے گھرے نظر آتے ہیں دوسروں کے لئے نہ تو وقت ہے نہ دو پیار کے میٹھے بول ہی ہیں یعنی انسان انسانوں کے بھیڑ میں رہ کر بھی تن تنہا ہے وجہ ہے ہم خود انسانی صفا ت سے دور ہو چکے ہیں اگر ہمیں اس سماج میں رہ کر ایک اچھی اور کامیاب زندگی گزارنی ہے تو سب سے پہلے ہمیں خود اپنی ذات پر محنت کرنی پڑے گی اور خود کو ایک بہتر انسان بنانا پڑے گا ۔جب ہم ایک بہتر انسان بننے میں کامیاب ہونگے تو یقیناً ہم سماج کی ضرورت بن جائیں گے۔اس لئے خاص طور پر ہماری نئی نسل کو اس بات پر سنجیدگی کے ساتھ سوچنا چاہئے اور اپنے مستقبل کے لئے ایک سنجیدہ پلاننگ کرنی چاہئے کہ کیسے ہم اپنے اندر وہ صلاحیت پیدا کریں کہ ہم خود بھی ایک کامیاب اور با مقصد زندگی گزاریں اور سماج کو بھی ہماری ذات سے فائدہ ہو ،یقیناً یہ ایک مشکل کام ہے کیوں کہ آج ہر کوئی کا مزاج یہ بن گیا ہے وہ ہر کام میں آسانیاں تلاش کرتا ہے ۔اگر کوئی طالب علم ہے تو وہ بھی امتحانا ت میں شارٹ کٹ فارمولہ اپنا کر کامیاب ہونا چاہتا ہے اور اکثر کامیاب بھی ہو جاتا ہے مگر گہرے مطالعہ کا جو فائدہ ہوتا ہے وہ اس سے کوسوں دور ہوتا ہے نتیجتاً وہ بڑے مقابلے میں کامیاب نہیں ہو پاتا ہےاس لئے وقت اور حالات کا تقاضہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو سخت محنت اور مستحکم ارادے کے لئے تیار کریں اور کسی بھی کام کو ایک مشن کے طور پر لیں۔
حالیہ دور ایک بڑی تبدیلی کی طرف نشاندہی کر رہا ہے۔کورونا کی وبا نے پورے عالمی نظام کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے ۔آج نہ کل انشاء اللّه دنیا اس عالمی وبا سے باہر آئے گی اور آنے والا سورج ایک نئے آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوگا ۔دنیا ایک نئے نظام کے ساتھ جینے کی عادی ہو جاۓ گی جو مزید ترقی یافتہ دور ہوگا کیوں کہ ابھی جس تیزی سے زندگی کے ہر میدان میں نمایاں تبدیلیا ں ہو رہی ہیں اور انٹر نیٹ موبائل فون اور لیپ ٹاپ جیسے وسائل کا استعمال ہو رہا ہے اس میں سہو لیا ت بھی زیادہ ہیں اور وقت اور پیسے کی بھی بچت ہے ۔آج بڑی بڑی کمپنیا ں اپنے اپنے دفاتر کو بند کئے ہوئے ہیں اور ورک فروم ہوم کا کلچر بڑھ رہا ہے جس میں کمپنیوں کے ملازم گھر سے ہی اپنا اپنا کام انجام دے رہے ہیں جس کی وجہ کر ایک تو کمپنیوں کا خرچ کم ہوا ہےدوسری طرف ملازموں کو بھی دفا تر آنے جانے کی پریشانی سے فی الحال چھٹکارا ہے ۔بڑے بڑے شہروں میں دفا تر کو آنا جانا بھی ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے سڑکوں پر ٹر یفک کا جام انہیں پریشان کرتا ہے اور کافی وقت سڑکوں پر ہی بیت جاتا ہے جو انہیں ذہنی اور جسمانی طور پر جلد تھکا دیتا ہے جس کا اثر ان کے کام پر بھی ہوتا ہے ۔
اسلئے ضروری ہے کہ ہم آنے والی تبدیلیوں کا اندازہ لگا کر اپنے آپ کو ایک نئےعالمی نظام کے لئے تیار کریں ،اپنے آپ کو نئی نئی ٹیکنا لوجی سے وابستہ کریں وقت اور حالات کے مطابق اپنے آپ کو تیار کریں لیکن اس بات کا بھی خیال رکھنا پڑے گا کہ جدید یت کے اس دور میں ہمارے پرانے اقدار کا نقصان نہ ہو جائے ورنہ ہم کہیں صرف ایک مشینی انسان بن کر نہ رہ جائیں ۔جس کے پاس نہ جذبات ہو نہ احساسا ت اور نہ ایک انسانیت سے لبریز دھڑکتا دل ہو ،جو دوسروں کے لئے بھی دھڑکتا ہو ۔دوسرے انسان کی پریشانیا ں اور مصیبت کو سمجھتا ہو اور دوسروں کے لئے بھی کچھ کرنے کا جذبہ رکھتا ہو ۔اگر ہم دونوں میں ایک توا زن قائم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو پھر ہم یقیناً خود بھی ایک کامیاب زندگی جی سکیں گے اور دوسرے بھی ہمیں اہمیت دینگے اور سماج میں لوگوں کو آپ کی ضرورت محسوس ہوگی ورنہ نفرت کے سوا کچھ بھی ہاتھ لگنے والا نہیں۔
دیار ِعشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ ،نئے صبح و شام پیدا کر !
sheebakausar35@gmail.com

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

Leave a Reply

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close