مضامین و مقالات

طوافِ خانۂ کعبہ تھا اور سوچتا تھا : ابونظیفہ عبادصدیقی جدہ سعودی عرب

تقریبا دس ماہ بعدآج صبح چھ بجے کے قریب بیت ﷲ شریف میں حاضری ہوئی ؛فجر کی نماز مکمل ہوئی تھی ہی؛ رب کے گھر حاضری ہو اور ایمان کی سردانگیٹھی میں گرمی نہ آئے ؛اذکار اوراد سے زبان تروتازہ نہ ہو ؛شوق عبادت کی طرف دل مائل نہ ہو ؛دعااور استغفار کے لئے دل وجان دھڑکنے نہ لگے ؛اگر یہاں یہ کیفیت پیدانہیں ہوگئ تو پھر بندہ کہاں جائےگا ؛یہ در تمام در سے اعلی ہے یہاں ہرالتجاسنی جاتی ہے ؛ہرمرض۔کی دوا یہاں سے مل سکتی ہے ؛یہ حرم ہے ؛اور یہی رب کا سب بڑا پہلاگھر اور تمام انسانوں کا قبلہ ہے یہاں تمام دردوں کی درمائی ہوتی ہے ؛تمام تر غموں کو کافور کیاجاتاہے ؛اس در پہ شاہ وگدا یکساں ہوجاتے ہیں ؛رنگ وروپ اور اونچ نیچ کا یہاں کوئی فاصلہ نہیں رہتاہے یہاں سب کی سنی جاتی ہے آپ براہ راست اپنے رب کی چوکھٹ پہ اپنے احساسات بیان کرسکتے ہیں ؛یہ سراپاعاصی بھی صرف اسی جذبے کے ساتھ رب کے حضور آتاہے کہ یہیں معافی مل سکتی ہے ؛یہیں دارین کی فلاح وکامیابی کے لئے دعائیں مانگی جاسکتی ہے ؛استغفار کی کثرت اور تسبیح وتحمید کے تسلسل کے ساتھ مطاف کی طرف بڑھتاگیا کعبہ شریف کا خوبصورت ؛دیدہ زیب ؛منظر سامنے آیا دوچار لوگ فجر اداکررہے تھے اس میں ہم شریک ہوگئے نماز فجر اداکرنے کے بعد طواف شروع کیا ؛محدود طواف ہورہاتھا اصل تعداد کا علم تو نہیں لیکن مطاف میں وہ ہجوم نہیں تھا جس طرح کروناسے پھلے ہجوم ہوا کرتاتھا ؛کعبہ کے اردگرد جس طرح پہلے دیوانوں کی دیوانگی اور عشق ومحبت کے جذبوں کے ساتھ فریفتگی کا منظر ہواکرتاتھا سو منظر تقریبا مفقود تھا ؛مطاف کے ہرلائن پہ پہریدار نظر آئے بلکہ کعبہ شریف کو تو چھاؤنی بنادیا گیا ہے ایسا لگ رہاتھاکہ کوئی ﷲ کے گھر کو ہتھیالےگا قدم قدم پہ پولیس کا عملہ خداخیر کرے سات پھیرے لگاکر بالائی منزل پہ مسعی کی طرف گئے دو رکعت ادا کی دعائیں کی اور صفاء کی طرف چل دئیے صفااور مروہ کی سعی کی گئ
مسعی میں بھی ایک نئی چیز نظرآئی وہ تھی اسکوٹی کی طرح گاڑی اس تیزرفتارگاڑی پہ بیٹھ کر صفامروہ کی سعی ہورہی ہے پہلے معذوروں کے لئے ہیل چئیر ہوا کرتاتھا سو اب بھی ہے لیکن اب تو معذور کم صحت مند لوگ زیادہ تر اسی اسکوٹی نما گاڑی سے سعی فرمارہے ہیں ؛اس سے تو سعی کا عمل شاید ہوتو جائےگا لیکن اس کا مقصد مکمل نہ ہو اسکوٹی نماگاڑی سے سعی دیکھ کر اٹپٹا سا لگ رہاتھا کہیں ایسا نہ ہو کہ آنے والے دنوں میں طواف کے لئے بھی اسی گاڑی کا استعمال ہونے لگے پھر طواف وسعی کی ساری روحانیت اور حقیقت دفن ہی ہوجائےگی ؛ﷲخیر کرے
بیت اللہ:
بیت اللہ شریف اللہ تعالیٰ کا گھر ہے جس کا حج اور طواف کیا جاتا ہے۔ اس کو کعبہ بھی کہتے ہیں۔ یہ پہلا گھر ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کیلئے زمین پر بنایا جیسا کہ سورہ آل عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
"اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر جو لوگوں کیلئے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ مکرمہ میں ہے جو تمام دنیا کیلئے برکت وہدایت والا ہے۔”
بیت اللہ مسجد حرام کے قلب میں واقع ہے اور قیامت تک یہی مسلمانوں کا قبلہ ہے۔24 گھنٹوں میں صرف فرض نمازوں کے وقت خانہ کعبہ کا طواف رکتا ہے باقی دن رات میں ایک گھڑی کیلئے بھی بیت اللہ کا طواف بند نہیں ہوتا ۔ بیت اللہ کی اونچائی14میٹر ہے جبکہ چوڑائی ہر طرف سے کم وبیش 12 میٹر ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی 120رحمتیں روزانہ اس گھر (خانہ کعبہ) پر نازل ہوتی ہیں جن میں سے 60 طواف کرنے والوں پر، 40وہاں نماز پڑھنے والوں پر اور 20خانہ کعبہ کو دیکھنے والوں پر ۔
