مضامین و مقالات

باہم دست و گریباں ہیں ملت کی حفاظت کون کرے : طاہر ندوی

کہتے ہیں کہ اگر اخلاق و عادات بگڑ جائیں تو معاشرے برباد ہوتے ہیں ، والدین بگڑ جائیں تو اولاد بگڑ جاتی ہیں ، گھر کے بڑے غلط راہ اختیار کرلیں تو نسلیں برباد ہو جاتی ہیں ، امام کی غلطی سے مقتدیوں کی نمازیں فاسد ہو جاتی ہیں ، افراد راستہ بھول جائیں تو گھرانے تباہ ہوتے ہیں مگر جب قومیں راستہ فراموش کر دیں تو سلطنتیں برباد ہو جاتی ہیں ۔
عالم اسلام کے زوال کا اگر جائزہ لیا جائے کہ کس طرح عالم اسلام کا روشن اور تابناک دور تاریک اور کربناک دور میں تبدیل ہوگیا ، تیمور کے ہاتھوں عالم اسلام کے مشرقی ممالک تباہ ہو گئے ، عیسائیوں کے ہاتھوں مسلمانانِ اندلس برباد ہوگئے ، تاتاریوں کے ہاتھوں بغداد اور خلافت عباسیہ کی تباہی ، انگریزوں کے ہاتھوں مسلمانانِ ہند ، جعل سازوں اور مکاروں کے ہاتھوں خلافتِ عثمانیہ ختم ہو گئی ، امریکہ و برطانیہ کے ہاتھوں طالبان اور افغانستان برباد ہوگئے ، سعودیہ کے ہاتھوں یمن اور عراق کی بربادی سامنے آئی اور اب اسرائیل اور اقوام متحدہ کے ہاتھوں مسلمانانِ فلسطین کی بربادی ہمارے سامنے ہے ۔
یہ صرف مسلمانوں کا خاتمہ نہیں تھا ، مسلم حکمرانوں کا خاتمہ نہیں ہوا تھا ، صرف مسلم اقتدار کا سورج غروب کا شکار نہیں ہوا تھا بلکہ علم و فن کے میدان میں مسلمانوں کی برتری کا خاتمہ ہوا تھا ، روشن ادوار کا خاتمہ ہوا تھا ، اسلامی وراثت کا خاتمہ ہوا تھا ، اسلامی تاریخ کا خاتمہ ہوا تھا ، اسلام اور مسلمانوں کے علمی و فکری ذوق کا خاتمہ ہوا تھا ، تحقیقی و تصنیفی خدمات کا خاتمہ ہوا تھا ۔ علمی و فنی ذخائر کا خاتمہ ہوا تھا ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس تباہی و بربادی کے پیچھے عوامل کیا تھے ، کیا یہ ساری کارستانیاں غیروں کی تھی یا کچھ اپنوں کی غداری و مکاری بھی شامل تھی ؟
اس کا جواب یہی دیا جا سکتا ہے کہ اس کے پیچھے اپنوں کی غداری بھی تھی ، سازشی تانے بانے ، فرقہ پرستی ، افتراق و انتشار ، باہمی بے اعتمادی ، بد اخلاقی اور بد کرداری جیسے عناصر بھی موجود تھے ۔
سقوط بغداد کی اصل وجہ یہی تھی کہ وہاں کے مسلمان باہم دست و گریباں ہوگئے ، فرقہ پرستی شدت اختیار کرتی چلی گئی ، خانہ جنگی اپنے عروج پر پہنچ گئی اور مسلمان باہمی افتراق و انتشار کے شکار ہو گئے ، ایک دوسرے کی ٹوہ میں لگ گئے اور نتیجہ یہ ہوا کہ جب تاتاری آئے تو بلا کسی تفریق کے نہ مسلک پوچھا نہ مشرب ، نہ قبلہ پوچھا نہ کعبہ ، بلا دریغ قتل کرتے چلے گئے ۔