اگر بیت اللہ کا قریب سے طواف کیا جائے تو7 چکر میں تقریباً30 منٹ لگتے ہیں، لیکن دور سے کرنے پر تقریباً ایک سے2 گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ طواف زیارت (حج کا طواف) کرنے میں کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ بیت اللہ پر پہلی نظر پڑنے پر جو دعا مانگی جاتی ہے وہ اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔ حضور اکرم کی سنت کے مطابق بیت اللہ شریف کو ہر سال غسل بھی دیا جاتا ہے۔
حطیم:
یہ دراصل بیت اللہ ہی کا حصہ ہے، لیکن قریش مکہ کے پاس حلال مال میسر نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے تعمیر کعبہ کے وقت یہ حصہ چھوڑکر بیت اللہ کی تعمیر کی تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں کعبہ شریف میں داخل ہوکر نمازپڑھنا چاہتی تھی۔ رسول اللہ میرا ہاتھ پکڑکر حطیم میں لے گئے اور فرمایا: جب تم بیت اللہ (کعبہ) کے اندر نماز پڑھنا چاہو تو یہاں (حطیم میں) کھڑے ہوکر نماز پڑھ لو۔ یہ بھی بیت اللہ شریف کا حصہ ہے۔ تیری قوم نے بیت اللہ (کعبہ) کی تعمیر کے وقت (حلال کمائی میسر نہ ہونے کی وجہ سے ) اسے (چھت کے بغیر) تھوڑا سا تعمیر کرادیا تھا۔ بیت اللہ کی چھت سے حطیم کی طرف بارش کے پانی کے گرنے کی جگہ (پرنالہ) میزاب رحمت کہی جاتی ہے۔
حجر اسود:
حجر اسود قیمتی پتھروں میں سے ایک پتھر ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کی روشنی ختم کردی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرتا تو یہ پتھر مشرق اور مغرب کے درمیان ہر چیز کو روشن کردیتا۔
حجر اسود جنت سے اترا ہوا پتھر ہے جو کہ دودھ سے زیادہ سفید تھا لیکن لوگوں کے گناہوں نے اسے سیاہ کردیا ہے ۔ حجر اسود کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایسی حالت میں اٹھائیں گے کہ اس کی دو آنکھیں ہوںگی جن سے وہ دیکھے گا اور زبان ہوگی جن سے وہ بولے گا اور گواہی دے گا اُس شخص کے حق میں جس نے اُس کا حق کے ساتھ بوسہ لیا ہو۔ حجر اسود کے استلام سے ہی طواف شروع کیا جاتا ہے اور اسی پر ختم کیا جاتا ہے۔ حجر اسود کا بوسہ لینا یا اس کی طرف دونوں یا داہنے ہاتھ سے اشارہ کرنا استلام کہلاتا ہے۔
مُلتزم:
ملتزم کے معنیٰ ہے چمٹنے کی جگہ۔حجر اسود اور بیت اللہ کے دروازے کے درمیان ڈھائی گز کے قریب کعبہ کی دیوار کا جو حصہ ہے وہ ملتزم کہلاتا ہے۔حضور اکرم نے اس جگہ چمٹ کر دعائیں مانگی تھیں، یہ دعاؤں کے قبول ہونے کی خاص جگہ ہے۔
رکن یمانی:
بیت اللہ کے تیسرے کونہ کو رکن یمانی کہتے ہیں۔ رکن یمانی کو چھونا گناہوں کو مٹاتا ہے۔ رکن یمانی پر 70 فرشتے مقرر ہیں۔ جو شخص وہاں جاکر یہ دعا پڑھے: رَبّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْآخِـرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النّارِ ، تو وہ سب فرشتے آمین کہتے ہیں ، یعنی یا اللہ! اس شخص کی دعا قبول فرما۔
مقام ابراہیم:
یہ ایک پتھر ہے جس پر کھڑے ہوکر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کو تعمیر کیا تھا۔ اس پتھر پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے نشانات ہیں۔ یہ کعبہ کے سامنے ایک جالی دار شیشے کے چھوٹے سے قبہ میں محفوظ ہے جس کے اطراف میں پیتل کی خوشنما جالی نصب ہے۔حجر اسود کی طرح یہ پتھر بھی جنت سے لایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی روشنی ختم کردی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرتا تو یہ مشرق اور مغرب کے درمیان ہر چیز کو روشن کردیتا۔ طواف سے فراغت کے بعد طواف کی 2رکعت اگر سہولت سے مقامِ ابراہیم کے پیچھے جگہ مل جائے تو مقام ابراہیم کے پیچھے ہی پڑھنا بہتر ہے ۔
مسجد حرام:
مسلمانوں کی سب سے بڑی مسجد (مسجد حرام) مقدس شہر مکہ مکرمہ کے وسط میں واقع ہے۔ مسجد حرام کے درمیان میں بیت اللہ ہے جس کی طرف رخ کرکے دنیا بھر کے مسلمان ایمان کے بعد سب سے اہم رکن یعنی نماز کی ادائیگی کرتے ہیں۔ دنیا میں سب سے پہلی مسجد مسجد حرام ہے جیساکہ حدیث میں ہے ۔حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم سے پوچھا کہ زمین میں سب سے پہلی کون سی مسجد بنائی گئی؟ حضور اکرم نے ارشاد فرمایا: مسجد حرام۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کون سی؟ حضور اکرم نے ارشاد فرمایا: مسجد اقصیٰ۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ دونوں کے درمیان کتنے وقت کا فرق ہے؟ حضور اکرم نے ارشاد فرمایا: 40 سال کا۔
حضور اکرم نے ارشاد فرمایا:
3″مساجد کے علاوہ کسی دوسری مسجد کا سفر اختیار نہ کیا جائے: مسجد نبوی، مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ۔”
حضور اکرم نے ارشاد فرمایا:
"میری اس مسجد میں نماز کا ثواب دیگر مساجد کے مقابلے میں ہزار گنا زیادہ ہے سوا ئے مسجد حرام کے اور مسجد حرام میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے ثواب کے برابر ہے۔”
صفا ومروہ:
صفا ومروہ 2پہاڑیاں ہیں۔صفا کو شیشوں کے حصار میں لے لیا گیا ہے جبکہ مروہ کی پہاڑی کاتھوڑا حصہ نظر آتا ہے۔صفا ومروہ اور اس کے درمیان کا مکمل حصہ ایئرکنڈیشنڈ ہے۔ صفا ومروہ کے درمیان حضرت ہاجرہ علیہا السلام نے اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کیلئے پانی کی تلاش میں7 چکر لگائے تھے اور جہاں مرد حضرات تھوڑا تیز چلتے ہیں یہ اُس زمانہ میں صفا مروہ پہاڑیوں کے درمیان ایک وادی تھی جہاں سے ان کا بیٹا نظر نہیں آتا تھا، لہذاسیدہ ہاجرہ ؑ اس وادی میں تھوڑا تیز دوڑی تھیں۔ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی اس عظیم قربانی کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرماکر قیامت تک آنے والے تمام مرد حاجیوں کواس جگہ تھوڑا تیز چلنے کی تعلیم دی ۔ شریعت اسلامیہ نے صنف نازک کے جسم کی نزاکت کے مدنظر اس کو صرف مردوں کیلئے سنت قرار دیا ہے۔ سعی کا ہر چکر تقریباً395میٹر لمبا ہے، یعنی 7 چکر کی کُل مسافت تقریباً پونے3 کیلومیٹر بنتی ہے۔ نیچے کی منزل کے مقابلہ میں اوپر والی منزل پر ازدحام کچھ کم رہتا ہے۔ قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس پہاڑی سے ایک ایسا جانور نکلے گا جو انسانی زبان میں بات کرے گا۔
ڈھیر گھنٹے۔میں ہم اور محترم مولانارضوان ندوی صاحب طواف سعی کرلئے عمرہ سے فارغ ہوگئے ؛سرکا حلق کروایا اور جدہ کے لئے روانہ ہولئے ؛ﷲ تعالی ہم تمام مسلمانوں کو اپنے گھر کی زیارت نصیب فرمائےآمین
طوافِ خانۂ کعبہ تھا اور سوچتا تھا
نہ جانے کب ہوں دوبارا یہاں مرے پھیرے

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button
Close
Close