اللہ نے اہل اندلس کو بے شمار مواقع فراہم کئے ، یوسف بن تاشفین کی آمد سے لے کر مولائے ابو الحسن کی تخت نشینی تک ، مسلم دنیا کا یہ روشن چراغ جس نے آٹھ سو سال تک یوروپ میں اسلام کی شمع جلائے رکھی لیکن عین جنگ کے موقع پر جب اہل اندلس سلطان ابو الحسن کی سربراہی میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے تو دوسری طرف اقتدار کی ہوس میں ولی عہد ابو عبد اللہ نے علمِ بغاوت بلند کر کے غرناطہ کے تخت کا مالک بن گیا اور سلطنت کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا اس کے بعد اپنوں سے غداری اور غیروں سے وفاداری کی پاداش میں عالم اسلام کو وہ سیاہ دن دیکھنا پڑا جس دن غرناطہ کی چابیاں فرڈیننڈ اور ملکہ ازابیلا کے حوالے کی گئیں اور پادری اعظم نے قصر الحمراء پر لہراتا صدیوں پرانا پرچم اسلامی اتار کر صلیب کو نصب کر دیا ۔
اگر مسلمان باہم دست و گریباں نہ ہوتے ، باہم افتراق و انتشار کے شکار نہ ہوتے ، فرقہ پرستی اور شدت پسندی اختیار نہ کرتے تو شاید آج عالم اسلام کی تاریخ کچھ اور ہوتی اور مسلمانوں کی حالت بہت بہتر ہوتی ۔
ہندوستان ، پاکستان اور بنگلادیش کے مسلمانوں کی صورت حال پچھلے دیڑھ سو سالوں سے کچھ بہتر نہیں ہے ، فتنہ فساد ، فرقہ واریت ، شدت پسندی ، شخصیت پرستی ، ادارہ پرستی ، خاندان پرستی ، علماء کی بے قدری ، مدارس کی بے حرمتی ، تعصب پرستی ، بد اخلاقی ، بد زبانی ، سب و وشتم جیسے بے شمار فتنوں اور برائیوں میں مبتلا ہے ، عوام تو درکنار خواص کی بداخلاقی اور بد زبانی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اب اللہ ہی رحم فرمائے ۔
ان فتنوں کی وجہ سے دارالعلوم دیوبند کے دو ٹکڑے ہوگئے ، مظاہر العلوم کے دو حصے ہو گئے ، جمعیت کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا ، تبلیغی جماعت کو تقسیم کر دیا گیا ، جماعت اہل حدیث اور جماعت اسلامی کو گمراہ فرقہ قرار دیا جا چکا ، شیعہ اور بریلوی طبقے کو پہلے ہی اسلام سے خارج کردیا گیا ہے ، علامہ مودودی و شبلی نعمانی کے نظریات سے آپ کو اختلاف ہے ، سر سید احمد خان ، مولانا وحید الدین خان آپ کے نزدیک مطعون و معتوب ٹھہرے ، جماعت اسلامی کی خدمات سے آپ ناخوش ہیں ، دارالعلوم ندوۃالعلماء کے نصاب اور نظام سے آپ اتفاق نہیں رکھتے ، مولانا بدرالدین اجمل اور اسد الدین اویسی کو آگے بڑھنے نہیں دیتے ۔
چلیں ٹھیک ہے آپ کو اختلاف کا حق حاصل ہے ، آپ کے اپنے افکار و نظریات ہیں ، آپ کی اپنی رائے ہے لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے اور یہ کون سا طریقہ ہے کہ آپ اختلاف میں حد سے بڑھ جائیں ، سب و وشتم کرنے لگیں ، دل کی بھڑاس نکالنے لگیں ، نازیبا بیانات جاری کرنے لگیں ، ناشائستہ الفاظ استعمال کرنے لگیں ، آپ کو اختلاف سے پہلے آدابِ اختلاف سیکھنے کی ضرورت ہے ، اختلاف کے اصول و ضوابط یاد کرنے کی ضرورت ہے ، اپنے اسلاف کے طریقے کو دہرانے کی ضرورت ہے کہ کیسے ہمارے بڑوں نے اختلاف کے باوجود اکرام کا پہلو اختیار کیا ، باوجود شدید نظریاتی اختلافات کے باہم گفت و شنید کا سلسلہ شروع کیا اور ادب و احترام کے پہلوؤں کو اجاگر کیا ۔
اور آج کے مدارس کے طلباء پر نظر ڈالئے ، سوشل میڈیا پر ان کے تبصرے پڑھئے ، اختلافات اور جنگ و جدل کی بحثوں کو دیکھئے تو ایسا لگے گا کہ بداخلاقی اور بد زبانی کے سوا ان کے محسنین و محبین نے کچھ دیا ہی نہیں یا ان کے اساتذہ نے ان کی تعلیم و تربیت پر کوئی توجہ نہیں دی یا پھر یوں کہئے کہ ان کو بد اخلاقی اور بد زبانی ہی سکھائی گئی ہے ۔
حیرت ہوتی ہے ایسی عقل و ذہانت پر اور تعجب ہوتا ہے ایسے علماء پر جو اپنے اسلاف کی محنت پر پانی پھیرتے ہیں ، اپنے مدارس کی شبیہ کو مجروح کرتے ہیں ، اپنے اساتذہ کے لئے بدنامی کی اور قوم و ملت کے لئے شرمندگی کی وجہ بنتے ہیں ۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کبھی غور کیا کہ آپس کے اختلاف کی وجہ سے ملت کا کتنا خسارہ ہو رہا ہے ؟ مسلمانوں کی حالت کتنی بدتر ہوتی جا رہی ہے ، عوام کا علماء پر سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے ، لوگ اپنی اولاد کو بجائے مدارس کے کانوینٹ اسکولوں اور کالجوں میں بھیج رہے ہیں ، ان اختلافات و انتشارات کے باعث عوام الناس کا ایک بڑا طبقہ علماء سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر مجبور ہے ، آج امت مسلمہ کو کن کن خطرات کا سامنا ہے کیا ہم نے کبھی سوچا ؟ ایک طرف الحاد و ارتداد کا دائرہ کار وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے تو دوسری طرف اسلام اور مسلمانوں کی بیخ کنی کی سازشیں رچی جا رہی ہیں ، عرصہ حیات تنگ کی جا رہی ہے اور ایک ہم ہیں جو باہم دست و گریباں ہیں ، دین کے فروعی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں ، ان اختلافات سے نکلنا نہیں چاہتے ، اس سے اوپر اٹھنا نہیں چاہتے ۔
اگر آپ ان مباحث میں الجھے رہیں گے تو ملت کی حفاظت کون کرے گا ؟ قوم مسلم کی خدمت کون کرے گا ؟ دشمنوں سے حفاظت کون کرے گا ؟ ہماری صفوں میں اتحاد و اتفاق کیسے پیدا ہوگا ؟ جب ہم میں اتحاد و اتفاق ، پیار و محبت ، خیر خواہی ، غم خواری ، جاں نثاری جیسے اوصاف نہیں ہوں گے تو دشمنوں سے مقابلہ کیسے کریں گے ؟ عالم اسلام کے بکھرے ہوئے پرزوں کو کیسے جوڑیں گے ؟ مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کیسے آزاد کرائیں گے ؟ فلسطینی مسلمانوں کی حفاظت کیسے کریں گے ؟
اس لئے ضروری ہے کہ پہلے ہم اپنی صفوں میں دوسروں کے لئے گنجائش پیدا کریں ، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لیں اور آپس کے اختلاف کو اپنے گھروں تک محدود رکھیں تاکہ مسلم قوم پھلے پھولے اور ترقی کی راہیں ہموار ہوں ۔
tahirnadwi111@gmail.com

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close